ٹیکس دھندگان: چور اچکے شکوہ نہیں کرتے —– خرم شہزاد

0
  • 94
    Shares

پاکستان کی ستر سال کی تاریخ میں شائد دو سے تین بجٹ ایسے بنے جو خسارے کے بجٹ نہیں تھے ورنہ ہر بجٹ خسارے کا بجٹ ہی رہا ہے۔ شروع کے سال تو یقینا اس مملکت کی تعمیر نو کے لیے وقف رہے لیکن اب گذشتہ تین دہائیوں سے بھی کسی حکومت میں ایسی کوئی ہمت نہ ہو سکی کہ وہ بنا خسارے کا بجٹ پیش کرنے کا کارنامہ دکھا سکتی اور اس کی سب سے بڑی وجہ اس ملک کی چور فطرت عوام ہے۔ کوے کی فطرت میں ہے کہ اگر اسے گندہ شاپر بھی ملے تو وہ اپنی چونچ میں دبائے دوسروں سے ایسے دور جانے کی کوشش کرتا ہے کہ جیسے اس کے ہاتھ کوئی بہت بڑا خزانہ لگا ہو۔ کچھ اور جانور بھی ہیں جن کی فطرت بھی یہ ہے کہ وہ اپنے پاس موجود پر قناعت نہیں کرتے اور دوسرے کے منہ کا ایک نوالہ بھی برداشت نہیں کرتے۔ جانوروں کی اس فطرت کو اگر کسی ملک کے عوام میں دیکھنا ہو تو پاکستانی عوام اس کی بہترین مثال ہیں۔ بہت معذرت کہ ہمارے پاس دنیا کے سب سے سخی لوگ بھی ہیں لیکن دنیا کی بدترین ذہنیت بھی ہمارے ملک میں ہی پائی جاتی ہے اور اس بدترین ذہنیت کا نشانہ ہمارا اپنا ملک رہا ہے۔ عوام کے اس روئیے کا سارا فائدہ سیاست دانوں نے اٹھایا اور یہ ملک آج تک اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکا۔ آئیے بات کی وضاحت کرتے ہیں۔

گذشتہ تین عشروں میں پاکستان میں کوئی ایک بھی وزیر خزانہ ایسا نہیں آیا جس نے یہ دہائی نہ دی ہو کہ ملک میں ٹیکس دینے والے صرف چند لاکھ لوگ ہیں۔ باقی پورا ملک تو ٹیکس ادا ہی نہیں کرتا، جس کی وجہ سے ہمیں بیرونی قرضے بھی لینے پڑتے ہیں اور اندرونی قرضوں سے جان چھڑانی بھی مشکل ہوتی ہے۔ ہر وزیر خزانہ کی ایسی تقریر میں ٹیکس دینے والوں سے مراد صرف اور صرف فائلرز ہیں یعنی جنہوں نے ایف بی آر میں باقاعدہ رجسٹریشن کروائی ہوتی ہے اور ان کو نیشنل ٹیکس نمبر بھی جاری کیا گیا ہوتا ہے۔ یہ تعداد پورے ملک میں یقینا چند لاکھ ہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ باقی عوام کیا کر رہی ہے۔ ایک عام آدمی بینک سے پچاس ہزار سے زیادہ رقم نکلواتا ہے تو اس پر ٹیکس ادا کرتا ہے، بازار میں کوئی بھی ایک چیز خریدتا ہے تو اس پر پندرہ فیصد تک جی ایس ٹی قیمت میں شامل ہوتی ہے، موبائل کارڈ سے لے کر کتاب تک، ہر چیز کی قیمت میں کوئی نہ کوئی ٹیکس کسی نہ کسی صورت شامل ہوتا ہے اور ایک عام آدمی یہ تمام ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن اس کے بعد جب شام کو وہ ٹی وی پر وزیر خزانہ کو یہ کہتے ہوئے دیکھتا ہے کہ اس ملک میں لوگ ٹیکس نہیں دیتے تو سوائے کڑھنے کے اور کچھ نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ وزیر خزانہ کا دکھڑا ٹھیک ہے یا عام آدمی کا۔

صورت حال بہت دلچسپ ہے کہ ہمارے ملک میں آپ کسی یونیورسٹی میں چلے جائیں، کسی سرکاری ادارے میں چلے جائیں، لوگوں کی تنخواہوں سے ہر ماہ ہزاروں روپے انکم ٹیکس کی مد میں کٹوتی ہوتی ہے اور یہ باقاعدہ ان کی تنخواہ کے بل میں لکھا ہوتا ہے لیکن ان لوگوں سے آپ پوچھیں کہ آپ کا نیشنل ٹیکس نمبر کیا ہے تو وہ آپ کا منہ دیکھنے لگ جائیں گے کہ ایک اکثریت نے ایف بی آر میں جانے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی اور اپنا این ٹی این نمبر ہی نہیں لیا۔ وجہ پوچھیں تو مختلف بہانے۔۔۔ کسی کے پاس جانے کا وقت نہیں، کوئی اس کو اہم نہیں سمجھتا اور کسی کے خیال میں ایک بار آپ ایف بی آر کے ریڈار پر آ گئے تو ساری عمر پھر آپ بھاگ نہیں سکتے۔ اب ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ یہ جو آپ کی تنخواہوں سے ہر ماہ انکم ٹیکس کی کٹوتی ہوتی ہے یہ سب کہاں جاتا ہے کیونکہ وزیر خزانہ صاحب تو آپ کے سامنے ایف بی آر کی این ٹی این لسٹ لہراتے ہوئے بتا دیں گے کہ پورے ملک میں انکم ٹیکس دینے والے صرف یہ گیارہ لاکھ لوگ ہیں اور ان سے حکومت کو اتنے لاکھ کی آمدنی ہوئی۔ آپ جناب کا انکم ٹیکس کہاں گیا؟ تو وہ صاحب آپ کا منہ دیکھتے رہ جائیں گے اور ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہو گا، اگر ہو گا تو بس چھڈو جی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ صورت حال میں نے اس ملک کے سب سے پڑھنے لکھے طبقے کی بتائی ہے، اس سے اندازہ لگاتے ہوئے آپ اس ملک کے ایک عام اور کم پڑھے لکھے میٹرک پاس کے پاس چلے جائیں تو وہاں اس سے زیادہ درویشی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس ملک کے ساتھ ان جناب کا کچھ خاص لینا دینا نہیں ہے۔

بات بہت سادہ سی ہے کہ اس ملک میں ہر روز کروڑوں لوگ موبائل کارڈز لیتے ہیں اور پہلے موبائل کارڈ پر ٹیکس پھر ہر کال پر چارجز ادا کرتے رہے ہیں۔۔۔ وہ سارا پیسہ کہاں جاتا تھا۔ ملک میں ہر روز ہزاروں لوگ جہازوں سے سفر کرتے ہیں اور ہر ٹکٹ پر ہزاروں روپے کا ٹیکس کٹتا ہے۔۔۔ یہ سارا پیسہ کہاں جاتا ہے۔۔۔ آپ ہوٹلنگ کرتے ہیں یا گاڑی کا ٹوکن بھرتے ہیں۔۔۔ غرض کون سا ایسا کام ہے جس میں آپ اس ملک کو ٹیکس ادا نہیں کرتے لیکن یہ سارا پیسہ کہاں جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ سارا پیسہ آپ کی، صرف اور صرف آپ کی وجہ سے بھاڑ میں جاتا ہے۔ ملک کے لاکھوں کروڑوں لوگ سالانہ اربوں روپیہ ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن سال میں وہ ساری رسیدیں سنبھال کر رکھنے اور ایک بار ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے جھنجٹ سے بچتے ہوئے حکومت کو بے نامی اربوں روپے ادا کر دئیے جاتے ہیں جن کو ہر حکومت اپنی عیاشیوں پر خرچ کرتی ہے کیونکہ اس روپے کا کوئی والی وارث تو ہے نہیں۔ ہم سے سارا سال یہ چھوٹی چھوٹی رسیدیں سنبھالی نہیں جاتی اور ہم پورے سال میں ایک دن ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لیے ضائع نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے پورے سال ہزاروں روپے کا ہمارا دیا ہوا ٹیکس بے نامی اکاونٹ میں حکومت کے پاس چلا جاتا ہے اور جب وزیر خزانہ کاغذات لہراتے ہوئے کہتا ہے کہ اس ملک کے لوگ ٹیکس نہیں دیتے تو اسے جواب دینے کو ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا سوائے سیاسی بکواسیات کے، کیونکہ ہم سے تھوڑی سی زحمت گوارا نہیں ہوتی تھی اور ہزاروں روپے سالانہ ٹیکس دے کر بھی ہم لوگ چور ہی کہلاتے ہیں۔ ان چوروں کی دو بڑی اقسام ہیں۔ ۔ ۔ پڑھے لکھے خوشحال لوگ اور کم پڑھے لکھے غریب لوگ۔

پڑھے لکھے خوشحال لوگوں میں بی اے سے زیادہ پڑھے لوگ شامل ہیں، یہ ملازمت پیشہ بھی ہو سکتے ہیں اور اپنا کاروبار کرنے والے بھی، موٹر سائیکل سے لے کر کسی بھی جدید ماڈل کی گاڑی تک کے مالک بھی ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے اکثریتی لوگ ایف بی آر کے ریڈار سے بھاگ رہے ہوتے ہیں کیونکہ پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے یہ کام چور زیادہ ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کو کوئی توپ سمجھتے ہیں اسی وجہ سے ان کے نخرے بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ یہ لوگ سال میں کم از کم دو درجن سے زیادہ فلمیں دیکھ لیں گے، سالانہ چھٹیوں پر اندرون ملک اور بعض تو بیرون ملک بھی چلے جائیں گے لیکن جب ٹیکس ریٹرن بھرنے کی باری آئے گی تو ان کے پاس وقت نہیں ہو گا کیونکہ مصروف بہت ہیں۔ ان میں سے بہت سے حق حلال پر بالکل یقین نہیں رکھتے اور زندگی میں کسی بھی حرام کھانے کے موقع کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ان کے لاشعور میں یہ بات ہوتی ہے کہ کل کو ہمیں کسی بھی دو نمبری سے جو چند لاکھ ملنے ہیں اگر تو اس سے گھر یا گاڑی لے لی تو وہ بھی اپنے ٹیکس کے کاغذات میں ظاہر کرنی پڑے گی اور اس پر بھی ٹیکس دینا پڑے گا۔ یعنی وہ مال حرام جو شائد کہیں دس بیس سال بعد ان کو ملنا ہے اس کی توقع میں یہ ابھی سے ٹیکس والوں سے نظریں چرائے پھر رہے ہوتے ہیں اور ہر سال ہزاروں روپے کا جائز ٹیکس اپنی حق حلال کی کمائی سے بے نامی ادا کر کے حکومتی عیاشیوں میں معاون اور ملکی قرضوں کی ایک وجہ بنے ہوتے ہیں۔

چوروں کی دوسری قسم کم پڑھے لکھے اور غریب لوگوں کی ہوتی ہے۔ ہر بات پر رونے اور ہر وقت رونے کے ساتھ ساتھ اپنے سے خوشحال لوگوں سے جلن اور حسد ان کی عادت اور فطرت ہوتی ہے۔ ان کی باتیں سنی جائیں تو لگتا ہے کہ ملک بس یہی چلا سکتے تھے لیکن ان کو موقع نہیں ملا اور ان کے دکھڑے سنے جائیں تو لگتا ہے کہ زمین پر ان سے زیادہ دکھی کوئی اور آیا ہے نہ آئے گا۔ ان لوگوں سے عقل اور سمجھداری کی بات کرنا گویا ان کو گالی دینے کے برابر ہوتا ہے۔ آپ کسی بھی بیس بائیس یا تیس ہزار کمانے والے سے پوچھیں کہ بھئی آپ کیوں ایف بی آر میں رجسٹر نہیں ہوتے۔ سال میں ایک بار ریٹرن زیرو بیلنس کے ساتھ جمع کروائیں اور ساتھ ہی حکومت سے مطالبہ بھی کریں کہ کیونکہ مجھ پر کم آمدنی کی وجہ سے ٹیکس لاگو نہیں ہوتا تھا لیکن پھر بھی موبائل کارڈ، ٹکٹ، چالان اور فلاں فلاں مد میں اتنے سو کا ٹیکس میں سالانہ دے چکا ہوں تو اب وہ مجھے یاں تو واپس کیا جائے یا اسے اگلے سال میں ایڈجسٹ کیا جائے۔ ۔ ۔ یہ شخص آپ کو ایسے دیکھے گا جیسے آپ نے اسے ماں بہن کی گالی دے دی ہو یا اس کا گردہ نکال کر بیچ دیا ہو۔ ایسے لوگوں کا ایک اور مسئلہ وہ خواب بھی ہوتا ہے کہ کل کلاں کو میں امیر ہو گیا تو پھر اتنا ٹیکس میں کیسے اور کیوں دوں گا۔ بندہ پوچھے کہ چھے پشت سے تو تمہارے گھر کے فاقے ختم نہیں ہوئے، اب کون سا الہ دین کا چراغ تمہارے ہاتھ لگے گا کہ تم امیر اور وہ بھی اتنے کہ قابل ٹیکس آمدنی والے ہو جاو گے۔ نہ وہ اپنے خواب سے باہر آتے ہیں اور نہ ہی ٹیکس ریٹرن بھرتے ہیں۔

یقین مانیں زندگی اتنی مشکل نہیں تھی جتنی ہم نے بنائی ہوئی ہے۔ ایف بی آر اور ٹیکس کے گوشوارے ہماری روز مرہ کی زندگیوں سے زیادہ مشکل نہیں ہیں لیکن کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اپنے دفتر میں آنے والوں سے ہم کتنا اچھا اور خلوص بھرا سلوک کرتے ہیں، اسی ڈر میں ہم کسی اور کے دفتر نہیں جاتے۔ ہم عوام کی تن آسانیوں کی وجہ سے ہر سال اربوں روپے حکومت کو بے نامی ملتے ہیں اور ہر وزیر خزانہ ہمیں ہی الٹا چور قرار دئیے ہوتا ہے۔ اگر آج ہر پاکستانی اپنی ٹیکس ریٹرن فائل کر دے تویقین مانیں حکومت کو جواب دہی مشکل ہو جائے۔ حکومت کا احتساب بھی ممکن ہو سکے گا اور خالی خزانے کے وزیر خزانہ کے بیانات سے بھی جان چھڑائی جا سکے گی لیکن کوئی کیوں ایسا کرئے گا۔ ہم تن آسان لوگ ہیں، ہم چور اچکے لوگ ہیں۔ سبھی کسی نہ کسی داو میں بیٹھے ہوئے ہیں، یہ نہ سمجھتے ہوئے کہ ہماری ان معصوم چلاکیوں کی وجہ سے ہمارے سیاست دان ہم پر کس قدر بڑے داو لگائے بیٹھے ہیں۔ ہم سب چور اچکے ہیں اور اسی وجہ سے ٹیکس کے معاملے پر عوام نے کبھی کسی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا اور نہ ہی ایسا آئیندہ ہونا ممکن ہے۔ حکومت ہم سے سالانہ اربوں روپیہ کما رہی ہے، ہمیں ہی الٹا چور اچکا قرار دیا ہو ہے اور ہم چور اچکے اپنے داو کے لطف میں کوئی شکوہ کئے بنا مسلسل ذلیل ہوئے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:
کیا ودہولڈنگ ٹیکس ہمیں دیوالیہ ہونے سے بچا سکے گا؟ نعمان علی خان 
ٹیکس ریٹرن فائلر اور نان فائلر کا اشو —— لالہ صحرائی
(Visited 239 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: