نظامِ تعلیم کا حل ——– ملک گوہر اقبال

0
  • 36
    Shares

معزز اراکین پارلیمان”میں نے ہندوستان کے طول و عرض میں بارہا سفر کیا ہے مجھے کوئی بھی شخص بھکاری یا چور نظر نہیں آیا۔ میں نے وہاں دولت کی کثرت دیکھی۔ میں نے وہاں کے لوگوں کو بلند اخلاق سے آراستہ پایا۔ میں نے ان لوگوں میں سمجھ بوجھ کی اچھی صلاحیت دیکھی۔ میرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو فتح نہیں کر سکتے جب تک ہم ان کے دینی اور ثقافتی اقدار کو توڑ نہ دیں جو ان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ میرے پارلیمان کے رفیقوں”اسی لیے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہم ان کا قدیم نظام تعلیم اور تہذیب تبدیل کردیں۔ عزیزانِ من” یہ بل برطانوی مفکر اور سیاستدان”لارڈ میکالے” نے برطانیہ کے پارلیمنٹ میں اس وقت پیش کیا تھا جس وقت ہندوستان میں فارسی، عربی، اور سنسکرت زبان میں تعلیم دی جاتی تھی۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم آج تک یہ سمجھ نہیں سکے کہ ہمارے کلچر و تہذیب پر انگریزی کلچر اور تہذیب غالب کیسی ہوئی ؟ جب لارڈ میکالے برطانیہ سے جدید نظام تعلیم کی اسکیم لے کر ہندوستان پہنچ گئے تو اس وقت ہمارے اکثر مذہبی رہنماؤں نے اس کی شدید مخالفت کی۔ جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں ایک نئی فکر پیدا ہوئی کہ ہر جدید تعلیم دنیا اور ہر قدیم تعلیم دین ہے لہذا ہمیں صرف دین ہی کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ حلانکہ اسلام میں جدید و قدیم علوم کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے اسلام تو مسلمان کو اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ (ہر اچھی اور دانائی کی بات مؤمن کی گمشدہ پونجی ہے جہاں بھی وہ ملے اس کو قبول کرے) اس جدید اور قدیم کی تفریق کا فائدہ انگریز کو یہ ہوا کہ جدید علوم اور ترقی کی دوڑ سے مسلمانوں کی اکثریت باہر ہوگئی اور انگریزوں نے بڑی آسانی کے ساتھ اپنے نظامِ تعلیم کی بدولت ان بچے کچے مسلمانوں کی نسل کو اپنی کلچر اور تہذیب کا غلام بنادیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان باقی مسلمانوں کی نسل نے بھی اس جدید نظامِ تعلیم کو قبول کیا جنہوں نے پہلے انکار کیا تھا۔ نتیجتاً مسلمان اپنی تہذیب اور نظامِ تعلیم کو چھوڑ کر انگریزوں کی نقالی پر فخر محسوس کرنے لگے۔ عزیزانِ من انگریز نے ہندوستان میں جدید علوم کی تعلیم انگریزی زبان میں رائج کی۔ یعنی جو کتابیں اردو، عربی، فارسی یا سنسکرت زبان میں پڑھائی جاتی تھی وہ اب انگریزی زبان میں پڑھائی جانے لگی۔ کاش کہ اس وقت ہمارے مذہبی رہنماؤں نے اس پر جدیدیت کا لیبل چسپاں کرنے کے اور اس کو دین کے مقابلے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان علوم کو واپس اپنے زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے جدوجہد کرتے تو آج نقشہ بلکل مختلف ہوتا۔ آج نہ انگریز غالب ہوتے اور انگریزی تہذیب ہم پر غالب رہتی۔ کاش کہ ہم آج بھی اسلامی تعلیمات میں غور و فکر کرتے کہ اس الہامی دین کی پہلی وحی لفظ “اقراء” سے شروع ہوکر تعلیم وتدریس کی ضرورت اور اہمیت کو کتنا واضح کرتی ہے جس کی عملی تفسیر کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی اور مدنی ادوار میں جماعت صحابہ کی دینی اور دنیاوی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیا۔ جس کی بدولت انسانی تاریخ نے وہ منظر بھی دیکھا کہ شمعِ رسالت کےان پروانوں نے دنیا کی امامت کی۔ اور شرق تا غرب علم کی روشنی کو خوب پھیلایا۔ اس کی اصل وجہ قرآن حکیم کی تعلیم تھی جس نے عرب کے ان صحرا نشینوں کو دینی اور دنیاوی علوم کا علمبردار بنایا۔ چنانچہ قرآن حکیم میں ہم دیکھتے ہیں کہ شروع سے آخر تک بار بار اور صریح الفاظ میں اندھی تقلید کو برا ٹھرایا گیا۔ اور اس بات کا حکم دیا گیا کہ ہر شخص خود اپنی طور پر غور و فکر کرے اور کسی رسم و رواج کی پیروی محض آبائی و مورثی ہونے کی بناء پر نہ کرے۔ کسی اور مذہبی کتاب میں فطرت کے مطالعہ پر اتنا زور نہیں دیا گیا ہے جتنا قرآن حکیم نے دیا ہے۔ کہ سورج، چاند، سمندر کی موجیں، دن اور رات، چمکتے ستارے، دمکتی فجر، پودے اور حیوانات۔ ۔ ۔ ۔ تمام ہی قوانینِ فطرت کے تابع بنائے گئے ہیں۔ جن سے ان کی خالق کی قدرت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق علم لامتناہی ہے۔ اور اس علم کے محمد رسول اللہ کتنے قدر کرتے تھے اس کا اندازہ آپ اس واقعہ سے لگائیں کہ ایک دن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نوافل اور خدا کی عبادت میں مشغول ہے اور کچھ لوگ دین کی تعلیم و تعلّم میں منہمک۔ تو آپ نے فرمایا کہ دونوں ہی لوگ اچھا کام کر رہے ہیں البتہ ایک کا کام زیادہ اچھا ہے۔ جو لوگ خدا سے کچھ مانگ رہے ہیں ان کے متعلق خدا کی مرضی ہے کہ چاہیے تو دے چاہیے تو نہ دے۔ اور زیادہ اچھے لوگ وہ ہیں جو علم حاصل کررہے ہیں اور جہالت کو دور کر رہے ہیں سچ تو یہ ہے کہ میں بھی معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں یہ کہتے ہوئے آپ نے اس حلقے میں اپنے لیے جگہ بنائی اور بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد سب سے پہلے مدینہ منورہ سے ناخواندگی دور کرنے کے لیے اقدامات کیے اور اس کام کی نگرانی آپ خود کرتے تھے۔ چنانچہ اس سلسلے میں آپ نے سعید بن العاص کا تقرر کیا کہ لوگوں کو لکھنے اور پڑھنے کی تعلیم دیں یہ بہت خوش نویس بھی تھے۔ آپ کو خواندگی سے اتنی دلچسپی تھی کہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کا فدیہ آپ نے یہ مقرر کیا تھا کہ ایک قیدی دس بچوں کو لکھنا سکھائیں۔ رسول اللہ خط کی صفائی اور وضاحت کا اکثر تلقین فرماتے تھے اور یہاں تک کہتے کہ کاغذ کو موڑنے سے پہلے اس کی سیاہی کو ریگ ڈال کر خشک کر لیا کرو۔ اور حرفِ (س) کے تینوں شوشے برابر دیا کرو اور اس کو بغیر شوشوں کے نہ لکھا کرو۔ عزیزانِ من۔ اس خلاصہ بشر صلی اللہ علیہ وسلم سے تو یہاں تک منقول ہے کہ لکھتے وقت اگر کچھ رکنا پڑے تو کاتب کو چاہیے کہ قلم اپنے کان پر رکھ لے۔ رسول اللہ اپنے صحابہ کو مختلف زبانیں سیکھنے کی بھی تاکید کرتے تھے۔ حضرت زید بن ثابت جو دربار رسالت کے میر منشی کہے جاسکتے ہے فارسی، حبشی، عبرانی اور یونانی زبانیں جانتے تھے۔ اور عبداللہ بن زبیر کے بارے میں تو مشہور ہے کہ وہ 100 کے قریب زبانیں جانتے تھے۔ عزیزانِ من۔ رسول اللہ کی تعلیمات کا اثر یہ ہوا کہ آپ کے بعد آپ کے جانشینوں نے جس قوم پر بھی توحید کا جھنڈا لہرایا اس قوم کی علوم کی کتابوں کو عربی زبان میں ترجمہ کیا۔ عہد صحابہ و تابعین میں اس کی مثالیں ملتی ہے جس میں عہد فاروقی اور عہد اموی میں مختصر لیکن عہد عباسیہ میں گراں قدر کام ہوا۔ عباسیوں نے یونانی، فارسی، ہندی اور سریانی تصنیفات کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا تھا۔ خلیفہ ہارون الرشید نے ان کو منتظم صورت میں رکھنے کے لیے ایک عظیم الشان محکمہ قائم کیا جس کا نام بیت الحکمہ رکھا اور اس میں ہر زبان اور ہر مذہب کے ماہرین فن ترجمہ کے کام پر مامور کیے گئے۔ عزیزانِ من۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنی ہی زبان میں تعلیم حاصل کرکے ترقی کی ہے۔ آج چین کی ترقی کی وجہ یہ ہے کہ چینی زبان پوری طاقت اور فخر سے ملک کے طول و عرض میں نافذ ہے۔ جرمنی میں نظام تعلیم جرمن زبان میں رائج ہے۔ فرانس اور اٹلی میں اپنی اپنی زبان ہی کو ذریعہ تعلیم بنایا جارہا ہے۔ اور جاپان جس کوتو تاریخ کی اذیت ناک سزا دی گئی تھی لیکن جاپانی قوم آج بھی اپنی زبان کے ساتھ پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑی ہے۔ خود برطانیہ اور امریکہ میں بھی انگریزی کے سوا کسی دوسری زبان کو تعلیمی یا حکومتی نظام میں مداخلت کی جرأت نہیں۔ انگریز نے ہم سے ہماری زبان چھین لی اور تاریخ کا یہ مسلمہ فیصلہ ہے کہ کوئی قوم دوسری قوم کی زبان میں علمی ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔ آج اپنی زبان اور اعلیٰ تہذیب کے متعلق یہ احساسِ کمتری”لارڈ میکالے” جیسے دانشوروں کی دی ہوئی لائین پر چلتے ہوئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہماری قوم کے قلوب و اذہان میں سرایت کیا گیا ہے۔ عزیزانِ من۔ کاش کہ آج ہم میں بھی کوئی لارڈ میکالے جیسا مفکر و سیاستدان پیدا ہوجائے اور وہ ہمارے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر یہ تجویز پیش کرے کہ معزز ممبران پارلیمان۔ میں نے پاکستان کے طول وعرض میں بارہا سفر کیا ہے۔ مجھے یہاں بھکاری بھی اور چور بھی نظر آئے۔ میں نے یہاں غربت کی بڑھتی شرح بھی دیکھی۔ جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کی اخلاق بھی بگڑتی جارہی ہے۔ میرے خیال میں اس وقت تک ہم اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کر سکتے جب تک ہم اپنے دینی اور ثقافتی اقدار کو قائم نہ رکھے جو ہماری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں ہوں کہ ہم اپنے نظام تعلیم کو اپنی زبان میں رائج کریں تاکہ ہم اپنے تہذیب و ثقافت کے ذریعے اپنا کھویا ہوا وقار بحال کر سکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: