خالدہ حسین سے ایک یادگار انٹرویو: حصہ ۱ —– نجیبہ عارف

0
  • 98
    Shares

خالدہ حسین ہمیشہ میرے لیے ایک اساطیری کردار کی طرح رہی ہیں، جس کے بارے میں یقین نہیں ہوتا کہ سچ مچ ہے بھی یا نہیں! زندگی کے عمومی حجم سے کچھ بڑا کردار، جو وقت اور فاصلے کے حجاب چیر کر پار اتر سکتا ہے، ذہن کی خشک پپڑیوں کے اندر تک رِس کر انھیں سرسبز کر سکتا ہے اور عقبی بصری پردوں پر ایسے مناظر منعکس کر سکتا ہے جو کبھی نظر کے سامنے سے نہ گزرے ہوں۔ ان کی کہانیوں میں معانی کی ایسی تہیں ہوتی ہیں جنھیں کھولنا دلچسپ، تحیر زا اور نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ وہ زندگی کو ہر پہلو سے چھو چھو کر دیکھتی ہیں اور اس کا لمس اپنی تحریر میں زندہ چھوڑ دیتی ہیں۔ یہ زندگی پڑھنے والے کے اندر جذب ہوجاتی ہے۔ بڑی خاموشی اور دھیمے پن سے۔ شور مچا کر، زور اور قوت سے نہیں، مدھم مدھم، ہولے ہولے، بے آواز بارش کی طرح، بے رنگ پانی کی طرح، جو نظروں میں آئے بغیر اپنا کام کر گزرتا ہے۔ خالدہ حسین کی تحریر میں ویسا ہی اسرار ہے جیسا زندگی کی ابتدا اور انتہا کے بارے میں سوچنے، اچھے اور برے، خیر اور شر، نیک اور بد کے باہم مل جانے کے مقام کو سمجھنے اور اس سے آگے نکل جانے کی تگ و دو میں ہوتا ہے۔

اسرار کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی طرف بلاتا ہے۔ ایسے معنی خیز اشارے کرتا ہے، جن پر لبیک کہے بنا چارہ نہیں رہتا؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دل میں اس کاسہم بھی رہتا ہے۔ پتا نہیں سمجھ میں آئے یا نہیں، پتا نہیں ٹھیک ہو یا غلط۔ سمجھ بھی جائیں تو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ پتا نہیں ٹھیک سمجھا ہے یا نہیں۔

خالدہ حسین کی تحریروں میں بھی ایسی ہی کشش ہے، ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ڈر وابستہ ہے۔ ان کی تفہیم و تعبیر کرتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ پتا نہیں یہ بات ان کی تحریر میں تھی، یا خود ہمارے اندر کہیں موجود تھی جو چپکے سے باہر نکل آئی ہے، بوتل کے جن کی طرح۔

اسی لیے جی چاہتا تھا کہ کسی روز انھیں اچھی طرح چھو کر ٹٹول کر دیکھوں کہ وہ سچ مچ کی ہیں یا کوئی اساطیری کردار ہیں۔ تخیل کا تراشا ہوا، وہم و گمان کا زائیدہ۔

کئی برس سے میں انھیں ملنے اور ان سے تفصیلی گفتگو کرنے کے پروگرام بنا رہی تھی مگر نجانے کیا حجاب تھا جو بار بار حائل ہو جاتا تھا۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے میں پچیس برس تک ان سے نہ مل پائی اور جب ملی تو ایسا لگا کہ کئی پچیس برسوں سے ملتی چلی آ رہی ہوں۔

میں نے ان کی گوشہ نشینی کے بارے میں، ان کی مردم گزیدگی اور تنہائی پسندی کے بارے میں، ان کی خود مکتفی بے نیازی کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔
وہ اپنے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتیں۔
وہ محفلوں میں نہیں جاتیں۔
انھیں انٹرویو وغیرہ دینے سے چڑ ہے۔

یہ سب باتیں مجھے روک دیتی تھیں مگر اس روز جب میں ڈاکٹر فاطمہ حسن کے ساتھ پہلی بار ان سے ملنے گئی تو وہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے صدمے سے گزر رہی تھیں۔ یوں تو زندگی کا ہر صدمہ ہی بڑا لگتا ہے لیکن ایک ماں ہونے کی حیثیت سے میں سمجھ سکتی ہوںکہ جوان اکلوتے بیٹے کی موت دل پر کیسا وار کر سکتی ہے۔ وہ بالکل نڈھال تھیں مگرخود کو سنبھالنے کی تگ و دو میں لگی تھیں۔ میں بھی چاہتی تھی کہ تھوڑی دیر کو سہی مگر وہ اس احساسِ زیاں کو ذرا سا بھول جائیں۔ میں نے ان سے اس خواہش کا اظہار کر دیاکہ کسی روز میں ان سے تفصیلی گفتگو کے لیے آنا چاہتی ہوں۔ انھوں نے شاید مروتاً انکار نہیں کیا لیکن اس خواہش کو عمل میں ڈھالنے میں مزید نجانے کتنا وقت لگ جاتا اگر ڈاکٹر فاطمہ حسن یہ فرمائش نہ کرتیں کہ خالدہ حسین سے کچھ باتیں ریکارڈ کر کے انھیں بھیجی جائیں۔ لہٰذا میری اس دیرینہ خواہش کی فوری تکمیل اگر ہوئی تو اس میں بہت ہاتھ ڈاکٹر فاطمہ حسن کا بھی ہے۔

۶ دسمبر، ۲۰۱۶ء کی شام، اپنی عزیز شاگرد اور اب ہم کار امینہ کے ساتھ ساز و سامان سے لیس ہو کرجب میں ان کے ہاں پہنچی تو وہ بالکل تیار تھیں۔ صدمے نے انھیں کمزور ضرور کر دیا تھا مگر ذہنی طور پر وہ بالکل چست وتوانا تھیں۔ امینہ نے کیمرہ اور ریکارڈنگ کا سامان تیار کر لیا تو میں نے ان سے باتیں چھیڑ دیں۔ کسی رسمی باقاعدہ انٹرویو کی طرح نہیں، بالکل غیر رسمی اور بے قاعدہ انداز میں۔ خالدہ آپا کی گفتگو سننا آرٹ فلم دیکھنے جیسا تجربہ تھا۔ وہ بار بار اپنے اندر اتر جاتی تھیں۔ ان کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ اس میں لمبے وقفے آتے تھے۔ دھیمے دھیمے لب و لہجے میں، کبھی ہلکے ہلکے قہقہے لگاتے ہوئے، کبھی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے، کبھی گلوگیر ہو کر، وہ ہر سوال کا جواب دیتی رہیں۔ یہاں تک کہ میں بھول ہی گئی کہ میں کوئی رسمی انٹرویو لینے آئی تھی اور ان سے اپنی باتیں کرنے لگی۔ اس لیے اس انٹرویو کا کوئی باقاعدہ اختتامی جملہ نہیں ہے۔ بس بات یکا یک مڑ گئی اور انٹرویو کے دائرے سے نکل کر پھیل گئی۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ان کے لب و لہجے کوجوں کا توں پیش کر دوں اس لیے اس مکالمے میں گفتگو کا آہنگ ہے، تحریر کا نظم و ضبط اور دم خم نہیں ہے۔


سوال: تو خالدہ آپا! پاکستان میں رہتے ہوئے، ایک خاتون ادیب ہونا کیسا تجربہ ہے؟
خالدہ حسین: خاتون ادیب ہونا۔ ۔ ۔ ۔ پتا نہیں۔ ۔ ۔ ۔ مجھے لگتا ہے کہ یہاں پر کچھ Exceptional چیزیں ہیں۔ مثلاً اگر ہم شمار کریں تو بہت سی خواتین ایسی ہیں جو کہ قابلِ ذکر ہیں ہمارے ہاں فنونِ لطیفہ میں اور اس کے مقابلے میں میرا خیال ہے مردوں کی تعداد شاید برابر ہو، برابر نہیں تو شاید کم ہو۔ تو یہ ایک غیر ترقی یافتہ ملک کے لیے ایک بڑی عجیب و غریب صورتِ حال ہے۔

سوال: اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ وہی جو لوگ کہتے ہیں کہ فنون کا تعلق چونکہ Sensitivity سے ہے اور Sensitivity مردوں کی نسبت خواتین کے ہاں زیادہ ہے؟
خالدہ حسین: لیکن اس کے لیے آپ دیکھیں کہ وہ Opportunities بھی چاہییں اس کو باہر لانے کے لیے۔ وہ ساری جو اس کی Sensitivity ہے اور یا اگر اس کے اندر کوئی ٹیلنٹ ہےhidden، تو اس کوبھی باہر لانے کے لیے کوئی ماحول چاہیے، کوئی encouragement چاہیے جوکہ عام طور پر تصور کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں نہیں ہے یا بہت کم ہے۔ پر اس کے باوجود آپ دیکھیں کہ خواتین کی ایک خاصی تعداد ہے جو کہ فنونِ لطیفہ میں اپنا نام پیدا کر رہی ہے۔

سوال: اچھا خالدہ آپا! اپنے بارے میں بتائیے کہ زندگی کیسی گزری؟
خالدہ حسین: زندگی کیسی گزری؟؟ بہت مشکل سوال ہے۔ ۔ ۔ بہت اچھی گزری۔ شاید اسے اسی طرح ہی گزرنا تھا اور میرا یہ خیال ہے کہ جس چیز کو جس طرح ہونا ہوتا ہے وہ اسی طرح ہوتی ہے اور کسی طرح سے نہیں ہو سکتی۔ ۔ ۔ تو اس زندگی کو اسی طرح ہی ہونا چاہیے تھا اور وہ ہوگئی۔ شاید اس کو آپ تقدیر کا تصور کہہ لیں یا pre determination، جس طرح بھی آپ سمجھ لیں لیکن میرا یہ خیال ہے کہ پہلے سے مقرر ہوتا ہے کہ کیا ہوگا اور کس طرح ہوگا۔

سوال: وہ کیا چیز یں ہیں جو یہ سب مقرر کرتی ہیں؟ جو یہ طے کرتی ہیں کہ اس طرح ہوگا؟
خالدہ حسین: یہاں پر آکر تو مجھے تقدیر ہی کا قائل ہونا پڑتا ہے اب دیکھیں نا کہ کسی ایک خاص گھر میں پیدا ہونا۔ ۔ ۔ ۔ اب وہ تو ہمارے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ کسی گھر میں ہم پیدا ہو گئے وہاں پہ جو ہمارے والدین ہیں جو شروع میں ہماری شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں، وہ کس طرح کے ہیں، ان کے تصورات کیا ہیں اور زندگی کے بارے میں ان کے کیا خیالات ہیں، ان کے کیا رویے ہیں تو وہ سب چیزیں بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہیں۔ وہ پہلے سے ہو چکی ہیں اورہم اس میں آکے داخل ہو جاتے ہیں۔

سوال: یعنی کہ ہمارے والدین، ہمارا عرصۂ حیات، جس زمانے میں ہم پیدا ہوئے، یہی چیزیں ہیں جو ہماری شخصیت کو متعین کرتی ہیں؟
خالدہ حسین: ہاں بالکل، وہی کاؤنٹ کرتی ہیں وہی بناتی ہیںاور اس پر تو یہی ہے کہ جیسے کہ مقدر کیا گیا ہے کہ کس وقت میں ہمیں آنا ہے اور۔۔۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ بعد میں جو ہم اپنی تعلیم کے ذریعے یا ہمارے جو آئیڈیلز ہوتے ہیں اور اس کے لیے ہم جو کوشش کرتے ہیں، وہ بھی بہت بڑی بات ہے، وہ بھی ہماری شخصیت میں بہت اہم ہے، لیکن basic چیزیں جو ہیں نا، وہ جوزمین فراہم کرتی ہیں اور جو کھاد ہم جس کو کہیں، وہ پہلے سے ہوتی ہیں؛ ان کو ہم نہیں بدلتے۔

سوال: خالدہ آپا آپ کب پیدا ہوئیں؟
خالدہ حسین: جی میں ۱۸ جولائی ۱۹۳۸ ء کو لاہور میںپیدا ہوئی۔

سوال: آپ نے تعلیم کہاں سے پائی؟

خالدہ حسین: لاہور ہی میں پرائمری تک ایک ہندو اسکول، سوہن لال ہائی اسکول میں، میں نے پڑھا۔ کے۔ جی سے لے کر کلاس فائیو تک۔ یہ وہی بلڈنگ ہے جہاں بعد میں مدرسۃ البنات بن گیا۔ وہاں پر میرے ابا کے دوستوں کی اولادیں بھی پڑھتی تھیں۔ وہاں پہ پانچ سال جو گزارے تو اس کا مجھ پہ بہت زیادہ گہرا اثر رہا ہے۔ اس وقت تو مجھے اتنی سمجھ نہیں تھی لیکن پھر بھی ہمارے اسکول کا جو ماحول تھا اس میں ہندو مذہب کا کافی دخل تھا۔ ہماری صبح کی prayer جو ہوتی تھی وہ بھی سنسکرت میں ہوتی تھی جس کی آج تک سمجھ میں نہیں آئی لیکن میں بھی بولتی تھی۔ مجھے بھی پتہ تھا کہ کیا بولنا ہے اور باقی اٹھنا، بیٹھنا اور وہاں پر ہماری ٹیچر کے لباس، ساڑھیاں وغیرہ اور ہمارے اسکول کے جو مالک تھے رائے بہادر سوہن لال۔ ہمارے اسکول کے ساتھ ہی ان کا گھر تھا۔ وہ بڑے امیر کبیر آدمی تھے۔ انھوں نے بہت بڑا institution کھولا تھا لیکن وہ بذاتِ خود اتنی سادگی کی حالت میں رہتے تھے کہ گھر کے دھلے ہوئے کپڑے، ٹخنوں سے اونچی پینٹ پہنی ہوئی اور چُڑ مُڑ قمیصیں اورکوئی استری وغیرہ نہیں اور بالکل وہ اس طرح کے آدمی تھے۔ وہ اپنے گھر سے نکلتے تھے تو ہم دور سے انھیں دیکھتے تھے کہ وہ آرہے ہیں رائے بہادر۔ ہم سب بھاگے جاتے تھے اور جاکے ہمیں بہت اچھا لگتا تھا۔ ہم ان سے کہتے رائے بہادر جی، نمستے!تو وہ بڑے پیار سے ہمیں جواب دیا کرتے تھے۔ نمشتے نمشتے کرتے تھے۔ تو وہ باتیں مجھے بہت……اس وقت تک اتنا پتہ نہیں تھا کہ کیا ہے لیکن رفتہ رفتہ پھر احساس ہو گیا کہ نہیں ہم الگ ہیں یہ لوگ الگ ہیں۔ ایک مسلمان ہوتے ہیں، ایک ہندو ہوتے ہیں۔ اور پھر آہستہ آہستہ وہاں پر کافی consciousness آگئی تھی۔

سوال: تو فکری طور پر بھی ہندو مت کے کچھ اثرات ہوئے؟
خالدہ حسین: نہیں فکری طور پر نہیں۔ اس میں صرف یہ ہے کہ مجھے ان کے لباس میں بڑا interest تھا۔ ساڑھیاں واڑیاں بہت اچھی لگتی تھیں شروع سے ہی؛ اور باقی ان کا اٹھنا، بیٹھنا۔ یہ باتیں مجھے اچھی لگا کرتی تھیں اپنی ٹیچرز کی۔ دس سال کی عمر ہوگی میری تب شاید۔ ۔ ۔ لیکن پاکستان کا جوش بہت تھا، بہت زیادہ۔

سوال: ’’کاغذی گھاٹ‘‘ میں آپ نے یہ سارا ماحول پیش کیا ہے نا؟
خالدہ حسین: جی۔ ۔ ۔ ۔ تبھی سے ہمارے اندر پیدا ہوگئی تھی پاکستان کے لیے محبت اور نعرہ بازی اور یہ وہ۔ بڑے جلسے جلوس بھی کرتے تھے بچپن میں۔

سوال: آپ نے لکھا ہے کہ وہ جو آپ کی دو سہیلیاں تھیں عائشہ اور افروز، تو ان کے سامنے آپ کو کچھ ایسی شرمندگی سی محسوس ہوتی تھی کہ ہمارے ہاں تو سب لوگ شاید establishment کے حامی ہیں اور وہ لوگ بڑے باغیانہ خیالات کے مالک ہیں۔

خالدہ حسین: جی بڑے انقلابی لوگ تھے۔ مجھے یہ لگتا تھا کہ یہ لوگ وسیع تر دنیاسے تعلق رکھتے ہیں کیوں کہ وہ مہاجر تھے۔ میں یہ بہت مرعوب ہو کر اور خوف زدہ ہو کر سوچتی تھی کہ یہ ایک میرے جیسا ہی گھر چھوڑ کے آئے ہیں اور ان کا اتنا بڑا شہر ہوگا اور وہاں کی عمارتیں ہوں گی اور وہاں کی زندگی ہوگی۔ یہ کتنے بہادر لوگ ہیں کہ اس کو چھوڑ کے یہاں آگئے اور یہاں پہ اتنے خوش ہیں یہ اور اتنی محبت کرتے ہیں ہمارے ساتھ۔ تو اس کا میرے اوپر بہت رعب تھا اور میں دبتی تھی بہت زیادہ۔ اور کبھی کبھی مجھے بہت احساس جرم بھی ہوتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ جیسے میں نے انھیں تکلیفیں دی ہیں بہت۔ بعد میں آہستہ آہستہ بڑے ہوگئے پھر یہ ہٹ گئیں باتیں ساری۔

سوال: خالدہ آپا یہ کب معلوم ہوا کہ آپ کو افسانے لکھنے ہیں؟

خالدہ حسین: کہانیاں سننے کا شوق تو شروع سے تھا۔ بہت سنتی تھی اور imaginative بھی بہت تھی۔ اپنے ساتھ باتیں بھی کیا کرتی تھی۔ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ پانچ بھائی بہنیں ہیں ہم۔ دو بہنیں ہیں اور تین بھائی۔ میری بہن سب سے بڑی ہیں، بیچ میں تین بھائی ہیں، میں سب سے چھوٹی ہوں۔ تو چھوٹی ہونے کی وجہ سے میں بہت زیادہ attached تھی اپنی ماں کے ساتھ اور dependent بھی بہت تھی۔ کبھی کام نہیں کیا تھا۔ سب لوگ میرے کام کرتے تھے اور بہت مجھے لاڈ پیار میں رکھا۔ گو کہ میں ہمیشہ شکایت کرتی تھی کہ مجھے کوئی نہیں پیار کرتا۔ کبھی لڑائی ہو جاتی تو میں سوچتی کہ اچھا میں گھر سے چلی جاؤں گی۔ یہ لوگ مجھے پیار نہیں کرتے۔ پھر ایک دن میں فقیر بن جاؤں گی۔ اور پھر بھکارن بن کر آؤں گی اور انھی کے گھر پر آؤں گی۔ یہاں آکے ان کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گی۔ پھر وہ باہر نکلیں گے۔ مجھے پہچانیں گے۔ پھر میں ان سے کہوں گی۔ ۔ ۔ ۔ تو اس بات پہ آکے تو میں خود ہی رونے لگتی تھی۔ یہ میں imagine کرتی رہتی تھی بیٹھ کے۔ دوسرے مجھے ایک خوف تھا۔ سب سے زیادہ basic خوف جو مجھے زندگی میں تھا وہ ماں سے جدا ہونے کا۔ مجھے لگتا تھا کہ کہیں میں اپنی ماں سے جدا نہ ہو جاؤں۔ بہت زیادہ تھا۔ شروع سے ہمیشہ سے، یہ خوف رہا تھا۔ تو اس کا میری شخصیت پر بہت اثر ہوا، مجھے لگتا ہے۔ میرے دل کے اندر جدائی کی اور اپنے پیاروں کے بچھڑنے کی بہت دہشت ہے، بہت زیادہ۔ یہ چیزیں بس زندگی میں اسی طرح ہوتی ہیں۔ پھر یہ کہ ہمارا بہن بھائیوں کے ساتھ بچپن بہت اچھا گزرا۔ بہت ایک دوسرے کے قریب تھے۔ بہت کھیلتے تھے۔ اتنا کھیلے ہیں میں اور میرے بھائی۔ میری بڑی بہن تو ددھیال میں رہتی تھیں۔ وہ ذرا ہم سے کچھ دور رہیں۔ لیکن ہم چاروں، میں اور میرے بھائی، بہت کھیلتے رہے، بہت کھیلا ہم نے۔ تو بہت زیادہ یگانگت ہماری تھی۔ بچپن کے تاثرات بہت زیادہ گہرے رہے اور اب تک یاد آتی ہیں تب کی باتیں۔

سوال: آپ کی جو تحریریں میں نے پڑھی ہیں ان میں آپ کی یاد داشت کا تعلق داخل سے زیادہ ہے۔ یعنی تاثرات اور محسوسات جو ہیں وہ آپ کو اتنی وضاحت سے یاد ہیں۔ چیزوں کی نسبت تاثرات زیادہ گہرے ہیں آپ کی تحریروں میں۔ مثلاََ آپ کوئی خارجی واقعہ بھی بیان کرتی ہیں تو اس میں اس کے معروضی حقائق کم نظر آتے ہیں اور اس پہ جو آپ کی feelings ہیں یا جس طرح وہ آپ کو نظر آرہا ہے، آپ کی نظر اس میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ بڑی حیرت انگیز بات ہے۔ اس بات پر مرزا اطہر بیگ بھی آپ کے بہت قائل ہیں آپ کو معلوم ہو گا۔ وہ کہتے ہیں کہ خالدہ حسین میری پسندیدہ رائٹر ہیں کیوں کہ وہ اتنی deep space create کرتی ہیں اپنے افسانوں کے اندر کہ ایک اور دنیا میں لے جاتی ہیں۔ تو آپ کو معلوم ہے یہ بات؟ آپ ایسا شعوری طور پر کرتی ہیں یا لاشعوری طور پر؟

خالدہ حسین: نہیں یہ شعوری طور پر نہیں ہوتی۔ میں تو صرف اپنے احساسات بیان کرتی ہوں۔ یہی چیزیں مجھے متاثر کرتی ہیں تو اسی طرح بیان کر دیتی ہوں۔ تو یہ میرا خیال ہے کہ شاید یہ بھی ہو، جوکہتے ہیں کہ ہر لکھنے والے کی کوئی انفرادیت ہوتی ہے تو شاید یہی میرے تجربے کی انفرادیت ہے کہ اتنی وضاحت کے ساتھ اور اتنی تفصیل کے ساتھ اور ماحول اور مکان اور جگہیں، مقامات، یہ مجھے بہت متاثر کرتے ہیں، بہت زیادہ۔ بہت haunt کرتے ہیں، بہت زیادہ۔ تو یہ میرا خیال ہے پیدائشی طور پر لوگ ہوتے ہوں گے ایسے۔ لوگوں کو ہوتا ہے۔

سوال: لیکن آپ کو یہ کب پتہ چلا کہ آپ کو افسانے لکھنے ہیں؟

خالدہ حسین: دراصل شوق تو تھا۔ کہانیاں پہلے سنتی تھی۔ اس کے بعد جب کوئی چھٹی ساتویں جماعت میں آئی تو اسکول کی لائبریری سے کتابیں لینی شروع کیں۔ تبھی میری دوستی کچھ ایسی لڑکیوں سے ہو گئی جو ادھر سے آئی تھیں۔ بہت زیادہ ادبی ذوق تھا ان لوگوں میں۔ ایک تو میری دوست بہت گہری ہیں وہ زاہد ڈار کی بہن، ریحانہ ڈار۔ وہ لدھیانہ سے ہجرت کر کے ادھر آئے تھے تو میری اور ان کی بہت دوستی ہو گئی۔ اب تو وہ لندن میں ہوتی ہیں۔ یہ لوگ بہت پڑھنے لکھنے والے تھے، بہت زیادہ۔ ان کے گھر میں کتابوں کا بہت چرچا تھا اور بہت کتابیں ہوتی تھیں۔ تو میں ان سے کتابیں لے کے پڑھتی تھی۔ ان کے ذریعے مجھے latest ادب کا پتہ رہتا تھا کہ آج یہ ہو رہا ہے۔ آج وہ ہو رہا ہے۔ ہر کتاب ان کے گھر آتی تھی۔ ریحانہ کے پاس آتی، ریحانہ سے میرے پاس آتی۔ باقی ہم اسکول کی لائبریری سے لیتے۔ توپڑھنے کا خبط ہو گیا تھا بس۔ وہ پڑھتے اور تب یہ کہ ترقی پسند ادب بہت فیشن میں تھا تو وہ بھی پڑھتے۔ عصمت چغتائی کو بہت پڑھا ہم لوگوں نے مل کے۔ پھر قرۃ العین کو پڑھنا شروع کیا۔ اسی طرح پڑھنے کے ساتھ ہی پھر مجھے کچھ احساس ہوا کہ چلو میںبھی لکھتی ہوں۔ ایسے ہی بیٹھے بٹھائے لکھنا شروع کیا تو وہ پھر اپنے دوستوں کو سنایاتو انھوں نے کہا کہ ہاں ہاں، لکھو لکھو، چلو پورا کرو۔ پوری کرو کہانی۔ اس طرح بس شروع ہو گیا لکھنا۔

سوال: تو آپ نے پہلی کہانی کب لکھی اور وہ کب چھپی؟
خالدہ حسین: میں نے میٹرک میں لکھنا شروع کر دیا تھا اور میٹرک میں ہی تھی جب میری پہلی کہانی چھپی ہے اور وہ بڑے چھوٹے سے رسالے میں چھپی تھی۔ اس کے بعد پھر دو تین کہانیاں اور میں نے اس طرح لکھیں، اسی میں چھپیں لیکن میں فوراََ اس کے بعد خبردار ہوگئی کہ نہیں مجھے اس type کی کہانیاں نہیں لکھنیں۔ اور مجھے اس سے بہتر لکھنا چاہیے یا یہ میری فطرت کے مطابق نہیں ہے۔ بہت ترقی پسند کہانیاں لکھتی تھی کچھ اس طرح کی۔ بہت غریب لوگ ہیں اورکوئی بیوہ ہے، کوئی بیمار ہے۔ اس طرح کی دو تین کہانیاں لکھیں۔ پھر مجھے لگا کہ نہیں یہ میری اصل فطرت نہیں ہے۔ پھر آہستہ آہستہ جب میں نے زیادہ پڑھنا شروع کیا تو مجھے پتا چلا کہ ادب تو بہت وسیع چیز ہے اور مجھے اس سے بہتر لکھنا چاہیے اور وہ لکھنا چاہیے جو میں خود محسوس کرتی ہوں۔ پھر ترقی پسندی کو میں نے چھوڑ دیا۔

سوال: تو وہ کن رسالوں میں چھپی تھیں؟
خالدہ حسین: تھا ایک رسالہ۔ میں ویسے بتایا نہیں کرتی لوگوں کو۔ میری ایک کلاس فیلو ہوتی تھی اس کا نام حامدہ تھا۔ اس کی واقفیت کسی سے تھی جو رسالہ’’حرم ‘‘ چھاپتے تھے۔ ’’حرم‘‘ ہی میرا خیال ہے نام اس کا۔ وہ کہانیاں لکھتی تھی اور اس میں بھیجا کرتی تھی۔ اس نے پھر مجھ سے کہا کہ خالدہ تم بھی لکھو، میں تمھاری کہا نیاں چھپواؤں گی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ میں وہ لکھ کے اس کو دے دیتی تھی تو وہ حرم میں چھپواتی تھی۔ پھر بعد میں مجھے پتہ چلا کہ یہ تو کوئی خاص ادبی رسالہ نہیں ہے۔ ابھی کچھ عرصہ ہوا کہ میں نے کہیں پہ ایک reference پڑھا تھا کہ کسی نے یہ حوالہ دیا تھا کہ یہ بتاتی نہیں ہیں، ان کی کہانیاں ’’حرم‘‘ میں چھپنا شروع ہوئی تھیں۔ میں نے کہا یہ تو کوئی بڑی پتے کی، بہت دور کی بات لے کے آیا ہے۔

کراچی سے میں لاہور  آئی تو مجھے لگتا تھا میرا دماغ اڑ جائے گا۔ یہاں پہ تو میں حیران ہو گئی۔ کوئی کتاب کی بات نہیں کرتا تھا، کوئی پڑھنے لکھنے کی بات نہیں ہوتی تھی۔ سب سے پہلے تو یہ ہوا کہ جب میں نے لوگوں کو بولتے ہوئے سنا، ان کا لہجہ سنا، تو میرا دل بیٹھ گیا۔ وہاں کراچی سے میں اتنی شستہ زبان اور لہجہ سنتی ہوئی آئی اور یہاں آکے۔ ۔ ۔ ۔ بہت مشکل سے میں نے اپنے کانوں کومانوس کیا ان کے لہجوں سے۔

سوال: خالدہ اصغر کے نام سے آپ لکھتی تھیں؟
خالدہ حسین: ہاں خالدہ اصغر کے نام سے لکھتی تھی۔ بس اس کے بعد یہ ہوا کہ پھر ’’ادبِ لطیف‘‘ میں میں نے لکھنا شروع کر دیا۔ تب مرزا ادیب تھے اس کے ایڈیٹر۔ تب سے میں نے باقاعدہ لکھنا شروع کیا۔

سوال: آپ نے تعلیم کہاں تک پائی؟
خالدہ حسین: ایم اے۔ اردو۔

سوال: کب ؟ کس یونی ورسٹی سے کیا؟
خالدہ حسین: ۱۹۶۲ء میں، پنجاب یونی ورسٹی اوریئنٹل کالج سے۔

سوال: تو کون سے اساتذہ سے پڑھا آپ نے؟
خالدہ حسین: ہمارے ہیڈ تو ڈاکٹر سید عبداللہ تھے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی تھے۔ وحید قریشی تھے اور ڈاکٹر صادق۔ ۔ ۔ ۔ بہت اچھے اچھے لوگ تھے۔

سوال: اس کے بعد پھر آپ نے ملازمت کی؟
خالدہ حسین: جی بالکل ملازمت کی۔ لیکچرار بننے کے بعد میں نے لاہور کالج میں ملازمت کی دو تین سال۔ بس اس کے بعد۲۷ نومبر ۶۵ء کو میری شادی ہو گئی تو ملازمت چھوڑ دی۔ پھر بہت عرصے کے بعد میں نے کراچی میں جاکے ۸۰ء یا غالباََ ۷۹ء میں شروع کی دوبارہ۔ وہاں پہ PAF شاہین کالج میں۔ پھر اس کے بعد میں باقاعدہ ملازمت کرتی رہی۔ ۹۷ء میں پھر میں ریٹائر ہوئی اسلام آباد سے۔

سوال: تو یہ تجربہ کیسا رہا ملازمت کا؟

خالدہ حسین: ملازمت کا۔ ۔ ۔ اچھا رہا۔ ۔ ۔ ۔ اچھا لگا مجھے۔ ۔ ۔ لیکن یہ تھا کہ کراچی میں میں بہت خوش تھی کیوں کہ کراچی کے ماحول میں اور اسلام آباد کے ماحول میں بہت فرق تھا۔ کراچی میں یہ تھا کہ ہمارے کالج میں بھی؛ حالانکہ چھوٹا سا کالج تھا، PAF شاہین کالج، بہت چھوٹا تھا صرف سیکنڈ ایئر تک تھا۔ بیرکس تھیں کوئی، اس میں انھوں نے کھولا ہوا تھا۔ تھوڑے سے کلاس رومز تھے اور تھوڑا سا اسٹاف تھا لیکن وہ اتنے اچھے لوگ تھے اتنے زیادہ genuine لوگ تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی۔ سب لوگ مخلص اور اپنے کام کے ساتھ بھی مخلص تھے۔ وہاں پر ہمارا بہت ادبی ماحول ہوتا تھا۔ یہ یاد ہے کہ میری ساری دوستیاں جو تھیں وہ ان ٹیچرز کے ساتھ تھیں جو سائنس پڑھاتی تھیں۔ وہ سائنس پڑھاتی تھیں لیکن ادب کو اتنا اچھا سمجھتی تھیں وہ اور اتنا ان میں شعور تھا کہ بڑی حیرت ہوتی تھی۔ ایک میری دوست تھی اب تو پتہ نہیں وہ مجھے یاد کرتی ہوگی کہ نہیں، وہ بیالوجی کی ٹیچرتھی، شہناز۔ وہ میری کہانیاں پڑھتی تھی اور اتنا اچھا تجزیہ ان کا کرتی تھی اور اتنی اچھی تنقید کرتی تھی کہ میں حیران ہو جاتی تھی اس کی بصیرت پہ۔ اسی طرح اور تھیں۔ ایک کیمسٹری پڑھاتی تھیں، روحی۔ پھر بعد میں وہ پرنسپل بھی ہو گئیں۔ ان کا بھی بہت ادبی ذوق تھا۔ ایک صاحب ہمارے ساتھ تھے جو اسلامیات پڑھاتے تھے۔ بہت highly intellectual آدمی تھے، طارق۔ وہ بھی اتنے زبردست سمجھنے والے ادب کو۔ ۔ ۔ ۔ تو وہاں پہ میں بہت خوش تھی۔ ہم لوگ بہت ادب کی باتیں کرتے۔ ۔ ۔ ہم باتیں نہ بھی کرتے ادب کی تو آپس میں ہماری گفتگو بہت اچھی ہوتی تھی۔ وہاں سے میں یہاں آئی تو مجھے لگتا تھا میرا دماغ اڑ جائے گا۔ یہاں پہ تو میں حیران ہو گئی۔ کوئی کتاب کی بات نہیں کرتا تھا، کوئی پڑھنے لکھنے کی بات نہیں ہوتی تھی۔ سب سے پہلے تو یہ ہوا کہ جب میں نے لوگوں کو بولتے ہوئے سنا، ان کا لہجہ سنا، تو میرا دل بیٹھ گیا۔ وہاں کراچی سے میں اتنی شستہ زبان اور لہجہ سنتی ہوئی آئی اور یہاں آکے۔ ۔ ۔ ۔ بہت مشکل سے میں نے اپنے کانوں کومانوس کیا ان کے لہجوں سے۔ اور اس کے بعد پھر یہ تھا کہ ایک آدھ بندہ ہوتا تھا جو کتاب کی بات کرتا تھا۔ اس لیے میں یہاں پر اپنے آپ کو مِس فٹ ہی محسوس کرتی رہی۔ کیوں کہ یہاں پر ذہنی طور پر وہ ماحول نہیں ملا مجھے، جو کراچی میں تھا۔

سوال: لکھناکس زمانے میں شروع کیا؟
خالدہ حسین: میری کہانیاں تو ۶۰ء کی دہائی میں چھپنا شروع ہوئیں۔

سوال: ’’ادبِ لطیف‘‘ میں کب چھپیں؟
خالدہ حسین: جی ۶۰ کی دہائی میں۔

سوال: اور پہلی کتاب ’’پہچان‘‘ کب آئی؟
خالدہ حسین: مجموعہ میرا خیال ہے ۸۰ء میں آیا تھا۔ ۸۰ء یا ۷۹ء۔ بہت دیر میں آیا وہ مجموعہ’’پہچان‘‘۔ اس کے بعد ’’دروازہ‘‘ پھرجلدی آگئی تھی۔ پھر باقی جلدی آتی رہیں لیکن پہلے مجموعے میں بہت دیر لگی۔

سوال: تو ابھی تک آپ کے پانچ مجموعے آچکے ہیں؟
خالدہ حسین: جی ہاں پانچ اور ایک یہ جو آپ کے سامنے ہے کلیات۔ لیکن اب ایک اور مجموعہ میرا تیار ہو گیا ہے۔ آصف فرخی شاید چھاپ دیں۔ دو سال تو ہو گئے ہیں وہاں پڑے ہوئے مسودہ۔

سوال: اس کے بعد بھی تو آپ نے کئی افسانے لکھے ہیں۔
خالدہ حسین: ہاں! وہی افسانے ان کو میں بھجواتی رہتی ہوں۔ کچھ میرے پاس پڑے ہیں، کچھ تراجم کیے ہوئے ہیں میں نے، وہ پڑے ہوئے ہیں۔ اب دیکھیں۔

سوال: تراجم کون سے کیے ہیں آپ نے؟
خالدہ حسین: تراجم۔ ۔ ۔ ۔ جو کہانیاں مجھے اچھی لگتی تھیں انگلش میں، تو وہ ترجمہ کر دیتی تھی۔ چار پانچ ہیں تراجم۔

سوال: ۶۰ء کی دہائی میں جب آپ نے لکھنا شروع کیا تو آپ لاہور میں تھیں اس وقت لاہورمیں بڑی زبردست ادبی سرگرمیاں تھیں۔ بہت جان دارفضا تھی، اہم لوگ تھے۔ اس شہر میں آپ کے تجربات کیسے رہے؟
خالدہ حسین: سب بہت اچھے تھے لیکن مسئلہ وہی تھاکہ ہمارے خاندان میں، ہماری تہذیب کا جزو نہیں تھا ادب اور ادبی لوگ۔ ہم ادب پڑھتے تھے۔ میرے والد تو بہت زیادہ باذوق آدمی تھے۔ شاعری میں اور ہر چیز میں بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ کہیں مشاعرے ہوتے تو مجھے لے کے جاتے؛ سناتے سب۔ لیکن اپنے گھر میں یہ چرچا نہیں تھا۔ یہ نہیں تھا کہ بھئی آپ ادب لکھتی ہیں تو ادیبوں کو بلائیں یا ملیں جلیں یابے تکلفی سے باہر چلی جائیں یا آپ جلسوں ولسوں میں جائیں، وہ اٹینڈ کریں سارے۔ یہ ہمارے ہاں نہیں تھا۔

سوال: اجازت بھی نہیں تھی؟

خالدہ حسین: نہیں۔ اب اجازت کا مطلب یہ کہ understood تھا کہ نہیں جائیں گے۔ لہٰذا ہم پوچھتے ہی نہیں تھے۔ پوچھا ہی نہیں تھا کبھی۔ مشاعرے وشاعرے سننے چلے جاتے تھے لیکن خود بولنے کا نہیں تھا۔ پھر اس کے بعد یہ ہوا کہ۶۵ء یا ۶۴ء تھا کہ پہلی دفعہ میں نے ہمت کر کے حلقۂ اربابِ ذوق میں پڑھی کہانی۔ وہ کہانی ’’سواری‘‘ تھی۔ وہ بھی اس طرح کہ اب بہت مسئلہ تھا کہ کیسے جائیں؟ میرے والد صاحب مجھے لے کے گئے وہاں۔ مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے۔ اب بھی میں سوچتی ہوں تو مجھے بہت حیرت ہوتی ہے۔ میرے والد جو تھے بہت ادبی ذوق کے آدمی تھے۔ ۔ ۔ بہت زیادہ۔ تھے تو سائنٹسٹ۔ پی۔ ایچ۔ ڈی تھے کیمسٹری میں اور وائس چانسلر تھے انجینئرنگ یونی ورسٹی لاہور میں۔ تو ساری زندگی انھوں نے سائنس پڑھی ہے۔ لیکن ان کے دوست بھی بڑے باذوق تھے۔ تو وہ مجھے کہنے لگے کہ چلو میں تمھیں لے کے چلتا ہوں۔ تو کہاں وہ اتنے بڑے آدمی، سفید بال اور کہاں وہ حلقۂ اربابِ ذوق، آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ کیسی بے تکلف سی جگہ ہوتی ہے، وہ لکڑی کی کرسیاں اور دھواں دھواں، وہ سگریٹ، ماحول بھی ویسا؛ لیکن وہ مجھے لے کرگئے تھے۔ اب بھی میں یاد کرتی ہوں تو کہتی ہوں کہ دیکھو ان کا کتنا بڑا دل تھا کہ انھوں نے یہ سوچا ……وہ بہت قدر کرتے تھے میرے ٹیلنٹ کی۔ وہ پھر مجھے لے کے گئے۔ میں نے کہانی پڑھی۔ وہاں پسند کی گئی تو وہ بھی بہت خوش ہوئے۔ بڑے بڑے لوگ وہاں پہ آئے ہوئے تھے۔

جاری ہے —-

دوسرے حصے کے لئے اس لنک پہ کلک کیجیے

(Visited 53 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: