وحید مراد اور ہمارا عہد: وحید مراد کا قاتل کون؟ —- آخری قسط — خرم علی شفیق

1
  • 174
    Shares

پچھلی دفعہ خیال تھا کہ ابھی دو قسطیں باقی ہیں۔ لیکن اب محسوس ہو رہا ہے کہ جو بات مجھے اگلی قسط میں لکھنی تھی، اُس کے لیے ایک قسط کافی نہیں ہو گی۔ ایک علیحدہ کتاب ہی مناسب رہے گی۔ عنوان اور تفصیلات اس قسط کے آخر میں ملاحظہ کیجیے۔ اُسے بھی ہفتہ وار قسطوں کی صورت میں ہی پیش کرنے کا ارادہ ہے لیکن انداز کچھ مختلف ہو گا۔ فی الحال آپ سب کا شکریہ ادا کرنا ہے، بالخصوص جنہوں نے اپنے تبصروں اور مشوروں سے آگاہ کیا۔ ’’دانش‘‘ کا بھی شکریہ جن کے تعاون سے یہ قسطیں پیش کی گئیں۔ اُمید ہے کہ اگلی کتاب کے ذریعے اگلے ہفتے پھر ملاقات ہو گی۔ پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔


وحید مراد کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ لاہور میں اسٹوڈیوز بند ہو گئے۔ نہ صرف فلمی صنعت کے لوگ اُن کی کوٹھی کی طرف چل پڑے بلکہ مداحوں کا ایک ہجوم بھی جنازے کے لیے جمع ہو گیا۔ ہدایت کار شوکت ہاشمی کا بیان ہے کہ قریباً پچیس تیس ہزار کا مجمع تھا اور سب نعرے لگا رہے تھے، ’’وحید مراد زندہ باد!‘‘

سب وحید کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیچین تھے۔ پرویز ملک اور وحید کے دوسرے دوست احباب انہیں پیچھے دھکیل رہے تھے۔ ایک پرستار نے پرویز سے کہا، ’’ہم وحیدمراد سے بہت پیار کرتے تھے۔ کیا ہمارا اُس پر کوئی حق نہیں؟‘‘ پرویز ملک کہتے ہیں:

’’میں ان کے راستے سے ہٹ گیا۔ واقعی وحید پر ان سب کا حق ہے۔ ان پرستاروں ہی نے وحید کا جنازہ اٹھایا اور انہوں نے ہی وحید کو اُس کی آخری آرام گاہ تک پہنچایا۔ میں سوچ رہا تھا، ویدو! اگر تو آج ہوتا تو دیکھتا کہ تو آج بھی عوام میں کتنا مقبول ہے! وحید کے پرستاروں کے اس ہجوم نے ایک بات ہمیشہ کے لیے ثابت کر دی۔ وحید مراد اپنی زندگی میں بھی ہیرو تھا اور مر کر بھی ہیرو ہی ہے۔ ‘‘

اخبارات کی سرخی تھی، ’’وحید مراد اچانک حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے۔ ‘‘

سلمیٰ مراد اور عالیہ خبر سنتے ہی امریکہ سے روانہ ہو گئیں لیکن انہیں ڈائرکٹ فلائٹ نہ ملی اور وہ تدفین کے بعد پہنچیں۔ صدر ضیأالحق نے ان کے نام خصوصی پیغام بھیجا۔ ٹی وی نے ایک تعزیتی پروگرام نشر کیا۔ تقریباً سبھی اخبارات نے فیچر شائع کیے۔ زیادہ تر اخبارات اور رسائل نے خصوصی نمبر بھی نکالے۔

جب وحید کی بعض پرانی فلمیں دوبارہ ریلیز ہوئیں تو سنیما گھروں پر وہ رَش دیکھنے میں آیا جو اُس زمانے میں نئی فلموں کو بھی کم ہی نصیب ہوتا تھا۔ اُس کے بعد وحید کی اکثر فلمیں دوبارہ ریلیز کی گئیں۔ پرستاروں نے ان فلموں کی نمائش پر تعزیتی بینر اور پوسٹر لگا لگا کر سینماؤں کو سجایا۔ اُس زمانے میں اور بعد میں بھی وحید کے پرستاروں میں جو لوگ پیش پیش تھے اُن میں سے ایک نام فرید اشرف غازی ہے، جو مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی کے نواسے ہیں۔

تعزیتی آڈیو کیسٹ بھی ریلیز ہوئے۔ کیسٹوں کی دکانوں پر یہ کیسٹ اونچی آواز میں چلائے جاتے رہے اور سال ڈیڑھ سال تک بازارو ں گلیوں میں گونجتے رہے۔ ان کے شروع میں عام طور پر ماتمی الفاظ ہوتے تھے اور باقی کیسٹ میں وحید کی فلموں کے اس قسم کے مکالمے اور نغمات ہوتے تھے، جیسے فلم ’’انجمن‘‘ سے اُن کی آواز میں مکالمہ، ’’تمہیں تو میرا غمگسار ہونے کا دعویٰ ہے؟ لیکن آج میں نے دو گھونٹ شراب کے پی لیے تو تمہیں پتہ چل گیا! خون کے وہ گھونٹ تم نے نہیں دیکھے جو میں چُپ چاپ نجانے کب سے پی رہا ہوں۔‘‘ فلم ’’پھر چاند نکلے گا‘‘ سے احمد رشدی کا نغمہ بھی اکثر کیسٹوں میں شامل ہوتا تھا:

چھوڑ چلے، ہم چھوڑ چلے، لو شہر تمہارا چھوڑ چلے!
جب تم کو ہماری یاد آئے اور دل بھی تمہارا گھبرائے،
سینے سے لگا کر یاد میری تصویر سے باتیں کر لینا
تھے ساتھ کبھی جن راہوں پر اُن راہوں سے مُنہ موڑ چلے!
پا کر بھی تمہیں ہم پا نہ سکے، اپنے تھے مگر اپنا نہ سکے،
یہ کھیل ہے سارا قسمت کا تم دل کو تسلی دے لینا!
تم جن کو کبھی بھولو گے نہیں، ہم ایسے نغمے چھوڑ چلے!

چھوٹی چھوٹی کتابیں بھی مارکیٹ میں آگئیں، مثلاً ایک کتاب میں اخبارات سے کچھ تعزیتی مضامین اکٹھے کر کے پیش کیے گئے تھے۔ مرتب کوئی اے ایس انجم تھے اور ناشر کا نام پتہ ’’کریسنٹ اکیڈمی، بی ون کریسنٹ پلازہ، نزد بھائی جان چوک، بلاک نمبر7، فیڈرل بی ایریا، کراچی نمبر38‘‘ درج تھا۔ قیمت آٹھ روپیہ تھی اور عنوان تھا، ’’وحید مراد کا قاتل کون؟‘‘

تمہید میں مرتب نے جو سطور لکھیں وہ تحقیق پر مبنی نہ تھیں لیکن اُن سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت کیا محسوس کیا جا رہا تھا:

’’ایک تارہ ٹوٹا اور اتھاہ تاریکیوں میں ڈوب گیا۔ پاکستان فلم انڈسٹری کے ہیرو وحید مراد چل بسے۔ لاکھوں دلوں پر راج کرنے والا پراسرار انداز میں راہی ٔ ملکِ عدم ہوا۔ وحید مراد کی موت عبرت اثر ہے۔ وحید مراد کی موت شرم ناک ہے، اُن لوگوں کے لیے جو چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں اور جب یہی سورج غروب ہونے لگے تو اُس کے سایے سے بھی ڈرنے لگتے ہیں۔ فلمی اداکاروں اور اداکاراؤں کے آخری ایام انتہائی مخدوش حالت میں گزرتے ہیں اور پھر وہ مرتے ہیں تو عبرت کے سامان چھوڑ جاتے ہیں۔ وحید مراد، ویدو، ٹوٹے ہوئے دل کا آدمی، ٹوٹا ہوا آدمی مر گیا تو لاتعداد دلوں کو توڑ گیا۔ چاکلیٹ ہیرو منوں مٹی تلے دفن کر دیا گیا اور ساتھ ہی اُس کی موت کے بارے میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ قیاس کے گھوڑے دوڑائے جانے لگے۔ اُس پریشان اور مجبور شخص کے کردار پر کیچڑ اچھالی جانے لگی۔ اُس کی شخصیت کی دھجیاں اُڑائی جانے لگیں۔

’’اب تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ کیا وحیدمراد نے خودکشی کر لی ہے؟ کیا وحید مراد کو قتل کیا گیا ہے؟ کیا سلمیٰ نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا؟ ہزاروں باتیں ہیں۔ ہزاروں افسانے ہیں۔ مگر ایک بات یقین سے کہی جا رہی ہے کہ وحید مراد چوٹ کھایا ہوا آدمی تھا۔ اُس کے دل پر چرکے لگائے گئے تھے۔ اُسے دُکھ دیے گئے تھے اور وہ اُن دکھوں کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اُٹھائے اِس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ تمام دکھوں اور پریشانیوں سے نجات پا گیا۔‘‘

جہاں تک اِس سوال کا تعلق ہے کہ ’’ کیا وحیدمراد نے خودکشی کر لی ہے؟‘‘، یہ اتنا بے بنیاد ہے کہ اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہونی چاہیے لیکن افسوس ہے کہ وِکی پیڈیا نے بھی وحید کے صفحے پر اِس کا اشارہ دے رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آخری وقت میں جو لوگ وحید کے قریب تھے اُنہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ وحید نے اپنی منہ بولی بہن بیگم ممتاز ایوب کے گھر وفات پائی۔ انہوں نے جس مشترکہ دوست کو سب سے پہلے بلایا، وہ قادر موسانی تھے۔ اُنہوں نے ہی وحید کی نبض دیکھ کر کہا کہ یہ شاید فوت ہو چکے ہیں، اور پھر ڈاکٹر کو بلایا۔ اُن کے صاحبزادے ساجد میرے بچپن کے دوست ہیں اس لیے مجھے قادر انکل سے بڑی تسلی کے ساتھ تفصیلات جاننے کا موقع ملا۔ خودکشی جیسی کوئی پراسرار بات اُن تفصیلات میں ہرگز شامل نہیں تھی۔

اُس زمانے میں ایک مضمون نظر سے گزرا جس پر مصنف نے اپنے نام کی بجائے صرف ’’ماہرِ نفسیات‘‘ لکھا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے جس میں خودکشی کا اشارہ ملتا ہو لیکن گول مول انداز میں یہ بھی لکھ دیا کہ وحید کی زندگی میں ایسے حالات پیدا ہو گئے جن میں بعض لوگ خودکشی کر لیتے ہیں۔ جن حالاتِ زندگی سے مثال دی وہ سرے سے درست ہی نہیں تھے۔ اس لیے یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ نکتہ اُن لوگوں کی طرف سے اٹھایا گیا جنہیں وحید کی بعد از مرگ مقبولیت سے حسد محسوس ہو رہا تھا یا جنہوں نے کوئی انوکھی بات کہہ کر لوگوں کو چونکانے کا شوق پورا کرنا چاہا۔

اس قسم کے لوگوں کا تذکرہ 1984 میں پہلی برسی پر چھپنے والے ایک مضمون میں بھی ملتا ہے۔ یہ طاہر حبیب کا مضمون ’’وحید مراد: ہمیں زندگی نے مارا‘‘ ہے۔ اس تاریخی دستاویز کی فراہمی کے لیے میں اپنے دوست سید ظفر خورشید کا شکر گزار ہوں:

’’23 نومبر 1984 کو وحید مراد کی پہلی برسی تھی۔ 23نومبر 1983 سے 23 نومبر 1984 تک گزرنے والے اِس عرصہ میں چشمِ فلک نے بہت کچھ دیکھا۔ وہ شخص جو زندہ ہوتے ہوئے بھی مار دیا گیا تھا۔ جب حقیقتاً مرا تو موت اس کی زندگی بن گئی۔ مہینوں تک اخبارات اس کی تصویریں چھاپتے رہے۔ نام کمانے کے لئے کچھ لوگ اسکینڈلز بناتے رہے۔ وہ تقسیم کار جو اُس کی فلمیں ڈبوں میں بند کر کے بھول گئے تھے، انہیں دولت کمانے کا ایک گولڈن چانس مل گیا۔ ہر سنیما پر وحید مراد کی فلمیں لگنے لگیں۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ لگتا ہے وحید مراد مرا نہیں ہے، وہ دنیا میں لَوٹ آیا ہے۔ مگر جسمانی طور پر نہیں اپنی فلموں کے ذریعہ۔ وہ عملاً ہمارے درمیان نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے درمیان ہے۔ ہر اخبار میں اُس کی تصویریں ہیں۔ سنیماؤں پر اُس کی فلمیں ہیں اور ہر جگہ اُس کا تذکرہ ہے۔ اُس کی پرانی فلمیں دوبارہ اُسی طرح بزنس کر رہی ہیں جس طرح اُس کی حیات اُس کے عروج کے وقت کیا کرتی تھیں۔
’’کاش وہ یہ سب دیکھنے کے لئے زندہ رہتا۔ وہ زندہ تھا تو اُسے شکوہ تھا۔ شکایت تھی کہ لوگوں نے اُسے بھلا دیا ہے۔ اُسے نئی فلموں میں سائن نہیں کیا جاتا۔ اس کی پرانی فلمیں دیکھنے میں نہیں آتیں۔ حتیٰ کہ لوگ یہ بھی بھولتے جا رہے ہیں کہ وحید مراد نام کا کوئی شخص بھی فلمی دنیا میں تھا… اس نے اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لیا۔ جہاں آنے والا کوئی بھی نہ تھا۔ وہ چپ چاپ اِس جہاں سے گزر گیا۔ مگر یہ ستم بھی کیا خوب ہے کہ لوگوں نے اُسے اپنے لئے زندہ کر لیا۔ اگر اُسے پتہ ہوتا کہ اُس کی موت سے خودغرض لوگوں کی بن آئے گی تو شاید وہ موت سے لڑ لڑ کر زندہ رہنے کی کوشش کرتا۔ میں جب سنیماؤں پہ اس کے بڑے بڑے پوسٹر اور اخبارات میں اس کی فلموں کے بے تحاشہ اشتہارات دیکھتا ہوں تو میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وحید مراد نے موت کو گلے لگا کر دائمی زندگی حاصل کی ہے یا دنیا سے اپنا انتقام لیا ہے۔ آپ ہی اس کا فیصلہ کر دیجئے۔‘‘


وحید چونکہ دنیا میں نہیں تھے اس لیے پروڈیوسر کے طور پر بیگم سلمیٰ مراد کا نام آیا۔ مصنف وحید خود تھے۔ ہدایات اقبال یوسف نے دی تھیں۔ نغمے تسلیم فاضلی اور خواجہ پرویز نے لکھے تھے اور موسیقی کمال احمد نے بنائی تھی۔ نمایاں ستاروں میں بابرہ شریف، ممتاز، منور سعید، تانی بیگم، ہما ڈار، سیما، ساقی، خالد سلیم موٹا، چکرم، حنیف اور جہانگیر مغل شامل تھے۔ ندیم، طالش، لہری، اسلم پرویز، الیاس کاشمیری، شاہد اور علی اعجاز مہمان اداکار تھے۔ عادل مراد بھی چائلڈ اسٹار کے طور پر متعارف ہوئے (انہوں نے وحید کے ڈبل رول کرداروں کے بچپن کے کردار ادا کیے)۔

فلم سے پہلے ایک سلائیڈ پربیگم سلمیٰ مراد کی طرف سے پیغام آیا:

’’فلم ’ہیرو ‘میں اپنی زندگی کے ’ہیرو ‘ وحید مراد کے نام کرتی ہوں۔ دیکھنے والوں کے لیے یہ ایک فلم سہی مگر میرے لیے وحید کی پیاربھری یادوں کا ایک خزانہ ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ فلم وہ بڑی محبّت اور لگن سے بنا رہے تھے۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے، یہ کیسا عجیب سانحہ ہے کہ آج تخلیق اپنے خالق کو ڈھونڈ رہی ہے۔ فلم ’ہیرو ‘ کا ہیرو ہم سے بہت دُور چلا گیا ہے۔ مگر دُوری کے باوجود وہ ہمارے بہت قریب ہے۔ ہمارے دِلوں میں زندہ ہے۔ ’ہیرو ‘ کے رُوپ میں ہمارے سامنے ہے۔ میں فلمسٹار محمد علی اور چوہدری ثنأاللہ صاحب کی مشکور ہوں جن کے تعاون سے ہی میں اِس فلم کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکی۔ سلمیٰ مراد‘‘

ٹائٹل کے دوران وحید ایک دیہاتی فتح محمد عرف پھتّو کے رُو پ میں اسٹوڈیوز کے باہر دھکے کھاتے نظر آئے جو مایوس ہو کر فلمی صنعت کے بارے میں کہتا ہے، ’’یا سفارش یا رشوت!‘‘ جلد ہی ایک اسٹوڈیو کا منظر نظر آیا جہاں ایک شوٹنگ ہو رہی ہے اور ہیروئین شعلہ (ممتاز)، مہناز کی آواز میں ایک نغمہ گا رہی ہے۔ دیکھنے والے اِسے اُس کے الفاظ کو اُس دُکھ کے ساتھ جوڑے بغیر نہ رہ سکے جو وحید کی وفات پر محسوس کیا جا رہا تھا:

یہ دُنیا پیار کی رِیت نہ جانے!
لاکھ ستم ہوں، راہِ وفا میں مرتے رہیں گے دیوانے!
ہم سے پہلے اِس دنیا میں لاکھوں دل ویران ہوئے،
کتنی ہیریں، کتنے رانجھے، چاہت پہ قربان ہوئے!
آگ میں اپنی ہنستے ہنستے جلتے رہیں گے پروانے!
موت کا غم کیا! ہم کو پتہ تھا عشق کا ہے انجام یہی،
انسانوں کے اِس جنگل میں پیار کا ہے انعام یہی،
دل والے بھی اپنے لہو سے لکھتے رہیں گے افسانے!

جلد ہی وحید کا ایک اور رُوپ اسکرین پر دکھائی دیا۔ جانی، جسے چوری کرنے میں اتنی مہارت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا۔ لیکن اپنے فن میں یہ کمال حاصل کرنا ہی اُس کے لیے مصیبت بن گیا ہے کیونکہ جب بھی پولیس کو چوری کی کسی واردات کے بعد کوئی ثبوت نہ ملے وہ سمجھ جاتی ہے کہ یہ کام جانی کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا اور اُسے گرفتار کر لیتی ہے۔ ہر دفعہ وہ ثبوت نہ ملنے پر چھوٹ جاتا ہے۔ اسمگلر بخاری (منور سعید)، جس کے لیے جانی تمام وارداتیں کرتا ہے، ایک جعلی فلم کمپنی کھول چکا ہے۔ وہ اس مشکل کا حل اس طرح نکالتا ہے کہ جانی کے ہمشکل پھتّو کو بطور ’’ہیرو‘‘ متعارف کرواتا ہے۔ اُس کا نام بدل کر اُسے جانی کی شخصیت بھی دے دیتا ہے۔ رات کو اُس کی شوٹنگ ہوتی ہے جہاں پولیس بھی موجود ہوتی ہے۔ اُسی وقت جانی واردات کرتا ہے۔ اس طرح پولیس چکر میں پڑ جاتی ہے۔

پھر بھی جانی اس زندگی سے تنگ آ کر اسمگلر کو بے نقاب کر دیتا ہے، پھتّو اُس کا بچھڑا ہوا بھائی ثابت ہوتا ہے اور حالات سلجھ جاتے ہیں۔ ایک نغمہ جو فلم کے کیسٹ میں شامل تھا، فلم میں شامل نہیں کیا جا سکا، ’’پیار کے وعدے، او ساتھی بھول نہ جانا!‘‘ فلم میں وحید نے صرف ایک ہی نغمہ گایا جو احمد رشدی کی آواز میں تھا، ’’بن کے مصرعہ غزل کا چلی آؤ ناں! ‘‘ فلم کا آخری نغمہ نورجہاں کی آواز میں بابرہ شریف نے (کرن کے کردار میں)، وحید کی تصویر کو مخاطب کر کے پیش کیا ہے، ’’میں تجھ کو کیا بتاؤں کہ کیا مقام تیرا کیا ہے! ‘‘فلم کا آخری مکالمہ پھتّو کی زبان سے ادا ہوتا ہے، ’’اب میں چلتا ہوں، ماں! میرا فن، میرا مستقبل مجھے آواز دے رہا ہے۔‘‘

جنوری 1985 میں اِس فلم کو دیکھنا ایک عجیب تجربہ تھا کیونکہ اس میں فلم کی شوٹنگ کے مناظر موجود تھے۔ بار بار یوں لگ رہا تھا جیسے ہم فلم نہیں دیکھ رہے بلکہ کسی فلم کے سَیٹ پر وحید کے ساتھ اُن کے مہمان کے طور پر موجود ہیں۔ یوں محسوس ہوا کہ ایک سال سے کچھ اوپر جو سوگ اُن کے پرستاروں نے منایا تھا، اُسے ختم کرنے کے لیے وحید خود واپس آ گئے ہیں۔

مگر کس رُوپ میں؟ فلم ’’ہیرو‘‘میں جو کردار فلمی ہیرو تھا وہ وحید جیسا اسمارٹ نہیں بلکہ بیوقوف پھتّو تھا۔ اصلی وحید کی جھلکیاں جانی میں دکھائی دے رہی تھیں جو ہیرو نہیں بلکہ ایک ایسا چور تھا جو واردات کرتے ہوئے اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑتا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ وحید مراد حقیقت میں کون تھا؟ وہ جسے ہم اسکرین پر دیکھتےاور چاکلیٹ کریم ہیرو کہتے رہے یا وہ جو کسی کے سامنے نہیں آیا اور ہماری بیخبری میں ہماری روح کی بند تجوریاں کھولتا رہا؟ ’’میں تجھ کو کیا بتاؤں کہ کیا مقام تیرا کیا ہے!‘‘

بحیثیت اداکار وحید کی آخری فلم ’’زلزلہ‘‘، 13 مارچ 1987 کو ریلیز ہوئی۔ اس کی ہدایات بھی اقبال یوسف ہی نے دی تھیں (جن کے والد ایس ایم یوسف نے پچیس برس پہلے وحید کو بطور اداکار متعارف کروایا تھا)۔ اس کے آخر میں اسکرین پر لکھا آیا کہ یہ وحید مراد کی آخری پرفارمنس ہے۔ ہمارے عہد کے عظیم محقق عقیل عباس جعفری نے ’’کرانیکل آف پاکستان‘‘ میں لکھا ہے، ’’توقع تھی کہ وحید مراد کی آخری فلم ہونے کی وجہ سے یہ فلم وحید مراد کے پرستاروں میں مقبول ہو گی مگر اس کے باوجود یہ فلم بری طرح فلاپ ہو گئی۔‘‘

اس کے باوجود ہر سال ملک کے مختلف شہروں میں اُن کی برسی پر قرآن خوانی اور فاتحہ ہوتی رہی یہاں تک کہ اب اُن کی برسی ایک عُرس جیسی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔ قومی تاریخ میں وحید کے مقام کا تعین کرنے میں یہ پہلی اہم بات ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہر آنے والی نسل میں وحید کی مقبولیت منتقل ہوتی رہی یہاں تک کہ جو نسل وحید کے عروج کے زمانے کے بعد پیدا ہوئی اب نہ صرف وہ نسل بلکہ اُس کے بچے بھی وحید کے پرستاروں میں شامل ہیں۔ یہ دوسری اہم بات ہے جسے وحید کے مقام کا تعین کرتے ہوئے پیشِ نظر رکھنا پڑے گا۔

اگر غور کیجیے تو وحید کے سوا جتنے بھی لوگوں نے یہ مقام حاصل کیا ہے، اُنہیں یا تو ریاست کی سطح پر کوئی بلند مقام دیا گیا، جیسے ہمارے عظیم محسنین قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خاں اور بعض شہدأ۔ یا کسی غیر ملک یا سپرپاور کی تائید و حمایت حاصل ہوئی، جیسے فیض احمد فیض کو رُوس نے لینن ایوارڈعطا کیا۔ یا مذہبی اور سیاسی شخصیات ہیں جن کے ساتھ کچھ لوگوں کے دینی یا دنیاوی فوائد وابستہ ہیں۔ وحید کو کبھی کسی حکومت کی سرپرستی حاصل نہ ہوئی (ستارۂ امتیاز بھی 2011 میں ہی ملا)، کسی بیرونی ملک یا سپرپاور نے اُن پر نظرِ عنایت نہیں کی، اُنہوں نے اپنے بارے میں کوئی سیاسی یا مذہبی دعویٰ بھی نہیں کیا اور درسی کتابوں میں بھی اُن کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

وہ تنہا ایسی شخصیت ہیں کہ اِن تمام چیزوں کے بغیر ہی اِس صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سمجھنا بھی درست نہ ہو گا کہ انہیں یہ مقام فلموں، نغموں یا ہئیر اسٹائل کی وجہ سے ملا۔ یاد رہے کہ جب وہ فوت ہوئے تو پانچ برس سے اُن کی کوئی فلم کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ اُس زمانے میں چھپنے والا مضمون بھی آپ کے سامنے ہے جس میں لکھا گیا، ’’لوگ یہ بھی بھولتے جا رہے ہیں کہ وحید مراد نام کا کوئی شخص بھی فلمی دنیا میں تھا‘‘۔ اُن کی فلمیں اور نغمے اُن کی وفات کے بعد ہی دوبارہ زندہ ہوئے۔ آج یہ سب چیزیں وحید کی وجہ سے زندہ ہیں نہ کہ وحید اِن کی وجہ سے۔

وحید نے جو مقام حاصل کیا ہے اُس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ ہم اپنے دلوں میں اُن کے لیے ایک ایسی محبت محسوس کرتے ہیں جس کی ہمیں خود بھی معلوم نہیں ہے، ’’میں تجھ کو کیا بتاؤں کہ کیا مقام تیرا کیا ہے!‘‘

ایک بہت بڑے صوفی منصور حلّاج نے ’’اناالحق‘‘ کہا اور اِس جرم میں سزائے موت پائی۔ لوگوں نے اس جملے کے مختلف معانی بتائے ہیں لیکن اقبال کے نزدیک اس کا صحیح ترجمہ ہے، ’’خودی حقیقت ہے۔‘‘ اپنی ایک تصنیف میں وہ حلّاج کی رُوح سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے یہ بات کیوں کہی۔ حلّاج جواب دیتے ہیں، ’’میرے سینے میں صورِ اسرافیل تھا جو مُردوں کو زندہ کر دیتا ہے۔ لیکن میرے سامنے ایک ایسی قوم تھی جو قبر میں لیٹی رہنا چاہتی تھی۔ ایک مسلمان قوم جس کی طبیعت کافروں جیسی تھی کیونکہ وہ خدا کے وجود کا اقرار کرتی تھی لیکن اپنے وجود کی منکر تھی!‘‘

وحید کے سامنے بھی ایک ایسی ہی قوم تھی۔ بلکہ آج بھی ہمیں اپنے اطراف میں خدا کے وجود کا اقرار کرنے والے بہت دکھائی دیتے ہیں لیکن قوم کے وجود کا اقرار کرنے والے کتنے ہیں؟

فارسی کی ایک غزل کے بارے میں مشہور ہے کہ عثمان مروندی یعنی لعل شہباز قلندر نے لکھی (بعض لوگوں کو اِس میں شبہ ہے)۔ یہ غزل اُن کے مرید، وحید مراد پر ضرور صادق آتی ہے۔ اس کا ترجمہ یوں ہے:
’’میں محبوب کے عشق میں ہر لمحہ آگ میں رقص کرتا ہوں۔ کبھی خاک میں لوٹ پوٹ ہوتا ہوں، کبھی کانٹے پر رقص کرتا ہوں!

مجھے دیکھ کر دُنیا والے کہتے ہیں کہ اے مانگنے والے، تُو کیوں رقص کرتا ہے؟ لیکن ہمارے دِلوں میں ایک راز ہے، مَیں اُسی راز کی وجہ سے رقص کرتا ہوں!

آ محبوب، ذرا دیکھ کہ میں جانبازوں کے ہجوم میں رُسوائی کے سامان کے ساتھ سرِبازار رقص کرتا ہوں!
میں عثمان مروَندی ہوں، جو خواجہ منصور حلّاج کا دوست ہے! دنیا والے مجھے ملامت کرتے ہیں اور میں دَار پر رقص کرتا ہوں!‘‘

’’وحید مراد اور ہمارا عہد‘‘ یہاں ختم ہوتی ہے، لیکن شاید نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ 1857 سے 1947 تک کی کہانی بھی اسی انداز میں پیش کروں۔ اُس پورے دَور کو قائداعظم کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ اُسے سمجھنے کے لیے ابن صفی کے ناولوں اور وحید مراد کی فلموں سے مثالیں استعمال کی جائیں۔ آپ نے انٹرول کے بعد کی کہانی دیکھ لی، اب انٹرویل سے پہلے کی کہانی کے لیے آٹھ دس قسطیں علیحدہ آ رہی ہیں۔ ہر قسط میں بہت سی ایسی باتیں ضرور ہوں گی جو ہمیں معلوم ہونی چاہئیں لیکن بالکل بھی معلوم نہیں ہیں، کسی کو بھی نہیں! اُس کتاب کا نام ہو گا، ’’سیمرغ: ہماری گمشدہ تاریخ‘‘۔

(Visited 274 times, 7 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ایک داستان یہاں ختم ہوتی ہے لیکن ایک اور ان کہی کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔ اگلی تصنیف کے لیے ہمہ تن منتظر۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: