مولوی نذیر احمدؔ اور برطانوی نظام ——— امتیاز عبدالقادر

1
  • 1
    Share

مولوی نذیر احمدؔ (۹۱۲؁ ۱۔ ۱۸۳۱؁ء) نو آبادیاتی صورت حال کے ایسے دور میں جہاں ہندوستانی اہلِ فکر و نظر میں برطانوی سامراج کے خلاف بیداری پیدا ہو رہی تھی اور وہ کسی نہ کسی شکل میں اپنے احتجاج کا اظہار کر رہے تھے۔ نذیر احمد جیسے دانشور اس احتجاج کی مخالفت اور برطانوی حکومت کی پرزور حمایت پر کمربستہ نظر آتے ہیں۔ وہ برطانوی حکومت کو ہندوستان کے لئے سودمند خیال کرتے تھے۔ انھوں نے اس حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کے باغیانہ فکر و عمل کی مذمت کی اور اپنی کتاب ’الحقوق و الفرائض‘ میں اطاعت ’’ممانعت غدر و نقص عہد‘‘ اور ’’بغاوت و فساد کی ممانعت‘‘ جیسے موضوعات پر قرآن کی متعدد آیتیں اور احادیت پیش کیں۔ لیکن گاہ بہ گاہ انھوں نے سامراجی حکومت کے ہاتھوں ہندوستانی عوام کے استحصال کو ہدفِ تنقید بھی بنایا اور اس کی نو آبادیاتی معاشی پالیسی پر نکتہ چینی بھی کی۔ سر سیّد اور حالیؔ کی طرح نذیر احمدؔ بھی برطانوی حکومت کی اصلاحی اور ترقیاتی اقدام کی تعریف کرتے تھے۔ انھوں نے اس حکومت کا کردار ہندوستان کے تئیں مائل بہ ترقی قرار دیا:

’’غدر کے پہلے کے زمانے کو اس وقت (۵ اکتوبر ۱۸۸۸ء؁ ) سے مقابلہ کرو تو ظلمت و نور کا فرق پاؤ گے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ یہ ریل، یہ تار برقی، یہ سرشتۂ تعلیم، یہ منی آرڈر، یہ پوسٹ کارڈ، یہ سڑکیں، یہ صفائی، یہ نہر، یہ سفر بحری و بری کی آسانیاں، یہ پولیس، یہ اخباروں کی آزادی، یہ ہندوستانی والیان ملک کے اختیارات تبنیت، یہ نمائشیں، یہ معدلتِ گستری کے قوانین اور ضابطے….. غرض یہ سارے انتظام کس نے سوچے؟ کس نے نکالے؟ ….. جنہوں نے اتنا کچھ کیا ہے، بہت کچھ کر سکتے ہیں‘‘۔ (لیکچروں کا مجموعہ، جلد اول۔ ص ۳۴۵)

برطانوی حکومت کے یہ وہ ترقیاتی اقدام تھے جن سے نذیر احمدؔ بے حد متاثر نظر آتے تھے کیونکہ ان کو پورا یقین تھا کہ ان اقدام سے ہندوستانی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ علاوہ ازیں مولوی نذیر احمدؔ کے ہاں بار بار یہ تاثر ملتا ہے کہ برطانوی حکومت میں امن قائم ہو گیا ہے۔ اس حکومت کو وہ آسائش اور آزادی کے اعتبار سے خدا کی رحمت قرار دیتے ہیں اور کہا ہے کہ ’’ہم اپنی عملداری میں بھی ایسے فارغ البال نہیں رہے جیسے اب ہیں۔ پنجاب میں ابھی تک ایسے لوگ موجود ہیں جو پچھلی عملداری کی بدنظمیوں کا علم ذاتی رکھتے ہیں۔ سکھا شاہی حکومت کی کیا خصوصیت ہے۔ سارے ہندوستان میں بد انتظامی کی آگ لگی ہوئی تھی اور اگر انگریز نہ آتے تو ہم کبھی کے آپس میں کٹ مرے ہوتے‘‘۔

مولوی نذیر احمدؔ کے مطابق حاکموں کی جبری اطاعت اس لئے کی جاتی ہے کہ ان کے پاس فوج، پولیس، خزانہ اور قیدخانہ وغیرہ ہوتے ہیں لیکن مسلمانوں کو بھی خدا اور رسول ؐ نے بڑی تاکید کے ساتھ اطاعتِ حاکم کا حکم دیا ہے، پس اگر ہم مسلمان حاکم وقت یعنی انگریزوں کی سچی اطاعت نہ کریں تو دنیا کے علاوہ اپنا دین بھی کھو بیٹھیں۔

اس سلسلے میں انھوں نے قرآن کی آیت پیش کی، جس میں اللہ فرماتا ہے:

’’یاایھا الّذین اٰمنوا اطیعواللّٰہ واطیعوالرسول واٗولی الامر مِنکُم‘‘۔ ۔ ۔ (النساء :۵۹)

ترجمہ :۔ ’’اے ایمان والو! اللہ کاحکم مانو اور رسول ؐ کاحکم مانو اورجو اولوالامر ہو، ان کا بھی‘‘۔

اس آیت کی تاویل کرتے ہوئے مولوی نذیراحمد نے کہا کہ:

’’انگریزوں کے اولوالامر ہونے میں کچھ کلام ہی نہیں۔ کلام اگر ہے تو’مِنکُم‘ میں ہے کہ سیاق و سباق کی رو سے آپ کے مخاطب مسلمان ہیں تو ’مِنکُم‘ نے حاکم کو خاص کر دیا کہ وہ بھی مسلمان ہوں‘‘۔ (الحقوق و الفرائض، جلد دوم۔ ص ۱۲۹)

لیکن انگریزی عملداری کی برکتوں اور آسائشوں کے پیش نظر مسلمانوں پر حکومت برطانیہ کی اطاعت کو واجب قرار دینا نذیر احمدؔ کا مقصد تھا، اس لئے انھوں نے کہا کہ جب فقہ کی تدوین خلفاء کے عہد میں ہوئی تب غیر مذہب کے حاکم کی اطاعت جیسی صورتحال پیش نہیں آئی تھی، اس لئے مسلمانوں کی مذہبی کتابوں میں قرآن سے لے کر فقہی کتابوں تک ہم مسلمانانِ ہند کے مناسب حال اطاعتِ حکام وقت کے بارے میں احکام نہیں پائے جانے‘‘۔ لیکن جب اسلامی حکومت کا زوال ہونے لگا اور اس پر غیر مذہب والوں کا قبضہ ہونے لگا تو مسلمان اس مسٔلے سے دوچار ہوئے اور اس پر غور و خوض کرنے لگے۔ کچھ لوگوں نے قرآن کی اس آیت سے سند پکڑی اور اسی ’مِنکُم‘ نے اسے رد کر دیا کسی نے اپنے تئیں مست امن بنایا۔ اسی طرح جب نذیر احمد ؔ نے ہندوستانی صورت حال میں مسلمانوں کی حالت پر غور کیا تو انھیں اس راستہ کا چھوڑ دینا ہی مناسب معلوم ہوا اور ’ایفائے عہد‘ اور ’نھی عن الفساد فی الارض‘ کی بنیاد پر انہوں نے حاکم وقت (برطانیہ ) کی اطاعت کو ضروری قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں:

’’جب خد ا نے انگریزوں کو ملک پر مسلط کر دیا اور ہم نے رعایا بن کر ان کے ملک میں رہنا اختیار کیا تو اس کے یہی معنی ہے کہ ہم میں اور انگریزوں میں سے ایک طرح کا معاہدہ ہو گیا کہ انگریز حاکم ہونے کی حیثیت سے ہمارے حقوق کی حفاظت کرے اور ہم رعایا ہونے کی حیثیت سے ان کی اطاعت‘‘۔

انھوں نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ:

’’ہمارے لیے انگریزی قانون ہی اسلامی شریعت ہے اور ایسا نہ ہو تو ہندوستان دارالحرب قرار پا کر ہر مسلمان پر ترک وطن یعنی ہجرت فرض ہو جائے اور علماء اسلام میں سے شیعہ ہوں یا سنی، مقلد ہوں یا غیر مقلد، صوفی ہوں یا اہلحدیث کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔ علاوہ ازیں احکام شریعت سے مقصود ِ اصل ہے اقامت دین اور وہ قانونِ انگریزی سے بھی حاصل ہے، صرف تدابیر کا فرق ہے۔ ایک قاتل کو قتل کرتا ہے، ایک پھانسی دیتا ہے۔ ایک چور کا ہاتھ کاٹنا ہے، ایک قید اور بید اور جرمانے سے سزا دیتا ہے اور  بڑی بات تو یہ ہے کہ رعایا ہونے کی حالت میں قانون انگریزی کی اطاعت ایک امر اضطراری ہے اور ’لایکلف اللّٰہ نفساً اِلّا وُسعھا‘ کی رو سے خدا نے ہماری مجبوریوں پر نظر کر کے ہمارے حق میں توسیع کر دی ہے‘‘۔ (ایضاً۔ ص ۱۳۱)

اس طرح مولوی نذیر احمدؔ نے بزعم خود قرآن کی آیتوں اور حدیثوں کی روشنی میں مسلمانوں پر ثابت کیا کہ برطانوی حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کا احتجاج کرنا اسلام کے خلاف ہے اور اس کی اطاعت کرنا ان پرفرض ہے۔ نذیر احمد ؔ کے نزدیک برطانوی عہد میں امن و امان اور ترقی و جدید کاری اس حکومت کی حمایت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ترقیاتی اقدام سے تو صرف نظر نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کے ساتھ ہی برطانوی حکومت کے سامراجی مقاصد اور عزائم پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت تھی، حالانکہ مولوی نذیر احمدؔ برطانوی حکومت کے ان اقدام میں پوشیدہ اس کے مقاصد اور عزائم کے بارے میں قوم پرستوں کے اعتراضات سے واقف تھے لیکن وہ ان کو اعتراضات برائے اعتراضات ہی خیال کرتے اور حکومت کے ان اقدام کو مبنی بر خلوص تصور کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ہندوستان میں اس سے بہتر حکومت کا تصو رممکن نہیں تھا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان قوم اور اردو زبان پر مولوی نذیر احمدؔ کے احسانات ناقابل فراموش ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے لئے بڑے پرجوش لکچر دیے، خرابی صحت کے باوجود سر سیدؔ کے ساتھ لمبے لمبے سفر کیے اور علی گڑھ تحریک کو تقویت پہنچائی۔ ان کی علمی کوششوں کا مرکزی نقطہ قرآن پاک کی تعلیم تھی۔ چنانچہ انھوں نے قرآن پاک کے ترجمہ کے علاوہ ادعیہ القرآن، مطالب القرآن، اجتہاد، الحقوق و الفرائض وغیرہ کتابیں لکھیں، جو علمی و مذہبی حلقوں میں کافی مقبول ہوئیں۔ اصلاح معاشرت کے خیال سے بعض افسانے…. مراۃ العروس، بنات النعش، توبۃ النصوح، ابن الوقت اور چند کتابیں محصنات، ایامئی، رویائے صادقہ لکھیں، بعض قانونی کتابوں کا بھی ترجمہ کیا۔ تعزیرات ہند کے نام سے انڈین پینل کوڈ کو اردو میں منتقل کیا لیکن اردو ادب میں جس چیز نے انھیں زندۂ جاوید کر دیا وہ ان کے ناول ہیں۔ مولوی نذیر احمدؔ اپنے زمانے کے صف اول کے عربی، فارسی اور اردو کے عالم تھے۔ تاریخ اردو ادب میں ان کا مقام بلند ہے اور ان کی خدمات نا قابل فراموش۔

(Visited 23 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. syed basharat geelani on

    بہت عمدہ۔ رب العزت سلامت رکھے۔ زورِ قلم اور زیادہ۔ نزیر احمد کے بارے میں تھوڑا بہت پڑھا تھا۔ مگر جس انداز سے آپ نے وضاحت فرمائی ہے اس کی مثال شاید ہی کہیں ملے گی۔ اور بڑی باریک باتوں پر سے پردہ چاک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ رب مزید ترقی سے نوازے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: