پانامہ گیٹ فیصلہ، آئیڈیل اپروچ یا پریکٹیکل اپروچ ۔ محمودفیاض

0

پانامہ لیکس پر فیصلہ آنے والا ہے اور ہر طرف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ فریقین نے جتنا زور لگانا تھا لگا چکے، ججوں نے سارے کاغذات سنبھال کر اپنے کیبنز کا رخ کر لیا ہے، آنے والے دن بتانے والے ہیں کہ ان کاغذات کو ثبوت کی حیثیت حاصل ہو گی یا محلے کی پکوڑے والی دکان کی ردی کی۔

دیکھیے! دو ہی طریقے ہیں کسی صورتحال کو دیکھنے کے۔ آئیڈیل اپروچ اور پریکٹیکل اپروچ۔

پریکٹیکل اپروچ والے کہتے ہیں کہ ملک کا نظام پٹڑی پر چل رہا ہے، تو ایک کرپٹ وزیر اعظم کو ہٹانے سے اس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہمیں پتہ چل گیا ہے وہ کرپٹ ہے، بس یہ زرا کچھ حالات درست ہو جائیں پھر اس مسئلے کو دیکھ لیتے ہیں، فی الحال پرنالہ وہیں رہنے دیں۔

پریکٹیکل اپروچ والے بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔

آئیڈیل اپروچ والے کہتے ہیں کہ ایک کرپٹ شخص کے نیچے سارا نظام کرپٹ ہو جاتا ہے، اور ہمارا ملک اس سے بھی بری حالت میں چلا جائے گا۔ ہمیں اس گند کو صاف کرنا ہی ہو گا، تاکہ ہم بہتر لوگوں کو آگے لا سکیں، اور صحیح والی ترقی کر سکیں۔

آئیڈیل اپروچ والے بھی ٹھیک کہتے ہیں۔

۔

سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنی پٹاری میں کیا چھپا رکھا ہے، وہ تو کچھ روز میں سامنے آ ہی جائے گا۔ یہ طے ہے کہ ہمارا نظام انصاف ماضی میں پریکٹیکل اپروچ کے زیادہ قریب رہا ہے، کہ اس پریکٹیکل اپروچ میں اپنی گردن بچانا اور مستقبل کے فائدے حاصل کرنا بھی شامل ہو جاتا ہے۔ البتہ عدلیہ کی حالیہ تاریخ مختلف اشارے دے رہی ہے، اور ایسا کچھ بھی سامنے آ سکتا ہے جس میں پریکٹیکل اپروچ کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ آئیڈیل بھی حاصل ہو جائے۔

۔

بحیثیت پاکستانی میری پوری خواہش ہے کہ پاکستان چلے، دوڑے بھاگے۔ مگر کچھ باتیں باوجود کوشش کے سمجھ نہیں آتیں۔

پہلی بات تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ ایک ایسا وزیر اعظم جس کی کرپشن ثابت ہو چکی ہو، وہ کسی بھی معاشرے یا قوم کی رہنمائی کے لیے ناگزیر کیسے رہ سکتا ہے۔ چلیے یہ تو کتابی بات ہو گئی، زرا زمینی حقائق پر نظر ڈال لیجیے۔ ایک ایسا ملک جس کی ایک واضح تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحد ہو، ایک پروفیشنل فوج ہو، جو فرد واحد کی بجائے ریاست کی وفادار ہو، عدلیہ ہو، جو اپنے وزیر اعظم کو کٹہرے میں کھڑا کر سکتی ہو، پارلیمنٹ ہو، جو برے سے برے تجزیے میں بھی الیکشن ہی کے زریعے بھری جا سکتی ہو، انتہائی متحرک بلکہ قابو سے باہر میڈیا ہو، اور سوشل میڈیا کے زریعے جاگی ہوئی بیس کروڑ عوام ہو، کیسے محض ایک فرد یا چند خاندانوں کی گٹھ جوڑ سے بنے ایک گروہ کے ہاتھوں یرغمال تصور کیا جا سکتا ہے؟

دوسری بات یہ بھی ہضم کرنا مشکل ہے کہ کسی فرد کے زاتی تعلقات ملکوں کی سطح پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اگر اکیسویں صدی کے انتہائی تیز رفتار رابطوں کی دنیا میں کوئی شخص کسی ملک کے متعدد دورے کر کے آپ کو یہ بتانے کی کوشش کرے کہ اسکے علاوہ کوئی دوسرا شخص اسکی جگہ نہیں لے سکتا تو اسکو مہذب ملکوں کی تقریب حلف برداری دکھا دی جائے ، جہاں آئے روز لوگ بدل جاتے ہیں، مگر ملکوں کے تعلقات اور معاہدے وہیں رہتے ہیں۔ سیدھے لفظوں میں اگر چین نے صرف شریف برادران کی وجہ سے سی-پیک کو مکمل کرنا ہے، تو چین سے بڑا افیمی کوئی نہیں۔

تیسری بات جو اس سارے قضیے میں سمجھ نہیں آتی، وہ یہ ہے کہ اس مقدمے کو محض ایک غیر رسمی اپوزیشن یعنی تحریک انصاف سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، جس سے لگتا ہے کہ ملکی اداروں اور پاکستانی عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ہزاروں ارب کی کرپشن کے الزامات والا شخص بھلے انکا وزیر اعظم بنے یا سرکاری مہمان، وہ لاتعلق ہیں۔ حالانکہ اس سے بڑی غلط فہمی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ جس ملک کے ہر ادارے کو کرپشن جڑوں سے کھوکھلا کر چکا ہو، وہاں کرپشن کرنے والے کو کوئی مسئلہ ہی نہ سمجھا جائے۔

اب واپس آئیڈیل اور پریکٹیکل اپروچ پر آتے ہیں۔ میری رائے میں ہمیں تاریخ سے بھی تھوڑا سبق لے لینا چاہیے۔ بھلے پریکٹیکل اپروچ کتنی ہی پریکٹیکل اور فائدہ مند کیوں نہ ہو، انسانی ترقی آئیڈیل اپروچ کی جانب رجوع کرنے سے ہی ممکن ہوئی ہے۔ امریکہ میں جمہوریت کے آغاز پر کسی فرد واحد کو ناگزیر نہیں سمجھا گیا۔ ورنہ آج وہ اپنے سربراہوں کی نصف سنچری کرنے کے قریب نہ ہوتے۔ برطانیہ جو جمہوریت کا قدیم نشان سمجھا جاتا ہے، وہاں ایسے ناگزیر لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، اور انکا نظام چلتا رہتا ہے۔

آپ وکی پیڈیا کھول لیں، اور ایک ایک ملک کی اکانومی چیک کرتے جائیں۔ پھر انکا طرز حکومت بھی دیکھیں۔ آپ کو تیل والے ملک نکال کر باقی ہر جگہ ایک قدر مشترک نظر آئے گی۔ جہاں فرد واحد بہت عرصے تک حکمران ہے، وہاں اکانومی، انسانی ترقی، اور دیگر اشاریے یا تو منفی ہیں، یا ایک جگہ رک چکے ہیں۔

تو دوستو! آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے کچھ بھی برامد ہو، ہماری کوشش ہونا چاہیے، اسکو ملکی مفاد میں استعمال کریں۔ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے نے پریکٹیکل اپروچ کو اپنایا تو ہمیں اپنی ساری توانائیاں ایسے کرپٹ عناصر کو بذریعہ انتخابات باہر کر دینے پر لگا دینا چاہئیں۔ اور اگر قدرت نے سپریم کورٹ کے زریعے ملک سے سیاسی و مالی کرپشن کے خاتمے کا آغاز کرنا چاہا، تو ہوسکتا ہے یہ فیصلہ ہماری ملکی تاریخ میں ترقی کا ایک سنگ میل ثابت ہو۔ اس صورت میں بھی بحیثیت قوم ہم پر یہ زمہ داری آن پڑتی ہے کہ صرف ایک کرپٹ سربراہ حکومت کے انخلا پر خوش ہو کر نہ بیٹھ جائیں، بلکہ ملکی سیاسی منظر نامے پر موجود ہر کرپٹ بندے کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔ چاہے یہ کردار، ایک سطری (قطری نہیں) اسٹیٹس سے ہو، ایک ہیش ٹیگ سے، یا سڑکوں پر کھڑے ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے تک۔

یاد رکھیے! تاریخ اور دوسری اقوام، کرپٹ افراد کو بھول جاتی ہیں، مگر کرپٹ قوموں کو زندہ دفن کر دیتی ہیں۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: