خالدہ حسین: ایک اساطیری کردار —— نجیبہ عارف

0
  • 153
    Shares

خالدہ حسین ہمیشہ میرے لیے ایک اساطیری کردار کی طرح رہی ہیں، جس کے بارے میں یقین نہیں ہوتا کہ سچ مچ ہے بھی یا نہیں! زندگی کے عمومی حجم سے کچھ بڑا کردار، جو وقت اور فاصلے کے حجاب چیر کر پار اتر سکتا ہے، ذہن کی خشک پپڑیوں کے اندر تک رِس کر انھیں سرسبز کر سکتا ہے اور عقبی بصری پردوں پر ایسے مناظر منعکس کر سکتا ہے جو کبھی نظر کے سامنے سے نہ گزرے ہوں۔ ان کی کہانیوں میں معانی کی ایسی تہیں ہوتی ہیں جنھیں کھولنا دلچسپ، تحیر زا اور نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ وہ زندگی کو ہر پہلو سے چھو چھو کر دیکھتی ہیں اور اس کا لمس اپنی تحریر میں زندہ چھوڑ دیتی ہیں۔ یہ زندگی پڑھنے والے کے اندر جذب ہوجاتی ہے۔ بڑی خاموشی اور دھیمے پن سے۔ شور مچا کر، زور اور قوت سے نہیں، مدھم مدھم، ہولے ہولے، بے آواز بارش کی طرح، بے رنگ پانی کی طرح، جو نظروں میں آئے بغیر اپنا کام کر گزرتا ہے۔ خالدہ حسین کی تحریر میں ویسا ہی اسرار ہے جیسا زندگی کی ابتدا اور انتہا کے بارے میں سوچنے، اچھے اور برے، خیر اور شر، نیک اور بد کے باہم مل جانے کے مقام کو سمجھنے اور اس سے آگے نکل جانے کی تگ و دو میں ہوتا ہے۔

اسرار کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی طرف بلاتا ہے۔ ایسے معنی خیز اشارے کرتا ہے، جن پر لبیک کہے بنا چارہ نہیں رہتا؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دل میں اس کاسہم بھی رہتا ہے۔ پتا نہیں سمجھ میں آئے یا نہیں، پتا نہیں ٹھیک ہو یا غلط۔ سمجھ بھی جائیں تو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ پتا نہیں ٹھیک سمجھا ہے یا نہیں۔

خالدہ حسین کی تحریروں میں بھی ایسی ہی کشش ہے، ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ڈر وابستہ ہے۔ ان کی تفہیم و تعبیر کرتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ پتا نہیں یہ بات ان کی تحریر میں تھی، یا خود ہمارے اندر کہیں موجود تھی جو چپکے سے باہر نکل آئی ہے، بوتل کے جن کی طرح۔

اسی لیے جی چاہتا تھا کہ کسی روز انھیں اچھی طرح چھو کر ٹٹول کر دیکھوں کہ وہ سچ مچ کی ہیں یا کوئی اساطیری کردار ہیں۔ تخیل کا تراشا ہوا، وہم و گمان کا زائیدہ۔

کئی برس سے میں انھیں ملنے اور ان سے تفصیلی گفتگو کرنے کے پروگرام بنا رہی تھی مگر نجانے کیا حجاب تھا جو بار بار حائل ہو جاتا تھا۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے میں پچیس برس تک ان سے نہ مل پائی اور جب ملی تو ایسا لگا کہ کئی پچیس برسوں سے ملتی چلی آ رہی ہوں۔

میں نے ان کی گوشہ نشینی کے بارے میں، ان کی مردم گزیدگی اور تنہائی پسندی کے بارے میں، ان کی خود مکتفی بے نیازی کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔
وہ اپنے بارے میںزیادہ بات نہیں کرتیں۔
وہ محفلوں میں نہیں جاتیں۔
انھیں انٹرویو وغیرہ دینے سے چڑ ہے۔

یہ سب باتیں مجھے روک دیتی تھیں مگر اس روز جب میں ڈاکٹر فاطمہ حسن کے ساتھ پہلی بار ان سے ملنے گئی تو وہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے صدمے سے گزر رہی تھیں۔ یوں تو زندگی کا ہر صدمہ ہی بڑا لگتا ہے لیکن ایک ماں ہونے کی حیثیت سے میں سمجھ سکتی ہوں کہ جوان اکلوتے بیٹی کی موت دل پر کیسا وار کر سکتی ہے۔ وہ بالکل نڈھال تھیں مگر خود کو سنبھالنے کی تگ و دو میں لگی تھیں۔ میں بھی چاہتی تھی کہ تھوڑی دیر کو سہی مگر وہ اس احساسِ زیاں کو ذرا سا بھول جائیں۔ میں نے ان سے اس خواہش کا اظہار کر دیاکہ کسی روز میں ان سے تفصیلی گفتگو کے لیے آنا چاہتی ہوں۔ انھوں نے شاید مروتاً انکار نہیں کیا لیکن اس خواہش کو عمل میں ڈھالنے میں مزید نجانے کتنا وقت لگ جاتا اگر ڈاکٹر فاطمہ حسن یہ فرمائش نہ کرتیں کہ خالدہ حسین سے کچھ باتیں ریکارڈ کر کے انھیں بھیجی جائیں۔ لہٰذا میری اس دیرینہ خواہش کی فوری تکمیل اگر ہوئی تو اس میں بہت ہاتھ ڈاکٹر فاطمہ حسن کا بھی ہے۔

۶ دسمبر، ۲۰۱۶ء کی شام، اپنی عزیز شاگرد اور اب ہم کار امینہ کے ساتھ ساز و سامان سے لیس ہو کرجب میں ان کے ہاں پہنچی تو وہ بالکل تیار تھیں۔ صدمے نے انھیں کمزور ضرور کر دیا تھا مگر ذہنی طور پر وہ بالکل چست و توانا تھیں۔ امینہ نے کیمرہ اور ریکارڈنگ کا سامان تیار کر لیا تو میں نے ان سے باتیں چھیڑ دیں۔ کسی رسمی باقاعدہ انٹرویو کی طرح نہیں، بالکل غیر رسمی اور بے قاعدہ انداز میں۔ خالدہ آپا کی گفتگو سننا آرٹ فلم دیکھنے جیسا تجربہ تھا۔ وہ بار بار اپنے اندر اتر جاتی تھیں۔ ان کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ اس میں لمبے وقفے آتے تھے۔ دھیمے دھیمے لب و لہجے میں، کبھی ہلکے ہلکے قہقہے لگاتے ہوئے، کبھی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے، کبھی گلوگیر ہو کر، وہ ہر سوال کا جواب دیتی رہیں۔ یہاں تک کہ میں بھول ہی گئی کہ میں کوئی رسمی انٹرویو لینے آئی تھی اور ان سے اپنی باتیں کرنے لگی۔۔۔۔

(Visited 133 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: