ٹی وی ڈرامہ، عورت اور سیکس اپیل —— اورنگ زیب نیازی

0
  • 262
    Shares

کیا اچھا زمانہ تھا ملک میں صرف ایک ٹی وی چینل ہوتا تھا اور زندگی میں سو سُکھ ہوتے تھے۔ بڑے شہروں کی صورت حال تو معلوم نہیں لیکن ہمارے گائوں گوٹھوں میں کُل ملا کر چار پانچ ٹیلی وژن سیٹ ہوتے اور وہ بھی بلیک اینڈ وائٹ۔ شام چار بجے تلاوت کلام پاک اور تجوید و ناظرہ کے ساتھ نشریات کا آغاز ہوتا، پھر علاقائی زبانوں میں خبریں، علاقائی پروگرام اور بچوں کی دل چسپی کے کچھ پروگرام اور کارٹون ہوتے۔ سات بجے شائستہ زید کی انگریزی خبریں، اس کے بعد کبھی موسیقی، کبھی ادب اور کبھی حالاتِ حاضرہ کا کوئی پروگرام۔ آٹھ سے نو پرائم ٹائم تھا۔ اس دوران قسط وار اردو ڈرامہ ہوتا۔ نو بجے خبر نامہ اور موسم کی خبروں کے ساتھ ہی ٹی وی بند ہو جاتا۔ نشریات بھی رات بارہ بجے تک ہوتیں لیکن ڈرامے اور خبروں کے بعد دلچسپی کا سامان بہت کم ہوتا۔ رات گئے تک ٹی وی کی عیاشی صرف ویک اینڈ پر میسر آتی جب فیچر فلم دکھائی جاتی۔ مغرب کی نماز کے بعد ٹی وی والے گھر میں ٹی وی کے آگے دریاں اور چار پائیاں بچھا دی جاتیں۔ محلے بھر کے بچے اور نوجوان لڑکیاں جمع ہو جاتیں۔ گھر والوں کے لیے یہ اکٹھ خوشی کا باعث ہوتا نہ کہ ناگواری کا۔ اگر کوئی بچہ یا بڑا کسی دن ٹی وی دیکھنے نہ آتا تو اگلے روز اس کے گھر جا کر خیریت دریافت کی جاتی اور وہ کسی بات پر ناراض ہوتا تو اسے باقاعدہ منا کر واپس لایا جاتا۔

یہ پی ٹی وی درامے کا ’’گولڈن پیریڈ‘‘ تھا۔ تنہائیاں، ان کہی، ففٹی ففٹی، جنگل، وارث اور دریا جیسے ڈرامے نشر ہوتے تھے جو اب کلاسیک کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان ڈراموں کے لکھنے والے انور مقصود، فاطمہ ثریا بجیا، نورالہدیٰ شاہ، امجد اسلام امجد اور اصغر ندیم سید جیسے لوگ ہوتے تھے۔ یاور حیات، نصرت ٹھاکر، شرافت نقوی، حفیظ طاہر اور ایوب خاور اور کئی دیگر ہدایت کاروں کے نام لوگوں کو ازبر ہوتے۔ ڈرامہ نگاری اور ہدایت کاری کے علاوہ ان لوگوں کا اپنا ایک ادبی پس منظر بھی تھا۔ یہ ادبی خانوادوں سے تعلق رکھتے تھے۔ نہیں تو خود کسی نہ کسی ادبی صنف سے وابستہ تھے، خود شاعر اور فکشن نگار تھے۔ اس وقت کا ڈرامہ ہمارا ڈرامہ تھا۔ اس کے اندر ہماری اقدار، ہماری تہذیب، ہماری زبان، ہمارے لوگ، ہمارے شہر اور ہمارے گائوں نظر آتے تھے۔ اس لیے لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ڈرامہ ہے حقیقت نہیں، ڈرامے کے کرداروں کے ساتھ جیتے تھے، ان کے ساتھ ہنستے اور ان کے ساتھ روتے تھے۔ کیونکہ ڈرامہ حقیقت کی نقل ہوتا ہے اور یہ نقل حقیقت کے قریب تر ہوتی تھی۔

سب سے ’’حیران کُن‘‘ اور مزے کی بات یہ کہ اس ڈرامے میں عورت بھی ہوتی تھی۔ جیتی جاگتی جاگتی زندہ عورت۔ ۔ ۔ بوڑھی عورت۔ ۔ ۔ جوان عورت۔ ۔ ۔ خوبصورت عورت۔ ۔ ۔ دیہات کی سادہ اور شہر کی فیشن ایبل عورت۔ ہیرو اور ہیروئن کا معاشقہ بھی ہوتا تھا، طلاقیں بھی ہوتیں اور دیگر مسائل بھی۔ ۔ ۔ یہ عورت اپنے زمانے کے فیشن کے مطابق لباس پہنتی تھی اور اس زمانے کے فیشن کے مطابق لباس میں عورت کے جسمانی اُبھار زیادہ نمایاں ہوتے لیکن اس لباس میں اور اس کی حرکات میں سیکس اپیل نہیں ہوتی تھی اسلیے شہوت نہیں ابھرتی تھی بلکہ خوب رُو اور پرکشش اداکارائوں کے لیے محبت اور عزت کے جذبات ابھرتے تھے۔ شاید اسی لیے نہ تو عورت کو برقعے میں بند کرنے کی ’ضدوجہد‘ تھی نہ اس کے کپڑے اُتارنے پر اصرار۔

ڈرامے کے موضوعات ہماری معاشرتی زندگی سے تعلق رکھتے تھے۔ ہمارے معاشرے میں تب بھی بہت سی برائیاں ہوتی تھیں کہ کوئی معاشرہ کبھی برائی سے مکمل پاک نہیں ہو سکتا تھا۔ مامی چاچی سے ناجائز تعلقات اور سالیوں پر بری نظر جیسے معائب شاید تب بھی معاشرے میں موجود تھے لیکن یہ ہمارے ڈرامے کا موضوع نہیں تھے کیوں کہ لوگ جانتے تھے کہ برائی کو دبانے سے برائی ختم نہیں ہوتی تو برائی کو اُچھالنے سے بھی ختم نہیں ہوتی۔ ایسا نہیں کہ تب عورت کے لباس یا ڈرامے کے موضوعات پر اعتراض نہیں ہوتا تھا۔ ہوتا تھا لیکن اس میں یہ شدت نہیں تھی جو آج دیکھنے میں آرہی ہے۔ اصغر ندیم سید کا ڈرامہ ’’دریا‘‘ چولستان کے پس منظر میں لکھا گیا۔ یہ نہ صرف روہی میں پانی کے مسئلے اور اس سے وابستہ دُکھوں کو اُجاگر کرتا ہے بل کہ عورت کی مظلومیت اور اس کے استحصال کے خلاف مضبوط آواز بھی ہے۔ اس ڈرامے کا ایک سین بہت متنازعہ ثابت ہوا جس پر مخصوص طبقے نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ ڈرامے کا ایک ہیرو شاہ مرید (عثمان پیزادہ) اپنی بیوی بھاگی (ثمینہ پیر زادہ) کو طلاق دے دیتا ہے۔ یہ دونوں اداکار چوں کہ حقیقی زندگی میں بھی میاں بیوی تھے لہٰذا اصرار ہوا کہ ان کی حقیقت میں بھی طلاق ہو گئی ہے لیکن تمام اداکار، ہدایت کار اور عوام ایک صفحے پر نظر آئے اور یوں تما م فتوے اور الزام دم توڑ گئے۔

پھر یوں ہوا کہ ریاست کے چوتھے ستون کو مضبوط کرنے کے لیے پچاس مقدس گائیں بے لگام چھوڑ دی گئیں جو کھیت کھیت میں منہ مارنے لگیں۔ سرمایہ دار کے سرمایے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے علم اور ذہانت کو بر سر بازار برائے فروخت رکھ دیا گیا۔ سرمایے کی ریل پیل ہوئی تو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے تفریحی چینل بھی میدان میں آگئے۔ تفریح تو دُم دبا کر بھاگ گئی البتہ وہ ہا ہا کار مچی کہ لوگ چینل بدل بدل کر تفریح ڈھونڈنے لگے۔ ایک وقت میں بیسیوں ڈرامے نظر آنے لگے لیکن کسی کو کسی اداکار، ہدایت کار کا نام تک معلوم نہیں۔ عورت کے استحصال کی ایک نئی صورت سامنے آئی کہ عورت کی آزادی کے علم برداروں نے خود عورت کو ہی ایک شے (پراڈکٹ) بنا دیا۔ بات صرف سیکس اپیل اور موضوعات کی نہیں زبان، تلفظ، مکالمہ، اداکاری اور ہدایت کاری بھی ایسی بگڑی کہ دہن بگڑا۔ ایک نجی چینل ایک ڈرامہ نشر کر رہا ہے، جس کا نام ہے: ’’کیسا ہے یہ نصیباں‘‘۔ اب یہ نصیباں کون ہے؟ اگر یہ نصیبو لال جیسی ہے تو ٹھیک اور اگر یہ’’نصیبا!‘‘ ہے تو پھر اس ڈرامے کے رائٹر اور ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ ان کے اساتذہ بھی سزا کے مستحق ہیں۔ ایک اور ڈرامہ ہیرو (پولیس افسر) کی وردی کے گرد گھوم رہا ہے۔ گھریلو مسائل، بہن کے ساتھ اس کے شوہر کے ناروا سلوک، نوکرانی کے ریپ، ہیومن ٹریفکنگ اور وڈیرہ شاہی مظالم کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے وردی۔ ہیرو اپنے گھر میں ناشتے کی میز پر بھی وردی پہنے ہوئے ہے، بازار میں شاپنگ کرتے ہوئے بھی، اپنی ہیروئن کے ساتھ کسی ہوٹل میں بھی اور رشتہ داروں کے ہاں جاتے ہوئے بھی اور حد تو یہ ہے کہ وردی اس رینک کے افسر کی وردی ہے بھی نہیں۔ ہیرو صاحب مقابلے کا امتحان پاس کر کے پولیس افسر بنے ہیں یعنی اے ایس پی ہیں لیکن وردی سب انسپکٹر کی پہن کر وردی کی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

مگر ٹھہریے! ایک چنگاری ابھی اپنی خاکستر میں ہے کہ کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی۔ انھی میں سے ایک نجی چینل پر ڈرامہ سیریل ’’آنگن‘‘ بھی ہے جس کی تین قسطیں آن ایئر جا چکی ہیں۔ اس کی کہانی تقسیم کے پس منظر میں لکھے گئے خدیجہ مستور کے معروف ناول سے ماخوذ ہے۔ ڈرامائی ضرورت کے تحت ناول کے واقعات کو کچھ آگے پیچھے کیا گیا ہے لیکن مکالمے جاندار، اداکاروں کا تلفظ، زبان اور ادائیگی اور آواز کا زیر و بم شاندار ہے۔ تمام جونیئر اور سینیئر اداکاروں بالخصوص نواب مظفر کے روپ میں عابد علی کی اداکاری ان کے کیرئیر کی بہترین اداکاری ثابت ہو گی۔ اس ڈرامے میں نواب مظفر کے دو عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات کا ذکر ہوتا ہے، جن کے لیے داشتہ کا لفظ استعمال کیا گیاہے۔ اس کا ایک ناجائز بیٹا بھی ہے۔ اس کی بیوی اور بیٹے بار بار اسے اس بات کا طعنہ دیتے ہیں۔ اس کی اپنی بیٹی نوکر کے ساتھ عشق کرتی ہے اورگھر سے بھاگ کر شادی کر لیتی ہے۔ یہ سب کچھ ڈرامے کا حصہ ہے لیکن اس کے باوجود تہذیب اور شایستگی کا دامن کہیں ہاتھ سے نکلتا محسوس نہیں ہوتا۔ ڈرامے کے نئے رائٹرز اور ڈائریکٹرز کے لیے اس ڈرامے میں بڑا واضح سبق موجود ہے۔

اب اس سے پہلے کہ اس تحریر کا مدعا سمجھے بغیر میرا دوست، آزادیء اظہار رائے کا ’’گاماں پہلوان‘‘ معترض ہو، میں اس کے متوقع سوال کو اسی کی طرف لوٹا دیتا ہوں کہ کیا آزادیء اظہار اور فرد کی آزادی محض عورت کے ننگے پن کا نام ہے؟ کیا ڈرامہ آرٹ نہیں ہے؟ اور آرٹ عورت کی سیکس اپیل کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا؟ یا عورت کی سیکس اپیل دراصل سرمایہ دار کی پراڈکٹس بیچنے اور اس کے سرمایے میں اضافے کا ایک ذریعہ ہے؟ بقول شخصے رقص اعضاء کی شاعری ہے، اعضائے مخصوصہ کی نہیں۔ اس لیے خدارا آرٹ کو آرٹ اور عورت کو انسان رہنے دیں۔ اسے اپنے مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

یہ بھی ملاحظہ کریں:
ایرانی فلمیں: نظر، دل کی حیات جاودانی —— قدسیہ جبیں
 جنس ، اشتہارات، تانیثیت، مغرب اور ہم : الیاس بابر اعوان

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: