خالدہ حسین سے ایک یادگار انٹرویو: حصہ ۳ —– نجیبہ عارف

0
  • 76
    Shares

سوال: ابتدائی زندگی ایسی ہی گزری بچوں کے ساتھ؟
خالدہ حسین: ہاں بالکل بچوں کے ساتھ گھمانا پھرانا، سیریں کروانا، ادھر لے کے جانا، کلب چلو، اُدھر چلو، یہ کرو، وہ کرو۔ ہر نئی چیز دکھانی، اس پہ لے کے جانا، سیر تماشا، ہائیکنگ پہ لے کے جا رہے ہیں۔ کیا کچھ کرتے رہے۔ بہت زیادہ۔ بس کوئی ایک روحانی پہلو جو تھا وہ بچوں میں آگیا۔

سوال: باقی بچوں میں بھی ہے؟
خالدہ حسین: باقی میری بڑی بچی میں بڑی intuition ہے۔ intuitive بہت ہے وہ۔ اس کو اکثر چیزوں کا پہلے پتہ چل جاتا ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے۔ یا تو وہ کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور پھر مجھے فون کر دیتی ہے۔ ہمیشہ کہتی ہے امی صدقہ دیں، تو میں دیتی رہتی ہوں۔ جب بھی خواب ہو، اس کا فون آتا ہے تو میں کہتی ہوں ہما! تم نے میرا بہت نقصان کروانا ہے۔ پھر صدقہ؟کہتی ہے امی آپ تھوڑا بہت نکال دیں صدقہ۔ کہتی ہوں اچھا۔ اس میں ہے روحانیت۔

سوال: آپ نمازیں پڑھتی ہیں؟
خالدہ حسین: ہاں۔

سوال: باقاعدگی سے؟ شروع سے؟
خالدہ حسین: جی، شروع سے۔

سوال: اللہ سے communication رہتی ہے؟
خالدہ حسین: بہت زیادہ۔

سوال: تو کوئی جواب ملتا ہے؟
خالدہ حسین: ہاں ملتا ہے۔ کبھی کبھی ملتا ہے جب دل بہت صاف ہو۔ دل نہیں صاف ہوتا۔ پتہ نہیں کیا شور بھرا رہتا ہے۔ یہ بھی بڑا conflict ہوتا ہے جب میں لکھتی ہوں میں کہتی ہوں اس وقت مجھے کچھ اور کرنا چاہیے تھا۔ جو کام بھی میں کرتی ہوں؛ میں کہتی ہوں نہیں، اس وقت مجھے کچھ اور کرنا چاہیے تھا۔ جب میں لکھتی ہوں تو میں کہتی ہوں، نہیں نہیں مجھے لکھنا نہیں چاہیے تھا؛ مجھے گھر کا کوئی کام کرنا چاہیے تھا۔ گھر کا کام کرتی ہوں تو کہتی ہوں، نہیں نہیں مجھے تو لکھنا چاہیے تھا۔ بڑا مسئلہ ہے یہ۔ میں نے ایک کہانی بھی لکھی تھی ’’مصروف عورت‘‘ تو اس میں بھی یہی تھا۔ بہت مسئلہ ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کام ہے جو مجھے کرنا تھا میں نے نہیں کیا ابھی تک۔ بس یہ ہے نجیبہ! میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ میں بس ایسے ہی بے کار سی عورت ہوں۔ آپ جیسے لوگ مجھے importance دے دیتے ہیں۔ میں تو ایسے ہی خواہ مخواہ باتیں کرتی رہتی ہوں۔

سوال: خالدہ آپا! شاید آپ کے ایسا سمجھنے میں ہم ہی لوگوں کا قصور ہے۔ آپ نے گوشہ نشینی اختیار کی تو ہم نے کرنے دی اور ہم نے آپ کو چھپنے دیا ورنہ ہم آپ کو نہ چھپنے دیتے ہم آپ کو پہلے ہی لے جاتے لیکن شاید لے جاتے تو ہوسکتا ہے کہ جو کچھ آپ نے لکھا وہ اس طرح نہ لکھا جاتا۔
خالدہ حسین: ہاں اس طرح کا نہ لکھا جاتا۔ یہی ہوتا ہے۔

سوال: اب اگر آپ پیچھے مڑ کے دیکھیں تو کیا لگتا ہے کہ ز ندگی میں کیا چیز کم رہی؟ کوئی ایسی چیز، جس کی آپ کو ہمیشہ تلاش رہی ہو اور وہ نہ ملی ہو؟
خالدہ حسین: جو کم رہی ہو… (سوچ کر) یہی کہ میں لکھ نہیں سکی۔ جتنا میں چاہتی تھی اتنا میں لکھ نہیں سکی۔ میرا صرف ایک passion تھا، لکھنا۔ لوگ تو حیران ہوں گے سن کے؛ کہ لو دیکھو جی! یہ عورت کیا بات کر رہی ہے؟ دو کہانیاں لکھیں اور کہتی ہے کہ میرا بڑا passion تھا لکھنے کا، لیکن واقعی تھا۔ ایک یہی کام کرنا چاہتی تھی پر نہیں کر سکی۔ لیکن پھر میں سوچتی ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ اگر میں زیادہ لکھتی تو trash لکھنے لگتی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے۔

سوال: trash ہوتا یا نہ ہوتا لیکن یہ بات ٹھیک ہے کہ آپ نے جتنا بھی لکھا ہے، وہ جذبے اور احساس کے ساتھ اتنا بھرا ہوا ہے، ایک ایک لفظ میں اتنی شدت ہے، اور اس کی اتنی پرتیں ہیں کہ ہم پڑھتے ہیں تو اس کے معانی نکلتے چلے آتے ہیں۔ اچھا یہ بتائیے کہ سیاست سے بھی کبھی لگاؤ رہا آپ کو؟

خالدہ حسین: سیاست سے لگاؤ نہیں ہے۔ کوئی دور کا بھی نہیں واسطہ۔ مجھے لگتا ہے سیاست دوسروں کے لیے ہے۔ یہ ہوتا ہے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط ہے یا ایسا نہیں ہونا چاہیے یا یہ غلط ہو رہا ہے، یہ نا انصافی ہو رہی ہے۔ یہ باتیں تو ہوتی ہیں لیکن یہ ہے کہ میں سمجھتی ہوں کہ اس بارے میں دوسرے مجھ سے بہتر لکھتے ہیں۔

سوال: جس وقت آپ نے لکھنا شروع کیا اس وقت تو آپ نے خود ہی بتایا کہ ترقی پسند ادب کا بہت چرچا تھا اور شروع میں شاید آپ نے کچھ اس طرح کا لکھا بھی پھر آپ ہٹ گئیں اس سے؟
خالدہ حسین: ہاں، پھر مجھے پتہ چلا کہ یہ میرا سبجیکٹ نہیں ہے میں ایسا نہیں لکھ سکتی۔

سوال: کبھی یہ احساس تو نہیں ہوا کہ اس وجہ سے شاید لوگوں نے آپ کو نظر انداز کیا ہوکہ آپ کسی گروپ میں شامل نہیں ہوئیں؟
خالدہ حسین: ہاں مجھے احساس ہوا تھا کہ میں پاپولر لوگوں میں تو نہیں آسکی نا۔ اس لیے کم لوگ پڑھتے ہیں مجھے۔ مجھے پتا تھا لیکن میں اپنی فطرت کے خلاف نہیں لکھ سکتی۔ ویسے میں نے غربت پہ اور ظلم پہ اور جبر پہ کہانیاں لکھی ہیں۔ اپنے اسٹائل سے لکھی ہیں۔ مثلاََ وہ جو ’’یارِ من بیا‘‘ ہے وہ وہی ہے؛ عورت کی مجبوری اور جو کچھ اس کے اوپر زیادتی ہوئی ہے۔ لیکن اپنے انداز سے، جیسے میں نے محسوس کیا لکھ لیا۔ اسے کم لوگ سمجھتے ہیں۔ لیکن جو سمجھتے ہیں وہ پھر بہت پسند کرتے ہیں۔

سوال: اصل میں جو آپ نے لکھا ہے اس میں یک رخا پن اور سطحیت نہیں ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی پیغام ہو جو بالکل سامنے پڑا ہوبلکہ تاثر ہے جو پڑھنے والے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ لیکن یہ اپنی اپنی توفیق کی بات ہے۔ اس زمانے میں ترقی پسند تنقید نے جو ایک معیار سا بنالیا تھا، اس سے باہر اگر کچھ ہوتا تھا تو اسے نظر انداز کر دیتے تھے، شاید اس وجہ سے؟

خالدہ حسین: ہاں، بالکل نظر انداز کر دیتے تھے اور کافی عرصے تک یہ ہوا۔ لیکن پتہ نہیں کیا بات ہے کہ جب میری پہلی کتاب ’’پہچان‘‘ چھپی تھی اور کراچی میں اس کی ceremony ہوئی تھی۔ میں نے کبھی بھی تقریب نہیں کی، اسی کی ہوئی تھی شاید۔ اس میں کسی نے مضمون پڑھا تھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ انھیں اپنی خوبیٔ قسمت پہ ناز کرنا چاہیے کہ اتنے کم عرصے میں، اتنا کم لکھنے پر ان کا اتنا نام ہو گیا ہے۔ کیوں کہ لوگ تو زندگی بھر لکھتے رہتے ہیں۔ تو اس وقت مجھے کچھ احساس ہوا تھا کہ بغیر کسی ترقی پسندانہ پروپیگنڈا کے اور ساری چیزوں کے۔۔۔۔ تو یہ بڑی عجیب بات ہے کہ میں نے جو کچھ لکھا تو لوگوں نے اس کی طرف توجہ ضرور دی۔ اس پر بھی میں شرمسار ہی ہوتی رہی ہوں۔ مجھے یہ نہیں ہوا کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔ مجھے شرم ہی آتی رہی کہ میں نے اتنا کم کام کیا ہے اور لوگوں کی بڑی مہربانیاں ہیں۔ یہ لوگ بہت اچھے ہیں جو میری طرف اتنی مہربانی سے توجہ کرتے ہیں۔ جب انھوں نے یہ کہا تو میں نے سوچا انھیں خود بہت تکلیف ہو رہی ہوگی یہ کہتے ہوئے۔ بہت میرا دل دکھا تھا۔

سوال: خالدہ آپا آپ فیمنسٹ ہیں؟
خالدہ حسین: سچی بات یہ ہے کہ مجھے فیمنزم کی تعریف کا ہی نہیں پتہ کہ کیا ہے وہ۔ فیمنسٹ ان معنوں میں ہوں کہ عورت کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے اوراس کو پورے حقوق ملنے چاہییں اور یہی ہے فیمنزم۔ یہ تو ہر انسان کہتا ہے۔ میں تو کہتی ہوں ہر انسان کو حقوق ملنے چاہییں، عورت ہے یا مرد ہے اور جو احترام ہے وہ ہر ایک کو ملنا چاہیے۔ احترام ِ انسانیت انسان کا basic حق ہے۔ ہر ایک کا؛ عورت ہے یا مرد ہے۔

سوال: آپ کی کہانیوں کے بہت تانیثی مطالعے ہوتے ہیں۔ ان میں، آپ نے شعوری طور پر نہ بھی لکھا ہو تو بھی، جبر کا احساس ملتا ہے کہ عورت کے اندر جو تخلیقی وفور ہے اور جو اس کے شعور کی نشو و نما ہے اس کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ مرد کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ اس کے اندر جو امکانات ہیں اگر وہ چاہے تو ان کو پوری طرح develop کر سکتا ہے۔ عورت اپنے امکانات کو دبا کر بیٹھ جاتی ہے، اس کو بیٹھنا پڑتا ہے۔ یہ بات بار بار آپ کے افسانوں میں آتی ہے۔

خالدہ حسین: تو یہ تو ہونا چاہیے نا کہ ہمارا ماحول اب بدلنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ گو کہ اب کافی تبدیلی تو آرہی ہے لیکن مجموعی طور پہ ہم نہیں کہہ سکتے۔ کوئی عورت اپنا پورا ٹیلنٹ ظاہر نہیں کر سکتی۔

سوال: اچھا ایک بات مجھے محسوس ہوتی ہے آپ کی کہانیاں پڑھتے ہوئے کہ کوئی بھی تجربہ ہو وہ اپنی تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ کہانی کی بات نہیں کر رہی۔ کہانی میں جس تجربے کو پیش کیا ہے اس میں ایک تشنگی سی رہ جاتی ہے۔ وہ پورا ہونے سے پہلے ختم ہو جاتا ہے۔ کیاایسا ہے؟
خالدہ حسین: ہاں۔

سوال: یہ کیسے ہوتا ہے؟ خود بخود یا جان بوجھ کر؟
خالدہ حسین: نہیں یہ خود بخود نہیں آتا۔ یہ میں نے consciously بھی شروع سے کوشش کی تھی اس طرح سے رکھنے کی۔

سوال: کیوں؟
خالدہ حسین: مجھے لگتا تھا کہ اس طرح زیادہ اثر ہوتا ہے۔ تاثر زیادہ ہوتا ہے۔ اپنا تاثر بڑھانے کے لیے۔ کیوں کہ میں یہ کہتی تھی کہ میں اپنا کوئی فیصلہ نہیں دوں گی پڑھنے والے کو۔ اس پہ میں اپنا کوئی فیصلہ صادر نہیں کروں گی۔ اس لیے میں وہ چیز روک دیا کرتی تھی کہ نہیں بس اتنی ہی ٹھیک ہے۔ اب آگے جو وہ محسوس کرنا چاہیں کریں۔ اسی لیے بیچ میں ادھوری چیزیں رہ جاتی تھیں۔ کیوں کہ میں نے کچھ چیزیں ایسی پڑھی تھیں جو ادھوری تھیں تو مجھ پر بہت زیادہ اثر ہوتا تھا ان کا۔

سوال: خالدہ آپا! یہ جو افسانے کی کرافٹ کے بنیادی فیصلے ہوتے ہیں جو کوئی مصنف کرتا ہے یعنی کہ اگر کوئی بھی خیال ہے چاہے وہ امیجز ہی کیوں نہ ہوں، اس کو پیش کرنا ہے تو کردار کون ہوں گے؟ مرد ہوگا، عورت ہوگی؟ راوی کون ہوگا؟ سیٹنگ کیا ہو گی؟یہ آپ کیسے کرتی ہیں؟

خالدہ حسین: اول تو نجیبہ، یوں ہوتا ہے کہ کہانی خود ہی ذہن میں آتی ہے اسی طرح، پوری کیفیت کے ساتھ کہ یہ first person میں لکھی جائے گی۔ یہsecond person میں لکھی جائے گی۔ بالکل اسی طرح آتی ہے۔ بنی بنائی، ڈھلی ڈھلائی کہانی آتی ہے ذہن میں۔

سوال: تو کہانی آپ کو نظر آتی ہے یا سنائی دیتی ہے یا محسوس ہوتی ہے؟ کہاں ہوتی ہے کہانی؟
خالدہ حسین: ذہن کے اندر ایک ہیولیٰ سا ہوتا ہے۔ لکھے ہوئے لفظ لگتے ہیں۔ جیسے صفحے کے اوپر لفظ لکھے ہوتے ہیں۔ اس طرح لگتا ہے کہ یہ پوری کہانی لکھی ہوئی ہے۔ پھر کبھی ہوتا ہے کچھ مجھے تومیں کر لیتی ہوں۔ اسی لیے میں کہتی ہوں نا کہ ناول لکھتے ہوئے مجھے یہ ڈر لگتا ہے کہ اس میں توintuition پہ اتنا بھروسہ نہیں کر سکتے آپ۔ اس میں تو ٹھوس معلومات اور تکنیک اور بڑا مواد چاہیے اس کے لیے۔ ایک دفعہ مجھے خیال آیا تھا کہ کیوں نا میں ان سب باتوں سے ہٹ کے اپنی مرضی سے لکھوں۔ دیکھوں کہ کیا لکھتی ہوں؟کیوں میں نہ لکھوں آخر میرے پہ کیا پابندی ہے؟سوچا تھا ایسا لیکن پھر ہمت نہیں پڑی۔ میں نے کہا، پتا نہیں۔

سوال: تو لکھیں نا۔
خالدہ حسین: ہاںلکھ لینا چاہیے۔

سوال: ابھی بھی لکھیں نا۔
خالدہ حسین: کوئی ضروری تو نہیں نا کہ میں نے ان سب باتوں کی پابندی کرنی ہے۔

سوال: ہاں بالکل نہیں ضروری۔ بلکہ وہ تو ایک نئی چیز ہو گی۔ ایک نیا تجربہ ہوگا۔ اچھا ’’کاغذی گھاٹ‘‘ جو آپ نے لکھا، آپ کو معلوم تھا کہ آپ ناول لکھ رہی ہیں؟ یا آپ اپنی یاد داشتیں لکھ رہی تھیں؟

خالدہ حسین: نہیں یہ یاد داشت کے طور پر شروع کیا تھا۔ پھر کیریکٹرز نکلتے گئے۔ بس پھر میں نے شروع کر لیا کہ چلو اب میں پورا کر لوں۔ وہ مختصر رہ گیا ہے، نا مکمل۔ ۔ ۔ بہر حال……

سوال: ماضی کیوں اچھا لگتا ہے ہمیشہ؟
خالدہ حسین: ہاں دیکھیں نا! کل ہی میں سوچ رہی تھی۔ پتہ نہیں کیوں اچھا لگتا ہے۔

سوال: اس لیے کہ ہمیں ماضی کی تکلیفیں اس وقت محسوس نہیں ہو رہی ہوتیں؟کانٹے نہیں چبھ رہے ہوتے؟
خالدہ حسین: ہاں۔ ہم اپنے آپ کو شاید محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ماضی چوں کہ ہمیں مزید نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس لیے شاید۔

سوال: known ہوتا ہے نا؟
خالدہ حسین: ہاں اور حال جو ہے اس میں تو خدشات ہوتے ہیں اورجو مستقبل ہے وہ تو سراپا خوف ہے۔ اس لیے ماضی جو ہے وہ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: آپ کو نقادوں سے کوئی شکایت رہی ہے؟

خالدہ حسین: نقادوں سے…… اول تو یہ ہے کہ کسی نے مجھ پہ لکھا ہی نہیں۔ کم لوگوں نے لکھا ہے۔ زیادہ لوگوں نے تو نہیں لکھا۔ وہ بھی بہت عرصے کے بعد۔ ۔ ۔ ۔ جب لکھتی رہی لکھتی رہی پھر کہیں جا کے لوگوں کو پتہ چلا اور میرے بارے میں انھوں نے لکھا اور پھر یہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو سمجھ کے لکھتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ (خاموشی) میں نے شادی کے بعد لکھنا چھوڑ دیا تھا۔ لکھنا اس طرح نہیں چھوڑا تھا بس چھپواتی نہیں تھی۔ دس بارہ سالوں تک۔ مجھے لگتا تھا کہ بس ختم ہو گیا ہے اب لکھنا، کیا لکھنا۔ ایک دن ایسے ہی میں بیٹھی ہوئی تھی تو یہ ریڈیو چل رہا تھا۔ اتفاق کی بات ہے۔ یہ بھی تقدیر کی باتیں ہوتی ہیں۔ وہاں میں بیٹھی ہوئی تھی تو ایک دم سے نا۔ ۔ ۔ کوئی تقریر ہو رہی تھی ادب کے بارے میں۔ سراج منیر بول رہے تھے۔ وہ ادب کا کوئی جائزہ وائزہ لے رہے تھے۔ اس تقریر میں انھوں نے میرا ذکر کیا اور انھوں نے بہت حسرت کے ساتھ کہا کہ وہ پتہ نہیں کہاں گم ہو گئیں اور انھوں نے یہ یہ چیزیں بہت اچھی لکھی تھیں اور انھوں نے میرا اتنا اچھا تجزیہ کیا کہ اسے سن کے بیٹھے بیٹھے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مجھے بڑا افسوس ہے کہ ان کی زندگی میں میں نے انھیں نہیں بتایا کہ آپ کی اس تقریر کی وجہ سے میں نے دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ اس کے بعد پھر میں نے وہ قلم اُٹھایا۔ آہستہ آہستہ اور پھر لڑکھڑاتے ہوئے میں نے دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ ورنہ میں تو بھول گئی تھی۔ لکھنا چھوڑ دیا تھا بالکل۔ تو یہ دیکھیں نا یہ بھی تقدیر تھی۔ اب میں ہو سکتا تھا ریڈیو نہ سنتی، نہ لگاتی یا اس وقت وہ تقریر نہ ہو رہی ہوتی یا وہ بول میں نہ سنتی۔ لیکن ایسا تھا تقدیر میں کہ انھوں نے بتایا کہ جو کچھ اس نے لکھا ہے اس کا مقام ہے ہمارے ادب میں۔ اس طرح کی بات تھی پھر میں نے لکھنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد پھر میری ہمت بندھتی گئی۔

سوال: تو دیکھیں بعض اوقات ایک چھوٹا سا جملہ بھی کسی چیز کو کیسے مہمیز کر سکتا ہے۔ اس کے لیے محرک ثابت ہو سکتا ہے۔
خالدہ حسین: بہت زیادہ۔ بڑی بات ہے۔ ویسے بھی بڑے اچھے آدمی تھے وہ۔ اللہ میاں نے شاید ان کی قسمت میں یہ نیکی بھی لکھی ہوئی تھی کہ کسی کو کام پہ لگائیں گے دوبارہ۔

سوال: جب آپ لکھ رہی ہوتی ہیں تو آپ کسی سے مخاطب ہوتی ہیں، کوئی قاری یا کوئی پڑھنے والا یا کوئی خیال یا اپنا آپ؟
خالدہ حسین: نہیں، میں بس اسی میں مشغول ہوتی ہوں جو میں لکھ رہی ہوتی ہوں۔ یہ نہیں ہوتا کہ فلاں بندہ ہے، اِس کے لیے لکھ رہی ہوں یااُس کے لیے۔ جو ہوتا ہے کہتی ہوں بس کاغذ پر آجائے، جو کچھ میں نے سوچا ہے۔

سوال: پھر جب کاغذ پر آجاتا ہے دوبارہ اس کوre write کرتی ہیں؟ کاٹ چھانٹ کرتی ہیں؟
خالدہ حسین: ہاں بہت کرتی ہوں، بہت دفعہ پڑھتی ہوں، جملے درست کرتی ہوں، لفظ بدلتی ہوں، گو کہ کہانی وہی رہتی ہے۔ نثر کے بارے میں میں بہت زیادہ محتاط رہتی ہوں۔ جی چاہتا ہے کہ اچھی نثر لکھوں۔ دیکھتی ہوں کہ غلطیاں نہ ہوں، یا جہاں پہ تاثر ہو، وہاں ہوسکے تو اچھا جملہ لکھ دیتی ہوں۔

سوال: وہ جو کردار ہوتے ہیں یہ آپ کے دیکھے بھالے ہوتے ہیں یا اندر سے ہی کہیں سے آتے ہیں؟
خالدہ حسین: دیکھے بھالے ہوتے ہیںاکثر۔ مطلب تھوڑے تھوڑے دیکھے بھالے ہوتے ہیں باقی وہ زیب ِ داستاں کے لیے بھی ہو جاتے ہیں۔ اکثر کا تو تعلق میرے بچپن سے ہوتا ہے دور دراز کے لوگ۔

سوال: خالدہ آپا! اب کیا جی چاہتا ہے؟ اگر آپ کے پاس ہر طرح کا اختیار ہو تو آپ کیا کریں گی؟

خالدہ حسین: میرے پاس اگر اختیار ہو تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (سوچ کر) میں ایک کتاب لکھوں۔ وہ کچھ لکھوں جو میں نہیں لکھ سکی۔ بہت دل ہے میرا اس میں، خوشی بھی ہے، اطمینان بھی۔ لکھنے کو جی چاہتا ہے۔

سوال: وہ کیا تھا جو آپ نہیں لکھ سکیں؟
خالدہ حسین: (بہت دیر سوچنے کے بعد) ایسی تو کوئی چیز دیکھنے میں تو نہیں ہے لیکن ایک حسرت سی ہے کہ مجھے اور لکھنا چاہیے تھا۔ اگر میں لکھنا شروع کردوں تو چیزیں نکل آئیں گی بہت سی۔

سوال: تو آپ ابھی شروع کر دیں نا۔
خالدہ حسین: ہاں کوئی ناول۔ ویسے میں دعا بھی مانگتی ہوں نماز کے بعدکہ کوئی اچھی سی چیز لکھ سکوں۔ کوئی ایسی چیز لکھ سکوں جو زندہ رہ جائے۔

سوال: کوئی فیملی ساگا؟ یا ایسی کوئی چیزاپنی زندگی کے بارے میں؟
خالدہ حسین: نہیں ناول۔ جس میں اپنے تمام نظریات، جو کچھ میں سوچتی ہوں فکری سطح پہ، وہ سب لا سکوں۔ اب تک میں ایسی کوئی چیز نہیں لکھ سکی۔

سوال: تو اسے لکھنے میں کیا چیز مانع ہے؟
خالدہ حسین: کاہلی۔ بہت کاہلی ہے۔ بس ایک یہ ہوتا ہے لکھتے ہوئے کہ لگتا ہے کہ کیا لکھ رہے ہیں، فضول لکھ رہے ہیں۔ میں نے اپنے آپ کو مجبور بھی کیا تھاکہ چلو فضول ہی لکھوں، لکھوں تو سہی۔ لکھنا تو چاہیے۔ بس یہ عادت ہو جائے نا کہ روز۔ پہلے میں لکھتی تھی روزانہ۔ میرے روزنامچے دس بارہ پڑے ہوئے ہیں میرے پاس۔

سوال: لکھا کرتی تھیں آپ؟
خالدہ حسین: ہاں اب بھی لکھتی ہوں۔ لکھے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ لیکن وہ ذاتی نوعیت کے ہیں۔ ویسے ادبی باتیں بھی بہت ہیںاس میں۔ جلے دل کے پھپھولے بھی ہیں۔ (قہقہہ) شبنم کے ساتھ میری بڑی دوستی تھی تو میں نے اس کو کہا تھا کہ دیکھو میں تمھیں اپنی ساری ڈائریاں دے دوں گی، تم اس میں سے کاٹ چھانٹ کر کے اور اس کو edit کرو۔ اور جو ادبی باتیں ہیں ان کو علیحدہ کر دو۔ تو وہ کہتی تھی کہ ہاں بالکل۔ پھر میں کہتی کہ نہیں نہیں اس میں تو میں نے بڑا کچھ لکھا ہوا ہے۔ تمھیں پتہ چل جائے گاکہ کس کس کے بارے میں میں نے لکھا ہے۔ لیکن بہرحال وہ ہیں بہت ساری۔ اب پتہ نہیں پیچھے یہ لوگ کیا کریں گے۔ کسی دن میں سوچتی ہوں کہ یاسرہ سے کہوں کہ یہ ضائع کر دو۔

سوال: نہیں نہیں یہ نہ کریں۔
خالدہ حسین: تو کیا کروں اس میں پتہ نہیں کیا کچھ لکھا ہوا ہے۔

سوال: ویسے فکری اور نظری اعتبار سے آپ کس رخ پہ چلتی ہیں؟
خالدہ حسین: فکری اور نظری لحاظ سے۔ ۔ ۔ دیکھیں ایک یہ ہے کہ روحانیت اور مادیت کی جنگ، اس نے مجھے بہت تنگ کیا ہے۔ شروع ہی سے یہ conflict میرے دماغ میں ہے۔ ہمارے پورے گھرانے کی اساس روحانیت پہ ہے۔ پھر یہ ہے کہ مادیت بھی بہت ضروری چیز ہے۔ تو وہ آپس میں جب ٹکراتی رہتی ہیں ہر وقت، یہ بہت پریشان کرتی ہیں۔ جگہ جگہ پہ تضادات آتے ہیں۔ روحانیت کچھ کہتی ہے، دنیا کا تقاضا کچھ کہتا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتی۔ ایک مسلسل احساس جرم ہے اندر۔ کبھی تو یہ ہوتا ہے کہ اگر میں کوئی کام نہیں کرتی تو سارا دن خلش ہوتی ہے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا لیکن پھر یہ ہوتا ہے کہ نہیں مجھے۔ ۔ ۔ ۔ مطلب یہ کہ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے جو روحانی تقاضے ہیں، ان کو پورا کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ میں مادی تقاضوں کے پیچھے ہوں لیکن پھر وہ مادی تقاضے اتنے زیادہ ضروری ہوتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی۔ آپس میں ٹکراتے ہیں یہ۔ لوگوں کو ایسے مسائل نہیں ہوتے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جو ایسی باتوں کے بارے میں سوچتے ہیں وہ صحیح الدماغ نہیں ہیں یعنی بیکار لوگ ہیں۔ یعنی ایبسٹریکٹ چیزوں کے بارے میں سوچنے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ آپ کشور سے بات کریں گی نا، وہ کہے گی تم لوگ پاگل ہو، پریکٹیکل باتیں کرو، دنیا کی باتیں کرو، محنت کرو، لوگوں کا بھلا کرو، صحیح بات کہتی ہے وہ۔ پازیٹولی ایکٹو ہو جاؤ، ماحول میں تبدیلی لاؤ، یہ کیا کہ دل میں یہ ہو رہا ہے دماغ میں یہ ہو رہا ہے۔ لیکن اب کیا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا دماغ دیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ کاہلی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جسمانی کام کریں ورنہ پھر ہم بیمار ہی رہیں گے۔

( پھر باتوں کا رخ مشترکہ احساسات اور تجربات کی طرف مڑ گیا اور میں اور خالدہ آپا انٹرویو کو بھول بھال کر دیر تک دکھ سکھ کرتے رہے۔)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: