خالدہ حسین سے ایک یادگار انٹرویو: حصہ ۲ —– نجیبہ عارف

0
  • 30
    Shares

سوال: تو اس زمانے میں آپ اپنی کس ہم عصر ادیب خاتون کے قریب رہیں؟ مثلاََ بانو قدسیہ تھیں اس زمانے میں۔
خالدہ حسین: ہاں قدسیہ آپا جو تھیں وہ میری بڑی بہن کی بہت دوست تھیں۔

سوال: انھوں نے کہیں ذکر بھی کیا ہوا ہے۔ ۔ ۔ آپ کے سائیکل چلانے کا ذکر کیا ہے۔
خالدہ حسین: ہاں ان کے ساتھ یہ تھا کہ بہت دوستی تھی۔ ہم لوگ بہت خوش رہتے تھے، ملتے جلتے آپس میں، بڑے ڈرامے ورامے ہوا کرتے تھے اور انھوں نے ڈرامے بڑے اسٹیج کیے تھے۔ میری بہن نے بھی کام کیا اور وہ (بانو قدسیہ) انار کلی بنیں اور میری بہن کو شہزادہ سلیم بنایا۔ تو ہم بہت مزے کیا کرتے تھے۔ بہت ہی lively خاتون ہیں بانو قدسیہ، بلکہ تھیں اب تو وہ بہت سنجیدہ ہو گئی ہیں۔ بہت talented، بہت محبت کرنے والی۔ پھر خواتین میں میں الطاف فاطمہ سے ملتی تھی۔ بہت اچھی خاتون ہیں وہ۔ کشور سے بھی ملاقات ہوتی تھی۔ باقی یہ تھا کہ کسی محفل میں جو لوگ مل جاتے تھے۔ اب اگر میں کسی کا نام بھول گئی تو بہت مسئلہ ہو جائے گا۔

سوال: الطاف فاطمہ کی بہن نشاط فاطمہ بھی بہت اچھا لکھتی ہیں۔
خالدہ حسین: جی! بہت اچھا لیکن ان سے میری ملاقات نہیں ہوئی۔

سوال: پھر جمیلہ ہاشمی تھیں لکھنے والوں میں۔
خالدہ حسین: جمیلہ ہاشمی سے ملی۔ وہ خود بہت اچھی تھیں۔ میرے گھر بھی آئی تھیں اورمیں تو کہیں جاتی نہیں تھی۔

سوال: قرۃ العین حیدر سے کبھی ہوئی ملاقات؟
خالدہ حسین: نہیں۔ سنا تھا کہ وہ ذکر بھی کرتی تھیں میرا، جب پاکستان آئی تھیں تو۔ لیکن میں نہیں جا سکی۔

سوال: اردو فکشن میں قرۃ العین حیدر بہت بڑا نام ہے۔ ان کے بعد اردو فکشن میں جن لوگوں کا نام لیا جاسکتا ہے، ان میں آپ بھی شامل ہیں۔ آپ نے بہت گہرائی سے فکشن پر اپنا ایک نقش بنایا ہے۔

خالدہ حسین: بہت شکریہ لیکن مجھے بہت خوشی ہے اس بات کی کہ قرۃ العین نے میرا ذکر کیا ہوا ہے۔ وہ مجھے جانتی تھیں بلکہ میرا نام بھی انھیں معلوم تھا۔ انھوں نے مجھے پڑھا بھی تھا۔ انھوں نے میری ایک کہانی بھی translate کی تھی۔ Illustrated Weekly of India میں چھپی تھی۔ جانتی تھیں وہ مجھے؛ اور جب پاکستان آئی تھیں تو انھوں نے میرے بارے میں پوچھا بھی تھا۔ لیکن بس میں کچھ وجوہات سے نہیں جا سکی۔ تو اس بات کی مجھے بہت خوشی ہے۔ پچھلے دنوں پتہ نہیں کس کی کتاب تھی، اس کے پیش لفظ میںیہ باتیں لکھی ہوئی تھیں کہ قرۃ العین نے میرا ذکر کیا تھا، پوچھا تھا۔ کہا تھا کہ میں ان سے ملنا چاہوں گی۔ تو بس میرے ایسے حالات تھے کہ میں نہیں جا سکی۔

سوال: کیوں ؟ اتنی گوشہ نشینی کیوں آپ کی زندگی میں رہی؟
خالدہ حسین: بس ایسا ہے کہ میرا گھرانہ جو ہے نا، دیکھنے میں تو ہم بڑے پڑھے لکھے اور بڑے enlightened قسم کے لوگ ہیں، بڑی تعلیم ہے اور سب کچھ ہے لیکن ہمارے ہاں تھوڑی سی رکاوٹیں بھی ہیں۔ تھوڑی سی reservations ہیں۔ اس طرح نہیں کہ بس اُٹھے اور چلے گئے کہیں پر یا زیادہ ملنا جلنا۔ ملنا جلنا تو پتہ نہیں، مجھے نہیں سمجھ کچھ، ہوتا ہے کہ ہاں بھئی! کہاں جا رہی ہو؟ کیوں جا رہی ہو؟ کس سلسلے میں جا رہی ہو؟ یہ بھی بتانا پڑتا ہے۔ اب تو خیر نہیں اب تو کیا پوچھنا کسی نے۔ اب تو میں اٹھوں اور چلی جاؤں۔ وہ زمانہ تھا اس میں ہوتا تھا۔

سوال: لیکن اب بھی تو نہیں جاتیں آپ۔
خالدہ حسین: ہاں اب یہ ہے کہ اب عادت ہو گئی ہے۔ اب میں کہتی ہوں کہ میرے ساتھ کوئی ہو تو مجھے لے جائے۔ اکیلے نہیں جا سکتی اور یہاں پہ ایسا کوئی ہے نہیں جو مجھے لے کے جائے گھر سے۔

سوال: ویسے آپ کا جی چاہتا تھا؟ آپ کو یہ جبر نہیں محسوس ہوتا تھا؟
خالدہ حسین: شروع میں تو بہت تکلیف ہوتی تھی۔ بس پھر عادت ہو گئی کہ یہ بس اسی طرح ہی ہے۔ پھر عادت ہوگئی۔ بس پھر اخبار پڑھتے تھے، لوگوں سے سنتے تھے کہ کیا ہوا کیا ہوا؟ اچھا! ادھر سے رپورٹ پڑھ لی۔ ادھر سے پڑھ لی۔ تو بس۔ ۔ ۔ ویسے میں جاتی بھی رہی ہوں یہاں فیسٹیولز میں کافی عرصہ گئی ہوں۔ لیکن بس وہ لوگوں کے موڈ پر depend کرتا تھا۔ کبھی ہوتا تھا کہ ہاں بھئی جاؤ۔ کبھی ہوتا تھا کہ نہیں ِکیا کرنا ہے؟

سوال: شوہر کی طرف سے پابندیاں رہیں؟
خالدہ حسین: پابندی تو خیر ایسی نہیں تھی لیکن ایک چیز ہوتی ہے نا کہ بندہ sense کر لیتا ہے کہ پسند نہیں کرتے اس چیز کو۔ پھر مجھے وہ بہت برا لگتا۔ دل میرا خفا ہو جاتا۔ میں کہتی کیا فائدہ؟ جب کوئی چیز کوئی پسند نہیں کر رہا تو میں نہیں کرتی۔ امن پسند بہت ہوں۔ ۔ ۔ شروع سے۔

سوال: خالدہ آپا آپ کس ادیب سے متاثر ہوئیں؟ کسی بھی زبان کے؟

خالدہ حسین: ہاں۔ ۔ ۔ اب یہ بات ہے کہ۔ ۔ ۔ یہ ویسے سوال ہے بڑا مشکل۔ ایک توقرۃ العین حیدر ہیں۔ پھر انتظار حسین کو بہت شوق سے پڑھا اور باقی جو مغربی ادیب ہیں زیادہ۔ غالباََ ۶۰ ء کی دہائی میں ہی میں ریڈیو کے لیے کہانیاں لکھا کرتی تھی، چھوٹے چھوٹے افسانے۔ تو وہاں پر لوگ میری کہانیوں کو بہت پسند کرتے تھے۔ پھر کسی نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کو چند رائٹرز کے نام بتاتا ہوں آپ انھیں ضرور پڑھیں کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ آپ کے مزاج کے ساتھ مطابقت ہے۔ انھوں نے مجھ کو existentialist رائٹرز کے نام suggest کیے۔ تب میں نہیں جانتی تھی existentialism کیا ہوتا ہے۔ حالانکہ میں نے فلاسفی وغیرہ پڑھی تھی۔ سب کچھ تھا، لیکن میں نے لٹریچرexistentialism کا نہیں پڑھا تھا۔ وہ انھوں نے مجھے کہا۔ میں نے لائبریری سے اور کہیں ادھر ادھر سے کتابیں لیں۔ سب سے پہلے جو میں نے کہانی پڑھی existentialism کی، وہ سارتر کی تھی “The Wall”۔ وہ کہانی جب میں نے پڑھی تو مجھے لگا کہ جیسے ایک بالکل نئی دنیا میں پہنچ گئی ہوں۔ مجھ پر اتنا اس کا اثر ہوا، بہت شدید اثر۔ آج تک کسی چیز کا، کسی تحریر کا مجھ پہ اتنا زیادہ اثر نہیں ہوا تھا جتنا اس کہانی کا ہوا تھا۔ مجھے بالکل یوں لگے کہ جیسے ایک نئی دنیا کا دروازہ مجھ پر کھل گیا ہے اور یہی تو میں سوچ رہی تھی۔ یہی تو میں محسوس کرتی آئی ہوں جو مجھے کسی نے آج تک بتایا ہی نہیں تھا اور یہ ہے وہ چیز۔ اور اس کا مجھ پہ اتنا زیادہ شدید اثر ہوا کہ بہت عرصے تک میں اس کے spell میں رہی۔ پھر میں نے سارتر کو پورا پڑھا۔ لے کے ساری اس کی کتابیں وتابیں۔ گو کہ اس کے بعد باقی چیزوں کا مجھ پہ اتنا اثر نہیں ہوا جتنا کہ اس کیshort storyکا ہوا تھا۔ پھر میں نے باقی لوگوں کو پڑھا۔ جتنے بھی existentialist تھے۔ کامیو کو پڑھا۔ اس کو پڑھا، اِس کو پڑھا۔ سارے لوگوں کو۔ تو یہ جو باہر کے لکھنے والے ہیں ان میں تو یہ لوگ زیادہ ہیں جن کا مجھ پہ اثر ہوا۔ اپنے لکھنے والوں میں قرۃ العین ہیں۔ اور باقی داستانوی ادب پھر پڑھنا شروع کیا دوبارہ سے؛ کہ کبھی بچپن میں دیکھا تھا لیکن اب دوبارہ پڑھا تو اچھا لگا۔ کتاب جو بھی اچھی آئے پڑھ لیتی ہوں۔

سوال: آپ کو یہ خیال کیوں آیا کہ آپ افسانے لکھیں؟ مثلاََ آپ شعر بھی کہہ سکتی تھیں۔
خالدہ حسین: ہاں! میرا خیال ہے کہ ایک تو میری طبیعت کہانی کی طرف مائل تھی۔ دوسرا یہ کہ مجھے لگتا تھا کہ ہمارے ماحول میں شاعری پر زیادہ پابندی ہے بہ نسبت نثر نگاری کے۔

سوال: اچھا؟
خالدہ حسین: ہوں… کیوں کہ شاعری یہ ہے نا کہ آپ جائیں لوگوں میں، مشاعروں میں جائیں، کلام پڑھیں، واہ واہ ہو، آنا جانا، یہ، وہ۔ سوشل لائف ہے اس میں بہت زیادہ۔ ہمارے گھر میں نہیں تھا ایسا دستور۔ تو مجھے پتہ تھا یہ نہیں چلے گی۔ اس لیے میں اس طرف نہیں گئی۔ ویسے بھی میرا یہ خیال تھا کہ شاعری میں محنت زیادہ ہوتی ہے اور میں اس کی تکنیک نہیں سیکھ سکتی۔ کیوں کہ میں یہ تو جانتی ہی نہیں تھی کہ بغیر تکنیک کے بھی شاعری ہوتی ہے۔ وہ تو اب ہو نے لگی ہے۔ تو مجھے تو یہی پتہ تھا کہ یہ بہت مشکل چیز ہے اور ہمارے گھر میں بھی لوگ کہتے تھے کہ جی اس کے تو بڑے عروض ہوتے ہیں اوروہ یاد کرنا پڑتا ہے اور بہت کچھ ہوتا ہے۔ تو مجھے پتہ تھا کہ یہ بہت مشکل چیز ہے۔ تو اس طرف اسی لیے نہیں گئی لیکن پڑھی بہت۔ شروع میں میراجو craze تھا، وہ شاعری تھی۔ اتنی اتنی بیاضیں بنائیںمیں نے۔

سوال: اچھا؟ وہ سنبھال کے رکھی ہوئی ہیں؟
خالدہ حسین: نہیں۔ وہ بڑی tragic باتیں ہیں۔ میں نے اتنی اچھی بیاض بنائی تھی۔ پھر وہ میں شادی کے بعد اپنے ساتھ بھی لے آئی تھی۔ رکھی ہوئی تھی اپنے پاس۔ پھر کسی دن کسی بات پہ غصہ آیا تو میں نے اپنے ہاتھوں سے وہ چاک کر دی۔ پھینک دی۔ اس کا مجھے بہت رنج ہے، اب تک ہے کہ کاش وہ میں نے سنبھال کے رکھی ہوتی۔ اتنی زیادہ اچھی collection تھی وہ۔ خاصی موٹی، ضخیم تھی وہ۔ تب تو ابھی ان لوگوں نے نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا۔ ضیا جالندھری اور احمد فراز وغیرہ کی نئی نئی چیزیں آتی تھیں۔ تو ان کے مجموعے تو تھے نہیں میں رسالوں میں سے دیکھ کے ان کی نقل کیا کرتی تھی اپنی بیاض میں اور بہت میں نے collection کی ہوئی تھی لیکن بس وہ غصے میں آکے کر دیا۔ پھر نہیں کبھی بیاض بنائی۔ بس ایسے ہی ہوتی رہتی ہیں باتیں۔

سوال: خالدہ آپا محبت کی زندگی میں کبھی؟
خالدہ حسین: (خاموشی کے ایک مختصر وقفے کے بعد) کتابوں سے ہی کی ہے اور تو کچھ نہیں۔

سوال: اور انسانوں سے؟
خالدہ حسین: باقی تو… یا یہ ہے آئیڈیاز، تصورات …یہ چیزیں ہیں جو زندگی میں ہیں۔

سوال: آپ کو کبھی کوئی ایسا شخص نظر نہیں آیا جس سے محبت کی جا سکے؟ ہو جائے؟
خالدہ حسین: کبھی خیال نہیں آیا اس طرف۔ ایک یہ کہ گھر میں ماحول ہی ایسا نہیں تھا۔ ہمارے گھر میں بڑے ضابطے اور قوانین کے لوگ ہیں اور ہمارے میکے میں بھی۔ بہت زیادہ شروع سے۔ پڑھنے لکھنے کی آزادی ہر طرح کی تھی لیکن ویسے بڑے ضابطے اور قوانین تھے۔ تو کبھی ایسا خیال ہی نہیں آیا۔

سوال: شادی کس عمر میں ہوئی؟
خالدہ حسین: میں۲۷ سال کی تھی۔

سوال: گھر والوں کی مرضی سے ہوئی تھی شادی؟
خالدہ حسین: ہاں بالکل۔ گھر والوں کی مرضی سے۔

ٓٓسوال: آپ نے پہلے سے دیکھ رکھا تھا؟
خالدہ حسین: نہیں۔

سوال: فیملی میں یا باہر ہوئی؟
خالدہ حسین: نہیں، باہر ہوئی۔ ہم لوگ تو شیخ ہیں۔ شیخ قانون گو اور وہ جو ہیں ذات کے برہمن۔ ٹوڈر مل سے جا کے ہمارا شجرۂ نسب ملتا ہے لیکن یہ لوگ تو خواجہ ہیں کشمیری جن کے گھر میں میں آئی۔ بالکل دو مختلف فیملیز تھیں۔

سوال: جوائنٹ فیملی میں جا کے رہیں آپ شادی کے بعد؟ سسرال میں؟
خالدہ حسین: ہاں رہی لیکن بہت کم۔ پھر ان کی پوسٹنگ باہر ہوگئی لیکن یہ ہے کہ مجھے کوئی ایسی دشواری پیش نہیں آئی کیوں کہ جو ان کی والدہ تھیں وہ بہت ہی اچھی خاتون تھیں، بے حد۔ بے انتہا اچھی تھیں اور میرے سسر جو تھے وہ بڑے سخت طبیعت کے آدمی تھے۔ تو وہی حال تھا… آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں…جب کبھی ہماری کوئی لڑائی ہوتی تو میری ساس مجھے گلے سے لگا کے اتنا پیار کرتیں، اتنا روتیں بیٹھ کے۔ اتنی پیاری تھیں وہ… کیا بتاؤں۔ بہت مجھے پیار کرتی تھیں۔ کبھی ہو جاتی تھی لڑائی وڑائی۔ آ لینے دو اس کو، میں اس کو سیدھا کرتی ہوں، آئے سہی آج۔ بہت پیاری خاتون تھیں۔

سوال: کیا کرتے تھے آپ کے میاں؟
خالدہ حسین: میرے میاں mechanical engineering میں پی۔ ایچ۔ ڈی ہیں۔ جب میری شادی ہوئی ہے تو یہ ریڈر تھے انجینئرنگ یونی ورسٹی میں۔ بعد میں پھر یہ داؤد کالج، کراچی کے پرنسپل ہو گئے۔ وہاں سے یہ جوائنٹ سیکرٹری ہو کر ادھر اسلام آباد آگئے۔ بس پھر اسی پوسٹ پہ ریٹائر ہوئے۔

سوال: ذہنی ہم آہنگی تھی آپ دونوں کے درمیان؟
خالدہ حسین: ذہنی ہم آہنگی؟ ذہنی ہم آہنگی اتنی ہوسکتی ہے جتنی زمین اور آسمان میں ہے۔ وہ تو بالکل سائنٹفک آدمی ہیں۔ پکے۔ انتہائی intelligent، انتہائی objective معروضی طور پر سوچنے والے، practical اور میں جو ہوں imaginative، تصوراتی، idealist۔ لیکن یہ ہے کہ بس پہچان لیا ایک دوسرے کی طبیعت کو؛ کہ یہ difference تو چلنا ہی ہے لیکن ایک بات ہے کہ یہ میرے لکھنے کے بڑے اچھے نقاد ہیں۔

سوال: اچھا؟ پڑھتے ہیں؟
خالدہ حسین: ہاں ہاں پڑھ لیتے ہیں۔ میرے سامنے نہیں پڑھتے۔ چھپ چھپا کے پڑھ لیتے ہیں اور پھر encourage بھی کرتے ہیں۔ شروع میں نہیں کرتے تھے لیکن بعد میں کرنے لگے کہ ہاں لکھو اور یہ وہ۔

سوال: تو کوئی پابندیاں تو نہیں لگائیں آپ پر کبھی؟
خالدہ حسین: پابندیاں۔ ۔ ۔ لکھنے پہ نہیں۔ پڑھنے لکھنے سے نہیں روکا لیکن آنے جانے پر۔ باہر، محفلوں میں آنا جانا۔ وہ تو میرے میکے میں بھی تھیں کہ اتنی زیادہ آزادی نہیں تھی۔ یہاں بھی شروع میں نہیں تھی لیکن اب تو انھوں نے… جا چھوڑ دیا حافظِ قرآن سمجھ کر… مایوس ہو کے چھوڑ دیا۔

سوال: آپ کو ایک دوسرے کی رفاقت محسوس ہوتی ہے؟
خالدہ حسین: رفاقت… کس سلسلے میں؟ کیسی؟

سوال: مطلب یہ کہ ذہنی ہم آہنگی نہ بھی ہو، مختلف ذہن کے لوگوں کے ساتھ بھی انسان ایک دوسرے کی رفاقت اور ساتھ کو محسوس کرسکتا ہے؟
خالدہ حسین: ایک یہ ہے بہت زیادہ مخلص، بہت زیادہ سچے، بہت زیادہ محبت کرنے والے اور بہت زیادہ فیملی کے آدمی ہیں۔

سوال: آپ سے محبت کرتے ہیں؟
خالدہ حسین: بہت زیادہ۔

سوال: آپ کرتی ہیں؟
خالدہ حسین: میں بھی کرتی ہوں۔ میں بھی کرتی ہوں۔ بہت زیادہ کرتی ہوں۔

سوال: تو آپ کو گھٹن تو محسوس نہیں ہوتی تھی جب کہ آپ اتنی زیادہ imaginative ہیں۔ عام لوگوں سے کہیں زیادہ۔ آپ کے تصور کی جو وسعت ہے، اس کا کچھ کچھ اظہار ہوتا ہے آپ کی کتابوں میں، مگر یہ ساری وسعت تو ان میں بھی نہیں سما سکتی۔

خالدہ حسین: ہاں ہوتی ہے کبھی کبھی۔ تنہائی بھی محسوس ہوتی ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ اچھا اگر میں یہ بات کروں گی تو مجھے بے وقوف سمجھیں گے، پاگل کہیں گے کہ یہ کیا باتیں ہیں۔ بس میں کبھی کرتی بھی نہیں ہوں ان کے ساتھ ایسی بات۔ تو ہوتی ہے کبھی کبھی لیکن پھر یہ ہوتا ہے کہ زندگی بھر کوئی نہ کوئی ایک اچھی فرینڈ ضرور رہی ہے۔ تو اس کے ساتھ پھر میں بات کر لیتی ہوں۔ کوشش کرتی ہوں کہ بات ہو جائے۔ آج کل میری عطیہ سید کے ساتھ بہت دوستی ہے۔ اس کے ساتھ میری بہت understanding ہے۔ وہ فلاسفی کی ہے۔ ویسے تو کولیگ بھی رہے ہیں۔ ہم لوگ اکٹھا پڑھاتے رہے ہیں۔ تو بہت زیادہ اس کے ساتھ ہے۔ اب تک ہے۔ بات وات کرتے ہیں، ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ کولیگز میں بھی مل جاتی تھی کوئی نہ کوئی۔ ایک آدھ دوست ایسی رہی ہے جو کہ بات سمجھتی تھی پھر اتنا نہیں محسوس ہوتا۔ پھر میرے بچے بہت سمجھتے ہیں۔

سوال: بچوں کے بارے میں کچھ بتائیں۔

خالدہ حسین: بچے میرے بہت sensitive اور creative طبیعت کے ہیں۔ (بھرائی ہوئی آواز میں) بیٹا میرا بہت زیادہ تھا۔ بہت ہی creative mind کا اور اس نے بھی لکھنا شروع کیا تھا لیکن پھر چھوڑ دیا۔ پہلے وہ انگلش میں لکھتا تھا پھر اس نے چھوڑ دیا اور ایک دم سے ساری چیزیں چھوڑ کے دین کی طرف آگیا۔ وہ بھی میری زندگی کا بہت بڑا واقعہ ہے کیوں کہ بڑا بیٹا تھا میرا۔ وہ بہت زیادہ میرے ساتھ attached تھا۔ highly intellectual, highly sensitive پھر جب وہ دین کے راستے پر گیا تو اس طرف بھی وہ پھر اتنی ہی زیادہ لگن کے ساتھ گیا اور اس نے ایک دم سے اپنی زندگی بدل دی۔ تو شروع میں تو ہم لوگ برداشت ہی نہیں کر سکے۔ ہمیں بہت زیادہ تکلیف ہوتی تھی۔ ہم نے اس کی بہت مخالفت کی۔ اب مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ شروع میں اس نے بڑی تکلیفیں سہی ہیں اپنے آئیڈیل کے لیے اور اپنے ایمان کے لیے۔ کیوں کہ دیکھیں نا گھر میں ایک دم سے اجنبی ہو جانا۔ اس کی ہر بات ہمیں عجیب لگتی تھی۔ اس نے لباس بدل دیا اپنا۔ پینٹ شرٹ ختم کر دی۔ شلوار قمیص پہنی۔ عمامہ پہن لیا اور بالکل خاکسارانہ زندگی۔ کم کھانا، کم سونا، عبادت کرنی۔ ہر چیز میں شرع کی پابندی۔ یہ ہمارے لیے شروع میں اتنا بڑا انقلاب تھا۔ اس کی بہت مخالفت کی لیکن وہ اتنا ثابت قدم تھا۔

سوال: کیوںیہ تبدیلی آگئی اچانک؟
خالدہ حسین: یہ جو ہمارا RMC ہے نا راولپنڈی میڈیکل کالج، اس میں ماحول تھا تبلیغ کا۔

سوال: آپ پر بھی انھوں نے کوئی پابندیاں لگائی تھیں؟
خالدہ حسین: نہیں، پابندی نہیں لگاتا تھا، بس صرف کہتا تھا۔ ہمیں کبھی اس نے یہ نہیں کہا۔ وہ ایسا کرتا تھا۔ ۔ ۔ بہت مہذب بچہ تھا۔ کبھی وہ یہ کرتا تھا کہ خود ہی انتظام کر لیتا تھا ادھر، کسی عالم کو لے آتا تھا کہ امی آج یہاں وعظ ہوگا۔ میں نے کہا، اچھا ٹھیک ہے۔ پھر وہ راستے میں پردہ لگا دیتا تھا اور مجھے کہتا تھا امی آپ ادھر بیٹھ جائیں۔ تو وعظ ہوتا تھا اور لوگ آتے تھے سننے کے لیے۔ یہ لوگ بہت اچھا وعظ کرتے ہیں لیکن آخر میں یہ کہتے ہیں کہ تبلیغ کے لیے نکلیں۔

سوال: اچھا یہ تبلیغی جماعت سے وابستہ تھے؟
خالدہ حسین: ہاں تبلیغی جماعت سے۔

سوال: کتنے بچے ہیں خالدہ آپا ؟
خالدہ حسین: ایک بیٹا تھا۔ تین بیٹیاں ہیں۔ ہما ہے بڑی، وہ تو آسٹریلیا میں ہوتی ہے۔ دوسری فاطمہ ہے وہ یہیں پر ہوتی ہے ادھر Headstart میں اور یاسرہ سب سے چھوٹی ہے۔ بچوں کے ساتھ بھی میری بڑی دوستی رہتی ہے۔ سب بچوں کے ساتھ۔ یہ میرا نواسا ہے، یاسرہ کا بیٹا، اب یہ بعد میں مذاق کرے گا، نانو! آپ اتنا بول رہی تھیں وہاں پہ۔ یہ کہہ رہی تھیں، وہ کہہ رہی تھیں۔

سوال: خالدہ آپا! آپ لکھنے پڑھنے کا کام کب کرتی ہیں؟ دن کے کس وقت میں؟
خالدہ حسین: کسی بھی وقت، جب بھی، یا تو موڈ ہو جائے، چلتے پھرتے بھی کر لیتے ہیں، کہیں بھی بیٹھ جاتی ہوں۔ اسی لیے میں نے کوئی اتنا زیادہ کام نہیں کیا۔ مجھے بہت افسوس ہے۔ بہت کم لکھا ہے۔ جیسے لوگوں کا آفس ہوتا ہے ان کی روٹین ہوتی ہے، بیٹھتے ہیں، روزانہ کی چیزیں ہوتی ہیں، میں نے ویسے نہیں کیا۔

سوال: کیوں؟
خالدہ حسین: کچھ حالات ہی ایسے نہیں تھے۔ بچے پالے، بچوں کے ساتھ رہے۔ لوگ پسند نہیں کرتے نا کہ کتاب لے کے بیٹھ جاؤ۔ کہتے ہیں کہ ہم آئے اور آپ کتاب لے کے بیٹھ گئیں۔ اب تو ٹائم ہی نہیں رہا۔

سوال: لیکن ماشا ء اللہ آپ کے پانچ افسانوی مجموعے ہیں اور ایک ناول ہے۔ کوئی اور ناول کیوں نہیں لکھا؟
خالدہ حسین: ناول لکھنے کو جی تو چاہتا ہے لیکن اس کے لیے وہی نا concentration چاہیے اور ٹائم بہت چاہیے اور اس میں لگ کے لکھنا پڑتا ہے نا بیٹھ کے۔

سوال: خالدہ آپا! یہ کہانی کہاں سے آتی ہے؟
خالدہ حسین: کہانی تو نجیبہ اسی طرح ہوتا ہے کہ کوئی چیز متاثر کر دیتی ہے ایک دم سے۔ کوئی چھوٹا سا واقعہ۔ عام طور پر مجھے چھوٹے چھوٹے واقعات کبھی۔۔۔۔ مجھے خوشبوؤں کا بہت ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ناچلتے پھرتے کوئی ایسی خوشبو آتی ہے مجھے بہت دور لے جاتی ہے۔ تو پھر مجھے وہ پرانے زمانے یاد آجاتے ہیں۔ associations کا پورا دفتر کھل جاتا ہے۔ اس سے بھی ہوتا ہے، آوازوں سے بھی ہوتا ہے اور images ہوتی ہیں۔ آئیڈیاز نہیں ہوتے، خیالات نہیں ہوتے کہ ہاں بھئی اس واقعے پر کہانی لکھی، یہ نہیں۔ یہ یا تو تصویریں ہوتی ہیںimages یا کوئی آوازیں ہوتی ہیں یاکوئی خوشبو ئیں ہوتی ہیں اس سے پھر وہ ساراسلسلہ ہوتا ہے۔

سوال: تو ساری کہانی آپ پر اترتی ہے؟
خالدہ حسین: ساری کہانی تقریباََ اتر جاتی ہے۔ اس میں تبدیلیاں بھی آجاتی ہیں۔ اتر تو آتی ہے ساری۔ پھر لکھتے لکھتے میں بدل بھی دیتی ہوں۔

سوال: تصوف سے بھی کبھی دلچسپی رہی؟
خالدہ حسین: تصوف میں دلچسپی رہی ہے بہت۔ لیکن میں نے باقاعدہ پڑھا وڑھا کوئی نہیں۔ موقع ہی نہیں ملا۔ ویسے ہے کہ صوفیانہ شاعری میں بہت دلچسپی رہی، پڑھتی رہی اور سنتی رہی۔ وہ ہے نا کہ جتنی بھی روحانیت ہے جس چیز میں وہ مجھے بہت attract کرتی ہے۔ لیکن باقاعدہ جو technical تصوف ہوتا ہے اس کا نہیں مجھے پتہ۔ مجھے شوق تو بہت ہے لیکن وہ کافی مشکل چیز ہے۔ پڑھنا اور سمجھنا۔

سوال: لیکن تصوف کو technically سمجھنا اور چیز ہے اور اس سے گزرنا اور چیز ہے۔
خالدہ حسین: ہاں۔ ۔ ۔ گزر تو سکتے ہیں پڑھنا ذرا مشکل ہے۔

سوال: تو پھر گزریں آپ کبھی اس راستے سے؟
خالدہ حسین: ہاںexperience تو ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کبھی کبھی کیفیت ہوجاتی ہے۔

سوال: آپ نے کبھی کوشش نہیں کی کہ اس سلسلے میں کوئی رہنمائی مل جائے؟

خالدہ حسین: دراصل کبھی کوئی نظر نہیں آیا۔ جتنے آس پاس کے لوگ ہیں یا جن کو ہم دیکھتے ہیں۔ ۔ ۔ زندہ لوگوں میں تو مجھے کبھی کسی پر بھروسہ نہیں ہوا۔ لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ گئے ہوئے لوگوں میں سے آپ کسی کو مان لیں تو ٹھیک ہے۔ علامہ اقبال کے ساتھ مجھے بہت زیادہ لگاؤہے۔ ان کے ساتھ ہے میری روحانی وابستگی۔ کئی لوگ تو ان کو بڑا وہ سمجھتے ہیں نا کہ بڑے اصلاحی شاعر تھے ؛لیکن ان کی جو روحانیت کا پہلو ہے اس کے ساتھ مجھے بہت لگاؤہے۔ ان کے لیکچرز کا مجھ پر بہت اثر ہوا تھا۔ وہ جو سات لیکچرز ہیں، Reconstruction of Religious Thought پر، وہ بھی بہت پڑھے، غور و فکر سے۔ ان کی روحانیت کا جو پہلو ہے وہ مجھے بہت متاثر کرتا ہے۔

سوال: شاعری پڑھی؟
خالدہ حسین: شاعری میں بھی کلاسیکی شاعری بہت پڑھی اور اساتذہ کو بہت پڑھا۔ بس پھر چھوڑ دیا۔ پھر ایک زمانے میں قرآنِ پاک کے ساتھ بھی لگاؤ تھا، پڑھتی تھی ترجمے کے ساتھ۔ اس میں سے بھی مجھے بہت سی چیزیں ایسی مل جاتی تھیں۔ یوں ہوتا تھا کہ میں سوال کر رہی ہوں مجھے جواب مل رہے ہیں۔ کبھی کبھی۔ لیکن وہ بھی ایک کیفیت ہوتی ہے جو گزر جاتی ہے۔ رہتی نہیں ہے، بہت مختصر سی ہوتی ہے، جھلک سی ہوتی ہے لیکن بالکل یہی لگتا ہے کہ ہم سوال کر رہے ہیں اور قرآن جواب دے رہا ہے۔ جب ایسی کیفیت ہوتی تھی، اس کے بعد پھر جب میں اپنا ادب پڑھتی تھی، لٹریچر پڑھتی تھی، جو رائٹرز بھی مجھے پسند ہیں یاجن کو میں سمجھتی تھی کہ اچھا لکھتے ہیں، ان کے ہاں مجھے ایسی باتیں ملتی تھیں جو کہ قرآن کے منافی ہوتی تھیں، یا یہ کہ جو مجھے لگتا تھا کہ میرے عقیدے سے مختلف ہیں؛تومجھے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ بہت زیادہ میرا دل دکھتا تھا کہ یہ کیوں ایسا محسوس کرتے ہیں؟ یہ کیوں ایسا کہتے ہیں۔ پھر میں تنگ آکے چھوڑ دیتی تھی۔ تب بس جذباتی بہت زیادہ ہوتی تھی۔ اب نہیں اتنا ہوتا مجھے۔ اب مجھے پتہ ہے کہ ہر ایک کو آزادی ہے۔ جو کسی کا عقیدہ ہے وہ ٹھیک ہے۔ میرا بیٹا بہت ناراض ہوتا تھا اس بات پہ۔ کہتا تھا، نہیں امی! بالکل نہیں!عقیدہ ایک ہی ہے۔ کہتا تھا، یہی تو بری بات ہے آپ رائٹرز کی۔

سوال: وہ آپ کی تحریریں پڑھتے تھے؟
خالدہ حسین: ہاں وہ پڑھتا تھا پھر اس نے چھوڑ دیا تھا اور مجھے لگتا ہے کہ آخر آخر میں نہیں پسند کرتا تھا میرا لکھنا۔ کیوں کہ وہ یہ چاہتا تھا اور برملا کہتا تھا کہ راستہ بس ایک ہی ہے۔ اس راستے پہ آپ آجائیں۔ بس اس کا عقیدہ ایسا تھا۔ بہت پختہ عقیدہ تھا اس کا۔ بڑی بات ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ میرے میاں، ویسے دل کے تو بہت پکے مسلمان ہیں لیکن وہ نمازی وغیرہ نہیں ہیں۔ میں حیران ہوتی ہوں۔ کہتی ہوں، اللہ! کیسے ہوگیا یہ؟ پھر میں کہتی ہوں شاید تھوڑا سا میرا اثر ہو۔ میرے اپنے خاندان میں بہت لوگ تھے اس طرح کے عابد و زاہد۔ بہت زیادہ۔ کئی تو ایسے ہیں میرے آباؤاجداد میں کہ جن کے باقاعدہ حجرے یا مزار وغیرہ بھی ہیں۔ مجھے اب پتہ چلتا ہے۔ پھر مجھے لگتا ہے کہ جیسے میرے بیٹے نے بھی inherit کیا تھا کسی طرح۔ ورنہ کوئی ایسا ماحول نہیں تھا۔ میرے میاں بہت lively ہیں، بہت خوش دل، تفریح کرنے والے، ٹی وی دیکھو، movies دیکھو، گھومو پھرو، سیریں کرو۔

تیسرے اور آخری حصہ کے لئے اس لنک پہ کلک کیجئے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: