حیرت انگیز رفتارِ تصنیف ——- محمود خارانی

0
  • 131
    Shares

اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ کے عظیم اور نامور مصنفین کی کثرت تصانیف کا راز اس بات میں مضمر تھا کہ وہ وقت کے بڑے قدر دان تھے، لمحہ لمحہ تول تول کر خرچ کرتے تھے، اپنے بناۓ ہوۓ نظام الاوقات پر سختی سے کاربند رہتے تھے۔۔۔ مگر یہ خوشگوار حقیقت بھی قابل ﺫکر ھے کہ اللہ تعالی نے انہیں لکھنے میں تیزرفتاری کی وہ حیرت انگیز صلاحیت بھی عطا کی تھی، جس کی بدولت ان کیلئے عظیم تصنیفی کارنامے سر انجام دینا قدرے زیادہ آسان ہوگیا تھا۔ اسی سلسلے میں ﺫیل میں صرف تین علمی شخصیات کی حیرت انگیز تصنیفی رفتار کا تذکرہ پیش خدمت ہے:

ابن جوزی رحمہ اللہ

علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ چھٹی صدی ہجری کی عظیم علمی شخصیت تھے، آپ نے زمانہ طالب علمی میں بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کر ڈالا، ولولہ انگیز خطابت کا جوہر رکھتے تھے، آپ کی اثر انگیز خطابت سے متاثر ہو کر بیس ہزار کافروں نے اسلام قبول کیا، جبکہ آپ کے ہاتھ پر توبہ کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ بتائی جاتی ہے۔وقت کے بڑے قدر دان تھے، ہر وقت علمی مشاغل میں مصروف رہتے تھے، کوئی فن آپ کی تصانیف سے خالی نہ تھا، علامہ ذھبی نے کہا ہے کہ “میرے علم کے میں کوئی ایسا عالم نہیں گزرا ہے جس نے اس شخص جتنی تصانیف کا ذخیرہ چھوڑا ہو۔” آپ کی تصنیفی رفتار کا اندازہ اس سے لگائیے کہ آپ کے پوتے ابو المظفر کہتے ہیں کہ آخر عمر میں ایک دن میرے دادا ابن جوزی نے بر سر منبر کہا کہ: “میں نے اپنی ان انگلیوں سے دو ہزار(2000) جلدیں لکھی ہیں.” کہا جاتا ھے کہ جب ان کی عمر کے دنوں اور تصانیف کا حساب لگایا گیا تو روزانہ نو جز لکھنے کی تصنیفی رفتار کا نتیجہ نکلا۔ آپ نوے سال کی عمر میں3 رمضان 597ھ کو انتقال فرما گئے۔

امام رازی رحمہ اللہ

مشہور عربی تفسیر، تفسیرکبیر (جو تیس جلدوں پر مشتمل ہے) کے مصنف امام فخر الدین محمد رازی خراسان کے مردم خیز شہر “رے” میں 24 رمصان 543ھ/544ھ میں پیدا ہوئے، معاشی تنگدستی کے باوجود حصول علم کا سفر جاری رکھا، یونانی فلسفے سے متاثر لوگوں سے کامیاب مناظرے کئے،جس زمانے میں ہندوستان پر سلطان شہاب الدین غوری کی حکومت تھی اسی دور میں خراسان پر ان کا بھائی سلطان غیاث الدین غوری بر سر اقتدار تھا، جنہوں نے ہرات کی جامع مسجد کے قریب امام رازی کیلئے ایک بڑا مدرسہ بنایا جو ان کیلئے مرکز فیض بن گیا، امام رازی کی تصانیف کی تعداد 80 (اسی) سے زیادہ تھی، آپ کی رفتار تصنیف بھی نہایت حیرت انگیز تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ انہوں نے سورہ حم السجدۃ کی تفسیر کل دو روز میں مکمل کی، اس سورۃ کی تفسیر باریک ٹائپ اور بڑے سائز کے چالیس صفحات پر مشتمل ھے، جس کا مطلب یہ ھے کہ ایک دن میں بیس صفحات تصنیف کئے، سورہ توبہ کی تفسیر جو 193صفحات پر مشتمل ھے صرف چودہ روز میں مکمل ہوئی، یعنی چودہ صفحات روزانہ لکھے گئے،حالانکہ آج ایک دن میں اس سائز کے چودہ صفحات کو صرف نقل کرنا بھی نہایت مشکل ھے۔

یہ بھی بتاتا چلوں کہ امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر سورہ الفتح تک لکھی تھی کہ 606ھ میں ٹھیک عید کے روز تریسٹھ(63) سال کی عمر میں وفات پاگئے، تفسیر کے باقی تقریبا ساڑھے چار پارے ایک دوسرے بزرگ قاضی شہاب الدین الخوبی رحمہ اللہ نے مکمل کئے۔

علامہ عینی رحمہ اللہ

علامہ بدر الدین عینی مصر میں حنفی مسلک کے عظیم فقیہ اور محدث تھے، حدیث میں صحیح بخاری کی شرح عمدۃ القاری، اور فقہ، میں ھدایہ کی شرح اور کنز الدقائق کی شرح آپ کے علم و تفقہ کی دلیل ہیں۔ آپ کی کثرت تصانیف کے بارے میں مردم شناس حافظ سخاوی کا کہنا ہے کہ “میری معلومات میں حافظ ابن حجر عسقلانی کے بعد علامہ عینی سے زیادہ کتابیں لکھنے والا کوئی نہیں”۔

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی علامہ عینی کی زود نویسی کی صلاحیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

“علامہ عینی رحمہ اللہ کو اللہ تعالی نے علم و فضل، حافظے اور قوت تحریر کا ایسا ملکہ عطا فرمایا تھا جو خال خال کسی کو نصیب ہوتا ھے۔ سرعت تحریر کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ پوری “مختصر القدوری” (جو فقہ کی ایک ضخیم کتاب ہے اور مدارس کے نصاب میں شامل ہے) ایک رات میں نقل کردی”. علامہ عینی 855ھ میں وفات پا گئے۔

أولئک آبائی فجئنی بمثلھم

حوالہ جات:
(1)… قیمۃ الزمن/63، شیخ عبد الفتاح ابو غدہ،
(2)… نشری تقریریں/127 مفتی محمد تقی عثمانی
(3)… تذکرے/176 مفتی تقی عثمانی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: