منٹو کے برے افسانے‎ —— ذیشان حسین

0
  • 129
    Shares

آجکل نندیتا داس کی فلم منٹو پر پابندی کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ میرا خیال تھا پابندی “فحش” مناظر دکھانے کی وجہ سے لگائی گئی ہو گی اور میں بہت حیران تھا کہ “اور کیا دیکھنے کو باقی ہے / سیٹھی تیری سپرایٹ کا ایڈ دیکھ لیا”۔ میرے ایک لبرل دوست نے پوچھا کہ بچوں کے ساتھ سیکس پر بات کرنی چاہیے۔ میرا جواب تھا کہ ضرور کرنی چاہیے اگر آپ نے کوئی نئی بات پوچھنی ہو۔ منٹو کے “فحش” مناظر تو اتنی پیچیدہ نفسیاتی الجھنیں لیے ہوتے ہیں کہ کوئی جنسی تلذذ حاصل کرنے بیٹھے بھی تو ذہنی خجالت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ ایک زمانہ تھا جب شرفاء کی لڑکیاں چھپ چھپ کر منٹو کے فحاشی کے الزام لگے افسانے پڑھا کرتی تھیں۔ اب تو اور سے اور ہوءے درد کے عنواں جاناں۔ ویسے منٹو نے خود پر لگے فحاشی کے الزام کا دفاع خوب کیا۔ جج صاحب نے کہا کہ آپ کے افسانے سے کچھ فقرے نقل کیے ہیں جو فحاشی کے زمرے میں آتے ہیں تو منٹو نے کہا کہ اس طرح تو میں مقدس کتابوں سے بھی فحش فقرے نقل کر سکتا ہوں۔ سیاق سے ہٹ کر ظاہر ہے ہر خیال اپنا راستہ کھو دیتا ہے۔ کسی نے کہا کہ عورتوں کے لیے یہ افسانے شہوانیت کی ترغیب ہیں۔ منٹو نے کہا کہ شہوانیت کی ترغیب تو کسی مشین کی مخصوص حرکت سے بھی مل سکتی ہے۔ جج صاحب نے کہا کہ انہیں ٹھنڈا گوشت میں شہوانیت کر ترغیب نظر آتی ہے تو منٹو نے کہا کہ یہ تو ایک المیہ کی کہانی ہے جس میں ایک مرد کسی قبیح فعل کے احساس گناہ کے زیر اثر نفسیاتی ہیجڑے پن کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنی داشتہ کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کر سکتا جو جنسی گھٹن کی تاب نہ لاتے ہوئے اس پر چاقو چلا دیتی ہے۔ اس میں شہوانیت کی ترغیب حاصل کرنے والا کوئی بیمار ذہن ہی ہو سکتا ہے۔ فیض احمد فیض نے سب سے اچھی بات کہی اور وہ یہ کہ منٹو کو ادب کے جمالیاتی اقدار کا خیال رکھنا چاہیے تھا کیونکہ کسی افسانے اور رپورتاژ کا فرق بہر حال واضح رہنا چاہیے یعنی قاری ایک ادب پارے سے محظوظ ہو اور اس میں چھپی تلخی کو غیر شعوری طور پر قبول کر لے۔ ان کا خیال تھا کہ منٹو کچھ فقرے نہ بھی لکھتا تو افسانہ مکمل ہی ہوتا بلکہ اپنی خوبصورتی قائم رکھتا۔

منٹو نے انسانی نفسیات کی گتھیاں الجھائی بھی ہیں اور سلجھائی بھی۔ مرد کا زنانہ پن, شرفاء میں جنسی درندگی کے جراثیم، خارج میں رونما ہونے والے واقعات کا پوشیدہ جنسی آرزووں پر اثر، ٹھکرائے ہوئے لوگوں میں بڑا پن، بڑے لوگوں میں غلاظت، “بری” عورت کا اجلا پن اور باکرہ عورتوں کی جنسی درندگی، انسانیت اور نظریہ کا ٹکراو، مذہب اور محبت کی چشمک، وارفتگی اور بے دلی، برجستگی اور بے رحمی، بے قراری اور بے بے رخی، غرض منٹو نے زندگی کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا لیکن ایک اہم بات بھی کہ منٹو نے ہر رخ پر حرف آخر نہیں کہہ دیا۔ انسانی اور سماجی نفسیات پر قلم نہیں توڑ دیا۔ تقسیم اور فحاشی کے مقدموں کی وجہ سے جو افسانے مشہور ہوئے وہ سب بہت اعلیٰ پائے کے افسانے نہیں ہیں بلکہ اس میں بہت سے بچگانہ غلطیاں ہیں۔ مثلاً، کھول دو، میں تقسیم کے دوران رضا کاروں کے ریپ کا شکار ایک لڑکی ریپ ہونے کی اتنی عادی ہو جاتی ہے کہ ڈاکٹر اگر کھڑکی کھولنے کا کہتا ہے تو وہ اپنا ازار بند کھول دیتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ریپ کی شکار سے کوئی نہیں کہتا کہ کھول دو اور اگر کھول دو کہنے پر ازار بند کھولا جائے گا تو شاید وہ ریپ کے زمرے ہی میں نہ آئے۔ کھول دو کہنا اتنا مکینیکل ہو جاتا ہے کہ سوائے ازار بند کھولنے کے اس لڑکی کے لیے کھولنے کا کوئی ریفرنس ہی باقی نہیں رہتا۔ دوسری بات یہ کہ اگر وہ اتنے ہوش و حواس میں تھی کہ الفاظ کھول دو سن کر اضطراری طور پر اس کا ہاتھ ازار بند کی طرف چلا گیا تو اسے ماحول کی تبدیلی کا احساس سب سے پہلے ہونا چاہیے تھا اور کسی بھی طرح اس پر رد عمل کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔

کالی شلوار میں بھی کوئی نفسیاتی یا سماجی الجھن نہیں ہے۔ بس سیدھا سا افسانہ ہے جس کا اختتام بہت عام سا ہے۔ میں کبھی اس افسانے کے بڑے ہونے کی وجہ نہیں سمجھ سکا۔ بابو گوپی ناتھ غیر معمولی طوالت کا شکار ہے اور کسی جھٹکے کے بغیر ختم ہو جاتا ہے۔ افسانے میں کوئی جھٹکا لگنا ہر گز ضروری نہیں لیکن جس پہلو کو اجاگر کیا جا رہا ہو اس سے فوکس ہٹنا نہیں چاہیے ورنہ افسانہ افسانہ نہیں رہتا بلکہ ایک تاثراتی سا واقعہ رہ جاتا ہے۔ تاثراتی واقعہ رہ بھی جائے اسے تکرار اور بوریت سے بچانا چاہیے۔ منٹو کے غیر معروف افسانے زیادہ اچھے ہیں مثلاً رندھیر پہلوان، کلونت کور، مامتا کی چوری، اس کا رامو، شاردا، فوجا حرامدا، سرکنڈوں کے پیچھے وغیرہ۔ نوادارت منٹو کے نام سے ایک کتاب بھی چھپی تھی جس میں منٹو کے کیے ہوئے روسی ادب کے تراجم، خاکے اور افسانے موجود ہیں۔ یہ سب منٹو کے مجموعوں میں شامل نہیں لیکن بہت شاندار تحریریں ہیں۔ ناقدین اور فلم میکرز کو چاہیے کہ منٹو کے غیر معروف افسانوں کا احاطہ کریں تا کہ منٹو کا کرافٹ پوری طرح سامنے آ سکے۔

یہ بھی پڑھیئے:  سعادت حسن منٹو : عزیز ابن الحسن
(Visited 50 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20