کول پاور پلانٹس، چین کی برہمی اور عمران حکومت —– گل ساج

0
  • 80
    Shares

آج جب تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لئیے آن لائن نیوز سائیٹس دیکھ رہا تھا کہ ایک خبر پہ نظر پڑی۔ عنوان اس طرح کا تھا کہ ٹھٹھک گیا اور تفصیل دیکھی۔ اس خبر میں میری دلچسپی کی وجہ یہ تھی کہ کل ہی چائنیز سفیر نے پہلی بار کھل کے مگر دھیمے انداز میں حکومتی پالیسیوں پہ بات کی گرچہ پی ٹی آئی مخالفین نے معمول کے مطابق چینی سفیر کی گفتگو کو حکومتی پالیسی پہ عدم اعتماد کا اظہار بتایا۔ چین کے سفیر نے کہا کہ:

“حکومتی پالیسیوں میں تسلسل نہیں ہے، کاروباری ماحول ذیادہ سازگار نہیں، تجارتی پلان خاطرخواہ مضبوط نہیں، ٹیکسز بہت زیادہ ہیں اس لئیے چینی سرمایہ کار پاکستان میں انویسٹمنٹ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں”

ابھی اس بیان کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ آج ایک موقر انگریزی اخبار نے عجیب سرخی جمائی کہ “پاکستان کی قسمت بدلنے والے منصوبے اچانک ملتوی”۔
حیرت ہوتی ہے کہ بڑے لیول کے قومی اخبار بھی اسطرح کی مایوس کن، منفی تاثرانہ ہیڈنگ لگاتے ہیں جو خبر سے مطابقت بھی نہیں رکھتی۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق “اسلام آباد کی جانب سے باضابطہ طور پر بیجنگ کو بتادیا گیا کہ وہ آئندہ کچھ سالوں تک قابلِ اطمینان پیداواری گنجائش موجود ہونے کے باعث 1320 میگا واٹ کے رحیم یار خان کول پاور پلانٹ میں دلچسپی نہیں رکھتا لہٰذا اس منصوبے کو سی پیک کے منصوبوں کی فہرست سے خارج کردیا جائے”۔ مزید براں اخبار کو اہم حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ “پی ٹی آئی حکومت نے پی ایس ڈی پی کے ششماہی جائزے میں “سیاسی بنیادوں” پر شروع کیے جانے والے 400 ترقیاتی منصوبوں کے اخراج کے لیے اپنا ذہن بنالیا ہے”.

سابق حکومت نے سی پیک میں توانائی کی ضروریات کے لئیے چند منصوبے شامل کئیے تھے جن میں تھر کول پاور پلانٹ 1320 میگا واٹ ساہیوال کول پلانٹ رحیم یار خان اور مظفرگڑھ میں 1320 میگاواٹ کے کول پاور پلانٹ لگانے تھے۔ جیسا کہ اب سب کو علم ہے کہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر ماحولیاتی آلودگی کا باعث ہوتے ہیں پوری دنیا میں کول پاور پلانٹس متروک کر دئیے گئیے ہیں خود چائنا میں کول پاور پلانٹس کے سبب تباہ کن تیزابی بارشوں نے ہزاروں لوگوں کی جان لے لی تھی جس سے چائنا میں پہلی بار عوامی سطح پہ احتجاج ہوا اور چائنا نے اپنے کول پاور پلانٹش کو گیس پہ کنورٹ کرنے کے لئیے خطیر رقم مختص کی۔ عجیب بات مگر یہ کہ چائنا جو اپنے ملک میں کول پلانٹس ختم کر رہا ہے یہی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری سے متروک ٹیکنالوجی برامد کر رہا ہے جو انسانی صحت کے لئیے انتہائی مضر ہیں۔

دو ماہ پہلے پی ٹی آئی حکومت نے چائنا سے رحیم یارخان اور مظفرگڑھ کول پاورز منصوبے ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی مگر چائنا کے دباؤ پہ گزشتہ ماہ پھر یہ منصوبہ جات ترجیحی بنیادوں پہ سی پیک پراجیکٹس میں شامل کر لئے گئے تھے جنہیں اس بار پی ٹی آئی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل نہیں کیا

ایک رپورٹ کے مطابق 500 میگاواٹ کول پاور پلانٹ سے 50 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے، 10 ہزار ٹن سلفر ڈائی اکسائڈ پیدا ہوگی یہ تیزاب انسانی صحت انتہائی مہلک ہے گردے اور پھیپھڑوں کے لئیے زہر قاتل ہے۔ 50 لاکھ ٹن کاربن ڈائی اکسائڈ کا مطلب ہے کہ تقریبا 20 کروڑ درخت اس کاربن ڈائی اکسائڈ کو جذب کرنے کے لئیے درکار ہونگے کیا اتنے وسیع پیمانے پہ شجر کاری بھی کی جائے گی۔ ساہیوال کول پراجیکٹ 1320میگا واٹ کا ہے یعنی اس سے دگنا زہر ہر سال صرف ساہیوال کول پاور پراجیکٹ سے ملک کی فضاؤں میں گھولا جا رہا ہے۔ کول پاور پراجیکٹس سے نائٹروجن اکسایڈ، کاربن مونو اکسائڈ، آرسینک اور مرکری خارج ہوتے ہیں یہ تمام گیسز اور کیمیمکل پھیپھڑے دل دماغ کینسر اور جلدی امراض کا سبب بنتے ہیں۔

یاد رہے کہ 2015 میں کراچی شہر میں قیامت خیز گرمی کی وجہ سے تین دن میں دو ہزار افراد جان سے گئیے تھے۔ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی وجہ جاننے کے لئیے ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے تفصیلی رپورٹ میں ان ہلاکتوں کا سبب کراچی سے ملحق انڈیا کے صوبے راجھستان میں واقع کول پاور پلانٹس کو قرار دیا تھا۔ خود انڈیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب ایک لاکھ پندرہ ہزار افراد موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔ ماہرین نے ان سب کی ہلاکت کی وجہ انہی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو قرار دیا بعد میں ہاورڈ یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم نے بھی انڈیا میں بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع کی وجہ کول پاور پلانٹس ہونے کی توثیق کی۔ ان کارخانوں سے خارج ہونے والے زہریلی گیسیں اور فضلات ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب بنتے ہیں جو انسانی صحت پہ منفی اثرات ڈالتے ہیں۔

افسوسناک امر ہے کہ سابقہ حکومت نے ان مضر صحت اثرات کے باوجود کول پاور پراجیکٹس کے معاہدے کئے۔ ماحول میں ان ہلاکت خیز تغیر و تبدل کے باوصف مظفر گڑھ میں کوئلے سے بننے والی بجلی کے پلانٹ کہ تنصیب کے خلاف عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔ اچنبھے کی بات کہ اس احتجاجی تحریک کی کمانڈ مظفرگڑھ کے آزاد رکن اسمبلی جمشید دستی کر رہے تھے جنکے متعلق تاثر تھا کہ وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی فنی باریکیوں سے کما حقہ واقف نہیں۔ بعد ازاں اس تحریک عدم تنصیب کول پاور پلانٹ میں سول سوسائٹی، سماجی تنظیمیں اور ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہوگئیے جس سے اس احتجاج کو بڑھاوا ملا۔ جمشید دستی نے قومی اسمبلی میں اسکے خلاف قرارداد جمع کرائی، اسوقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف، چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف آف آرمی سٹاف کو خط لکھے، دھواں دار پریس کانفرنسز کیں جن میں واضح کیا کہ پہلے ہی مظفرگڑھ میں تین تھرمل پاور پلانٹس نصب ہیں جو 3700 میگاواٹ بجلی ملک کو فراہم کر رہے ہیں۔ متعدد شوگر ملز ہیں جنہوں نے اپنے چھوٹے کول پلانٹ بھی لگا لئیے ہیں جنکے ٹریٹمنٹ پلانٹس نہ ہونے کے وجہ سے علاقے کے لوگ طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں مزید 1320 میگاواٹ کول پاور سے 10 لاکھ لوگ متاثر ہونگے۔ یہ انسانی مسئلہ ہے لہذا مظفرگڑھ میں کول پاور پلانٹ کی نصیب کی ہر طرح سے مخالفت کی جائے گی۔ قبل ازیں جمشیددستی نے قومی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ تھرمل پلانٹس کے اردگرد 3 کلومیٹر ایریاز میں رہائش پذیر لوگوں کو 100 یونٹس بجلی مفت فراہم کیبجائے کہ یہ لوگ اپنے خون سے ملک میں روشنیاں جلائے ہوئے ہیں۔ اس پرزور احتجاجی تحریک کے نتیجے میں مظفرگڑھ میں کول پاور پلانٹ کی تنصیب رُک گئی۔

مگر اب پتا چلا کہ یہ منصوبہ ملتوی نہیں ہوا تھا وقتی طور پہ اس پہ خاموشی اختیار کی گئی تھی۔ اسی اخبار کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ دو ماہ پہلے پی ٹی آئی حکومت نے چائنا سے رحیم یارخان اور مظفرگڑھ کول پاورز منصوبے ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی مگر چائنا کے دباؤ پہ گزشتہ ماہ پھر یہ منصوبہ جات ترجیحی بنیادوں پہ سی پیک پراجیکٹس میں شامل کر لئے گئے تھے جنہیں اس بار پی ٹی آئی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل نہیں کیا اور دوست ملک چین پہ واضح کر دیا کہ پاکستان میں آئیندہ کئی سال تک توانائی کی صورتحال تسلی بخش ہے۔ ایسے حالات میں رحیم یار خان اور مظفرگڑھ پاور پراجیکٹس ملکی خزانے پہ بوجھ ثابت ہونگے لہذا ان پراجیکٹس پہ چائنا سے معزرت کر لی گئی ہے۔

بہرحال اگر ایسا ہے تو یہ ان ماحول دشمن انسانی صحت کے لئے مُہلک پراجیکٹس کا ختم ہونا ہی بہتر ہے۔ سیاسی بنیادوں پہ کئیے گئیے مزید ایسے کئی منصوبے ختم کئیے جانے کی اطلاعات مل رہی ہیں جو عوام کے پیسے کا ضیاع ثابت ہوسکتے ہیں۔

چینی سفیر کے گزشتہ روز دئیے گئیے ریمارکس کو پی ٹی آئی حکومت کے مندرجہ بالا اقدامات کے تناظر میں دیکھا جائے تو کچھ کچھ بات سمجھ آتی ہے یقیننا حکومت اور چین کے مابین کسی نہ کسی سطح پہ عدم اعتماد کی ماحول موجود ہے۔

اگلے ماہ سعودیہ کا اعلی سطحی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا، یاد رہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دی تھی جس پہ سعودیہ نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ شنید ہے سعودیہ پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔ انتظار کرتے ہیں کہ یہ دورہ ہی چین اور پاکستان کی سی پیک پہ ورکنگ ریلیشن شپ اور بہتر تعلقات کے درست اشاریے واضح کرے گا۔


 سموگ : کاش ہم چڑیا گھر کے جانور ہوتے یہ بھی ]پڑھیں:

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: