مرزا اطہر بیگ : ایک گفتگو (۱) —– نجیبہ عارف

0
  • 78
    Shares

مرزا اطہر بیگ سے ملاقات اور ایک طویل گفتگو کا امکان میرے لیے کسی بہت خوش گوار واقعے کی امید کی مانند تھا۔ مجھے ان کی کم و بیش تمام تحریریں پڑھنے کا اتفاق ہوا اور مزید پڑھنے کا اشتیاق بڑھتا گیا۔ لیکن اس اشتیاق کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان سے ملاقات کا امکان مسلسل تعطل کا شکار ہوتا گیا۔ ایک بار تو میں نے باقاعدہ ملاقات کا وقت طے کر لیا اور لاہور بھی جا پہنچی لیکن جب انھیں فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ یہ ملاقات بالکل بھول چکے تھے اور کسی کام سے شہر سے باہر جا چکے تھے۔ یوں یہ ملاقات ِ موعودہ نہ ہو سکی۔ دوسری بار بھی ایسا ہونا بعید از قیاس نہ تھا کیوں کہ اس بار انھیں شدید فلو اور کھانسی کی شکایت تھی۔ لیکن انھوں نے میری مایوسی اور شوق دونوں کا اندازہ کر کے، طبیعت کی خرابی ٔبسیار کے باوجود مجھے جی سی یونی ورسٹی، لاہور آنے کی اجازت دے دی جہاں انھوں نے بعد از ریٹائرمنٹ دوبارہ ملازمت اختیار کر لی تھی۔

میری خواہش تو یہ تھی کہ ’’غلام باغ‘‘ کے اس باغبان سے ملاقات کسی غیر رسمی ماحول اور غیر روایتی سی جگہ پر ہو، مثلاً کسی چپوؤں والی کشتی میں جو کناروں تک بھرے ہوئے دریا میں خاموشی سے بہتی ہو، یا کسی پرانے برگد کے نیچے، جس کی جٹائیں، چاروں طرف پھولوں کی لڑیوں کی طرح جھولتی ہوں، یا ستاروں بھرے آسمان تلے، جہاں صرف جھینگر کی آواز دور سے آتی ہو، اور اگر یہ سب نہیں تو کم از کم لارنس باغ کے کسی گھنے جھنڈ میں، پیلے پتوں کے فرش میں دھنسے لکڑی کے بنچ پر۔ میری یہ خواہش محض کسی رومانویت کی پیداوار نہیں، میرا تجربہ ہے کہ ایسی جگہوں پر انسان اپنی ذات کے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کبھی کبھی تو خواہی نخواہی بالکل بے نقاب ہو جاتا ہے۔ میں نے مرزا صاحب سے اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا، جواب میں انھوں نے ٹلہ جوگیاں کا مقام تجویز کر دیا۔ یہ تجویز میرے سوچے ہوئے سبھی مقامات سے کہیں زیادہ مناسب و موزوں تھی، لیکن اتنی ہی ناممکن بھی۔

یہ ملاقات جی سی یونی ورسٹی لاہور کے ایک ایسے کمرے میں ہوئی جس کے باہر عمارت کی تعمیر کا کام زوروں پر تھا۔ کچھ مزدور ہتھوڑے سے ایک دیوار توڑ رہے تھے، کچھ کمروں سے فرنیچر گھسیٹ گھسیٹ کر نکال رہے تھے اور کچھ طالب علم باہر سیڑھیوں پر بیٹھے زور زور سے باتیں کرتے اور عمارت کی دوسری منزلوں میں چھپے بیٹھے اپنے دوستوں کو پکارتے تھے۔ جوں ہی میں نے سلام دعا کے بعد گفتگو کا آغاز کیا تو قریب کی کسی مسجد سے عصر کی اذان کی آواز بلند ہو گئی۔ یوں کافی دیر تک میں ’’فی الخسر‘‘ بیٹھی رہی۔ اس پوسٹ ماڈرن ماحول پر مستزاد یہ کہ وقت کم تھا، شام ہونے کو تھی، مرزا صاحب کی طبیعت اچھی نہ تھی اور رہ رہ کر کھانسی اٹھتی تھی۔ ایسے میں اس لمبے سفر پر نکلنا تو ممکن نہ تھا، جس کی مجھے خواہش تھی، البتہ گفتگو کو آگے بڑھانے کے لیے میں نے اس کاغذ کو تہہ کر کے واپس تھیلے میں ڈال دیا جس پر میں نے انٹرویو کے لیے کچھ سوال لکھ رہے تھے اور بغیر کسی منطقی و شعوری ترتیب و تنظیم کے ایک آزاد مکالمے کا آغاز کیا۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اس مکالمے کو تحریر کرتے ہوئے گفتگو کے لب و لہجے کو برقرار رکھا جائے اس لیے اس مکالمے کی زبان تحریری اور شعوری منطقی ترتیب سے عاری اور بول چال کے مطابق ہے۔


نجیبہ عارف: تو آج کل کیا لکھ رہے ہیں آپ؟
مرزا اطہر بیگ: ناول ایک چل رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اصل میں ہوا یہ کہ یہ جو آخری کتاب تھی نا میری (مراد حسن کی صورت حال ہے) اس کے بعد پھر عجیب ایک انتشار سا بن گیا تھا۔ تین چار چیزیں جو ہیں نا، وہ یک دم شروع ہو گئیں اور وہ پھر بڑا عجیب تجربہ ہوا ہے۔ مطلب، اس وقت یہ ہے کہ ان سب میں سے کوئی چالیس صفحے پر ہے، کوئی پچاس پر، کوئی سو پر۔ میں نے اصل میں کیا تھا یہ تجربہ کہ ?why can’t one write more than one things at a time آخر ہم مختلف سبجیکٹ بھی تو بہت سے پڑھتے ہیں۔ تو وہ شروع شروع میں تو ٹھیک رہا سلسلہ لیکن بعد میں پھر it became a complete mess۔ پھر مجھے اس تجربے کو چھوڑنا پڑا اور پھر میں اسی ایک پر آ گیا۔

نجیبہ عارف: مگر یہ تجربہ کیوں کامیاب نہیں ہوا؟
مرزا اطہر بیگ: میرا خیال ہے کہ ہوتا یہ ہے کہ یہ جو فکشن لکھنا ہے، ظاہر ہے کہ یہ ایک متوازی دنیا میں زندہ رہنے کا معاملہ ہوتا ہے۔ ایک تخیلی دنیا میں اور یہ صرف سطحی سے تخیل کی بات نہیں ہے بلکہ یہ جینے کی ایک صورت ہوتی ہے۔ کم از کم میرے ساتھ تو ایسا ہی ہے۔ وہ جو میرے کردار ہیں یا جو فضا ہے، جگہیں ہیں ساری، وہ میرے لیے بہت حقیقی ہوتی ہیں۔ میں انھیں باقاعدہ حسی تجربے کی طرح محسوس کر سکتا ہوں۔ تو جب یہ چار پانچ چیزیں شروع ہوئی تھیں نا، اس سے غالباً ان میں کوئی، کیا کہتے ہیں، cerebral over load قسم کی چیز ہو گئی تھی۔ انھوں نے ایک دوسرے کو کینسل اور بلاک کرنا شروع کر دیا تھا اور پھر کام impede ہو گیا۔ اس کے بعد پھر میں نے یہ چھوڑ دیا۔ ۔ ۔ ۔ ہو سکتا ہے کہ اگر میں اسے جاری رکھتا تو شاید آہستہ آہستہ اس میں سے کوئی شکل نکل آتی۔ لیکن لگ یوں رہا تھا کہ بعض چیزیں جو ہیں، وہ پیچھے رہ جائیں گی اور محسوس یہ ہوتا تھا کہ کام بالکل نہیں آگے چل رہا۔ اچھا، پھر وقت کی تقسیم کا بھی مسئلہ تھا۔ مثلاً میں صبح ایک چیز لکھتا تھا۔ شام کو ایک اور۔ رات کو ایک اور۔ ۔ ۔ ۔ it did not work at all.۔ تو دیکھیں۔ ۔ ۔ ابھی۔ ۔ ۔ کچھ کرتے ہیں اس کو۔ ۔ ۔ ۔

نجیبہ عارف: شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ یہ سب چیزیں فکشن سے متعلق ہیں۔ اگر genre مختلف ہوتا تو شاید یہ مشکل نہ ہوتی؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں۔ بالکل۔ مثلاً اگر مجھے کوئی ریسرچ پیپر لکھنا ہوتا یا کوئی تنقیدی موضوع ہوتا، جیسے میں کرتا بھی رہا ہوں کہ فلاسفی چونکہ میرا مضمون ہے، تو اگر کسی فلسفیانہ موضوع پر لکھنا ہو، یا کسی تصور یا نظریے کی بات ہو، تو وہ فکشن نگاری میں اس طرح مداخلت نہیں کرے گا۔ لیکن فکشن ہی کی چیزیں جو ہیں وہ جب بیک وقت چلیں گی، تو بہت مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، جن کی میں پہلے توقع نہیں کر رہا تھا۔ تو اس طرح ہے۔ اصل میں جو میں لکھ رہا تھا اس میں genre کا فرق نہیں تھا۔ تین چار چیزیں تو ناول ہی کی شکل تھیں۔ ایک طویل کہانی تھی اور ایک خالص مزاح تھا جو مجھے لکھنے میں بڑا مزا آ رہا تھا۔

نجیبہ عارف: کیا مزاح بھی فکشن ہی کی صورت میں تھا؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں فکشن ہی ہو گا نا۔ وہ ہیومر تھا جو ظاہر ہے بالکل فکشنل ہی تھا۔ اس کی ایک واقعاتی سطح ہے لیکن وہ فکشن ہی کہلائے گی نا۔ ہمارے ہاں جو مزاح لکھا جاتا ہے، مثلاً یوسفی صاحب ہیں، ان کی تحریروں کو فکشن ہی کہہ سکتے ہیں نا؟

نجیبہ عارف: ویسے انھوں نے تو اسے faction کہا ہے۔
مرزا اطہر بیگ: ہاں۔ ۔ ۔ ۔ جیسے آبِ گم ہے، وہ بھی ناول ہی کی ایک قسم ہے نا۔ اس میں بھی ایک واقعاتی سلسلہ چل رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس میں ٹریٹمنٹ ان کی اپنی ہوتی ہے۔ تو میں چاہتا تھا کہ وہ میں کروں، بلکہ میرے اندر temptation یہ تھی کہ اور کام چھوڑ کے صرف یہی کروں کیوں کہ (ہنستے ہوئے) جب آپ مزاح لکھتے ہیں تو وہ دوسروں کو مزاحیہ لگے یا نہ لگے لیکن کم سے کم آپ کو تو لگ رہا ہوتا ہے۔

نجیبہ عارف: مرزا صاحب، جب مجھ سے کسی ادیب کا انٹرویو کرنے کی فرمائش کی گئی تو میں نے فوراً آپ کا نام لیا کیوں کہ آپ سے کسی بہانے ملاقات ہی نہیں ہو پا رہی تھی۔ آپ کسی کانفرنس میں جاتے ہیں نہ ادبی میلے میں، نہ کسی اور پروگرام میں۔ ایسی گوشہ نشینی کیوں؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں یہ مسئلہ تو رہا ہے میرا۔ اصل میں بات یہ ہے کہ یہ جو ادبی کام ہے یا کوئی بھی تخلیقی سرگرمی ہے، اس میں دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ اس کی آڑھت کرنے والوں کا ایک جتھا اکٹھا ہو جاتا ہے۔ اچھا۔ اب ان کا تخلیقی عمل سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا لیکن وہ ایک ایسی صورت حال بناتے ہیں کہ وہ سارے لوگ جو اپنی اپنی سطح پر کام کر رہے ہیں، وہ ان کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ اپنی پہچان بنانے کے لیے، منظر عام پر آنے کے لیے اور یہاں تک کہ اپنے کام کو تسلیم کرانے کے لیے بھی۔ یہ ساری جو کانفرنسز ہوتی ہیں، جو یہ ادبی میلے ہوتے ہیں، ان سب کے پیچھے یہی میکنیکس کام کرتی ہیں۔ ایسا صرف یہاں نہیں ہے، یہ ایک عالم گیر حقیقت بن چکی ہے اور باہر تو اس کو باقاعدہ سٹڈی کیا گیا ہے مثلاً sociology of literature کا جو ایریا ہے، وہ اس عمل کو اپنے مطالعے کا موضوع بنا چکا ہے اور اس کے تحت اس کی باقاعدہ اصطلاحات بن چکی ہیں مثلاً gate keeping کون لوگ کرتے ہیں، یا show casing کون کرتے ہیں اور وہ لوگ ایک طرح سے لکھنے والوں کا استحصال کرتے ہیں۔ کسی کانفرنس میں شرکت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے مطلوبہ کامیابی کا کم از کم نصف تو حاصل کر لیا ہے۔ اب انھوں نے اس صورت حال کو ایسا بنا دیا ہے کہ جب کہیں کوئی کانفرنس یا کارنیوال ہوتا ہے، تو ہونا یہ چاہیے کہ انھیں آپ کی اہمیت محسوس ہو کیوں کہ آپ ان کی ضرورت پوری کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہوتا یہ ہے کہ آپ ان کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ سو جب بھی کانفرنس شروع ہوتی ہے تو ہر ایک منتظر رہتا ہے کہ اس کو بلایا جائے گا یا نہیں۔ I absolutely detest this۔ اس لیے میں اس سے بالکل الگ رہتا ہوں اور اگر کوئی بلائے بھی تو انکار کر دیتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جو لکھ رہا ہوں وہ بنیادی طور پر میری اپنی ذاتی مسرت کے لیے ہے۔ باقی جو ہے، ایک ہوتا ہے pleasure reader جو خود رائٹر نہیں ہے؛ وہ کہیں لالہ موسیٰ میں بیٹھا ہوا ہے، ادھر حیدر آباد میں بیٹھا ہوا ہے، تو اگر کبھی اس کی بات یا رائے مجھے معلوم ہو جائے گی کہ وہ میری تحریروں کو پسند کرتا ہے تو وہ میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے کہ وہ رائے دیانت دارانہ اور پرخلوص ہو گی، بہ نسبت ان پانچ چھے آدمیوں کے جو بیٹھے ہوئے ہیں اور ادب کے بارے میں فیصلے صادر کر رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایک مصنوعی ضرورت پیدا کی ہوئی ہے ادبی تحسین و تائید حاصل کرنے کی۔ ایک تو یہ بات ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ یہ جو ریویوز آتے ہیں، اب میں یہ سوچتا ہوں——— بلکہ یہ کوئی بڑی بات بھی نہیں ہے سوچنے کی، بالکل واضح بات ہے کہ یہ جو سارا phenomena ہے۔ ۔ ۔ ۔ اردو ناول لکھنا اور پھر اس میں کامیاب ہونا بھی۔ ۔ ۔ ۔ تو اس کی اصل اوقات کیا ہے؟ اب جب میں لکھتا ہوں اور وہ چھپ جاتا ہے تو پھر اس کے بعد یہ توقع ہے کہ اس پر Books and Authors میں کون لکھے گا یا on Sunday News میں کون تبصرہ کرے گا۔ اگر دونوں میں ریویو آ جاتا ہے تو آدھی سے زیادہ جنگ تو ادیب گویا جیت جاتا ہے۔ اس کے آگے پھر یہ ہے کہ، میں نام نہیں لیتا لیکن یہ سچ ہے کہ پانچ چھے بندے ہیں پورے ملک میں جن کی طرف میں ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھوں گا۔ اگر ان میں سے کوئی لکھ دے تو بس پھر میں تو شانت ہو جاؤں گا کہ بس کمال ہو گیا۔ پھر میرا پبلشر ہے، وہ مجھے بتائے گا کہ بک رہا ہے اور لوگ خرید رہے ہیں۔ چلو یہ پھر بھی ایک تھوڑا ٹھوس مسئلہ ہے۔ ۔ ۔ سو جناب! یہ ہے ساری بات۔ ۔ ۔ اس میں کیا مزا ہے! تو میرے تو اس بارے میں خیالات ایسے ہی ہیں۔ کوئی بھی انھیں پسند نہیں کرتا۔ زیادہ تر لوگ میرے نقطۂ نظر سے کافی بدمزہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا قبضہ گروپ ہے لٹریری پروسیس کے اندر۔ اس کو اگر ذرا وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو یہ وہی بات ہے جیسے ایک actual producer ہے اس کی پروڈکٹ کو لے کر دوسرے لوگ آ جاتے ہیں جو اصل میں producer نہیں ہیں۔ جیسے کہ میں نے کہا ہے کہ یہ آڑھت ہے۔ اصل میں produce تو کسان کرتا ہے لیکن وہ جو مڈل مین ہے وہ خواہ مخواہ بیچ میں آ جاتا ہے۔ خیر جو آپ نے پوچھا تھا کہ میں کیوں نظر نہیں آتا تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے۔

نجیبہ عارف: لیکن مرزا صاحب! اب آپ محسوس کریں گے کہ آپ کے ہم خیال لوگوں میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ اس بات کو سمجھ رہے ہیں۔ پچھلے دنوں اس پر بہت گرما گرم بحثیں ہوئیں۔ بلکہ Dawn میں ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے ان کانفرنسز کی سماجیات پر ایک کالم بھی لکھا تھا جس میں ان کانفرنسوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جن کو انٹرنیشنل کا نام دینے کے لیے دوسرے ممالک سے غیر متعلق افراد حتیٰ کہ گھریلو خواتین تک کو بلا لیا جاتا ہے جو اپنے خرچ پر آ جاتے ہیں اور کانفرنس کے علمی و فکری سیشنز کی صدارت فرماتے ہیں۔ پھر اردو میں اصغر ندیم سید صاحب نے اس کی تائید میں ایک کالم لکھا اور سوشل میڈیا پر بھی دیر تک گرما گرم بحثیں ہوتی رہیں۔ تو یہ معاملہ ادبی ہی نہیں علمی سطح پر بھی ہے؟۔
مرزا اطہر بیگ: اکیڈیمک سطح پر بھی اس کو دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ہماری ذہنی و فکری صورت حال کی انتہائی پیچیدہ تصویر ہے جو علمی و ادبی دونوں طرح کے حلقوں میں موجود ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پھیلا ہوا یہ ایوارڈ کلچر ہے۔ ایوارڈ مارکیٹنگ ڈیوائس ہے کہ جس بندے کو مل گیا ہے اس کی کتابیں پھر سمجھیں کہ نکلیں گی۔ اس کے ساتھ یہ ساری چیزیں سمجھ میں آتی ہیں۔

نجیبہ عارف: بلکہ نوبل پرائز تک ان کی اپنی ڈائنے مکس ہیں۔ وہ ا س کے مطابق ہی اس کا فیصلہ کرتے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں بالکل وہاں تک۔ تو وہ جو گلوبل مارکیٹ فورسز ہیں، وہ ساری اس کو determine کر رہی ہیں، بلکہ dictate کرتی ہیں۔

نجیبہ عارف: جی ہاں بلکہ موضوعات کو بھی؟
مرزا اطہر بیگ: بالکل موضوعات کو بھی۔ ویسے یہ بات انگریزی میں لکھنے والوں کو زیادہ پتہ چلتی ہے جب ان کا واسطہ انٹرنیشنل طباعتی اداروں سے پڑتا ہے بلکہ اردو میں لکھنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ مارکیٹ فورسز سے آزاد ہوتے ہیں۔

نجیبہ عارف: اب تو خیر اردو میں بھی کافی کمرشلائزیشن آ گئی ہے؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں وہ تو ہو گی خیر اب تو لوگ اپنی کتابیں خود چھپواتے ہیں۔ مجھے تو شکر ہے اس کی ضرورت نہیں پڑی، چھاپ دیا انھوں نے، لیکن ظاہر ہے کہ اگر آپ کوئی ادبی کام اردو کا کرتے ہیں، تو اس میں پیسہ تو نہیں ہے نا۔

نجیبہ عارف: جی ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اچھا مرزا صاحب، یہ بتائیے، آپ نے اردو میڈیم سے پڑھا یا انگریزی میڈیم سے؟
مرزا اطہر بیگ: اردو جی! بلکہ پنجابی میڈیم کہہ سکتے ہیں۔

نجیبہ عارف: کہاں سے؟
مرزا اطہر بیگ: میرا جو تعلق ہے وہ یہاں سے تقریباً ۳۰ کلومیٹر دور ایک جگہ ہے شرق پور، ضلع شیخو پورہ کے علاقے میں، تو وہاں کا سکول تھا۔ اُس سے میں نے پڑھا ہے۔

نجیبہ عارف: کب پیدا ہوئے تھے؟
مرزا اطہر بیگ: ۷ مارچ ۱۹۵۰ء۔

نجیبہ عارف: Aquarius سے تو نکل گئے آپ۔ Pisces ہے سٹار آپ کا؟
مرزا اطہر بیگ: جی Pisces ہے۔ probably which is the worst of the stars

نجیبہ عارف: واقعی؟
مرزا اطہر بیگ: (ہنستے ہوئے) کہتے ہیں، اس سٹار کے لوگ پاگل ہوتے ہیں۔

نجیبہ عارف: اگر آپ Pisces ہیں تو پھر تو یقیناً نہیں ہوتے۔ اچھا، یہ بتائیے کہ آپ کے بچپن کے تجربات کیا تھے؟ کس سوشل کلاس میں تھے؟ کیسی زندگی گزاری؟
مرزا اطہر بیگ: یہ باتیں تو میں پہلے بھی کافی کر چکا ہوں۔ تو یوں ہے کہ لوئر مڈل تو نہیں مڈل کلاس تھی شاید، یوں اسے ڈیمارک کرنا مشکل ہے۔ میرے والد ایک سکول ٹیچر تھے اور والدہ بھی سکول ٹیچر تھیں۔ تو وہ ایک قصبہ ہے، ہم لوگ ویسے تو ادھر کشمیر اور جہلم کا جو علاقہ آیا ہے، وہاں سے آئے تھے، یعنی میرے آبا ؤ اجداد۔ میرے والد بہت شاندار آدمی تھے۔ ان کی تمام تر دلچسپیاں بہت کثیر الجہت تھیں۔ انھوں نے تقابل ادیان پڑھا تھا۔ یعنی وہ بائبل بھی پڑھ رہے ہیں، ہندوؤں کی مذہبی کتابیں بھی اور اسلام تو ہے ہی۔ اس کے علاوہ، ویسے وہ فارسی پڑھاتے تھے سکول میں لیکن سائنس میں بھی ان کا گہرا شغف تھا۔ اس کے نتیجے میں گھر کی جو فضا تھی، وہ دوسرے گھروں سے بہت مختلف اور عجیب و غریب تھی۔ یہ کتابیں اور یہ کہانیاں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ جو ساری سائنٹفک چیزیں ہیں، یونیورس کے بارے میں ایک fascination، یہ بالکل بچپن سے ہی رہی۔ اس نے میرے اوپر بڑا گہرا اثر ڈالا تو مجموعی طور پر میری جتنی بھی approach بنی ہے، وہ صرف ادب تک محدود نہیں رہی بلکہ دیگر چیزوں کے اثرات بھی ہوئے۔ لیکن بعد میں جب میں نے سائنس گریجویشن کی، تو بی ایس سی کے بعد میری دلچسپی سائنس کی تعلیم میں بالکل ختم ہو گئی کیونکہ یہاں سائنس کی پڑھائی کے جو طریقے ہیں ان میں سب سے زیادہ طالب علموں کا استحصال ہوتا ہے۔ پھر میں نے فلاسفی میں ایم اے کیا، بلکہ اس میں بھی پہلے سے ہی دلچسپی پیدا ہو چکی تھی۔ لیکن اس میں دلچسپ بات یہ ہوئی کہ لاہور کے دونوں ادارے مجھے اس بنا پر داخلہ دینے کو تیار نہ تھے کہ میں نے بی ایس سی کر رکھی تھی اور فلسفے کی بجائے فزکس کیمسٹری پڑھ رکھی تھی۔ پھر میں نے بی اے کے اضافی مضمون کے طور پر فلسفے کا امتحان بھی دیا لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے محسوس ہوا کہ اس میں ایسی کون سی بڑی بات ہے، یہ میں خود پڑھ لیتا ہوں کچھ چیزیں تو مجھے پہلے ہی آتی تھیں۔ تو پھر یہ میں نے پرائیویٹ کیا۔ ان دو عظیم اداروں نے میری کوئی مدد نہیں کی اور اس میں میری ٹھیک ٹھاک فرسٹ ڈویژن آ گئی اور اس کے نتیجے میں مجھے لیکچرر شپ مل گئی فلسفے کی۔ ایک ہی سیٹ تھی پبلک سروس کمیشن میں اس پہ میری سیلیکشن ہو گئی۔ اچھا اس وقت میرے ذہن میں یہ خیال تھا کہ یہ بڑی زبردست بات ہے۔ ایک طرح کی خود فریبی سی تھی کہ پتا نہیں کالج میں فلسفے کی ٹیچنگ کیا توپ چیز ہو گی، اس میں کیسے لوگ ہوں گے اور کیا ماحول ہو گا، وغیرہ وغیرہ۔ میری پہلی پوسٹنگ ہوئی پنڈداد خان میں، جو ضلع جہلم میں ہے۔ پھر دو سال بعد میں یہاں آ گیا گورنمنٹ کالج میں۔ لیکن وہ ساری فینٹسی جو تھی وہ بکھر گئی۔ ٹیچرز کی، فلسفے کے ٹیچرز کی اور دوسرے بھی سارے لوگوں کی۔ مطلب یہ کہ ٹیچنگ پروفیشن کی جو essential monotony ہے وہ مجھ پر واضح ہو گئی۔ لیکن میرے پاس کوئی اور آپشن نہ تھا۔ کوئی اور پروفیشن بھی نہ تھا، یہ بھی تھا ایک مسئلہ۔ لیکن اپنے اس پورے تدریسی کیرئیر کے دوران میرے طالب علموں نے مجھے بچائے رکھا۔ کم ازکم ان میں سے کچھ نے۔ کلاس میں کچھ لڑکے ایسے آ جاتے ہیں جن سے آپ سیکھتے ہیں جس سے آپ کا وقت ضائع نہیں ہوتا۔ ورنہ معمول کا کام تو چلتا ہی رہتا ہے۔ اس طرح ہے۔

نجیبہ عارف: ابھی بھی فلاسفی میں ایسے طالب علم آتے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: آتے ہیں بالکل۔ صرف یہ کہ ایسے طالب علم encourage نہیں ہوتے۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے ہمارے سسٹم میں۔ مطلب یہ کہ جو ٹیچر کو چیلنج کریں، ذہنی اور فکری طور پر ہی، ظاہر ہے، انھیں بالکل پسند نہیں کیا جاتا، حالانکہ یہ تو سبجیکٹ ہی ایسا ہے۔

نجیبہ عارف: لیکن یہاں کم از کم فلاسفی ڈیپارٹمنٹ چل تو رہا ہے۔ کئی یونی ورسٹیوں نے تو اسے بالکل ختم ہی کر دیا ہے۔
مرزا اطہر بیگ: نہیں! خیر یہاں تو چل رہا ہے بالکل۔ میں نے یہاں ۲۵ سال صدرِ شعبہ کی حیثیت سے گزارے ہیں۔

نجیبہ عارف: گورنمنٹ کالج سے آپ کس سال وابستہ ہوئے؟
مرزا اطہر بیگ: میں پنڈداد خان سے یہاں 1981ء میں آیا تھا۔

نجیبہ عارف: کتنے بہن بھائی ہیں آپ؟
مرزا اطہر بیگ: ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ تین بھائی اور دو بہنیں۔

نجیبہ عارف: آپ کس نمبر پر ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: میں دوسرے نمبر پر ہوں۔ مجھ سے بڑی ایک ہمشیرہ ہیں اور پھر میں۔

نجیبہ عارف: خاندان کے پہلے بیٹے ہیں آپ؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں، مجھ سے پہلے ایک بھائی کا انتقال ہو گیا تھا، تو اس طرح تو نہیں لیکن بہر حال زندہ رہنے والوں میں ہوں۔

نجیبہ عارف: یہ جو پیدائش کی ترتیب ہوتی ہے بہن بھائیوں میں، اس سے بھی شخصیت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
مرزا اطہر بیگ: کہتے تو ہیں، اور پڑتا بھی ہے۔

نجیبہ عارف: آپ کا تجربہ کیا ہے؟
مرزا اطہر بیگ: میرا خیال ہے ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مثلاً جو بڑا بھائی ہے اس کی خواہ مخواہ کی چودھراہٹ ہو جاتی ہے اور چھوٹے اس کو قبول کر لیتے ہیں تو وہ ایک فیملی کے اندر جو درجہ بندی سی ہو جاتی ہے، وہ بالکل ہوتی ہے اور چونکہ والدین اس کو undo نہیں کرتے لہٰذا جب آپ کو سمجھ آتی ہے تو وہ ہو چکا ہوتا ہے یعنی آپ بڑے بھائی بن چکے ہوتے ہیں۔ پھر اگر آپ اس کو undo کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں ہوتا۔

نجیبہ عارف: بچپن میں بہن بھائیوں سے تعلقات کیسے رہے؟
مرزا اطہر بیگ: بچپن میں۔ ۔ ۔ ٹھیک ٹھاک رہے۔ ۔ ۔ لیکن یہ کہ کوئی۔ ۔ ۔ اس طرح کی جو ہوتی ہے نا، close sharing of mind، وہ تعلق نہیں رہا۔ they have their own pace اور وہ زیادہ تر ایک submissive order میں رہے۔ البتہ یہ ادبی دلچسپی جو ہے، یہ ہم سب میں ایک مشترک خصوصیت ضرور رہی ہے۔

نجیبہ عارف: بہنوں میں بھی؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں بہنوں میں بھی۔ بڑی بہن جو ہیں ان میں کافی ہے۔ ان کا بھی لکھنا لکھانا ہوتا ہے اپنے طور پر۔ شاعری واعری اور یہ سارے سلسلے۔ ۔ باقی جو مجھ سے چھوٹے دو بھائی ہیں۔ وہ بھی لکھتے رہتے ہیں بلکہ مجھ سے جو چھوٹا ہے، جو ڈاکٹر ہے اس نے کوئی سفرنامہ بھی، مالدیپ کا، یا پتا نہیں کس جگہ کا، لکھ کے چھپوایا ہے۔

نجیبہ عارف: تو گویا آپ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتے؟ بالکل روایتی بڑے بھائیوں کی طرح؟
مرزا اطہر بیگ: (ہنس کر) نہیں ایسی کوئی بات نہیں، میں نے پڑھا ہے اسے۔ لیکن ایسے ہے کہ میں اس پر بھی ایسے ہی بات کروں گا جیسے میں کسی دوسرے کی کتاب پر بات کروں گا یا مجھے جیسا لگے گا۔ ۔ ۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان میں بھی لکھنے کی خواہش اور ترغیب موجود ہے۔

نجیبہ عارف: لیکن آپ نے بتایا کہ ایسی کوئی sharing نہیں تھی؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں۔ ۔ ۔ ۔ نہیں۔ sharing in the sense۔ ۔ ۔ ۔ مطلب یہ کہ مجھ سے چھوٹا جو بھائی ہے، وہ شاعری واعری کرتا ہے۔ ظاہر ہے، شاعروں کو، میں نے یہ محسوس کیا ہے، کہ زیادہ پریشر ہوتا ہے اپنی شاعری شئیر کرنے کا۔

نجیبہ عارف: آپ نے بڑے محتاط الفاظ استعمال کیے ہیں۔ مطلب ہڑکا ہوتا ہے شعر سنانے کا۔
مرزا اطہر بیگ: ہاں، ہڑکا ہوتا ہے۔ مطلب، جب کبھی وہاں جائیں تو وہ تیار ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی چیز لے کر بیٹھا ہوتا ہے۔ میں اسے وقت دیتا ہوں، ڈسکس بھی کرتا ہوں، لیکن میری شاعری پر کوئی خاص رائے ہے نہیں۔ اگرچہ پڑھے ہوئے ہیں۔ جو بڑے بڑے شاعر ہیں وہ دیکھے ہوئے ہیں۔

نجیبہ عارف: تنہائی سی محسوس ہوتی تھی بچپن میں؟ کوئی چیز جو دوسروں سے مختلف کرتی ہو؟ کیڑا، جو تخلیق کا ہوتا ہے؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں۔ ۔ ۔ میرا خیال ہے یہ ہے تو کلیشے ہی، لیکن ہے ضرور۔ ۔ ۔ ۔ مطلب یہ کہ کچھ ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں آٹھویں یا نویں کلاس میں تھا، تو اس سطح پر سکول کے بچوں سے کہانی لکھنے کو تو کہا نہیں جا سکتا۔ عام طور پر مضمون لکھنے کو کہتے ہیں، تو اس بات میں مجھے بہت مزا آتا تھا۔ یہ واقعی مجھے بہت پسند ہوتا تھا۔ کچھ ٹیچرز نے، جو والد صاحب کے کولیگ بھی تھے، ایک دو چیزوں کو نوٹس بھی کیا۔ ۔ ۔ ۔ ایک اور چیز بھی تھی۔ ۔ ۔ اس وقت بھی مجھے کچھ experiments کرنے یا فارم کو بدل کے دیکھنے کا ایک جنون تھا۔ مجھے یاد ہے کہ بہت پہلے بھی میں نے کچھ ایسی چیزیں لکھیں جو بالکل کسی کیٹیگری میں نہیں آتی تھیں۔ مطلب ایسے ہی جیسے کوئی دیوانہ آدمی بول رہا ہو۔ میرے ذہن کے اندر یہ تھا کہ اس کو یوں رکھنے کی بجائے اگر اس زبان کو یا ان واقعات کو بالکل نئی شکل دے دی جائے تو پھر کیا ہو گا۔ یہ میرا بچگانہ سا تجربہ تھا لیکن وہ ایک ا نتہائی پیچیدہ اور تجریدی سی چیز بنی تھی۔ تو مجھے اس نے بڑا fascinate کیا لیکن میں نے کسی کو دکھانے کی جرأت نہیں کی۔

نجیبہ عارف: یہ آپ نے ابتدائی عمر میں کیا تھا؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں بہت ابتدائی عمر میں۔ ظاہر ہے کہ اس سطح پر زیادہ سے زیادہ کیا ہو سکتا تھا لیکن کچھ ایسا تھا ضرور میرے اندر۔ یہ جاننے کی خواہش کہ جو زبان عام طور پر کتابوں میں لکھی جاتی ہے اگر بالکل بدل دی جائے تو اس کے نتیجے میں کیا ہو گا؟ یہ خیال مجھے fascinate کرتا تھا تو پھر میں یہ کرتا تھا اور جو چیز بنتی تھی وہ میرے خیال میں کوئی تجریدی شاعری جیسی چیز ہوتی تھی۔

نجیبہ عارف: تو کیا آپ نے وہ سب چیزیں سنبھال کر رکھیں؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں! یہ تو بہت پرانی بات ہے بلکہ سنبھالنے کی بجائے میں عموماً اسے لکھ کر پھاڑ بھی دیتا تھا۔ خصوصاً اگر میں کسی کو سنا دیتا تھا۔ جیسے ایک بار میں نے ’’برسات‘‘ پر مضمون لکھا، وہ والد صاحب کو سنایا اور شاید ماں کو بھی۔ انھوں نے شاید حسبِ توقع تعریف نہ کی اور ہنس دیے تو میں نے وہ وہیں پھاڑ دیا۔ یہ بچپن کی کچھ یادیں ہیں لکھنے کے حوالے سے۔

نجیبہ عارف: کوئی ایسا واقعہ یا کوئی ایسی خاص بات جس نے آپ کے ادیب بننے میں کردار ادا کیا ہو؟ یا آپ کی شخصیت کی تعمیر میں کسی خارجی محرک کے طور پر کام کیا ہو؟ جیسے کچھ لوگوں کو محبت ہو جاتی ہے؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں اس کا براہِ راست اس سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ بات کہ مجھے لکھنا ہے، ایک معلوم حقیقت تھی میرے لیے، جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، مجھے معلوم تھا۔ جب سے میرا تعلیمی سلسلہ شروع ہوا تب سے۔ یہ کوئی ڈسکوری کے طور پر نہیں ہوا کہ مجھے اچانک پتا چلا ہو کہ مجھے لکھنا چاہیے یا یہ کہ میں ادیب ہوں۔ بلکہ یہ بات پہلے سے ذہن میں تھی کہ میں لکھتا ہوں اور یہ سلسلہ چلتے رہنا چاہیے۔ اچھا شروع میں تو وہ ایک درسی پس منظر میں تھا لیکن آٹھویں، نویں جماعت تک یہ بات تو سمجھ آ جاتی ہے۔ کہانیاں تو ہم بے شمار پڑھتے تھے بلکہ ہمارا تو یہ تھا کہ جب گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو میری والدہ اور والد، دونوں چوں کہ ٹیچر تھے ہائی سکول میں تو، دونوں کہانیوں کی کتابوں کا ایک ڈھیر لاتے تھے گرمیوں کی چھٹیاں ہونے سے پہلے اور وہ ایک بہت بڑی مسرت ہوتی تھی، ان کتابوں کو پڑھنا۔

نجیبہ عارف: یعنی وہ بچوں کے رسالے جیسے ’’ نونہال‘‘ اور ’’بچوں کی دنیا‘‘ وغیرہ؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں اور وہ ایک ہوتا تھا پیسہ اخبار۔ اس میں ایک سیریز ہوتی تھی۔ چوروں کی کہانیاں، بادشاہوں کی کہانیاں، سانپوں کی کہانیاں وہ بہت اعلیٰ قسم کی کہانیاں ہوتی تھیں۔ پتا نہیں وہ کہاں غائب ہو گئیں؟ اب کہیں نظر نہیں آتیں۔ ایک خاص طرح کی چھپی ہوتی تھیں۔ تو یہ ساری جو فضا تھی، یہ سارا exposure اور طرز زندگی تھا۔ ۔ ۔ اچھا وہ پرانے ترجمے بھی والد صاحب بہت لاتے تھے۔ یہ جو تیرتھ رام فیروز پوری تھا؛ اس کے جاسوسی ناول، جو ترجمے تھے؛ وہ بڑی کمال چیز تھے ____________ خونی خنجر اور لنگڑے جاسوس کی واپسی وغیرہ۔ اچھا پھر یہ شرلک ہومز جو ہے۔ اس کے جو اردو تراجم تھے، جو شاید آج کسی کو پتا نہیں اس کے دو والیم ہوتے تھے۔ تو وہ ہمارے گھر میں بہت مقبول ہوتا تھا۔ انگریزی میں تو میں نے بعد میں پڑھا Arthur Conan Doyle کو۔ اردو میں پہلے ’’شرلاک ہومز کے کارنامے‘‘ کے نام سے پڑھا تھا۔ اچھا ترجمہ تھا۔ وہ بڑا fascinate کرتا تھا۔ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ وہ ساری فضا گھر کی ایسی تھی جس میں لکھنا کوئی ڈسکوری یا چوائس کا معاملہ نہیں تھا، بس یہ تھا۔ جیسے پیدائش سے ہی یہ طے تھا کہ لکھنا تو ہی ہے، تو اس کی ایک باقاعدہ شکل بنتی رہی اور خود سے کہانی لکھنا شروع کیا تو۔ ۔ ۔ لیکن پھر دوسرے معاملات بیچ میں آ گئے اور پھر یہ کالج کی تعلیم کے disaster آ گئے۔

نجیبہ عارف: کالج کہاں سے پڑھا آپ نے؟
مرزا اطہر بیگ: یہاں سے ہی۔ ایف ایس سی تو ادھر سے ہی کیا، گورنمنٹ کالج سے ہی۔

نجیبہ عارف: میٹرک کے بعد پھر آپ یہاں آ گئے؟ شرقپور سے؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں شرقپور یہاں سے قریب ہی ہے۔ روز آ جاتے تھے۔ وہ جو روز کا سفر ہے۔ اس کی اپنی ایک fascination تھی۔

نجیبہ عارف: یہ وہ سفر تو نہیں جو ’’حسن کی صورتِ حال‘‘ میں آیا۔ ویگن والا؟
مرزا اطہر بیگ: کون سا والا؟

نجیبہ عارف: جو وہ ویگن میں بیٹھ کر سفر کرتا ہے اور وہ ہر چیز کی کہانیاں سوچتا ہے۔
مرزا اطہر بیگ: نہیں exactly وہ تو نہیں میرے ذہن میں تھا۔ لیکن کسی بڑے شہر کے قریب رہ کر ایک چھوٹے شہر سے روز بڑے شہر میں آنا جانا ایک خاص تجربہ ہوتا ہے۔ شرقپور اور لاہور کا اس طرح کا ہی رشتہ ہے۔ وہاں کی بے تحاشا آبادی، بہت سے لوگ یہاں آتے ہیں مختلف کاموں کے لیے اور پھر رات کو واپس چلے جاتے ہیں۔ خیر اب تو بڑا بہتر ہو گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ آدھا پونا گھنٹہ لگتا ہے، لیکن اُس زمانے میں پرانی بسیں ہوتی تھیں، ان کا ایک اپنا ہی سلسلہ تھا تو خیر۔

نجیبہ عارف: یہ دونوں شہر ایک دوسرے سے مختلف sphere بھی تو تھے۔ تو انسان ذہنی طور پر ایک بالکل دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے اور ہر روز اس ذہنی نقل مکانی سے گزرنا۔ ۔ ۔ کیسا لگتا تھا؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں بالکل! نہ صرف یہ کہ شرق پور قصباتی ہے؛ اس کے علاوہ جو شرق پور کے آگے دیہات ہیں وہ بالکل خالص دیہاتی ماحول تھا، ان میں بھی میں بہت پھرا ہوں۔ میرا وہ دور آوارہ گردی کا تھا۔ ایف ایس سی کے بعد سمجھ لیں کہ میں دن رات باہر ہی رہتا تھا۔ تو اس طرح تقریباً دو تین سطحوں پر بندہ رہتا ہے۔ ایک تو شہر سے تعلق رہتا ہے دوسرا دیہات سے۔ میرے خیال میں ان سب کا کردار رہا ہے۔ میری کتابوں میں بھی یہ آیا ہے، مثلاً  ’’غلام باغ‘‘ میں بھی دیہات ہے۔

نجیبہ عارف: اس میں تو آپ نے پنڈداد خان کے ارد گرد کا جو علاقہ ہے اور کلر کہار کے گرد و نواح کا پہاڑی علاقہ اور کوہستانِ نمک کا علاقہ پیش کیا ہے؟
مرزا اطہر بیگ: جی وہی۔ ۔ ۔ کھیوڑے کے ساتھ، سالٹ رینج کا علاقہ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب وہاں میری پوسٹنگ ہوئی تھی۔ اس میں وہ جو علاقہ ہے نا، انعام گڑھ جہاں وہ جاتے ہیں اور وہ جو سوکڑ نہر ہے، وہ سارا میرے تجربے کی بات ہے۔

نجیبہ عارف: یہ چیزیں تو آپ کی ہر تحریر میں مل جاتی ہیں۔ خاص طور پر دیہات کی ثقافت۔ ۔ ۔ کبھی زبان کی مدد سے کبھی کسی کردار کی مدد سے، یعنی آپ شہری ماحول بھی بناتے ہیں تو کہیں نہ کہیں زبان کا کوئی ٹکڑا ایسا آ جاتا ہے یا کوئی ترکیب ایسی آ جاتی ہے۔ کوئی کردار ایسا آ جاتا ہے جو دیہات کے اس حاشیائی کلچر کو مرکز میں لے آتا ہے۔
مرزا اطہر بیگ: ہاں بالکل ہے۔ مثلاً ’’حَسن کی صورتِ حال‘‘ میں جو تھیٹر کا سارا منظر نامہ ہے، وہ لکی سٹار تھیٹر والا ہے۔

نجیبہ عارف: ’’صفر سے ایک تک‘‘ میں بھی ہے وہ سارا ماحول؟
مرزا اطہر بیگ: بالکل ہے۔

جاری ہے—-

دوسرے حصہ کے لئے اس لنک پہ کلک کیجیے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: