الکیمسٹ ———– سحرش عثمان

0
  • 47
    Shares

ہوتا یوں ہے کہ جب ہم کچھ نہیں کررہے ہوتے لکھنے لکھانے کا موڈ نہیں بنتا کچن ہمارے شر سے محفوظ ہوتا ہے ہم کوئی کوکنگ بیکنگ ایکسپیرمنٹ پر تلے نہیں بیٹھے ہوتے۔

شاعری جی کو نہیں بھا رہی ہوتی۔ کوئی نثر لبھاتی نہیں۔ تو کوئی ہم سے ملنے بھی نہیں آتا اور رحمان فارس کے مصرعے کے مطابق ہم کو کہیں جانا تو ہے نہیں کی مجسم تصویر بنے سارا دن صوفہ توڑتے رہتے ہیں۔
بقول شاعر
گیلے کاغذ کی طرح زندگی ٹہری اپنی۔
کوئی لکھتا بھی نہیں کوئی جلاتا بھی نہیں۔

ہم اپنے اندرونی اضطراب سے مجبور ہوکر یکسانیت کے اس بھنور میں لکھائی پڑھائی کے کنکر پھینک بیٹھتے ہیں۔ لکھنے کی کوئی سیریز شروع کرتے ہی ہیں کہ مختلف اقسام کی مصروفیات، کام ہمارے سر پہ پتھروں کی طرح برسنے لگتے ہیں۔ دماغ میں مسلسل تحریر چل رہی ہوتی بیک گراؤنڈ میں فیض کا انتساب نیرہ کی زبان میں مسلسل بج رہا ہوتا ہے کچن الگ دہائیاں دیتا ہے اور مارکیٹ ہمارے لیے سراپا امتحان الگ سے بن جاتی ہے۔ یوں جو تحریر ایک دن میں لکھی جانا ہوتی ہے اسے چار دن لگ جاتے ہیں۔

کتابوں کا ہفتہ منانا شروع کیا تو پس منظر میں وہی ٹہرے ہو ئے گیلے کاغذ کو جلانے کہ خواہش تھی۔ اور کاغذ تو کہاں جلتا ہم جل اٹھے انہیں پتھروں کے آزار جن کو کبھی ہم نے بھی خدا رکھا تھا۔
یعنی پہلی ترجیح۔ اب ہمارے عقائد بارے ہرگز ججمنٹل مت ہوئیے گا۔ آنسہ اچھی خاصی وابی طبیعت ہیں۔
خیر کہاں کا سرا کہاں ملا دیا یوں تو ہم نے ہرگز مینشن نہ کیا تھا کہ ہفتہ کتنے دنوں کا ہوگا اور کتنے دن میں ختم کریں گے ہم ہفتہ۔ لیکن ہمارے ایٹی کیٹس ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ اپنے قارئین جن کی مجموعی تعداد دو ہندسوں مین داخل نہیں ہوسکی ابھی تک کو وضاحت پیش کردیں۔ سو دوستو قصہ یہ ہے کہ
کج اونج وی راہواں اوکھیاں سن کجھ گل ویچ غم دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن کج سانوں مرن دا شوق وی سی۔
مرنے کے اسی شوق کے پیش نظر ہم نے ہر وہ کام کیا جس پر شوریدہ سری کے زمانے میں جی آمادہ نہ تھا۔

لکھنا تو تبصرہ تھا اور لکھنا بھی پائیلو کے الکیمسٹ پر تھا لیکن بات کسی اور طرف نکل گئی تو ہم بھی نے بھی کی بورڈ کے بہاؤ کے ساتھ تیرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بھئی اب ہروقت حالت جنگ میں کون رہ سکتا ہے ہمہ وقت بہاؤ کے الٹی طرف کون تیرے۔ کبھی کبھی تو جی چاہتا ہے چپو چھوڑ دیئے جائیں اور ہاتھ کشتی سے باہر نکالے پانی میں ڈالے نیم دراز دھوپ سے لطف اٹھاتے رہیں اور پانی اپنے ساتھ کسی ان دیکھے جزیرے پر لے جائے اور کہیں نہ بھی لے جائے تو ٹھیک ہے وہیں لے آئے گھما پھرا کر جیسے زندگی لے آتی ہے۔ کوشش کے باوجود فرار کے باوجود اسی دائرے میں رکھتی ہے تو کیا کرلیتے ہیں ہم آپ سوائے جلنے اور کڑھنے کے کر ہی کیا سکتا ہے انسان۔
اختیار والا تو بس الوژن ہی کری ایٹ کیا گیا ہے۔ زمین پر رہنے کا کوئی بہانہ ںھی تو رکھنا تھا نا۔
جیسے غالب کہتا ہے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے مصوری۔
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے۔
تو یہ اختیار و طاقت والا الوژن سجا کر تقریب ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ وگرنہ ایسی حسین تو نہ تھی زندگی کے اس کے لیے مصوری سیکھ لے بندا۔

ہمیشہ ایک سوال کرتی ہوں کہ مرضی تھی میری کوئی زمین پر بھیجنے سے پہلے پوچھا تھا کیا۔
جانے کہاں سے جواب آیا تم تمہاری نہیں اسکی مرضی ہو اس کی رضا سے آئی ہو زمین پر۔ اور ہماری خواہش یا مرضی سے کہیں بڑی مرضی ہے بھئی اسکی سو سر تسلیم خم۔
اب چونکہ اس کی مرضی ہے تو اسے ختم بھی نہیں کیا جاسکتا کوشش فرض ہے سو نبھاتے چلے جانا ہے اس عہد کو۔
اسے ختم کرنے کی کئی خیالات آ آ کہ بھٹکاتے ہیں لیکن ایک تو ازلی ڈھیٹ پن دوسرا کمٹمنٹ کا ہوکا ایسا ابھی تک ہو نہیں پایا۔
اب تو یوں ہے کہ چپو چھوڑ کر بہاؤ کے ساتھ تیرتے ہوئے کشتی پر پڑنے والی ہلکی سنہری دھوپ سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ پانی میں ہاتھ ڈال کر ٹمپریچر چیک کرنے کہ خواہش تک ہولڈ پر لگا رکھی ہے۔ حالانکہ یہ عادت و مزاج کے بہت خلاف ہے۔ شوریدہ سری کے زمانے میں تو اتنی بار پانی کو چھوتے ہیں کہ کشتی کو ڈبونے کے خطرات لاحق ہوجائیں۔
لیکن کہا ہے ناں کہ اب ہر وہ کام کر دیکھتے ہیں جن پر آشفتہ سری باقاعدہ اوفنڈ کرتی ہے۔ ہم اسے آزماتے رہتے ہیں اپنے اندر کے جنگلی کو آزماتے رہتے ہیں۔
وہ بھی چوٹ کھائے جاتا ہے گنگنائے جاتا ہے۔ وہی ڈھیٹ پن والا مسئلہ۔
یہ اس لیے نہیں کرتے کہ خود اذیتی جیسے کسی عارضے کا شکار ہیں یہ سب اس لیے کیا جاتا کہ دیکھیں تو برداشت کی حد کیا ہے۔ اور دیکھیں تو ہم میں اپنے خلاف جانے کی کتنی طاقت ہے۔
اپنے خلاف جانے میں بھی لطف ہے آپ اپنے ہی فیصلے کو جھٹلاتے رہتے ہیں۔ یا پھر خود پر تنقید کیے جاتے ہیں۔ یعنی اپنے ساتھ ایک اور زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔
مسجد کے اس مہاجر طالب علم کی طرح وہ جس کو ہجرت کے ہجے نہیں آتے اسے مسجد کہ سیڑھیوں پہ خاموش افسردہ بیٹھے دیکھا تو اسے جا پوچھا بولتے کیوں نہیں ہو۔ اس کی اداس آنکھوں میں جو تاثر تھا اس نے بتایا یہ اپنے ساتھ کوئی اور زندگی بھی جی رہا ہے۔ ںچپن میں ایسی سنجیدگی طاری کر کے یہ شائد گھر کے بڑے ہونے کا حق ادا کررہا ہے۔
جب اسے کہا گھر آجایا کرو کھیلنے تو کہنے لگا ٹائم نہیں ہوتا کھیلنے کا۔ اس وقت زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کی خواہش دھندلا سی گئی۔
زرد پتوں کا بن جو میرا دیس ہے۔
درد کی انجمن جو میرا دیس ہے۔
اس میں ہمارے خود ساختہ مسائل کتنے چھوٹے ہیں۔
انڈیجویل سپیس کے پرسنل فریڈم کے فرصت کے نہ ہونے کے۔ ۔ یا پھر مسلسل فرصت کے۔

اب ایسا بھی نہیں کہ شوریدہ سری زندگی نے پٹخ ڈالی ہے۔ اب بھی شوریدہ سر ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ
صرف محبت کا ہی غم تنہا نہیں
ہزاروں غم ہیں اپنے ںھی پرائے ںھی
تو کوئی کب تک الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے۔
کبھی تو پھر چپو چھوڑنا ہی پڑتے ہیں۔
اور جب چپو چلانے کے باوجود اس کی پزل کے ٹکرے نہ مل رہے ہوں تو کچھ دیر کو کشتی کو بہاؤ پر چھوڑ دینا چاہیے کیا پتا یہ بھنورسے نکال لے جائے۔ یا پھر کسی بھنور میں ڈال دے نئی انرجی کے ساتھ جو بدلنے کی ساری صلاحتیں رکھتی ہو وہ انرجی۔ پتا ہے زندگی سے بڑا الکیمسٹ کوئی نہیں زندگی کی کان میں کئی پارس بنتے بگڑتے دیکھے ہیں یہاں. کئی کوئلے ہیرے بنتے دیکھے ہیں۔
زندگی کیمائی مادوں کی کمپوزیشن کو بہت بہتر سمجھتی ہے۔
یہ زندگی اور وقت ایسا ظالم کیمیا گر ہے کہ بلاول جالب کو پڑھتا ہے۔
ملا اقبال کو
اور لبرل فیض کو۔
سچ ہے زندگی سے بڑا کیمیا گر کوئی نہیں۔
کبھی کبھی ہمیں صرف ہاتھ پیر چھوڑ کر انتظار کرنا ہوتا ہے اور کشتی پر پڑتی ہلکی سنہری دھوپ سے لطف اٹھانا ہوتا ہے۔

(Visited 17 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20