انشائیہ: ہمسفر گانے کا طریقہ

0
  • 88
    Shares

ہمسفر گانا نہیں، ایک معصوم سا جھگڑا ہے، ایک فِیل آف سارو ہے، ایک بکھری ہوئی داستان کا درد ہے، اس گانے کا سارا درد اس بات میں پنہاں ہے کہ گانے والی کو اچانک بچھڑنے والے کی خوبیاں یاد آ گئی تھیں۔

جیسے تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد، شائد اس بچھڑنے والے کا نام بھی ایوب خان تھا کیونکہ اب تک تاریخ نے ایک ہی بندہ مرتب کیا ہے جس کی یاد بعد میں آئی تھی، اگر اس بندے کا نام ایوب خان نہیں تو سمجھیں اب یہ دو ہو گئے ہیں لیکن دوسرا ابھی تک ٹرکوں کے پیچھے نظر نہیں آیا حالانکہ ٹرک کے پیچھے لکھا ہوا یہ بھی اچھا لگے گا۔

؎ وہ ہمسفر تھا مگر ……

ساتھ میں adidas والوں کی بھورے بالوں والی اس ماڈل گرل کی تصویر خوب جچے گی جو ہونٹوں پہ انگوٹھا رکھ کے دیکھ رہی ہوتی ہے، شائد وہ ناخن چبانا چاہتی تھی کہ اچانک اس کی تصویر کھینچ لی گئی۔

بات ہو رہی تھی ہمسفر کی کہ یہ گانا ایک خاندانی جھگڑے کی پیداوار ہے اور یہ جھگڑا وراثت کی تقسیم سے شروع ہوا تھا، گانے کا انترا اس بات کا گواہ ہے کہ یہ گانا نہیں بلکہ لوک داستان ہے جو دو پیار کرنے والے کزنوں کے درمیان وراثت کا مال ضائع کرنے پر وجہ تنازع بنی۔

ثبوت ملاحظہ کیجئے

ترکے کے آلو کاٹ کے رویا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ رات بھر سویا نہ تو نہ میں

گانے کے شروع میں اس شعر کو جس طرح بغیر میوزک کے والہانہ انداز سے گایا گیا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ لڑکی کو اس سانحے کا کتنا دکھ ہے جبکہ دوسرے مصرعے سے پتا چلتا ہے کہ موصوفہ کو اس زیاں پر افسوس سے زیادہ نیند نہ آنے کی پریشانی ہے۔

جس بندے نے کبھی گانا نہیں گنگنایا سمجھو وہ خشک مزاج ہے اور جس نے ہمسفر نہیں گایا سمجھو یہ وہی بندہ ہے جس کے بارے میں یہ گانا بنا ہے، اگر اس بات سے گڑبڑا کر آپ نے ہمسفر گانے کا موڈ بنا لیا ہو تو پھر گانے سے پہلے گانے کا طریقہ بغور پڑھنا آپ کے اوپر لازم ہے تاکہ گاتے وقت انجانے میں آپ اس گانے کا تقدس پامال نہ کر دیں۔

سب سے پہلے تو آپ لوگ یہ فیصلہ کریں کہ اس گانے کو مروجہ جدید اردو زبان میں گانا ہے یا وہی پرانی گھسی پِٹی اردو میں گانا ہے؟

جدید اردو وہ ہوتی ہے جس میں آپ لوگ “یو نووو” سے بات شروع کرتے ہیں اور درمیان میں کسی اوکھلی میں پھنس جانے والی جگہ پہ “ایکچوئیلی” اور اگلی ملحقہ گھاٹی پر “آئی تھنک” لگا کر اپنی اوقات یعنی وہی اردوئے محلہ پر واپس آجاتے ہیں۔

جدید اردو میں یہ مرحلہ بلکل ایسے ہے جیسے سوٹڈ بوٹڈ بندہ کسی نروسنیس کے مرحلے پر پہلے بایاں پھر دائیاں کف۔لنک کھول کر دوبارہ بند کرتا ہے، جب آپ یہ دیکھیں کہ کوئی بندہ یا بندی دوران گفتگو انگلش شروع کر کے رکشے کے سائیلینسر کی طرح مسنگ شروع کر دے تو سمجھ لیجئے اسے کف۔لنک لگانے کی ضرورت پیش آ چکی ہے، ایسے موقع پر اسے ایکچوئیلی اور آئی تھنک استعمال کرنا یاد کرا کے شکریہ کا موقع ضرور دیں، اگر وہ شکریہ کے معاملے میں ڈھٹائی اختیار کرے تو سمجھ لیجئے یہ ہمسفر گانے کا بہترین موقع ہے کیونکہ ہر تکلیف دہ گانا کسی نہ کسی تکلیف دہ موقع کیلئے ہی بنا ہوتا ہے۔

اگر اس مروجہ طرز تکلم کو آپ سمجھ گئے ہیں تو پھر ہمسفر کو اسی زبان میں گانے کا ایک نمونے دیکھ لیجئے اور باقی کا گانا اپنی سمجھ کے مطابق آپ خود انگلشنائیز کرلیجئے گا۔

ترک تعلقات پہ ویپا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ رات بھر سلیپا نہ تو نہ میں

آپ یہ دیکھیں کہ اس میں کونفیڈینس کتنا ہے، دونوں مصروں میں انگریزی اس طرح فٹ ہوئی ہے جیسے اچانک سے “ننان” دو ماہ کی چھٹیوں میں بچوں سمیت میکے آکے گھر میں پہلے کی طرح سے فٹ ہو جاتی ہے۔

استاد کا کام سکھانا ہوتا ہے، اگر آپ نے کف۔لنک لگانا سیکھ لیا ہے تو باقی کے ہمسفر کو بھی اسی طرح ہر شعر میں کف۔لنگ لگاتے جائیں۔

اب اسے دوبارہ پڑھیں،
ترک تعلقات پہ ویپا نہ تو نہ میںءءءں

میں ~ پہ زرا مسکین سا منہ بنا لینا ہے کیونکہ جب رونا نہ آئے تو رونے جیسی شکل بنا لینی چاہئے۔

ترک تعلقات پہ ویپا نہ تو نہ میںءءءءءءءءءں

میں کو زرا لمبا کھینچنا ہے تاکہ “اُس” کے مقابلے مِیں، “مَیں” کی بھر پور اہمیت واضع ہو جائے، اور “تُو” کو “توں” نہیں کہنا تاکہ اپنائیت ظاہر نہ ہو۔

لیکن یہ کیا کہ رات بھر سلیپا نہ تو نہ میںءءءءءءں

سلیپا ~ پہ آنکھیں بند کرلینی ہیں کیونکہ جب نیند پوری نہ ہوئی ہو تو آنکھیں خوامخواہ بند ہوتی ہیں، اس نقطے کا خیال رہنا چاہئے۔

یہ اس گانے کا انترا ہے اس لئے نہائیت توجہ سے گانے کی ضروررت ہے کیونکہ جتنا یہ انترا ہے اتنا ہی یہ اوونترا ہے لہذا توجہ سے گائیے۔

ویپا ~ پہ رونے جیسی شکل بنا کے،
سلیپا ~ پہ آنکھیں بند اور میںءءء پہ مسکین سا منہ بنا کے اگر کامیابی سے نکل جائیں بلکہ زندہ سلامت بچ جائیں تو پھر آگے چلیں۔

وہ ہمسفر تھا
وہ ہمسفرررر تھاآآآ

رکیں زرا
گلی میں سے پاپڑ کرارے والے کی آواز آرہی ہے، اس کو جانے دیں ورنہ گانا خراب کرے گا۔

چلیں اب دوبارہ سے گانا شروع کرتے ہیں،

وہ ہمسفر تھا
وہ ہمسفرررر تھا
وہ ہمسفررررررر تھا

ہمسفر کا تذکرہ بار بار کرنا ہے لیکن
ہمسفر کو لفٹ بلکل نہیں کرانی
بلکہ
تھا ~ پہ زور دینا ہے
تھآآآاااااااآآآآآ
وہ ہمسفر تھااااااآآآآ

نہیں نہیں
بات نہیں بنی
تھا ~ پہ …… ناک بھی بند کر لینا ہے۔

ناک کا بند ہونا دراصل ترک تعلقات کا اشارہ ہے اور یہ مصرع بند ناک سے گانے کا اپنا ہی مزا ہے، لہذا ناک بند رہے اور منہ کھول دینا ہے۔

جیسے دوائی پیتے وقت بچہ منہ کھولتا ہے،
بلکہ بچے کو دوائی پلاتے وقت جیسے خالہ بھی ساتھ ساتھ اپنا منہ کھولتی ہے، ویسے…!

وہ ہمسفررر تھااااآآاااااآاآا مگر
مگر ~ پہ کندھے ڈھیلے چھوڑ دینے ہیں،

وہ ہمسفررر تھاااآاااآااااآا مگر
اس سے آشنائی نہ تھی

آشنائی کو رازداری سے کہنا ہے تاکہ کوئی بُوا ٹائیپ آنٹی نہ سن لے ورنہ پوری اسٹوری تراش خراش کے اس نے محلے کو سنا دینی ہے اور گانے والے کے فرشتوں کو بھی پتا نہیں چلنا کہ لوگ اسے آتے جاتے مشکوک نظروں سے کیوں دیکھتے ہیں۔

وہ ہمسفررر تھاااآاااآااااآا مگر
اس سے آشنائی نہ تھی

آش اور نائی کو ملا کر بولنا ہے،
انہیں کسی قیمت پر بھی علیحدہ نہیں کرنا،
کیونکہ اس سے نائی کا مقام مجروح ہوتا ہے۔

اس سے آشنآااآآاائی نہ تھی
آشنائی ~ پہ آکے زرا سا شرمانا بھی ہے

آشنائی چونکہ بیہودہ سا کام ہے
اس لئے یہاں شرمانا بنتا ہے

وہ ہمسفررر تھاااآاااآااااآا مگر
اس سے آشنائی نہ تھی

نہ تھی ~ کے اوپر آپ نے تھوڑا سا پراؤڈ فیل کرنا ہے کیونکہ آپ آشنائی جیسے گھٹیا کام کا انکار کر رہے ہیں اس لئے یہاں اپنے آپ کو عزتدار محسوس کرنا بنتا ہے۔

وہ ہمسفررر تھاااآاااآااااآا مگر
اس سے آشنائی نہ تھی

بس یہی مرحلہ زرا سخت تھا
اس کے بعد فاسٹ میوزک آپ کے ساتھ ہوگا، اب جو چاہیں جیسے چاہیں گاتے جائیں، اب الٹی سیدھی لَے سے کچھ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ فاسٹ میوزک میں سب کچھ دب جاتا ہے۔

شروع شروع میں میوزک اس لئے ساتھ نہیں دیتا کہ جیسے برے وقت میں سایہ ساتھ چھوڑ جاتا ہے ایسے ہی گاتے ہوئے مشکل مقام پر میوزک بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔

عموماً جہاں سے گانا اسموتھ ہوجاتا ہے وہاں سے میوزک بھی گھٹائیں بن بن کے آتا ہے اور بے دریغ برستا ہے۔

اس موقع پر ایک اور بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، ڈی جے سے کہنا ہے کہ فاسٹ میوزک دینا ہے، کہیں فاشسٹ میوزک نہ دیدے کیونکہ گانا لبرل ہے لہذا فاشسٹ میوزک سے اس گانے کا حسن مزید خراب ہو سکتا ہے۔

وہ ہمسفررر تھاااآاااآااااآا مگر
اس سے آشنائی نہ تھی

لیجئے گانے کا مشکل مرحلہ بطریق احسن بلکہ حسنِ کامیابی سے عبور ہو گیا ہے، سہاگ رات اور اس گانے میں بس شروع کا آدھا گھنٹہ ہی زرا مشکل ہوتا ہے، اب رواں شدہ ازدواجی زندگی کی طرح جیسے مرضی ہے گاتے جائیں۔

جتنا پیارا گانا ہے یہ اتنا ہی مختصر ہے، ہونا یہ چاہئے تھا کہ گانا کم از کم ایک ڈیڑھ گھنٹے کا ہوتا بلکہ پوری فلم جتنا ہوتا تاکہ ان کے درمیان کی ساری باتیں ایک ایک کر کے کھل جاتیں تو اچھا تھا لیکن اب اور تو کچھ نہیں ہو سکتا سوائے اس کے کہ ہم خود ہی کوشش کر کے اس کمی کو پورا کر لیں۔

ترکے کے آلو کاٹ کے رویا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ رات بھر سویا نہ تو نہ میں
وہ ہمسفررر تھاااآاااآااااآا مگر
اس سے آشنائی نہ تھی

مل جل کے یخنی پلاؤ بنایا تھآااااآ مگر
لیکن یہ کیا کہ مل کے کھایا نہ تو نہ میں
وہ ھمسفررر تھاااآاااآااااآا مگر
اس سے آشنائی نہ تھی

وہ چائے لے کے آیا تھا فقط میرے لئے
لیکن یہ کیا کہ اس میں ملآآآآآئی نہ تھی
وہ ھمسفررر تھاااآاااآااااآا مگر
اس سے آشنائی نہ تھی

ڈیو کی چار بوووتلیں وہ رکھتاآآآ تھا مگر
مجھ کو تو ایک گھونٹ بھی پلاآااائی نہ تھی
وہ ھمسفررر تھاااآاااآااااآا مگر
اس سے آشنائی نہ تھی

عداوتیں تھیں، رنجشیں تھیں، تغافل تھآااااآ مگر
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا بیوفآاااآئی نہ تھی
وہ ھمسفررر تھاااآاااآااااآا مگر
اس سے آشنائی نہ تھی

میں نے اوپر کہا تھا کہ یہ خاندانی جھگڑا ہے، اس شعر سے پتا چلتا ہے کہ کوئی ایک مسئلہ نہیں تھا بلکہ جو بھی تھا صیغہ جمع میں وافر مقدار میں تھا لیکن اس کے باوجود لڑکی کو افسوس ہے، کیا پتا لڑکی خود بھی لڑاکی ہو اور یہ کہنا چاہتی ہو کہ باقی سب کچھ تو پورا تھا لیکن یہی ایک کمی تھی، اسے تھوڑا سا بیوفا بھی ہونا چاہئے تھا، بعض لڑکیاں اپنے محبوب کی بیوفائی دیکھ کر صرف اس لئے خوش ہوتی ہیں کہ اس طرح انہیں یہ باور ہو جاتا ہے کہ محبوب کا کونفیڈینس بہت اچھا ہے اس کے برعکس جو لوگ وفاداری ثابت کرنے پر تُلے رہتے ہیں ان کی بیویاں بسا اوقات انہیں “جُھڈو” ہی سمجھتی ہیں لہذا بندے کو تھوڑا بہت کونفیڈینس شو کرتے رہنا چاہئے ورنہ بیوی یا محبوبہ شکوہ بھی کر سکتی ہے کہ سب کچھ تھا مگر بیوفائی نہ تھی۔

نئے گانے والوں کے لئے اس گانے کی اہمیت اس بامعنی جملے کی طرح سے ہے جس میں انگریزی کے سارے حروف تہجی شامل ہیں، دی کوئیک براؤن فوکس جمپس اوور دی لیزی ڈوگ کی طرح یہ گانا گا لینے والوں کو مزید کسی ریاض کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

علاوہ ازیں اس گانے کے مافی الضمیر کو دیکھتے ہوئے مزید دو باتیں بھی ظاہر ہوتی ہیں۔

پہلی یہ کہ انسان ساری محنت کسی مقصد کے حصول کےلئے کرتا ہے، جب مقصد کا حصول ممکن نظر نہ آئے تو کسی مرحلے پر اس کا حوصلہ جواب دے جاتا ہے، جب وہ غریب ٹرائیاں مار رہا تھا تب تو اسے پلہ نہیں پکڑایا، اب ایسی ہیکیں لگا لگا کے دہائی دینے کا بھلا کیا فائدہ، سوال یہ ہے کہ جب آشنائی تھی ہی نہیں تو اتنے سارے خرچے وہ بیچارہ کیوں کرتا، سو لامحالہ اسے جانا ہی تھا۔

دوسری یہ کہ آپ اگر سمجھتے ہیں، یہ کوئی دردناک گانا ہے تو آپ سخت غلطی پر ہیں۔

یہ گانا دراصل کنوارے لوگوں کی فیس سیونگ کےلئے گایا جاتا ہے، جب گھر والوں کو شک پڑ جائے کہ آپ کی کہیں سیٹنگ چل رہی ہے تو یہ گانا اس وقت گانا چاہئے جب قبلہ والد صاحب لان میں بیٹھے شام کی چائے پی رہے ہوں تاکہ انہیں اچھی طرح سے باور ہو جائے کہ ان کی اولاد کسی قسم کی اُوٹ پٹانگ سیٹنگ میں ملوث نہیں اور اس سلسلے میں والد صاحب کو جو بھی معلومات ملی ہیں وہ انتہائی غیر معتبر اور کسی “جھاکے” پر مبنی ہیں۔

سو یہ گانا جس راگ میں، جس طرز میں، جن حالات میں بھی گایا جائے اگر مندرجہ بالا اصولوں کو مدنظر رکھ کر گایا جائے تو نہ صرف آپ کے متعلق ہر قسم کے مغالطوں کو رفع کرنے میں اکسیر خاص ثابت ہوگا بلکہ کیریکٹر سرٹیفکیٹ کی حیثیت سے یہ آپ کی بدیہی خوبیوں کو بھی اجاگر کرے گا جن میں آپ کا گائیک ظاہر ہونا بطور خاص شامل ہے جو دوسروں کےلئے خوشگوار حیرت کا باعث بھی ہوگا۔

اگر اتنی ساری مفید باتوں کے علاوہ ہمسفر گانے کا مفصل طریقہ آپ کی سمجھ میں آ گیا ہو تو پھر انتظار کس بات کا، بس منہ تھوڑا سا ڈھیلا چھوڑیں، ناک بند کرلیں اور ہو جائیں شروع…

وہ ہمسفررر تھاااآاااآااااآ مگر
اس سے آشناآآااااآآئی نہ تھی

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: