ہمارا خوف، اضطرار اور مسلم دنیا میں فکری جمود کی تاریخ —– رشاد بخاری

0
  • 128
    Shares

جانے کیوں مجھے یہ لگتا ہے جیسے میں ایک ایسے گھر میں رہتا ہوں جس کے اکثر بزرگوں کو یہ خوف لاحق ہے جیسے باہر سے کچھ خطرناک ڈاکوؤں نے گھر پر حملہ کردیا ہے یا گھات لگائے بیٹھے ہیں اور حملہ کرنے ہی والے ہیں۔ چنانچہ وہ گھر میں موجود تمام ہتھیار اور مقابلہ کرنے کے قابل سب نوجوانوں وغیرہ کو لے کر اس کی چھت پر مورچے بنا کر اور شست جما کر بیٹھ گئے ہیں۔ کسی نوجوان کو مورچہ چھوڑنے یا ادھر ادھر ہلنے جلنے کی اجازت نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ جب ایک گروپ پہرے پر بیٹھا ہو تو کچھ دوسرے نوجوان اپنے گتکے، تلوار بازی، تیر اندازی یا نشانہ بازی یا زور آزمائی کی مشق کرلیں۔

بہت صدیوں سے وہ اسی طرح تلواریں، گنڈاسے، کلہاڑیاں اور توڑے دار بندوقیں لے کر دشمنوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں بلکہ خیالوں ہی خیالوں میں بہت سوں کے کشتوں کے پشتے بھی لگا چکے ہیں۔ زندگی اور موت کا مسئلہ درپیش ہو اور خوفناک دشمن آپ کی گھات میں بیٹھے ہوں تو چھوٹے موٹے نفع نقصان کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ اسی لئے گھر کے اندر کے معاملات، داخلی ضروریات اور مسائل پر توجہ دینے کا انہیں وقت اور موقع نہیں مل سکا۔

اس دوران گھر کی کھڑکیوں اور دروازوں اور چھت کی کڑیوں میں دیمک لگ چکی، کونے کھدروں میں سانپ، بچھوؤں اور کیڑوں نے بل بنا لئے، دیواروں اور چھتوں پر مکڑی کے جالے لگ گئے، عورتیں اور بچے کبھی کے مر کھپ چکے، کچن اور غسل خانے کی دیواروں پر کائی جمی ہے، پلستر اکھڑ رہا ہے، سیلن نے ساری آکسیجن جذب کرلی ہے، صحن میں اگی گھاس قد آدم کے برابر ہوچکی ہے اور اس میں طرح طرح کے حشرات الارض پھنکارتے اور سرسراتے پھرتے ہیں۔ جس خوف اور اضطرار نے پہلے کھٹکے پر انگڑائی لی تھی، اب ایک چنگھاڑ بن چکی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے تمام فیصلے اسی حالت خوف و اضطرار میں کئے جاتے ہیں۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ حالت اضطرار میں اخلاق، اقدار، ترتیب و تسلسل کے بہت سے اصول معطل ہوجاتے ہیں۔ بلکہ اگر زندگی موت کا مسئلہ درپیش ہو تو جان بچانے کے لیے کئی حرام بھی حلال ہوجاتے ہیں۔ تو اب صورت یہ ہے کہ اس گھر کی اکھڑی فرش کے پتھروں میں پلتے کیڑے کبھی کبھی تشویش سے ایک دوسرے کو کہتے ہیں بس کوئی دن اور ہیں کہ شائد یہ پوری چھت اپنے مورچوں اور جوانوں سمیت نیچے آرہے گی، بس کوئی دن اور۔

یقین جانیں اس بے ہودہ اور فضول خیال کا کوئی تعلق اس سیمینار سے نہیں ہے جو عالم اسلام کے عظیم مفکر، مدبر اور روحانی شخصیت حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی کی یاد میں ابولحسن علی ندوی اکیڈمی کے تعاون سے اسلامی نظریاتی کونسل میں منعقد ہوا اور جس میں شرکت کی سعادت مجھے اسلام آباد میں میزبان مہربان جناب جعفر بھٹی کی دعوت پرحاصل ہوئی۔ میری خوش قسمتی تھی کہ عالمی مفکر جناب احمد جاوید صاحب، استاد مکرم ڈاکٹر انیس احمد صاحب اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چئرمین اور نہایت مہربان اور شفیق صاحب علم جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب کے خیالات سے استفادے کا موقع ملا جو انہوں نے مولانا علی میاں کی فکر کی عصری معنویت کے حوالے سے ارشاد فرمائے۔

مجھے افسوس ہے کہ میں اپنی نہایت پسندیدہ علمی شخصیت مولانا زاہد الراشدی صاحب کی علم افروز گفتگو نہیں سن سکا۔ اس کا مجھے قلق تو رہے گا لیکن باقی فاضل مقررین کے خطابات بھی مجھ کم ذہن کی علمی نشو نما کے لیے کم معاون نہ تھے۔ ڈاکٹر انیس احمد صاحب نے مولانا علی میاں سے اپنے ذاتی تعلق کے حوالے سے کچھ دلچسپ یادداشتیں بیان کیں۔ ایک دلچسپ واقعہ یہ بھی تھا کہ جب امریکہ سفر کے دوران مولانا علی میاں کی آنکھوں کا آپریشن کرانے کی ضرورت پیش آئی اور ان کے سامنے امریکہ کے سب سے قابل دو غیر مسلم معالجین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے لیے کہا گیا تو مولانا نے یہودی ڈاکٹر سے علاج کرانے سے بالکل انکار کردیا۔ کافی اصرار اور ردو کد کے بعد باکراہت آپ عیسائی ڈاکٹر سے آپریشن کرانے کے لیے رضامند ہوئے۔ اور الحمدللہ ان کا کیا ہوا آپریشن کامیاب رہا اور اس طرح آپ کی علمی تحریرات کی صورت میں مسلم دنیا کو آپ کے فیوض کا سلسلہ جاری رہا۔

اس معاملے میں تقوی کو ہر صورت فوقیت دینے کا مطالبہ کرنے والے کسی شخص کی طرف سے یہ توقع شائد مناسب نہ ہو کہ کسی دشمن کا اتنا بڑا احسان نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ اس طرح مغرب کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوجانے کا امکان ہے، جو مذہبی اعتبار سے یہود و نصاری ہی کی نمائندگی کرتا ہے۔ ظاہر ہے یہ مطالبہ اس لیے مناسب نہیں کہ ایک علمی شخصیت کے لیے اس کی بینائی سے بڑھ کر قیمتی چیز کیا ہوسکتی ہے، اور بینائی بھی ایسی جو امت مسلمہ کو آگے کا راستہ دکھانے کا ذریعہ ہو؟

احمد جاوید صاحب نے مولانا علی میاں کے علمی مقام، کرداری اور روحانی درجات کی بات اس قدر دلنشین انداز میں بتائی کہ کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہی۔ احمد جاوید صاحب کا انداز گفتگو اتنا دلکش ہے کہ وہ جو کچھ بھی فرمائیں کسی دلیل کے بغیر بھی مان جانے کو دل کرتا ہے۔ وہ ذہن کو ایمان کے تابع سمجھتے ہوئے، شائد ہم جیسے کم عقلوں کی تشفی کے لیے، وہ دلیلیں پیش بھی کردیتے ہیں جو اگرچہ خود ایمان اور دین کے ادعا کے بعد غیر ضروری ٹھہرنی چاہیئیں۔ احمد صاحب کو آپ سنیں تو جی چاہتا ہے کہ سنتے ہی چلے جائیں۔ آپ کو بات کہنے کا ایسا ملکہ حاصل ہے کہ جو بات وہ کرتے ہیں وہ سیدھی آپ کے دل میں اترتی چلی جاتی ہے، اس ذہن کو چھوئے بغیر جس کی تشکیل کی ساری تہیں، ان کے خیال میں سراسر مغربی جدیدیت نے رکھی ہیں۔

آپ نے اپنی گفتگو کے آغاز میں ہی وضاحت فرما دی تھی کہ دین میں فکر کی اصطلاح کا مفہوم دیگر علوم میں اس اصطلاح کے استعمال سے مختلف ہے۔ اسی طرح دین اور ذہن کا تعلق دیگر علوم کے مقابلے میں برعکس ہے۔ دیگر علوم ذہن کے تابع ہیں، جبکہ یہاں ذہن دین کے تابع ہوتا ہے، وہاں پہلے جانا جاتا ہے پھر مانا جاتا ہے، جبکہ یہاں پہلے مانا جاتا ہے اور پھر جانا جاتا ہے۔ سبحان اللہ کس قدر سہل انداز میں آپ نے گربہ کشتن روز اول کے مصداق، عقل کی فتنہ سازی، ذہن کی افترا پروری اور فکر کے شر انگیزی کا پہلے ہی ہلے میں سدباب کردیا۔ چونکہ آپ کے خیال میں ذہن کی تشکیل کرنے والے سارے اسباب مغرب کے قبضے میں ہیں، ذہن اور دنیا کو بنانے والے ماحول کی ایک ایک تہہ مغرب کی بنائی ہوئی ہے، اور چونکہ مغرب وہ سازشی دشمن ہے جس نے اس کار جہاں سے خدا کو بے دخل کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے، اس لیے لامحالہ عقل، ذہن اور دنیا سے متعلقہ تمام آلات یقینا ناقابل استعمال اور ناقابل اعتبار ٹھہرتے ہیں۔

مولانا علی میاں کی علمی، فکری اور دینی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ

’عالمگیر، علم کش، یعنی خدا کو بے دخل کرنے کا منصوبہ بنانے والے ورلڈ ویو کے اس آفاقی غلبے کے ماحول میں ہمارے عالم اسلام میں جس ثابت قدمی سے علی میاں نے کسی معذرت خواہی کا شکار ہوئے بغیر اور جدیدیت کے ادنی سے اثرات قبول کیے بغیر ان چیلنجز کا مقابلہ کیا وہ نہ صرف علمی طور پر بلکہ اخلاقی طور پر بھی حیران کن ہے۔ اگر علی میاں نہ ہوتے تو مغرب کے کارخانے میں ہماری دینی تعبیرات کے ڈھلنے کا کام بہت تیز ہوجاتا۔‘

تمام فاضل مقررین کا اس بات پر اتفاق تھا کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی عالم اسلام کے ایک ایسے مفکر تھے جنہوں نے مروجہ سماجی علوم کے مطالعے کے تقابل میں اسلام کی حقانیت ثابت کی اور علامہ اقبال کے اس خواب کی تعبیر ثابت ہوئے جو انہوں نے اسی مقصد کے لیے دیکھا تھا۔ وہ صحیح معنوں میں حضرت شاہ ولی اللہ کی فکر کے وارث اور حضرت امام غزالی کے کرداری اوصاف کا نمونہ تھے۔ شاہ ولی اللہ نے عقل کے دینی کردار اور دین کی فکری تشکیل نو کو جس اعلی درجے پر واضح کیا تھا اور مسلم نظریہ علم کی بنیاد رکھی تھی، اسے عوام الناس تک پہنچانے میں مولانا علی میاں کا کردار بے مثال ہے۔

فاضل مقررین نے نہایت اخلاص اور درد دل کے ساتھ یاد دہانی کرائی کہ مغرب کی اخلاق باختہ اور بے دین تہذیب کا علمی میدان میں مقابلہ کرنے، اپنے گھر کی حفاظت کرنے اور یہاں اسلامی اقدار کو نافذ کرنے کے لیے ہمیں ان اکابر کے افکار کا بغور مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری عظیم علمی اور تہذیبی روایت کا احیا اور دنیا میں اپنے جائز حق کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں کہ ہم باہر خصوصا مغرب سے چلنے والی فکری آندھیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے علمی اور فکری ورثے کے صحیح معنوں میں محافظ اور ترجمان بنیں۔

سوال یہ ہے کہ مغرب کی مخاصمت میں اس حد تک جانے اور پھر عقل، علم اورذہن کی ساری اقلیم ان کے نام موسوم کردینے اور اپنے تمام نوجوان ذہنوں کو اس سے ڈرا دینے کے بعد کیا کسی بھی قسم کے باہم علمی و فکری استفادے کی کوئی راہ باقی بچتی ہے؟

بلکہ مجھے تو یہاں تک احساس ہوا کہ ان کا مدعا یہی ہے کہ اس کے لیے ہمیں اپنے گھر کی چھت پر مورچے بنائے رکھنے چاہیئیں اور کسی بھی علمی، عقلی، ذہنی اور فکری کوشش کا گلا گھونٹ دینا چاہیے اس سے قبل کے وہ دین کی تعبیرات تک پہنچے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم کسی تنقیدی فکر کو کبھی اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ اکابر کی فکر کا بے جا تفصیلی جائزہ لے کر اس اخلاقی ذمہ داری اورعلمی فکر کی اہمیت کو کم کرسکے، جس نے مغرب کے زہریلے علمی پنجوں سے اب تک دین کو بچا رکھا ہے۔ ان افکار اور نصائح کو ملاحظہ کرنے کے بعد ان کے بارے میں عقل کی بنیاد پر کوئی تبصرہ کرنا یقینا بے عقلی اور مغرب پسندی ہی تصور کی جائے گی، کیونکہ عقل، اور اس کے تعلق سے علم اور فکر بھی تو مغربی ہتھیار ہیں!

آخر میں ایک سنجیدہ سوال یہ ہے کہ مغرب کی مخاصمت میں اس حد تک جانے اور پھر عقل، علم اورذہن کی ساری اقلیم ان کے نام موسوم کردینے اور اپنے تمام نوجوان ذہنوں کو اس سے ڈرا دینے کے بعد کیا کسی بھی قسم کے باہم علمی و فکری استفادے کی کوئی راہ باقی بچتی ہے؟ کیا اس سوچ کے ہوتے ہوئے جہاں علم و فکر اور ذہن و عقل کو دین اور عقیدے کا دشمن قرار دے دیا جائے یا ہر صورت پہلے سے سوچے گئے نتائج کے تابع کر کے دیکھا جائے تو کیا مسلم دنیا میں کسی بھی خرد افروزی کی توقع کی جا سکتی ہے؟ کیا اس سوچ اور رجحان کے تحت اپنے ہاں کسی علمی دریافت یا ترقی کا مغرب کی مکمل فکری اور مادی تباہی کے بغیر سوچا بھی جاسکتا ہے؟

جناب احمد جاوید نے بتایا کہ شاہ ولی اللہ کی کتاب ’خیر کثیر‘ مسلم نظریہ علم پر بارہ سو سال میں لکھی جانے والی سب سے بڑی اور واحد کتا ب ہے اور جس میں عقلیات و وجدانیات کے درست تقابل کے بعد نظریہ وجود اور تصور علم کا احاطہ کیا گیا ہے۔ آپ کے الفاظ تھے کہ ’ہمیں فخر ہے کہ شاہ ولی اللہ نے عقلیات اور وجدانیات دونوں میں حرف آخر لکھ کر دکھایا جس کو قبول کیے بغیر چارہ نہیں اور جس میں اضافے سے مایوس ہوجانا ضروری ہے‘۔ اگر خود شاہ صاحب علیہ رحمتہ کا بھی اس کے بارے میں یہی خیال تھا اور دیگر علما بھی یہی سوچتے ہیں تو شائد مسلم دنیا میں فکری جمود کے آغاز کی تاریخ کا اندازہ لگانا ممکن ہو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: