سائنس پرست دیوتا کا نیا ایجنڈا ۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر ابراہیم

0
  • 87
    Shares

’’لامحدود مسرت اور لافانی زندگی کی جستجو میں انسان زمین پر خدا بننے کی تگ و دو کر رہا ہے، محض اس لیے نہیں کہ یہ لافانی صفات ہیں، بلکہ یہ بڑھاپے کے عذاب اور موت کی شکست کے لیے لازم ہے، کہ انسان اپنے حیاتیاتی وجود کا مالک کل بن جائے۔ انسان کی یہ کامل خود مختاری تین واضح طریقوں سے اپ گریڈ کی جا سکے گی: بائیولوجیکل انجینئرنگ، سائبورگ انجینئرنگ اور نان آرگینک انجینئرنگ۔

چار ارب سالوں سے فطرت کا انتخاب ہمارے اجسام میں ارتقائی تبدیلیاں لا رہا ہے، ہم امیبا سے رینگنے والے جانوروں تک اور اب انسانوں تک پہنچے ہیں۔ لہٰذا یہ باور کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ بات انسان پر ختم ہو جائے۔ کون جانتا ہے کہ ڈی این اے، ہارمون سسٹم اور دماغ کے سانچے میں تبدیلیوں کا کیا نتیجہ نکلے؟ بائیو انجینئرنگ اب صبر کے ساتھ فطرت کے چناؤ کا انتظار نہیں کر سکتی۔ بائیو انجینئرز انسانی جینیاتی کوڈ کو از سر نو لکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انسانی دماغ کی از سر نو وائرنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ جس کے بعد انسان قدیم خداؤں کی ضرورت ختم کر دے گا اور زمین کا خدا بن جائے گا اور پھر وہ مزید انسان نہیں رہے گا۔
‘‘(Homo Deus a history of tomorrow by Yuval Noah Harari Chapter: The gods of planet earth)

آنے والی ممکنہ تاریخ میں سائنس پرست انسان کا (مبینہ) نیا ایجنڈا کیا ہے؟ آج کل کے اسرائیلی ’فرانسس فوکو یاما‘ ماہر تاریخ نوح ہراری نے مغربی دانش کی تخیلاتی منظر کشی کر دی ہے۔ وہ دیگر ماہرین حیاتیات اور سائنس پرستوں کی جانب سے چیدہ چیدہ تاثرات بھی سامنے لائے ہیں، مائیکرو سوفٹ بانی بل گیٹس نے بھی تعریفی تبصرے کیے ہیں۔ پروفیسر ہراری نے ہومو دئیوس میں جس طرح سب کے خیالات کو جرات اظہار عطا کیا ہے، وہ کہیں اور ملنا فی الحال محال ہے۔ ٹائمز، گارڈین، ڈیلی ٹیلیگراف، فنانشل ٹائمز غرض سرمایہ دار دنیا پروفیسر ہراری کی ’ذہانت‘ اور ’منطقیت‘ پر رطب اللسان ہیں۔ کیونکہ ان کا انداز نہ لاگ لپٹ والا ہے اور نہ ہی ایچ پیچ نظر آتی ہے، احتیاط کا دامن بھی ’کچھ نیا چونکا دینے والا‘ کی خواہش سے تار تار ہوا جاتا ہے۔ بات صرف زمین پر خدائی کی خواہش کی نہیں، بلکہ یقین کی ہے اور اس یقین کی بنیاد پر اٹھائی جانے والی حاکمیت کل کی ہے، جو انسان دیوتا کی ہو گی۔

The last days of Death کے باب میں وہ کہتے ہیں کہ

’’اکیسویں صدی میں انسان انتہائی سنجیدگی سے لافانی زندگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ قحط سالی اور بیماریوں کی شکست اور بڑھاپے کے خلاف جنگ عصر حاضر کی اہم ترین قدر کو واضح کر رہی ہے۔ یہ قدر انسانی زندگی کی ہے۔ ہمیں یہ یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ انسانی زندگی کائنات کی مقدس ترین شے ہے۔ ہر ایک یہی کہہ رہا ہے: اساتذہ اسکولوں میں، سیاستدان پارلیمانوں میں، قانون دان عدالتوں میں اور فنکار تھیٹرز میں۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کا چارٹر، جسے عالمی آئین کہا جا سکتا ہے، کہتا ہے کہ ’جینے کا حق‘ انسانیت کی بنیادی قدر ہے۔ جبکہ موت اس حق کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ موت انسانیت کے خلاف بہت بڑا جرم ہے اور ہمیں اس کے خلاف بھر پور جنگ لڑنی ہو گی۔‘‘

انہوں نے اپنی اس خواہش کو دلیل فراہم کرنے کے لیے سیلیکون ویلے کے اہم ناموں (جیسے پے پال کے شریک بانی Peter Thiel وغیرہ) کا حوالہ دیا ہے، جو ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔

لامحدود مسرت کے باب میں وہ کہتے ہیں کہ دوسری اہم ترین شے انسان کی ’خوشی‘ ہے۔ جیسا کہ اب دنیا بھر کے دانشور اور ماہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ جی ڈی پی کی جگہ جی ڈی ایچ کو ترقی کا پیمانہ قرار دیا جائے، یعنی gross domestic happiness۔ سروے بتا رہے ہیں کہ مسرت مادی اشیاکا حاصل نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ کوسٹاریکا کے لوگ سنگاپوری شہریوں سے زیادہ پرمسرت زندگی گزار رہے ہیں۔ حد سے زیادہ مادی سہولیات غم کا سبب بنتی ہیں۔ جاپانیوں کی مثال لیجئے، جنہوں نے سن پچاس سے تیز ترین ترقی کی، مگر وہ آج اتنے ہی مطمئن یا غیر مطمئن ہیں جتنے سن پچاس میں تھے۔ خوشی کی اس ’غیر مادی‘ تعریف کے بعد پروفیسر ہراری اطمینان نفس کا کیا ہی خوب ’نسخہ کیمیا‘ پیش کرتے ہیں۔

’’اگر سائنس اس معاملہ میں حق بجانب ہے کہ ہماری مسرت کا تعین بائیو کیمیکل نظام کرتا ہے، تب کامل نفس اطمینان کا واحد طریقہ اس نظام میں دھاندلی ہے۔ بھول جائیں معاشی پیداوار کو، معاشرتی اصلاحات کو اور سیاسی انقلابات کو۔ عالمی نفس اطمینان کی شرح میں اضافہ کے لیے فقط بائیو کیمسٹری کی ضرورت ہو گی اور یہ کام ہم کئی دہائیوں سے شروع کر چکے ہیں، لوگ بڑے پیمانے پر روزانہ کی بنیاد پر نفسیاتی بیماریوں کے لیے سکون بخش دوائیں لے رہے ہیں، شدید ذہنی تناؤ سے بچاؤ کر رہے ہیں۔ بارہ فیصد امریکی فوجی عراق میں اور سترہ فیصد افغانستان میں ذہنی اور اعصابی تناؤ سے بچاؤ کی دوائیں استعمال کرتے رہے ہیں۔ مزید کوششوں سے مزید مطمئن اور اہل افواج تیار کی جا سکتی ہیں‘‘۔

سو یہ ہیں وہ مؤرخ اور مستقبل بیں، جن کی دانش پر سائنس پرست مغرب واہ واہ کر رہا ہے۔ لافانی زندگی اور مسرت کامل کے نسخہ جات کے جائزہ سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش ہمیشہ سے انسانی سرشت میں موجود رہی ہے: اس کے جائز اور ناجائز دونوں پہلو ہیں، جنت میں ہمیشگی کی آرزو انسانی فطرت میں ودیعت ہے اوریہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کی زندگی کو فطری طور پر نامکمل محسوس کرتا ہے اور اس کا ایسا محسوس کرنا دین کا تقاضا بھی ہے۔ جبکہ یہی فطری احساس دنیا کی مختصر زندگی میں اس وقت سوہان روح بن جاتا ہے جب آخرت کی زندگی کا کوئی تصور نہ ہو، یا کفر کے سبب بداعمالیوں سے وجود بوجھل ہو، یا لایعنیت سے مایوسی ہو، یا ہوس کا ختم نہ ہونے والا اذیت ناک سلسلہ ہو۔ قرآن حکیم عذاب زدہ اقوام کے باب میں دونوں خواہشات اور نفسیات کا متواتر ذکر کرتا ہے۔ جن قوموں نے اللہ کا انکار کیا، وہ زندگی کی حریص، موت سے خوفزدہ اور مادی آسائشوں میں مگن رہیں۔

رب العزت فرماتا ہے

’’اپنے ہاتھوں جو کچھ کما کر انہوں (بنی اسرائیل) نے وہاں بھیجا ہے، اس کا اقتضاء یہی ہے کہ یہ وہاں جانے کی تمنا نہ کریں، اللہ ان ظالموں کے حال سے خوب واقف ہے۔ تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤ گے حتیٰ کہ یہ اس معاملہ میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیے، حالانکہ لمبی عمر بہر حال اسے عذاب سے دور تو نہیں پھینک سکتی۔ جیسے کچھ یہ اعمال کر رہے ہیں، اللہ تو انہیں دیکھ ہی رہا ہے۔‘‘ (سورہ بقرہ 95-96)

پروفیسر ہراری صاحب کی تواریخ Sapiens اور Homo Deus ،دونوں کا مطالعہ پہلا تاثر یہ قائم کرتا ہے کہ مخاطب صرف سرمایہ دار طبقہ ہے اور وہ بھی وہ ایک فیصد، جس کے پاس پوری دنیا کی مجموئی کمائی سے زیادہ دولت ہے۔ کہیں کہیں مؤرخ صاحب اٹھارہ بیس فیصد صاحب حیثیت دنیا پر بھی نظر کرم فرما دیتے ہیں۔ رہ گئی غریب دنیا، تو وہ یہاں کوئی معنی نہیں رکھتی، مثال یا موازنہ وغیرہ کیلئے خال خال ذکر آ جاتا ہے۔ پہلے اقتباس میں انسان کی ابدی حیات اور لامحدود مسرت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے لیے جینیاتی انجینئرنگ کے کمالات پر کمال اعتماد ظاہر کیا گیا ہے۔ ان خواہشات کی دو بنیادیں ہیں، خالق کائنات کا انکار اور نظریہ ارتقا پر ایمان۔ یہاں انکار بھی بے بنیاد ہے اور ایمان بھی بے ایمان ہے۔ کیونکہ سائنس پرست نہ ہی خالق کائنات کا عدم وجود ثابت کر سکے ہیں اور نہ ارتقا کی کوئی مربوط ماہیت یا صورت ہی سامنے لا سکے ہیں۔ لاکھوں سال قدیم اجسام کی باقیات میں مماثلتیں اتنی ہی نا مکمل اور ناقابل اتصال ہیں، جتنی کہ انسان اور دیگر زندہ مخلوقات میں آج بھی ہیں۔ جاندار وںمیں انسان سے کہیں نہ کہیں مشابہت پائی جاتی ہے، جو واحد خالق و مصور کی جانب اشارہ کرتی ہے، نہ کہ ایک دوسرے کی تشکیل و تکمیل کی دلیل بنتی ہے۔ اگر ارتقا کا سلسلہ مان لیا جائے، تو سارے سلسلے کے جانداروں کا بہ یک وقت زندہ وجود کیسے مانا جائے؟ امیبا بھی موجود ہے۔ رینگے والے جانور بھی زندہ ہیں۔ بندر یاچمپینزی آج بھی تواتر سے پائے جاتے ہیں، اور بالکل بھی انسان بننے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ اگر بائیو انجینئرز فطرت کے چناؤ کا انتظار نہیں کر سکتے، توبندروں کو ہی انسان بنا دیں اور انسانوں کوبندر بنا دیں، اس طرح کم از کم دنیا کو کچھ بہتر انسان میسر ہی آ جائیں گے۔ مختصر یہ کہ جب کسی انسان سے کہا جائے کہ ’بابو صاحب، آپ رشتے میں Baboon کے پڑپوتے ہوتے ہیں‘، تو وہ یقیناً جواب میں یہی کہے گا کہ ’آپ کے پردادا ہوں گے بندر! ہم تو فلاں سلسلے سے ہیں‘۔ یقیناً انسان کی طبیعت ہوش و حواس میں نظریہ ارتقا قبول نہیں کر سکتی۔ مگر یہ نظریہ ان لوگوں کیلئے واحد راہ فرار ہے، جو خواہشات نفس میں مدہوش رہنا چاہتے ہیں اور کسی عمل پر جوابدہ ہونا نہیں چاہتے، جو انسانی تہذیب کے ضابطوں کا پابند ہونا نہیں چاہتے اور فطرت کا اندھا چناؤ انہیں ان سب کرتوتوں کی اجازت دیتا ہے۔

سائنس پرست اہل مذہب کو دیو مالائیت کا طعنہ دیتے ہیں، جبکہ خود انہیں دیو مالائیت میں ملکہ حاصل ہے۔ اپنے ہی مقرر کرہ تجربی معیار پر جدید سائنس کائنات کا صفر اعشاریہ صفر ایک فیصد بھی نہیں جانتی، مگر زمین کے طبعی اصولوں پر تخلیق کائنات کی تشریح فرماتی ہے، اسے کہتے ہیں سائنس پر ایمان بالغیب

خواہشات نفس کے پجاریوں کا گزارہ اندھی، بہری اور گونگی فطرت پر ہی ہے۔ بالفرض، اگر بائیوٹیک اور بائیو کیمیکل سائنس اتنی ترقی یافتہ ہو چکی ہے، تو پھر یہ سوال بنتے ہیں، کہ اب تک کتنے فیصد ذہنی معذور افراد معمول کی زندگی میں واپس لائے جا چکے ہیں؟ کتنے فیصد نفسیاتی مریض خود کشی کے خیال سے توبہ کر چکے ہیں؟ کتنے پاگل خانے بند ہو چکے ہیں؟ کچھ نہیں ہوا! بس تباہ کن طاقت اور فرعونیت سر پر سوار ہے۔ چلیے مان لیتے ہیں کہ آپ موت کوشکست دے دیں گے! پھر کیا ہو گا؟ اتنے سارے انسان آپ کہاں رکھیں گے؟ ماہر فلکیات اسٹیفن ہاکنگ کی خواہش تو تھی کہ کچھ اور سیارے کالونیاں بنا لیے جائیں، تا کہ عالمی اشرافیہ وہاں سیٹل ہو جائے۔ لیکن اگر کسی سیارے پر سکونت سے پہلے ہی انسانی خداؤں کی آبادی دس بیس کھرب ہو گئی تو پھر کیا کریں گے؟ ظاہر ہے، ہٹلراور صہیونیوں کی طرح قتل وغارت کا طوفان ہو گا اور الامان الحفیط ہو گا۔ خدا کا شکربے شمار کہ اس نے موت کو زندگی کا محافظ بنایا ورنہ تو موت کی نہ جانے کیسی کیسی ہولناک صورتیں پیدا ہو جاتیں، زندگی کی کیسی کیسی آزمائشیں سر اٹھاتیں۔ زمین پر انسان کی زندگی زمین جیسی ہی ہوسکتی ہے، زمین پرکسی شے کو ہمیشگی حاصل نہیں۔ انسان تو چھوڑئیے، پروفیسر ہراری صاحب آپ کسی بھی ارضی شے کو خاک یا راکھ ہونے سے نہیں روک سکتے۔

سائنس پرست اہل مذہب کو دیو مالائیت کا طعنہ دیتے ہیں، جبکہ خود انہیں دیو مالائیت میں ملکہ حاصل ہے۔ اپنے ہی مقرر کرہ تجربی معیار پر جدید سائنس کائنات کا صفر اعشاریہ صفر ایک فیصد بھی نہیں جانتی، مگر زمین کے طبعی اصولوں پر تخلیق کائنات کی تشریح فرماتی ہے، اسے کہتے ہیں سائنس پر ایمان بالغیب۔ سائنس پرست کہتے ہیں کائنات اتفاقی حادثہ سے وجود میں آ گئی۔ جبکہ تجربی اصول ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی انتظام اتفاقی حادثہ سے ممکن ہی نہیں۔ سائنس دعویٰ کرتی ہے کہ کائنات فطرت کے قوانین پر چل رہی ہے۔ جبکہ تجربی اصول واضح کرتا ہے کہ کوئی قانون از خود تشکیل نہیں پا سکتا۔ پانچ سو سال سے یہ تماشا لگا ہے، کہ سائنس اور فلسفہ ہر دس بیس سال بعد گزشتہ نظریہ ترک کر کے نئے نظریے کی حقانیت پر دلائل کی بودی عمارت اٹھاتے ہیں اور اسے ’نئے خیالات‘ کا عنوان دے کر جدت جاہلیہ سے نوازتے ہیں اور مذہب کے ابدی اصول انہیں ’پرانے خیالات‘ لگتے ہیں۔ مغرب کے پاس زندگی کے جتنے سنہرے اصول ہیں سب وحی الٰہی کی دین ہیں اور جتنے ناقص اور ناکافی اصول ہیں سب فلسفے اور سائنس کی حشر سامانیاں ہیں۔ جیسا کہ خوشی کہ باب میں پروفیسر ہراری نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ مادی آسائشوں کی فراوانی نے انسانی زندگی میں اطمینان کی کوئی لہر نہیں دوڑائی۔ انسانی مصائب وآلام کی شرح آج بھی ہمیشہ جیسی ہی ہے۔

جاپان کی بے مثال مثال اقتباس میں بیان ہو چکی ہے۔ یہاں معروف نیویار کربلاگر اور دانشور مارک میسن کے چند جملے جچتے ہیں کہ

’’زندگی آزمائشوں کی آماجگاہ ہے۔ مالدار مال کی آزمائش میں ہے۔ غریب غربت کی آزمائش میں ہے۔ لوگ خاندانی زندگی سے محرومی کی آزمائش میں ہیں۔ لوگ اہل وعیال کی آزمائش میں ہیں۔ لوگ دنیاوی آسائشوں کی آزمائش میں ہیں۔ لوگ تارک الدنیا ہونے کی آزمائش میں بھی ہیں۔ ہم سب آزمائش میں ہیں۔ فرق محض آزمائشوں کے مناسب یا نامناسب ردعمل میں ہے۔‘‘

(Happiness is a problem) کیسا المیہ ہے کہ جدید دنیا کے لوگ کتنی اذیتوں سے گزر کر اس سچائی تک پہنچ رہے ہیں، جو چودہ صدیوں سے انہیں نجات کی دعوت دے رہی ہے کہ دنیا کی زندگی محض آزمائش ہے، ’’عصر کی قسم، انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ پر ایمان لائے، نیک اعمال کرتے رہے، حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے‘‘ (سورہ العصر)۔

بلا شبہ دنیا العلم القرآن کی شدید ضرورت مند ہے۔ پروفیسر ہراری نے مسرت اور نفس اطمینان کا حل ’نئی بوتل میں پرانی شراب بھر کر‘ پیش کر دیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ مسرت و اطمینان کے بائیو کیمیکل حل کو غیر مادی قرار دے رہے ہیں، یہ گویا ایسا ہے جیسے ’مذہب کی افیون‘ کی جگہ ’مادہ پرستی کی افیون‘ متعارف کروائی جا رہی ہو۔ مثالیں بھی کمال کی پیش کر رہے ہیں: نفسیاتی مریض اور امریکی فوجی۔ ان دونوں اقسام پرسکون بخش دواؤں کے اثرات انسانی المیوں کا ایک بھرپور مغربی ورژن ہے۔ اس کی تفصیل یہاں ممکن نہیں۔ خود کشی کے اعداد و شمار اور پوسٹ ٹراما اسٹریس ڈس آرڈر PTSD کی عبرتناک داستانیں بھری پڑی ہیں۔ یہ افیون زدہ دماغوں کی روحانی خلش ہے، جسے بائیو کیمسٹری نہیں سمجھ سکتی۔ سائنس پرستوں کی جدید جہالت نے ہمیشہ کی زندگی کے خواب کی فقط صورت بدل دی ہے اور شراب کہ جگہ نشہ آور دوائیں تھما دی ہیں۔

ابوالاعلٰی مودودی اپنی کتاب ’تنقیحات‘ میں سائنس پرست نفسیات کی گتھی یوں سلجھاتے ہیں،

’’وہ (اہل مغرب) الحاد اور مادیت کے نقطہ سے چلے۔ انہوں نے کائنات کو اس نظر سے دیکھا کہ اس کاکوئی خدا نہیں ہے۔ آفاق اور انفس میں یہ سمجھ کر نظر کی کہ حقیقت جو کچھ بھی ہے مشاہدات اور محسوسات کی ہے اور اس ظاہری پردے کے پیچھے کچھ بھی نہیں۔ تجربہ اور قیاس سے انہوں نے قانون فطرت کو جانا اور سمجھا، مگر اس کے فاطر تک نہ پہنچ سکے۔ انہوں نے موجودات کو مسخر پایا اور ان سے کام لینا شروع کیا مگر اس تخیل سے ان کے ذہن خالی تھے کہ وہ بالاصل ان اشیاء کے مالک اور حاکم نہیں ہیں بلکہ اصلی مالک کے خلیفہ ہیں۔ اس جہالت و غفلت نے انہیں ذمے داری اور جوابدہی کے بنیادی تصور سے بیگانہ کر دیا اور اس کی وجہ سے ان کی تہذیب اور ان کے تمدن کی اساس ہی غلط ہو گئی۔ وہ خدا کوچھوڑ کر خودی کے پرستار بن گئے اور خودی نے خدا بن کر انہیں فتنے میں ڈال دیا۔ اب یہ اسی جھوٹے خدا کی بندگی ہے جو فکر و عمل کے ہر میدان میں ان کو ایسے راستوں پر لیے جا رہی ہے جن کی درمیانی منزلیں تو نہایت خوش آئند اور نظر فریب ہیں مگر آخری منزل بجز ہلاکت کے کوئی اور نہیں۔‘‘

یہی حقیقت ہے کہ انسانی آنکھ اور حس حق وسچ کا حتمی معیار نہیں۔ ہبل ٹیلیی اسکوپ کا وجود اس بات کا ثبوت ہے، کہ انسانی ننظر کی حد نظریہ حیات و کائنات کی حدود کا تعین نہیں کر سکتی۔ زمین پر خدائی کے دعوے بہت ہوئے اور پھر زمین پر ہی خاک ہو گئے۔ آفاق کی پہچان آفاقی نظر ہی سے ممکن ہے اور اس کیلئے آفاقی نظر عنایت ہی درکار ہے، جو اہل نظر پر ہی ہوا کرتی ہے۔

جو جدید مغربی سائنس کا بیانیہ ہے، کچھ یہی بیانیہ ہزاروں سال پہلے مصر کے آل فراعنہ کا تھا، وہ جب طاقت کی بلندی پر پہنچے تھے، خدائی کے دعوے کرنے لگے تھے۔ حضرت موسٰی علیہ سلام کی دعوت پر فرعون نے عین وہی بات کی تھی، جو آج کی سائنس پرستی کہتی ہے، کہ بناؤ کوئی اونچی عمارت کہ ہم بھی دیکھیں کہاں ہے موسٰی کا خدا؟ ہم تو اپنے سوا کسی کو خدا نہیں دیکھتے! کیا یہی دعوے آج سائنس پرست نہیں کرتے کہ ہم نے کائنات کی سیر کر لی، ہمیں کہیں خدا نہ ملا اور ہم ہی اس دنیا کہ مالک و مختار ہیں۔ ان پھسپھسے دعوئوں کے ساتھ فرعون غرقاب ہوا اور سائنس پرستوں کا انسان دیوتا بھی خس و خاشاک ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیئے: جدید فزکس الحاد کو کیوں رد کرتی ہے؟ سکاٹ ینگرن کی تحقیق: اسامہ مشتاق

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: