اجنبی: بیاد واصف علی واصف —– افشان بنگش

0
  • 135
    Shares
یقین نہیں آتا کچھ عرصۂ قبل تک میں سرے سے ان کے نام اور وجود سے بے خبر تھی۔ اب خیال آتا ہے کہ ا ن کا کوئی قول ضرور سوشل میڈیا پر میری نظر سے گزرا بھی ہوگا… مگر ان کے اقوال پر ایک ہی پینٹڈ تصویر گردش کرتی ہے جو ان کے اصل چہرے سے بہت مختلف ہے، شاید اس لیے کبھی میرے ذہن پر انکا وجود رجسٹر نہیں ہوا- پچیس برس پہلے گزر جانے والے اس شخص سے متعارف ہونا زندگی کے چند غیر معمولی تجربات میں سے ایک ہے- جب انھیں پہچانا تو پھر ان کے بارے میں جاننے کا عمل شروع ہوا جو آجتک جاری ہے اور جاری رہیگا- شاید وہ اپنے بارے میں زیادہ شور شرابہ پسند نہیں کرتے- ان کے حوالے سے میں نے کچھ لکھا بھی تو اسے عام کرنا ممکن نہیں تھا، جب تک ان کے ‘آقا ‘ کے بارے میں کچھ لکھا نہیں جاتا، یہ ذکر نہیں ہو سکتا تھا- مجھے شاعری کی خاص سدھ بدھ نہیں، مطالعہ بہت کمزور ہے اور…….. نعت ……………… ہنوز دلی دور است …………………. پچھلے ایک برس میں نجانےکس کی مہربانی سے یہ حکم بجا لایا گیا، چند نعتیں لکھی اور محفلوں میں پڑھیں- اب دل نے آزاد کر دیا ہے۔ بے دھڑک بات ہو سکتی ہے…….

اجنبی
۔¤¤¤¤¤
آج اک اجنبی کو
لیجئے
یوں پہچانا
کچھ ہی مدت سے تھا جس عکس کا آنا جانا
چہرہ انجان مگر دل مانوس
اتنا مانوس کہ جُز اسکے دگر کوئی نہ ہو
ایسی تصویرکبھی جس سےمَفَرّ کوئی نہ ہو
ایک جلتی ہوئی سگریٹ کا فسوں خیز دھواں
آسمانوں سی دو آنکھوں میں الم گریہ کناں
روزنِ شب سے وہ انجان کہ مسکانے لگا
خواب کے طاق پہ قُرآن کی چھب لانے لگا
پردۂ ضبط کہ وجدان سے ہٹ جانے لگا
کرچیوں میں کوئی آئینہ کہ بٹ جانے لگا
آج تصویر جو دیکھی ہے تو پہچان لیا
آنکھ واقف تھی نگاہوں نے بھی اب جان لیا
پردہء ضبط میرے دل سے نہ ہٹتا کیونکر
جوشِ گریہ سے بھی یہ سنگ نہ پھٹتا کیونکر
ہوا معلوم، کوئی شخص کہ اس نام کا تھا
ذرا پوچھا، تو یہ جانا کہ بڑے کام کا تھا
نئے ابلاغ بھی بچھڑوں کو ملا دیتے ہیں
آشنا، ہمدم و ہمراز بنا دیتے ہیں
ٹھیک ہے یوں ہی سہی، سن تو ذرا ایک منٹ
عقل بھی شے ہےکوئی، رک تو ذرا ایک منٹ
وہ مضامیں، نہ وہ اشعار—– ذرا ایک منٹ
نہ وہ کالم، نہ وہ اخبار—— ذرا ایک منٹ
جس کو دیکھا نہ سنا ہو، اسے پڑھنا کیسا ؟
جس سے ملنا نہ ہوا، اس سے بچھڑنا کیسا؟
مرنے والے بھی کبھی یوں بھلا آ سکتے ہیں؟
نارسا دیس، گئے وقت دکھا سکتے ہیں؟
پھر سے بجھتے ہوے شعلےکو جلا سکتے ہیں؟
شہرِ ناسوت کو برزخ سے ملا سکتے ہیں؟
نعرۂ مست کہاں، مصلحتِ ہوش کہاں
شوخئی رند کہاں، سختئی پرجوش کہاں
کیسے اڑنے لگی لندن میں یہ لاہور کی خاک ؟
کیسے کوہاٹ پہنچنے لگی خوشاب کی ڈاک ؟
ہوشمندوں کو خیال ایسے کہاں آتے ہیں؟
ملنے مجھ جیسوں سے، ان جیسے کہاں آتے ہیں؟
مری منطق، مرا مبحث، وہ بے خدا محفل
کیا ہوۓ سب، نہیں معلوم کہاں ہے منزل
لوٹیے پھر کہ ہےکم ظرف سے پالا اب کے
راز کو راز رکھیں ، ورنہ نہ ہو گا ہم سے
اب رہی راہ نوردی، نہ قرار محمل
بس رہا خشت میں لپٹا ہوا، ٹوٹا ہوا دل
لوٹیے آپ کہ ہو جائےاسے کچھ تو عطا
وہ میرا ‘لا’ ہو یا پھر آپ کا ہو ‘الا الله

¤¤¤¤¤
٢٤ اپریل ٢٠١٨

(Visited 27 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: