زمانے کے انداز بدلے گئے —– ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 72
    Shares

یہ کوئی برسوں پہلے کی بات نہیں بلکہ کچھ سال ہی گزرے ہوں گے جب میں نے شعور کی آنکھ سے دیکھا تو زمانہ بڑی سبک رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا۔ پھر اچانک کیا ہوا کہ زمانے کے انداز ہی بدل گئے، جوانوں کے ولولے اور خوابوں نے نئے جہانِ معنی تلاش کر لیے اور نسوانی آنکھیں بے پردہ ہو گئیں۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ موبائل کا دسترس میں ہونا بھی ہے جس نے اس نئی پود کو آگہی کا عذاب بخش دیا ہے۔ اب معلومات کا ایک ذخیرہ آپ کی انگلیوں کی ایک جنبش پر ہے۔ ہمارے شیرخوار بچے بھی اس موذی ٹیکنالوجی کی زدمیں آ چکے ہیں، جنہیں ہم بڑے ذوق و شوق سے سراہتے ہیں۔ قِہرِ زمانہ اب تو شیرخوار بھی موبائل کا شکار ہیں۔ مصروف مائیں ہانڈیوں میں منہ دئیے بچوں کے ہاتھوں میں فون پکڑانے پر مجبور ہیں۔ گوگل اور یو ٹیوب کا سمندرِ بے کراں ڈبکی لگانے والوں کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتا ہے۔ راہ چلتے وڈیو بنانا اور پھر گروپ میں شئیر کرکے ثواب حاصل کرنے جیسا ہے۔

اب کپڑوں، جوتوں اور ہار سنگھار سے لے کر ضروریات زندگی کی ہر چیز نیٹ پر دستیاب ہے۔ بس مطالعہ کرنے والے کم ہوگئے ہیں، گویا پہلا انداز تو کتاب کا ہی بدل گیا ہے۔ کتب بینی کا مطلب بھی شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں ورنہ اب لائبریریاں بھی مسجدوں کی طرح ویران ہیں۔ انارکلی کے فٹ پاتھ بھی بے رونق ہوچکے ہیں جہاں پرانی کتابوں کی بہار سجی رہتی تھی۔ اب جسے دیکھو ہاتھ میں موبائل لیے، گردن جھکائے سکرین پر آنکھیں جمائے اندھوں کی طرح چلا آ رہا ہے۔ کسی طرف موڑ مڑتے ہوئے دیکھو تو گاڑی میں بیٹھا ڈرائیور بھی ہینڈز فری لگاکر محو گفتگو ہے۔ گویا ہر شخص کو موبائل راس ہے، محفل میں خوش گپیاں کیا کرنیں وہاں بھی سب موبائل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وٹس ایپ پر دھڑا دھڑ چیٹ چل رہی ہے، ویڈیوز کے تبادلے ہو رہے ہیں اور ہم جیسے ہونقوں کی طرح منہ کھولے دیکھتے ہیں کہ کاش کوئی بات کرنے والا میسر آ جائے۔

زمانے کا ایک اور انداز جو بڑی شدت سے معرض وجود میں آیا ہے وہ نسوانی سا ہے۔ یہ نسوانی انداز اظہار رائے کی آزادی پر منتج ہے جس کا اطلاق کم و بیش اب معاشرے کے ہر گھر پر کیا جاسکتا ہے۔ یہ اب کوئی نہ کہے کہ عورت کو اس کا مقام نہیں مل رہا، یہ مفروضہ اس زمانے سے تعلق نہیں رکھتا۔ بحث مقام پر بھی نہیں احساس پرہے جو بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ ہر گھر میں بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بھری پڑی ہیں۔ کہیں تل برابر جگہ نہیں، بچیوں کو بھی نوکریوں کی اجازت ملنے میں کسی خاص تنگی کا سامنا نہیں ہے اور بات جب آتی ہے رشتوں کی تو وہاں بھی اب لڑکیوں کی خواہشات سب سے مقدم سمجھی جاتی ہیں۔ اس بات کا اندازہ بھی مجھے چھ ماہ سے ہو چکا ہے کیونکہ زمانہ اب برینڈڈ مال ہے یہاں دیسی کچھ بھی نہیں۔ مجھے جب اپنے ایم۔ ایس۔ سی بھائی کے لیے در در رشتہ مانگنے کے لیے جانا پڑتا ہے اور سامنے بیٹھی لڑکیاں اکتاہٹ کا شکار نظر آتی ہیں تو سمجھ جاتی ہوں انھیں کاروباری لڑکے کے بجائے نوکری یافتہ رشتہ چاہیے۔ جب لڑکی کے ماں باپ کہتے ہیں کہ پڑھ لکھ کر بھی لڑکا کاروبار کیوں کرتاہے نوکری کیوں نہیں، چاہے پرائیویٹ نوکری ہی کر لے، تو بس دل بیٹھ سا جاتاہے۔ میں سید زادہ بغل میں لیے گلی گلی پھر بھی لوں تو بھی دیکھنے والی آنکھ میں چارہ نظر نہیں آتا۔ پھر میں کیسے نا سمجھوں کہ زمانے کے انداز بدلے گئے ہیں۔

تعلیم نے شعور کی جو جوت جگائی ہے اس کے اثرات آج کی عورت پر واضع طور پر ثبت ہیں۔ زندگی جو پیکج کا نام ہے اور جس میں اللہ کی تقسیم بھی نرالی ہے اس پر توکل رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ زمانے کے اس کارخانے میں مانگ بہت ہے اور رسد کم، جس کی وجہ سے اب لڑکیوں کو گھن لگنے لگا ہے۔

گزشتہ چھ سے سات سال کا عرصہ اتنی بڑی تبدیلی لے کر آئے گا اس کا ادراک اب ہوا ہے۔ تعلیم نے شعور کی جو جوت جگائی ہے اس کے اثرات آج کی عورت پر واضع طور پر ثبت ہیں۔ زندگی جو پیکج کا نام ہے اور جس میں اللہ کی تقسیم بھی نرالی ہے اس پر توکل رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ زمانے کے اس کارخانے میں مانگ بہت ہے اور رسد کم، جس کی وجہ سے اب لڑکیوں کو گھن لگنے لگا ہے۔ اگر ہم اپنی طرف نظر دوڑا کر دیکھیں تو خود ہی فیصلہ کرلیں گے کہ اللہ کی اس تقسیم اور پیکج میں ہرچیز پوری نہیں ہے۔ کہیں نہ کہیں کمی بیشی ضرور رکھی گئی ہے اور ایمان والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔ میں زمانے کی اس دوڑ کو نزدیک سے دیکھ رہی ہوں، میرا دل دماغ اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے لیکن حقیقت سے مفر نہیں۔ اچھے موقع کی تلاش سب کا حق ہے لیکن موقع کو کیش کرانے کا خواب دیکھنا شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔ میں بچیوں کو نصیحت کرنے کے موڈ میں بھی نہیں ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں زمانہ ہمیشہ پلٹا کھاتے ہوئے نئی سوچ اور فہم کو جنم دیتا ہے۔ تجربے کی بھٹی پکا کر سونا کر دیتی ہے اور جسے سونا بننا ہے اسے تپش تو برداشت کرنا ہو گی۔ بس ٹیکنالوجی کی اس دوڑمیں اتنا تیز مت بھاگیں کہ واپسی کا راستہ ہی گم ہوجائے۔ کپڑے اور جوتے برینڈڈ مل جاتے ہیں، ضرورتیں بھی پوری ہو جاتی ہیں لیکن توکل کی روشنی نہیں ملتی۔ ہماری جائز خواہشیں ناجائز ہوتی جا رہی ہیں اسی لیے نئی نسل کو اپنے کل پر بھروسہ نہیں رہا۔ کاش ! خواب دیکھنے والی آنکھیں قلزم اور بحیرہ میں فرق کرنا سیکھ لیں تو زندگی طوفان سے آشکار ہونے کے بجائے لنگر انداز ضرور ہو گی۔ ٹیکنالوجی کے اس سیلِ بے کراں میں ڈوبنے کے بجائے مشاق پیراک ہونا زیادہ سود مند ہے۔ فیصلہ اب خواب دیکھنے والی آنکھوں کو کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:  لڑکیاں فیس بک پہ کیوں آتی ہیں؟ دس مشورے : طاہر عمیر
(Visited 37 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20