پاکستانی کیمونسٹ تحریک: چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی —- عطا محمد تبسم

0
  • 21
    Shares

پاکستان میں کیمونسٹ تحریک میری دلچسپی کا موضوع ہے، بچپن میں میری تائی میری کتاب پڑھنے کی عادت کی وجہ سے مجھے اکثر کہا کرتی تھی کہ یہ ’’لال کتاب‘‘ تو نہیں پڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی دنوں میں کمیونسٹ تحریک نے اپنی تمام امیدوں کا مرکز پاکستان سے وابستہ کرلیا تھا اور کمیونسٹ تحریک کے بہت سے نابغے پاکستان چلے آئے تھے۔ ان کی اکثریت حیدرآباد دکن، لکھنو، دہلی، الٰہ آباد جیسے شہروں کی اشرافیہ اور پڑھے لکھے تھے، جنہوں نے سندھ اور پنجاب کے ریگزاروں اور ویرانوں میں علم و علم کے پھول کھلائے۔ اپنے نظریات کی آبیاری کے لیے جگہ جگہ کم پڑھے لکھے لوگوں اور محنت کشوں کا علم عمل اور محنت اور عالمی نظریہ سے رشتہ جوڑا۔

پاکستان میں کمیونسٹ تحریک کے ابتدائی جانثاروں کی داستان اور حالات و واقعات پر اعز عزیز کی کتاب ’’رفیقان صدق و صفا‘‘ میں بہت تفصیل سے تحریر کیے گئے ہیں۔ کتاب میں حسن ناصر کے بارے میں جو تفصیلات ہیں وہ بہت متاثر کن ہیں، جو ان کی جواں ہمتی، نظریات سے اخلاص، تحریک سے محبت، قربانیوں، سیاسی بصیرت، جدوجہد، صعوبتوں کی برداشت سے عبارت ہے، حسن ناصر، سید سجاد ظہیر، دادا امیر حیدر، مرزا ابراہیم، جمال الدین بخاری، حیدر بخش جتوئی، نذیر عباسی، کامریڈ شرف علی، سائیں عزیز اللہ، ڈاکڑ میر رحمان علی ہاشمی، فتح اللہ عثمانی، واحد بشیر، جوہر حسین، ڈاکڑ ملک شیر افضل، اور از عزیزی اور بہت سے کامریڈوں کی یہ داستان بہت دلچسپ ہے۔ پاکستان میں بائیں بازو پر تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ کتاب مشاہدات و تاثرات کی شکل میں ایسا مواد فراہم کرتی ہے، جو نئی معلومات اور غور و فکر کے نئے زاویئے فراہم کرتی ہے، مجھے کتاب میں سب سے زیادہ سحر انگیز شخصیت حسن ناصر کی لگی۔ جو ایک دو افراد کو ملنے کے لیے پورے پورے دن کی مسافت جنگلوں اور ویرانوں میں بھوکے پیاسے طے کرتے۔ ہر روز ایک نیا بہروپ بھرتے، اچانک ملاقات کرتے اور اچانک غائب ہوجاتے، چھلاوے کی طرح وہ ہر جگہ موجود بھی ہوتے اور غائب بھی، سیاسی جلسوں میں کونے میں کھڑے ہوکر مخالف سیاسی جلسوں کی فسٹ ہینڈ معلومات حاصل کرتے، ہر کارکن سے رابطہ رکھتے، ملکی اور بین الاقوامی خبروں سے آگاہ رہتے، فوری فیصلے کرتے اور ان پر عمل درآمد کے لیے پوسٹر لگانے کے لیے کارکنوں کو اپنے شانوں پر کھڑا کرکے پوسٹر لگواتے۔ پاکستان میں حسن ناصر کو کام کرنے کے لیے چھ سال کی مدت ملی، 1954 میں راولپنڈی سازش کیس عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر ایسے ہی ختم کردیا، جیسے اصغرخان کیسا نمٹا دیا گیا ہے۔ سجاد ظہیر، سبط حسن، فیض احمد فیض، میجر اسحاق اور حسن ناصر کو رہا کر دیا گیا۔ ناصر ان دنوں کراچی کی کیمونسٹ تحریک کے جنرل سیکریٹری تھے۔ وہ اپنے کارکنوں میں پابندی وقت، رازداری، احتیاط اور اپنے کاز سے محبت کو اولیت دیتے تھے۔ کامریڈ حسن ناصر کی منصوبہ بندی ہی کا نتیجہ تھا کہ 1957 کے کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں ترقی پسندوں کے نمائندے کامیاب ہوئے۔ کامریڈ حسن ناصر نے سندھ میں سیاسی محاذ، طلبہ محاذ، مزدور محاذ، ادبی اور ثقافتی محاذ اور ہاری محاذ کو چنا اور آج بھی یہ محاذ اپنی اپنی جگہ کامیاب جدوجہد کر رہے ہیں۔

سجاد ظہیر نے بھی برصغیر کی کیمونسٹ تحریک میں جو کردار ادا کیا ہے وہ بھی لازوال ہے۔ بہترین شاعر، ادیب، مفکر، پرجوش مقرر، بے شمار تراجم جو زیر طبع ہیں، کے علاوہ ایڈیٹر اور صحافی انھوں نے بیشمار نوجوانوں کو ترقی پسندی کا راستہ دکھایا۔ وہ ایسے کامریڈ تھے، جو صرف وعظ و نصیحت ہی نہیں کرتے، بلکہ جو کہتے اس پر عمل کرتے تھے، وہ اپنے اجداد کی کوٹھی وزیر منزل کو چھوڑ کر اس کے سرونٹ کواٹر میں رہتے تھے۔ اپنی گذر بسر کے لیے مضامین لکھتے اور ترجمہ کرتے۔

فیض احمد فیض کیمونسٹ تحریک میں عمر بھر جدوجہد کی، صعوبتیں برداشت کیں، پابند سلاسل رہے اور جلا وطن ہوئے۔ فیض ببانگ دہل اپنے کیمونسٹ ہونے کا اعتراف کرتے تھے اور انہیں اپنے نظریات پر فخر تھا۔ فیض متحدہ برصغیر کی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے باقاعدہ کارڈ ہولڈر تھے۔ فیض کی زندگی کا ایک اور اہم پہلو ٹریڈ یونین اور مزدور تحریک میں ان کی شمولیت تھی۔ وہ نہ صرف ٹریڈ یونینز کو منظم کرنے کے لئے سرگرم رہے بلکہ محنت کشوں کی نظریاتی تربیت بھی کرتے رہے۔ ان کی نظم ’’صبح آزادی‘‘ تقسیم ہند کے بارے ان کے خیالات کی غمازی کرتی ہے:

یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں۔
ابھی چراغ سر راہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانی ء شب میں کمی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے اعزاز نظیر نے پیشہ ورانہ انقلابی زندگی بسر کرنے کے لیے درمیانے طبقے سے اپنا رشتہ اس طرح توڑا کہ اپنی تعلیمی اسناد اپنے ساتھیوں کے سامنے جلا دیں، اور پھر ساری زندگی کوئی ملازمت نہیں کی۔ حیدرآباد میں مزدور تحریک اور نیشنل اسٹوڈینس فیڈریشن کو منظم کرنے میں اور سیاسی تحریکوں میں پیش پیش رہے۔ معلم پروفیسر جمال الدین نقوی نے بھی نہ صرف خود بائیں بازو کی سیاست کی بلکہ نوجوانوں کی بھی ایک بڑی تعداد کو اس طرف راغب کیا۔ ان کا شمار کمیونسٹ پارٹی کے سخت گیر رہنماوں میں ہوتا تھا۔ جمال الدین نقوی کی پیدائش 1932ء میں انڈیا کے شہر الٰہ آباد میں ہوئی تھے۔ سائیں عزیز اللہ جسے کیمونسٹ تحریک نے ساٹھ روپے تنخواہ پر عوامی لیگ میں کام کرنے کے لیے مشرقی پاکستان بھیجا اور پھر انھوں نے سندھ میں پارٹی کو منظم کیا۔ شاہ فیصل کے چھوٹے سے گھر میں رہے اور یہیں پہلی بار بھاشانی کو ایرپورٹ سے لے کر آئے۔ یہ لوگ عوام میں کچی جھونپڑیوں میں گندی گلیوں میں رہے اور کام کیا۔ آج جب میں کامریڈوں اور نظریاتی تحریکوں کے کارکنوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہ جذبہ، اخلاص، محنت، لگن اور جستجو نظر نہیں آتی جو کیمونسٹ تحریک اور جماعت اسلامی کے ابتدائی لوگوں میں تھی۔ جس نے آج بھی ہماری سیاست میں اپنا نام نشان باقی رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  پروفیسر جمال نقوی: حق کا راہی ۔۔۔ عزیز ابن الحسن

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: