پرندے کہاں چلے گئے؟ ———— آصف محمود

0
  • 75
    Shares

مارگلہ کے ایک چپ چاپ سے گوشے میں ایک دوست کے فارم ہاؤس پر دن ڈھل رہا تھا۔ اوپر پہاڑی سلسلہ تھا، نیچے تاحد نظر وادی پھیلی ہوئی تھی۔ پہلو سے گزرتا ایک برساتی نالہ دور تک بل کھاتے وادی میں چلا جا رہا تھا۔ مور، کبوتر اور مرغیاں واپس پنجروں میں بند کیے جا رہے تھے۔ فارم پھلدار درختوں سے بھرا ہوا تھا۔ فارم کے آ خری کونے پر نیم کے درخت کے پاس پر لکڑی سے جلائی آگ پر بھیڑ کے دودھ کی چائے بنائی جا رہی تھی اور آگ سے اٹھتا دھواں پرانے زمانوں کو آواز دے رہا تھا۔ یہ وہی وقت تھا جب پرندے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ یاد آیا کہ گاؤں میں شام اترنے سے پہلے پرندوں کے کتنے ہی ڈار آسمان سے گزرا کرتے تھے اور چارپائی پر لیٹ کر میں انہیں گنا کرتا تھا۔ کتنی ہی دیر میں آسمان کی وسعتوں میں تکتا رہا کہ پرندوں کی کوئی ٹولی نظر آ جائے لیکن سورج پہاڑ کی اوٹ میں جا ڈوبا اور وادی میں اندھیرا اتر آیا۔ کوئی پرندہ نظر نہ آیا۔ جاڑے کی اس شام میں یہی سوچتا رہ گیا، پرندے کہاں چلے گئے؟

گاؤں میں اپنے گھر میں کینو، امرود اور سنبل کے درخت تھے۔ صبح دم چڑیاں اتنا شور کرتیں کہ آنکھ کھل جاتی۔ میں آٹے کے گولے بنا کر مرغیوں کے آگے ڈالتا تو چڑیاں اچک لیتیں اور غصے سے بپھری مرغیاں ان چڑیوں کے پیچھے بھاگتی رہ جاتیں۔ تب چڑیوں کا گھر کے رزق میں حصہ ہوتا تھا اور صبح دم انہیں کچھ نہ کچھ ڈالا جاتا تھا۔ سرگودھا میں برادرم حبیب الرحمن بھون کے گھر کے سامنے بوہڑکا ایک درخت ہے۔ شام ڈھلے چڑیوں کی وہاں بارات اترتی ہے۔ چڑیوں کا یہ شور وجود کی گہرائیوں میں اتر کر اسے شانت کر دیتا ہے۔

سردیوں کی چھٹیوں میں جب شریفہ جاتے تو کینو کے باغات ’سیڑھوں‘ سے بھرے پڑے ہوتے تھے۔ جب کسان ہل چلاتے تو ان کے ہل کے پیچھے پیچھے پرندوں کے غول اترتے۔ دیسی کیکر کے جھنڈ ہوا کرتے تھے جہاں جنگلی کبوتروں کا بسیرا ہوتا تھا۔ نہروں اور کھالوں کے کنارے شارکوں کے ہجوم ہوتے تھے۔ زمینوں کو جب پانی دیا جاتا تو پرندوں کا ڈھیر لگ جاتا تھا۔ سارا گاؤں ہی اپنے خاندان کا تھا۔ کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ ٹیوب ویل کے ساتھ مولا بخش گوندل مرحوم کی نرسری تھی۔ آم اور جامن کے درختوں سے بھرایہ ایک گوشہ تھا جو انہوں نے محبت سے آباد کیا تھا۔ روش روش کیلے لگے تھے۔ گاؤں کا سب سے پیارا گوشہ یہی تھا۔ جنت کا ٹکڑا تھا۔ پورے گاؤں میں جل مرغی کا شکار صرف یہاں سے ملتا تھا۔ بہار رتوں میں یہاں تتلیوں کا بسیرا ہوتا تھا۔ میری نانی اماں کا گاؤں وجھوکہ تھا۔ سیم کے ساتھ ساتھ چند کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا تھا۔ مجھے یاد ہے، سارے رستے فاختہ کی مدھ بھری آواز سنائی دیتی۔ ان کے گھر میں ایک دھریک تھی۔ اس دھریک پر کوئل بولا کرتی تھی۔ کبھی راستے میں شام ہو جاتی تو سیم کے اندر جگنو ہی جگنو نظر آتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہاڑ کے دامن میں بیٹھے بیٹھے یادوں کا گویا ایک دریچہ سا کھل چکا تھا۔ سردی ببڑھتی جا رہی تھی، میں وہاں سے اٹھ آیا، یہ سوال مگر میرے ساتھ آیا کہ پرندے کہاں چلے گئے؟

چند سال قبل گاؤں گیا تو راستے میں دو چڑیاں مری ہوئی ملیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کسان اس ڈر سے کہ چڑیا ں ان کے بیج نہ کھا جائیں زمین میں زہر پھینک دیتے ہیں، چڑیاں زہر کھا کر مر جاتی ہیں۔ ننھی سی چڑیا آخر کسان کی کتنی فصل کھا جاتی ہو گی ؟ بڑا غصہ آیا لیکن پھر اس پر شرمندگی غالب آ گئی۔ یاد آیایہی پگڈنڈی تھی جہاں میں نے اپنے چھوٹے بھائی قاسم گوندل کے ساتھ تلیروں اور شارکوں کے ڈار پر فائر کیا تھا اور اٹھارہ مار گرائے تھے، کچھ شارکیں تھیں، کچھ تلیر۔ عبد الرسول گوندل ہمارے قبیلے کا سراغرسان تھا۔ اس نے بتایا فلاں جھنڈ میں جنگلی کبوتر پائے جاتے ہیں اور شام ڈھلنے کے بعد جنگلی کبوتر فلاں درخت پر اترتے ہیں۔ ایک شام اتر رہی تھی تو ہم اس درخت کے قریب کھڑے تھے۔ جنگلی کبوتروں کا ایک غول درختوں پر آ کر اترا۔ اس کے بعد کیا ہوا ؟ یہ صرف ندامت کی داستان ہے۔ گاؤں سے ایک روز شہر آیا تو گھر کی چھت پر پھندا لگا کر چڑیوں کو پکڑ لیا۔ ماں جی کو معلوم ہوا تو انہوں نے پکڑی ہوئی چڑیوں کو مجھ سے لے کر ارا دیا۔ تب بہت برا لگا کہ اتنی محنت سے کیا گیا شکار چھن گیا، آج مگر اچھا لگ رہا ہے۔

پرندے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ فاختہ اور کوئل کی آواز سنے اب عرصہ ہو گیا ہے۔ کبھی کبھار بے چین ہو کر بحریہ انکلیو کے چڑیا گھر میں صرف اس لیے جاتا جاتا ہوں کہ کہ وہاں کی خوبصورت ایویری کے ساتھ بہتی آبشار کے پاس رکھے بنچ پر بیٹھ کر فاختہ کی آوازیں سنتا رہوں۔ بیج کے ساتھ زہر ڈال کر ہم نے پرندوں کی نسلیں معدوم کر دیں۔ جگنو جو ہماری دیہی تہذیب کا ایک بنیادی رنگ ہوتے تھے اسی زہر کی وجہ سے ختم ہو چکے۔ درختوں کے کٹاؤ سے ویسے ہی پرندے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ پہاڑی علاقے کے جنگلات میں پرندوں کی جو چند اقسام بچ گئی ہیں وہ بھی ہماری جہالت کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔ لوگ پہاڑوں پر جاتے ہیں اور شاپر پھینک کر آ جاتے ہیں۔ جس پرندے نے شاپر کا کوئی ٹکرا کھا لیا وہ مر جاتا ہے۔ کیسے کیسے نایاب پرندے اور جانور دیوسائی کے علاقے میں اس وجہ سے مر گئے تفصیلات پڑھیں تو دل لہو روتا ہے۔ رہی سہی کسر شکارکے شوق نے پوری کر دی۔ اب چڑیا اور فاختہ جیسے پرندے بھی کم کم نظر آتے ہیں۔ طوطے دیکھے تو اب عرصہ ہو گیا۔ تیتر اب صرف پنجروں میں دکھائی دیتے ہیں۔ مرغابیوں کی کتنی اقسام معدوم ہو چکیں۔ یہی عالم رہا تو پرندے صرف کتابوں میں رہ جائیں گے اور ہم کتاب کھول کر بچوں کو دکھایا کریں گے کہ چڑیا، فاختہ، تیتر اور طوطے کیسے ہوتے تھے۔

پرندے دھیرے دھیرے ختم ہو رہے ہیں، کیا ہمیں اس کا احساس ہے ؟ کیا ہمیں کچھ خبر ہے کہ پرندوں کا وجود خود انسانی زندگی کے لیے کتنا ضروری ہے ؟ پرندے ان کیڑوں اور سنڈیوں کو بھی کھا جاتے ہیں جن کو مارنے کے لیے ہم مہنگے سپرے کرتے پھرتے ہیں۔ بالخصوص تلیر کی تو پسندیدہ غذا ہی نقصاندہ سنڈیا ں ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ پرندوں کی وجہ سے ماحول کس قدر صاف رہتا ہے۔ ہمیں جاننا چاہیے کہ پرندوں کے فوائد کیا ہیں۔ وہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکتے ہیں۔ فصلوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔ نقصاندہ کیڑے اور سنڈیوں کو کھاتے ہیں۔ کسی دن ماحولیات کے کسی ماہر سے پوچھ کر دیکھیے کہ صرف گدھ کے کم ہو جانے سے ماحولیات پر کتنا برا اثر پڑا ہے۔ پرندوں کا کم ہو جانا اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ ہم اپنے ماحول کو تباہ کرتے جا رہے ہیں۔ کیا کسی کو احساس ہے کہ وحشت اور ہیجان کے اس سفر کا انجام کیا ہو گا؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: