ایک لبرل کی چیخ ———- ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 254
    Shares

حال ہی میں (آئی بی اے، کراچی میں) ایک کانفرنس میں معروف برطانوی لکھاری حنیف قریشی نے خطاب فرمایا۔ مگر یہ خطاب نہیں ایک چیخ تھی۔ ایک ایسی چیخ جو بوقت نزع برآمد ہوتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ لبرل کے لئے اس دنیا کے بعد تو کوئی دنیا ہے نہیں۔ اس لئے لبرل کی نزاعی چیخ بہت زیادہ کرب میں ڈوبی ہوتی ہے مگر وہ خطاب نما چیخ تھی کیا بھلا؟

محترم کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ آج کے مفکرین، دانا افراد اور لکھاریوں کے سامنے دو محاذوں پر جنگ ہے۔ ایک نئے نازیوں سے اور دوسرے انتہا پسند اسلام سے۔ قریشی صاحب فرماتے ہیں کہ ان دونوں ہی محاذوں پر فتح کا نسخہ بس ایک ہے، سیکولر انتہا پسندی۔ پھر محترم اپنے سیکولر انتہا پسندی کے تصور کی وضاحت فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے سارے پسے ہوئے طبقات میں اتحاد۔ اور ان پسے ہوئے افراد میں کون کون شامل ہے؟ سارے غیر سفید فام افراد (Colored people) خواتین (خصوصاًمی ٹو کی ڈسی ہوئی)، ہم جنس پرست اور ٹرانس جینڈر یا مخنث افراد۔

یعنی’’ رنگین‘‘ لوگ، می ٹو سے ڈسی عورتیں، ہم جنس پرست اور مخنث اتحاد کر لیں تو یہ ہے انتہا پسند سیکولرازم؟ پھر قریشی صاحب کو مغرب میں نیو نازی طبقات کے آنے پر غم ہونے لگتا ہے مگر وہ ساتھ ہی اسلامی انتہا پسندی پر بھی آنسو بہانے لگتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ مسلم اپنی حالیہ ’’تباہی‘‘ کے ذمے دار خود ہیں بلکہ ان کی نظر میں موجودہ مسلم تو دراصل انتہا پسند مغرب کا عکس ہی ہیں اور ان کے الفاظ میں مسلم اب یک ثقافتی(mono cultural)، الگ تھلگ(insular)، مرد پرست(Sexist)، مائل بہ جنگ (Combative) اور ہم جنس پرستوں سے خوفزدہ (homophobic) ہیں۔ آگے اس چیخ نما خطاب میں قریشی صاحب ماتم فرماتے ہیں کہ ہم مسلم نو آبادیاتی تجربے سے باہر آتے ہی خود ساختہ مذہبی غلامی میں چلے گئے، ہر شے کو مذہب کے زاویے سے دیکھنے لگے اور ’’نظریاتی ظلمت‘‘ میں داخل ہو گئے۔ اس پوری گفتگو میں خاص بات یہ ہے کہ یہ دلائل پر مبنی ہونے کے بجائے قریشی صاحب کے جذبات کا بچکانہ اشتہار ہے۔ اس گفتگو کا ہر جملہ ہی اس گفتگو کے کسی اور جملے کی تردید تھا مگر یہ سارا تناظر بھی خالص لبرلز کے زاویے سے بھی کوئی نئی بات نہیں۔ قریشی صاحب کے لبرل بھائی جمیل دہلوی کی فلم جناح دیکھ لیجئے۔ یہی ساری تھیم مل جائے گی۔ شعیب منصور کی ’’خدا کے لئے‘‘ دیکھ لیجئے، ’’بول‘‘ دیکھ لیجئے یا اسلام آباد میں انکی حامی این جی اوز کی کسی ورکشاپ میں شرکت کر لیجئے یہی باتیں سننے کو مل جائیں گی۔ یعنی قریشی صاحب بیچارے ’’اورجنل‘‘ نہیں ہیں۔

مگر ہماری چند معروضات ہیں۔ قریشی صاحب! اول یہ کہ اسلام ایک عقیدہ ہے، مسلم وہ ہے جو توحید و رسالت پر ایمان لاتا ہے۔ جب کوئی توحید و رسالت پر ایمان لے آتا ہے تو پھر اس پر احکام شریعت کی پیروی لازم ہوتی ہے، مسلمان Homophobia کا شکار نہیں ہیں۔ اسلام میں ہم جنس پرستی حرام ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو بات قرآن کی آیات سے حرام ہے اس پر کوئی اور رائے کیسے قائم کی جا سکتی ہے؟ آپ لبرل یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسلم علماء میں تو آپس میں بہت سخت مسلکی اختلافات ہیں۔ حضور ایک ایسا مسلک ڈھونڈ کر لائیے جو ہم جنس پرستی کو حلال قرار دیتا ہو۔

اسلام نے جو احکام دیئے ہیں مسلم کو تو ان پر عمل کرنا ہے۔ اگر وہ نہیں کرتا تو وہ ایک گناہ گار مسلم ہے مگر ظاہر ہے کہ دل سے اگر وہ اپنے برے عمل کو غلط سمجھے تو وہ ایمان سے خارج نہ ہو گا مگر جو ایسا ہو کہ گناہ کرے بھی اور اس کی گنجائش بھی دین میں نکالے یا اس کی جواز جوئی کرے تو ایسا فرد مسلم کیسے ہو گا؟ آپ لبرل ہیں ناں؟ تو سوال یہ ہے کہ آپ کے اندر ایک لبرل وہی ہے کہ جو تمام انسانوں کو برابر سمجھے، جو تمام مذاہب کو برابر سمجھے، جو Homophobic نہ ہو، نظریاتی ظلمت میں ڈوبا ہوا نہ ہو۔ تو اگر کوئی ایسا فرد ہو جو Homophobic ہو تو کیا وہ لبرل رہ جائے گا؟ نہیں ناں؟ تو بس ثابت ہوا کہ ہر عقیدے یا نظریے کی ایک چہار دیواری ہوتی ہے اور اس میں داخل فرد کو کسی خاص نوع کے رویوں اور خیالات سے بچنا لازم ہے ورنہ وہ اس عقیدے یا نظریے کا حامل نہیں ہے بلکہ منافق ہے۔

آپ کو لگتا ہے کہ مغرب تو فسطائی قسم کے نیو نازیوں کے ہتھے چڑھ گیا اور اسلامی دنیا میں لوگ بڑی تیزی سے اسلامی انتہا پسند بن رہے ہیں تو پھر اب لبرل بیچارے کیا کریں؟ تو ’’رنگین‘‘ لوگ، می ٹو خواتین، ہم جنس پرست اور مخنث اتحاد کر لیں اور یوں جو ہو گا وہ انتہا پسند سیکولرازم کہلائے گا اور اس سے نیو نازیوں کو اور اسلامی انتہا پسندوں کو شکست فاش ہو جائے گی۔ نہیں سرکار ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔ دراصل یہ منافقت ہے۔ نیو نازی آپ سے برتر ہیں اس لئے کہ ان کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہے۔ اور رہی بات اسلام کی تو اسلام اور کفر میں امن کی صرف ایک صورت ہے کہ اسلام غالب آ جائے اور کفر اسلام سے امان طلب کر لے۔ مگر قریشی صاحب مخنثوں کی فوج نازیوں کے سامنے کھڑی کرنے کی فکر میں ہیں اور لونڈوں کی فوج سے اہل اسلام کو ہرانا چاہتے ہیں۔ یہ ہے قریشی صاحب کے انتہا پسندانہ سیکولر ازم کا پھس پٹاخہ! مگر سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ قریشی صاحب ہمارے ملک کی ایک بڑی سرکاری جامعہ میں انتہا پسند سیکولر ازم کی تلقین کر کے جا رہے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جو بنا ہی اسلام کے نام پر تھا اور جس کے آئین کی قرارداد مقاصد میں مذکور ہے کہ اس ملک کا اقتدار اعلیٰ اللہ کے پاس ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قریشی کے ملک برطانیہ میں کوئی انتہا پسند اسلام کے حق میں لیکچردے سکتا؟ کوئی سیکولرازم کیخلاف بول سکتا اور کیاکوئی لبرل ازم کو قوت سے کچل دینے کی بات کر سکتا؟ معلوم نہیں برطانیہ سیکولر ہے یا بدقسمتی سے ہم؟

یہ بھی پڑھئے:  لبرل ازم کیا ہے؟ عمر بنگش

اسلامی لبرلزم: یہی فیصلے کی گھڑی ہے — لالہ صحرائی

 لبرلزم: ایک تنقید: آلان دی بونوا (حصہ اول) — ترجمہ: کبیر علی
(Visited 1,294 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: