فرضوں ادا ہوئیے ——- حلیمہ سعدیہ

0
  • 26
    Shares

تنگ سے کمرے میں لاکر اس کو بٹھا دیا گیا۔ لڑکیاں اس کا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگیں۔ ناک کی بالی کچھ ذیادہ چبھ رہی تھی۔ پندرہ سالہ نجمہ کو نتھ ڈال دی گئ تھی۔ آہ! اب یہ قبر تک ساتھ رہنی تھی شاید۔

ابا نے فیصلہ سنا دیا تھا، سناتے بھی کیوں نہ آخر ان کا چہیتا بھتیجا تھا۔ پہلی بیوی چھوڑ گئی تو فورا سے بھتیجے کو سہارا دیا۔ حوصلہ بڑھایا ۔ ‘کوئی نئ پتر زنانیاں بوؤت، بے فکرا ہو۔ دل تنگ نہ کر اپنی نجماں ہے ناں، سنبھال لے گی تیرا گھر۔ آپے تیری روٹی پانی کرے گی، چنگا ہویا نیچ زات مگروں لتھی’۔ فیاض نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے جب نجمہ کا تصور کیا تو دل کی خباثت چہرے پر بھی اپنا رنگ چھوڑ گئی۔ ‘سودا ماڑا نئ’ اس نے کمینگی سے سوچا۔

نجمہ تیز تیز سیڑھیاں پھلانگتی نیچے اتری ہی تھی کہ اماں نے آواز لگائی۔ اے نجمی! ‘آئی اماں’ کہتی نجمہ اندر ماں کی طرف دوڑی۔ ‘نی نجمہ پندراں سالاں دی ہوگئ ایں، اینج چھڑاپے مارنا چھڈ دے، کوئی عقل نوں ہتھ مار۔ روٹی پکانی شروع کر تیرا ابا آندا ای ہووے گا’ نجمہ سیڑھیوں کے نیچے بنے چھوٹے سے برائے نام باورچی خانے میں سرک گئ۔ چوکی پر بیٹھی چولہا ہی جلا رہی تھی جب ابا دروازے سے داخل ہوا۔ لے آج فساد نہ ہوجائے ابا جلدی آگیا ہے یا میں لیٹ ہوگئ۔ اماں بھی ڈرتے ڈرتے ابا ہی کو دیکھ رہی تھی کہ ابا بولا، رہن دے نجمی میرے لئ روٹی نہ بناویں میں فیاض نال کھا آیاں۔ خلافِ توقع آبا کا اچھا موڈ دیکھ کر دونوں ماں بیٹی نے سکھ کا سانس لیا۔ خیر نال فیاض دے گھر گئے سی؟ اماں نے زرا تیکھے سے استفسار کیا۔ اس دی گھر والی تے ٹُر گئ’ روٹی کس نے کھوائی؟ ظہراں آئی ہوئی سی۔ اس نے روٹی کھلائی۔ کہتی ‘چاچا ابا کے بعد ہم بہن بھائی تیری زمہ داری ہیں ، فیاض ویچارا کب تک ایسے رہے گا کجھ سوچ اب۔ اماں کچھ ٹھٹھک گئ، بولی’ تو آپ نے کیا جواب دیا؟ میں نے کیا کہنا تھا فیاض میرا بھتیجا ہے میں نہ سوچوں گا تو کون سوچے گا؛ اپنی نجماں کی بات پکی کر آیا ہوں۔ ہائے ہائے سلیم دے ابا تسیں ہوش وچ تے او؟ نجماں اجے پندراں سالاں دی اے ‘تے فیاض دی وڈی کڑی تیراں سالاں دی ۔ اماں نے دہائی دی ۔ کوئی نئیں عمراں وچ کی رکھیا اے، تے بس میں فیصلہ کر آیاں اگلے مہینے دے پہلے جمعے نوں نکاح اے۔ تیاری کرلے، فرضوں ادا ہوئیے۔

نجمہ چولہے کے کنارے چھری سے کھرچتی یہ سب سن رہی تھی ۔ پتا نہیں یہ سب سن کر نہ تو اسے اچھا لگا نہ برا۔ شائد بھیڑ بکریوں کی یہ نسل قربانی کی غرض سے ہی پالی جاتی ہے۔ وہ جانتی تھی اس گھر کے مقدر میں ابا کی شکل میں ناخدا لکھ دیا گیا تھا جس کے اختیار میں ان سب کے نصیب کی کشتی تھی، جہاں چاہے لے جائے’ انکار اور اقرار کا مجاز کوئی نہیں۔

ابھی قرآنِ پاک بھی پورا نہ پڑھ پائی تھی کہ ابا نے باجی کے پاس جانے سے منع کر دیا۔ ‘گھر بٹھا وڈی ہورہی ہے’۔ سکول کی تو شکل بھی نصیبوں میں نہ تھی۔ اوپر تلے کے آٹھ بہن بھائی جن میں سب سے بڑی یہ، دوسری بہن تو ویسے ہی کملی تھی۔ سب اسے بلاتے بھی کملی ہی تھے۔ لیکن پتا نہیں کبھی کبھی ایسا لگتا جیسے وہ کمل پُنے کا ڈرامہ کر رہی ہو اور جانتی سب کچھ ہو۔

نجمہ ہی تھی جو ماں کے ساتھ سارا دن کام میں لگی رہتی۔ سارے بہن بھائیوں کے کپڑے دھوتی، انہیں نہلاتی، دھلاتی، ماں کے ساتھ ہو کر کھانا بناتی اور سب میں بانٹتی، جو تھوڑا وقت بچتا تو تفریح کے نام پر چند سانسیں اپنے اندر کھینچنے چھت پر چلی جاتی۔ اب تو اس پر بھی پابندی لگ گئ ۔ اماں نے کہ دیا کہ چھت پر نہیں جانا اب تو پرائی امانت ہے۔

سیدھی سادھی اماں بھی تو اسی مال مویشی کی نسل سے تھی جدھر چاہو جوت دو، اپنے انجام اپنے نصیب سے بے خبر ۔ نجمہ کے اس بے جوڑ رشتے پر یہ سوچ کر مطمئن ہورہی کہ ‘چلو ایک تو ٹھکانے لگی’۔ اور بلا چوں و چراں جمعے کو رکھے نکاح کی تیاری کرنے لگی ۔ تیاری کیا تھی ،اماں کے جہیز میں سے ایک رضائی، دو تکیے، تین کھیس بچے ہوئے تھے، انہیں دھوپ لگوائی۔ دو لحافوں کی روئی ادھار لی۔ استر کے کپڑے باجی ناھید سے مانگے، یوں تین لحاف، چار تکیے، دو گدّے، تین کھیس، چھ جوڑے، دو کان کی بالیاں، ادھر اُدھر سے لیئے چند برتن، ایک مسہری اور نجمہ کی شادی تیار۔

جمعہ کو گھر کے چھوٹے سے صحن میں ٹینٹ لگا کر’ مہمانوں کو میٹھے اور نمکین چاول کھلا کر نجمہ رخصت کر دی۔ نہ اماں روئی نہ نجمہ۔ گلی میں تین گھر چھوڑ کر ہی تو بیاہی تھی۔ البتہ کملی نجانے کیوں دھاڑیں مار مار کر روئی۔

کڑیاں بالیاں گا بجا کر نجمہ کو فیاض کے کمرے میں چھوڑ آئیں۔ اس کی شادی رکھنے سے لیکر رخصتی تک ہر احساس سے عاری منجمد سی نجمہ نے پہلی بار جھرجھری لی۔ ایک انجانا سا خوف اندر تک سرائیت کر گیا۔ اس گھر سے نکلتی باجی یاسمین کی چیخوں کی آوازیں اس کے کانوں میں چرکے لگانے لگیں۔

کیویں ماردا اے نصیباں جلی نوں۔ ترس نئ کھاندا چھوٹی جئی گل تے وچاری دا پنڈا ادھیڑ دیندا اے۔
دوسری آواز آتی : مرد جو ہویا۔ غصہ تے کرے گا ۔ اے تے زنانی دا کم اے بالن نہ کرے۔ موقع نہ دیوے۔
اس دوران باہر گلی میں عورتوں کے تبصرے جاری رہتے۔

ایک سال بعد پھر باہر گلی میں عورتیں گٹ مٹ کر رہی تھیں۔ لیکن آج نجمہ کی ماں ساتھ نہیں کھڑی تھی۔
کیویں ماردا اے نصیباں جلی نوں۔ ترس نئیں کھاندا۔
دوسری آواز: مرد جو ہویا ۔ غصہ تے کرے گا۔
تیسری آواز: ہائے نی نجمہ ویچاری تے یاسمین دی ڈری جوتیاں وی پیراں اگے سیدھیاں کردی اے ۔ فیر وی پتا نئیں۔
اج کی ہویا اے
چوتھی آواز: نمانی دا پرسوں چھلا سی ۔ کمزوری ہوئے گی ۔ اس لئ روٹی چج نال نیئں پکا سکی۔

——–
ان آبادیوں میں سسکتی زندگیاں بتانے والے مکین یہ کب جانتے ہونگے کہ بات بات پر بھڑکنے والے یہ ذہنی مریض اپنے اختیار میں آنے پر ہر کھلونا ایسے ہی توڑیں گے انہیں ایک کے بعد ایک بیوی کی نہیں ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔

(Visited 48 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: