کبھی ایسا بھی کیجیے ۔ محمود فیاض

0

ایک نیکی ایسی بھی کیجیے، کہ کوئی آنکھ نہ دیکھے، اور آپ چپکے سے کسی اندھے فقیر کو اندھیرے راستے پر ہزار کا نوٹ تھما کر، خاموشی سے، اسکی دعائیں سنے بغیر، تیز تیز قدموں سے گزر جائیے، اور گھر جا کر بھی کسی سے اسکا زکر نہ کیجیے۔
۔
ایک قربانی ایسی بھی دیجیے، کہ کوئی واہ واہ نہ کر پائے، اور آپ ایک جانور کو اپنے گھر لے آئیں۔ قصائی کو چپکے سے بلائیں، اور اسکا گوشت رازداری سے حاجت مندوں، یا غریب رشتہ داروں کے گھروں میں خؤد دے آئیں، (اپنے شیخی خور بارہ سالہ بیٹے کو نہ بھیجیں، جو پوچھ سکے ، خالہ آپ کے گھر واشنگ مشین نہیں ہے؟)
۔
ایک عمرہ ایسا بھی کیجیے، کہ صرف اللہ کے لیے ہو، اور آپ اپنا ٹکٹ پاسپورٹ جیب میں ڈالے خاموشی سے ائیرپورٹ چلے جائیں۔ نہ مدینے والے کے بلاوے کا دعوی کریں، نہ دوسرے کم نصیبوں کو سنائیں۔ جا کر اپنے پھیرے لگائیں، سر منڈائیں اور بغیر سیلفی لیے مدینے کو روانہ ہو جائیں۔ وہاں کی نمازوں، روح پرور نظاروں اور دل کے کایا کلپ ہونے کو اپنے ہی دل میں رکھیں۔ اور اسی عاجزی سے واپس آ کر اپنے کاموں میں لگ جائیں۔
۔
کبھی ایسا کر کے دیکھیے، آپ کا دل، آپکی روح اتنی تالی پیٹے گی کہ آپ کو باہر کی کسی تالی ، کسی واہ واہ کی حاجت نہیں رہے گی۔
۔
کبھی ایسا بھی کیجیے !!

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: