بے ضرر واہمہ اور مکمل خاموشی ——– رشاد بخاری

0
  • 23
    Shares

میں ایک سند یافتہ اکاؤنٹنٹ ہوں اور ایک عقلی انسان ہوں بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے اور اگر چیزوں کو ان کی درست ترتیب سے رکھا جائے تو میں ایک عقلی انسان پہلے ہوں اور اکاؤنٹنٹ بعد میں۔ مجھے ترتیب پسند ہے۔ واضح، ٹھوس اور قطعی علامات جیسے جمع(+) کی صاف ستھری واضح اور ٹھوس علامت یا سیدھی اور مکمل نفی(-) کی علامت ہمیشہ میرے دل کو بھاتی ہے۔ میں فہرستیں بناتا ہوں، ہمیشہ وقت کی پا بندی کرتا ہوں اور ٹوپی پہنتا ہوں۔ غفران کا خیال ہے کہ اس وجہ سے میرے سر کے بال گر رہے ہیں۔ غفران دفتر میں میرے ساتھ کام کرتا ہے۔ اس کی شادی بہت کم عمری میں ہو گئی تھی جس کا اسے بے حد افسوس ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس کے اس خیال کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں ہے کہ ٹوپی پہننے سے بال گرنے لگتے ہیں۔ ایسی چیزیں عام طور پر موروثی ہوتی ہیں اور باپ دادا سے انسان کو منتقل ہوتی ہیں۔ اگرچہ میرے والد صاحب کے سر پر بڑے گھنے اور گہرے بال ہیں لیکن میرے باقی آباؤ اجداد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان میں سے کوئی ایک ضرور گنجا تھا اور میری کشادہ ہوتی پیشانی میرے اجداد میں سے ہی کسی کی مرہون منت ہے۔ ٹیلنٹ ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے بارے میں میں نے کہیں پڑھا ہے کہ اکثر ایک یا دو نسلوں کو چھوڑ کر آگے بڑھتا ہے جیسے باپ سے بیٹے کے بجائے مثلاً چچا سے بھتیجے یا ماموں سے بھانجے کو بھی منتقل ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں کافی تحقیق ہو چکی ہے۔ یقیناً استثنیٰ موجود ہوتے ہیں۔ لیکن تحقیق سے اس امر کی وضاحت شروع ہو چکی ہے۔ اپنے والدین سے ایسے اختلاف کے سبب کبھی بھی مجھے خیال نہیں آیا کہ شاید میں ان کا اصل بیٹا نہیں۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ میرے یہ والدین میرے اصل والدین ہیں۔ البتہ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ شاید وہ مجھے اپنا اصل بیٹا نہیں سمجھتے۔

چلیئے میں آپ کو تھوڑا سا اپنے ابا کے بارے میں بتاتا ہوں۔ وہ ایک ہائی سکول میں استاد ہیں اور پچیس سال سے ہر سال گرمیوں میں انہیں تقریباً تین ماہ کی چھٹیاں ہوتی ہیں۔ لیکن، کبھی بھی، ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنے اس وقت کا صحیح استعمال کیا ہو۔ وہ کسی سمر سکول میں پڑھا سکتے تھے۔ اپنا کوئی چھوٹا موٹا بزنس شروع کر سکتے تھے یا کسی ڈیپارٹمنٹل سٹور پر کلر کی یا حساب کتاب کا کام کر سکتے تھے۔ کوئی بھی کام جس سے ان کے وقت کا بہتر استعمال ہو سکتا۔ جیسے جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے انہوں نے ایک پوری گرمیاں صوفے پر لیٹ کر کتابیں پڑھتے گزار دیں۔ چند ایک بار وہ سیر و تفریح کے لیے کہیں چلے گئے۔ ایک باروہ شمالی علاقہ جات گئے۔ ان کی آمدن سچی بات ہے اگرچہ گزارے کے لیے کافی تھی، لیکن مجھے ڈر ہے کہ صرف ایک بڑی بیماری ان کی ساری جمع پونجی کھا جائے گی۔ میں نے کئی بار ان کے ساتھ ان کی زندگی کی پلاننگ یا منصوبہ بندی کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی۔ وہ میری سنتے ضرور ہیں لیکن ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔

میری امی۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے یہ مثال میرا مطلب واضح کرنے کے لیے کافی رہے گی۔۔۔۔۔۔ میری امی کو یقین ہے کہ وحید مراد، وہ اداکار جس کا کئی سال پہلے کثرت شراب نوشی سے انتقال ہو گیا تھا، ابھی تک زندہ ہے۔ وہ جب بھی وحید مراد کے بارے میں بات کرتی ہیں میرے والد محض ہنسی میں اڑا دیتے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اس صورت حال سے کافی حظ اٹھاتے ہیں۔ میں کئی بار وحید مراد کی موت کی خبر شائع کرنے والے اخبار اور رسالے اور اس کی یاد میں شائع کئے گئے فیچر اور مضامین گھر لے کر گیا اور اپنی والدہ کو دکھائے کہ وحید مراد بلاشبہ ایک بڑے ہیرو تھے لیکن وہ اصل میں اور واقعتاً مر چکے ہیں۔ میں نے سارے اور پکے ثبوت ان کے سامنے رکھ دیئے لیکن وہ نہیں مانیں۔ ایسا نہیں ہے کہ مجھے اس کی فکر ہو۔ نہیں مجھے ایسی کوئی خاص فکر نہیں ہے۔ یہ ان کا ایک بے ضرر سا واہمہ ہے۔ بہرحال یہ ہے تو ایک واہمہ ہی ناں! ان کو واہموں کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ میرا یقین ہے کہ دنیا میں واضح اور فطری طور پر افراتفری پھیل رہی ہے اور ہم سب کا فرض ہے کہ ہم روزانہ۔۔۔ بلکہ ہر گھنٹے۔۔۔ اپنے طور پر دنیا میں ترتیب اور نظم پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ میرے والدین، میری رائے میں، اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

میں نے شاید ایک یا دو بار، غفران سے بھی اس مسئلے کی بابت کچھ بات چیت کی ہے۔ غفران، جس کی بیوی بعض حوالوں سے بہت بے پروا ثابت ہوئی ہے، اس طرح کے معاملات میں خصوصی ہمدردی رکھتا ہے۔ غفران کو بھی اس بات سے اتفاق ہے کہ میرے والد صاحب کا فضول چیزوں پر وقت ضائع کرنے کا رویہ غلطی پر مبنی ہے۔ تا ہم دوسری طرف اس کا خیال یہ ہے کہ شاید نفسیاتی طور پر یہ بہتر ہو گا اگر میں اپنی والدہ کے بے ضرر لیکن قابل افسوس واہمے کو نظر انداز کر دوں۔ لیکن یہ چیز میرے جوتے میں کنکر کی طرح چبھتی ہے یا ایسے ہی جیسے میں نے سر دھونے کے بعد کنگھی نہ کی ہو۔ دنیا میں موجود افراتفری اور بد نظمی ہماری طبعیتوں کو مکدر کرنے کے لیے کافی ہے۔ میں نہیں چاہتا اس بد نظمی اور افراتفری سے ہمیں اپنے گھروں میں بھی نبٹنا پڑے۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہیں، شور، دھواں، بد ترین ٹریفک، کام چوری اور بد نظمی، ہٹ دھرمی اور دھوکہ دہی ہماری قومی پہچان بن چکی ہیں۔ سستی، کاہلی اور بے ربطی نا قابل بیان ہے۔

ہر سال اسی ماہ میں اپنے پڑوس میں ایک دفتر کرائے پر لیتا ہوں اور لوگوں کے انکم ٹیکس کے گوشوارے بھرنے میں ان کی مدد کرتا ہوں۔ لوگ کسی چیز کا نہ ریکارڈ رکھتے ہیں اور نہ رسیدیں سنبھا لتے ہیں۔ اپنے منسوخ شدہ چیک گم کر دیتے ہیں۔ وہ صرف اندازے قائم کرتے ہیں۔ ختم ہوتا ہوا سال ان کے لیے دھندلی یادوں کا عکس رہ جاتا ہے، نا مکمل تصویروں کا ایک مجموعہ۔ پورے سال بے شمار تجارتی اور طبی اخراجات ہوتے ہیں لیکن وہ کچھ یاد نہیں رکھتے۔ میرا یقین کریں سڑکوں، دفتروں اور بازاروں کی بد انتظامی اس بے ربطی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو لوگوں کے سروں میں بھری ہوتی ہے۔ ہر سال مجھے ان چیزوں کا نئے سرے سے تجربہ ہوتا ہے۔ میرا یہ اضافی کام تین ماہ تک جاری رہتا ہے اور جوں جوں گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخیں قریب آتی ہیں، میرے کام کے بوجھ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تعجب ہے کہ بہت سے لوگ کام کرنے کے لیے آخری وقت کا انتظار کرتے ہیں۔ ان دنوں اکثر مجھے آدھی آدھی رات تک کام کرنا پڑتا ہے۔

مئی کے آغاز میں ہی میں غفران کو بھی اس کام میں شامل کر لیتا ہوں اور اس کو فی گوشوارہ کے حساب سے اس کے حصے کی ادائیگی کرتا ہوں۔ اس کی رفتار اتنی تیز تو نہیں ہے جتنی میں چاہتا ہوں لیکن وہ قابل اعتبار شخص ہے اور اسے اپنی بیوی کی فضول خرچیوں کی وجہ سے اضافی رقم کی بھی ضرورت رہتی ہے۔ “مجھے خود تمہیں بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، ” وہ مجھے کہتا ہے” کہ میری بیوی ہر ہفتے خواتین کے رسالوں اور فیشن میگزینز پر ہی کتنا خرچ کرتی ہے”۔ بے چارہ غفران۔

میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہوں۔ میرا دفتر ان کے اپارٹمنٹ کے نزدیک ہی ہے جہاں سے میں پیدل اپنے دفتر جا سکتا ہوں۔ یہاں چھوٹی دوکانوں کے علاوہ بڑے پلازوں میں جہاں کبھی سینما گھر ہوا کرتے تھے اب بڑے سپر سٹور اور ریستوران موجود ہیں۔ غفران اکثر دفتر کے بعد میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے میرے دروازے تک آجاتا ہے۔

اس رات جب یہ واقعہ ہوا، سارا دن شدید بارش ہوتی رہی۔ ہر طرف کیچڑ اور پانی جمع تھا۔ کسی نے اپنے گھر کے سامنے والے راستے کو صاف نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے چلنا بے حد دشوار ہو چکا تھا ۔ میں دو بار گرتے گرتے بچا۔

کیا کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ لوگ کم از کم اپنے گھروں کے سامنے کا حصہ صاف رکھا کریں اور اپنے گھر کے آگے کچھ روشنی کر دیں تا کہ اندھیرے اور کیچڑ کےسبب لوگوں کو دشواری نہ ہو۔ کیا ایسے کسی قانون کی پابندی لازم نہیں ہے؟ میں نے پوچھا۔

غفران کہنے لگا تلقین صاحب! ایسا قانون تو یقیناً موجود ہے لیکن یہاں قانون پر عمل درآمد سے زیادہ قانون شکنی پر فخر کیا جاتا ہے۔ پریشان کن ازدواجی زندگی نے غفران میں ایک خاص طرح کی دانائی پیدا کر دی تھی۔ کچھ دیر میں جب وہ پھسلا تو میں نے اس کا بازو پکڑ لیا اور سوچا یہ ہے وہ آدمی جو ایک دن شاید میرا دوست بن جائے۔ بے جوڑ ازدواجی بندھن میں جڑے شخص کی تنہائی عذاب ناک ہے۔ میرا دل اس کے لیے ہمدری سے بھر جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے اس کا اندازہ ہے۔ اپنے اپارٹمنٹ کی بلڈنگ کے قریب پہنچ کر میں نے اسے خدا حافظ کہا اور ایک لمحے وہیں رک کر اسے ہچکچاتے ہوئے اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔

لفٹ آج پھر خراب تھی۔ جب بجلی چلی جاتی ہے تو کرایہ داروں کو لابی کے پیچھے سے سامان اوپر لے جانے والی لفٹ استعمال کرنی پڑتی ہے جو جنریٹر سے چلتی ہے۔ مجھے تین دفعہ اس کا بٹن دبانا پڑا اور پانچ منٹ انتظار کرنا پڑا۔ اس میں کوڑے کے دو ڈرم بھی رکھے تھے۔ اس لفٹ سے اوپرجانا کوئی اتنا خوش گوار تجربہ نہیں تھا۔ بلڈنگ میں رہنے والا ہمارا ایک اور پڑوسی بھی لفٹ میں موجود تھا اس نے مجھ سے پوچھا ۔ تلقین صاحب کام کیسا چل رہا ہے؟ بہت اچھا بشارت صاحب آپ کا کیا حال ہیں؟ میں نے جواباً پوچھا۔ ‘تلقین صاحب مجھے جلد ہی آپ سے ملنا ہے۔ میں نے کہا ضرور ۔ میں جانتا تھا کہ وہ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی آخری وقت تک انتظار کریں گے اور پھر آخری گھنٹوں میں مجھ سے جلدی جلدی اپنا گوشوارہ پر کروانے کی کوشش کریں گے۔ میں نےاپنے سر سے یہ بات جھٹکنے کی کوشش کی۔ خوامخواہ دوسروں کی ذمہ داریوں کو اپنے کندھوں پر محسوس کرنے کا کیا فائدہ۔ فضول میں اپنا دماغ دوسروں کے بارے میں سوچ کر کیوں ضائع کیا جائے۔

گھر میں داخل ہونے سے پہلے میں نے کیچڑ میں بھرے اپنے جوتے اتار کر ایک ہاتھ میں پکڑے جبکہ میرے دوسرے ہاتھ میں بریف کیس تھا۔ نتیجتاً دروازہ ایک جھٹکے سے بند ہوا تو میری امی نے لاونج سے چیخ کر پوچھاکیا یہ تم ہو تلقین؟ ادھر آؤ میں تمہیں کچھ دکھاؤں۔ ان کے سامنے میز پر ایک پرانا اخبار رکھا تھا۔ میں نے پوچھا امی جان اس میں کیا ہے۔ ادھر آؤ تلقین یہ دیکھو، میری ماں نے ایک استہزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ مجھے کہا۔

اسی لمحے ابا جان نے اپنے کمرے سے کوئی آواز لگائی جس کی مجھے کچھ سمجھ نہ آئی۔ کیا ہے تلقین کے ابا؟ میری ماں نے جواباً پوچھا۔ عمر شریف شو لگ گیا ہے، آجاؤ۔ ابا زور سے بولے۔

اس پر میری ماں نے ایک سرد آہ بھری اور ایک دہائی پہلے کے ڈراموں اور فلموں کو یاد کرنے لگی۔ آہ کیا وقت تھا عمر شریف بھی اچھا کامیڈین ہے لیکن جو بات لہری، ننھے اور منور ظریف میں تھی، اب نہیں ہے۔ تم نے منور ظریف کی فلم نوکر وہٹی دا، دیکھی ہے۔ جب میں نے پہلی بار دیکھی تھی تو ہنس ہنس کر میرے پیٹ میں بل پڑ گئے تھے۔ لیکن چلو چھوڑو تمہیں کیا پتہ فلمیں کیا ہوتی ہیں اور پھر وہ ان اداکاروں کا ذکر کرنے لگیں جن کی فلمیں دیکھ دیکھ کر انہوں نے اپنی شعوری زندگی کا زیادہ حصہ گزارا تھا۔ وہ میرے وہاں موجود ہونے کے بارے میں تقریباً بھول ہی چکی تھیں۔ جب میں نے ان سے پوچھا، امی مجھے کس لیے بلایا تھا؟ ہاں ہاں یہ دیکھو اب بھی تم یقین نہيں کرو گے کہ وحید مراد زندہ ہے اور جلد ہی انشااللہ دوبارہ فلموں میں آ رہا ہے۔ انہوں نے بڑے طنزیہ انداز میں اپنے سامنے رکھا اخبار میری طرف پھینکا۔ میں نے دیکھا کہ یہ ہفتہ وار فلمی دنیا کا ایک رنگین رسالہ تھا جس میں مصالحہ دار چٹ پٹی اکثر جھوٹی خبریں اور گپ شپ ہوتی تھی۔ مقصد لوگوں کی فلمی اداکاروں سے بے معنی دلچسپی اور الفت سے فائدہ اٹھا کر انہیں مزید بے وقوف بنا کر پیسے کمانا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ وہ اتنا گھٹیا رسالہ گھر میں کیوں اٹھا لائیں۔ ’’ہاں بھئی اب بتاؤ مسٹر دو اور دو جمع چار، تمہیں دنیا کے سارے حقائق کا پتہ ہے۔ کہاں ہے تمہاری تحقیق اور ثبوت‘‘؟ ان کے چہرے کی مسکراہٹ مجھے چڑانے کی حد تک گہری ہو چکی تھی۔

امی جان یہ کونسا فضول رسالہ آپ اٹھا لائی ہیں۔ اس کی کوئی خبر سچی نہیں ہوتی۔ انہوں نے ایک خاص ڈرامائی انداز میں میرے سامنے رسالے کا ایک صفحہ کھولا جس میں وحید مراد کی بڑی سی تصویر کے ساتھ موٹے موٹے حروف میں لکھا تھا ’’ فلمی دنیا کا لازوال کردار وحید مراد آج بھی زندہ ہے‘‘۔

کہاں ہیں وہ تمہارے قطعی ثبوت، وہ المانک، وہ حقائق؟ بولو اب کیا کہتے ہو میرے حقیقت پسند بچے؟

’’اشتہار ختم ہو گئے ہیں شو بس شروع ہے۔ کہاں ہو؟ ابا جی نے پھر سے آواز لگائی۔ بس آ رہی ہوں، امی جان نے جواب دیا اور میری طرف دیکھنے لگیں۔

’’امی جان ،آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ کس طرح کا رسالہ ہے‘‘ میں نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی۔
پھر انہوں نے اس خاص موضوع پر کیوں لکھا۔ آخر کیوں، انہوں نے اپنی انگلی کے ناخن سے اخباری سرخی کو تھپتھپایا۔ میں تم سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ آخر آج ہی اس پرچے میں انہوں نے اس خاص موضوع کو کیوں اٹھایا؟

کیا آپ نے پورا مضمون پڑھ لیا ہے امی جان؟ کیا اس میں کوئی ایک بھی چیز ایسی ہے جسے حقائق پر پرکھا جا سکتا ہو؟ یہ محض گپ بازی ہے امی۔ میں نے ان کے ساتھ بڑے تحمل سے بات کی۔ میں نے کہا امی جان آپ اپنی خیالی دنیا سے باہر آ جائیں۔ وحید مراد مر چکا ہے اور یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے۔ اب انہیں کوئی واپس نہیں لا سکتا۔ آہ تم یہ بات نہیں سمجھ سکتے۔ میری امی نے کہا۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ تم بڑی زندوں والی زندگی گزار رہے ہو؟ اچھا امی یہ بتائیں اگر وہ زندہ ہے تو کہاں ہے وہ؟ کہاں ہے؟

’’شو شروع ہو چکا ہے، دیکھو آج تمہاری پسندیدہ مدیحہ شاہ مہمان ہے‘‘۔ ابا جی نے پھر ہانک لگائی، یہ جانتے ہوئے کہ امی جی کو بالکل مدیحہ شاہ پسند نہیں ہے۔ لیکن امی اپنے خیالوں میں ہی ڈوبی ہوئی تھیں۔ دنیا کا وجیہ ترین انسان، سمارٹ، اونچا، لمبا، سٹائلش۔ تم نے کبھی اسے ڈائیلاگ بولتے سنا ہے؟ بولتا ہے تو دل کھنچ کر حلق میں آ جاتا ہے، سمندر میں لہریں ہلکے ہلکے ہلکورے لینے لگتی ہیں۔ سننے اور دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ وہ کسی جادوئی دنیا میں بیٹھے ہیں۔ امی جی اب بس کریں، بتائیں اگر وہ زندہ ہے تو کہاں ہے؟ آہ تم کیا جانو کتنا پیارا انسان ہے۔ اگر دنیا کے سارے انسان اس جیسے ہو جائیں تو دنیا کتنی حسین ہو جائے۔ امی اپنے ٹرانس سے باہر نہیں آ رہی تھیں۔ بالآخر میں نے سنجیدگی سے کہا امی جان اس رسالے کی خبروں اور اس کے مضامین پر کسی صورت بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ’’یہ رسالہ بھی باقی اخبار اور رسالوں کی طرح ہی ہے اس میں کبھی کبھی سچ بھی چھپتا ہے‘‘۔ امی جان نے بڑے فلسفیانہ انداز میں کہا اور پھر مجھے طنزیہ نظروں سے دیکھنے لگیں۔ میں نے اپنے جوتے ریک میں رکھے، بریف کیس الماری میں رکھا اور ان کے قریب بیٹھ گیا۔

‘جس سال تم پیدا ہوئے میں نے وحید مراد کی فلم ’’نذرانہ‘‘ دیکھی تھی۔ نظر شباب نے یہ فلم ڈائریکٹ کی تھی۔ وحید مراد نے رانی اور نیلو کے ساتھ کیا غضب کی اداکاری کی تھی۔ اب تو ویسی فلمیں بننا ہی بند ہو گئی ہیں۔ لیکن تمہیں کیا پتہ اس کی فلمیں آج بھی دلوں پر راج کرتی ہیں۔ سہیلی، آواز، پارکھ، ضمیر، چھوٹے نواب، اب کیا کیا گنواؤں تم حساب کتاب کے مارے شخص کو۔ نجانے کس کی نظر کھا گئی ہماری فلم انڈسٹری کو۔ اب کیوں کوئی وحید مراد جیسی فلمیں نہیں بناتا۔ انہوں نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے یہ سب کچھ میرا ہی قصور ہو۔ مجھے کیا معلوم امی جان میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ ’’یہ تمہاری دنیا ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے‘‘ امی نے جیسے مجھے ڈانٹ پلائی۔

’’اس وقت کوئی شور شرابا نہیں ہوتا تھا۔ لوگ زندگی کو انجوائے کرتے تھے، ہم سب ہر ہفتے مل کر سنیما جاتے تھے، فلمیں اور ڈرامے دیکھتے تھے، دنیا جہان کے موضوعات ڈسکس کرتے تھے لیکن کسی نے کسی کے اخلاق و کردار پر آوازے نہ کسے تھے، کوئی کسی کے خون کا پیاسا نہیں ہو جاتا تھا۔ خوش اخلاقی اور ہمسائیگی کی قدریں باقی تھیں۔ سڑکوں پر اتنی ٹریفک نہیں ہوتی تھی ۔ راستہ بھی ملتا تھا، جگہ بھی اور مسکراہٹ بھی۔ ہم فریجوں کا جما ہوا کھانا نہیں کھاتے تھے۔ ہر وقت پیسے کے پیچھے نہیں بھاگتے تھے۔ ایک تمہاری نسل ہے کہ پتہ ہی نہیں زندگی کیا ہوتی ہے اور خوش کیسے ہوا جاتا ہے‘‘۔ امی آپ یہ کیا باتیں لے بیٹھی ہیں، میں نے جھنجھلائے ہوئے انداز میں کہا۔ اب دنیا بہت آگے بڑھ گئی ہے۔ اب کوئی اس طرح وقت ضائع کرنا افورڈ نہیں کر سکتا۔ ‘پھر مجھے تم پر بڑا ترس آتا ہے بیٹا، انہوں نے ایک ایسے انداز میں کہا جس کی لوگ اپنی ماؤں سے توقع نہیں کرتے۔ کیوں آپ کو مجھ پر ترس آتا ہے امی، کیوں؟ مجھے بھی غصہ آ گیا۔ میں نے کچھ دیر ان کے جواب کا انتظار کیا لیکن وہ خاموشی سے، اپنی چائے کے سپ لینے لگیں اور اخبار کی سرخی دوبارہ دیکھنے لگیں، میرے پاس ایک اچھی جاب ہے اور میں وہ کام کر رہا ہوں جو مجھے پسند ہے۔ ’’کچھ بھی ہو تلقین، مجھے پھر بھی تم پر ترس آتا ہے‘‘۔

میں نے ابھی تک اپنے کپڑے بھی تبدیل نہیں کیے تھے۔ مجھے خود اپنی ہی ماں سے یہ سب کچھ سننا پڑ رہا تھا جس کا قطعاً کوئی جواز نہیں تھا۔ مجھے ان کی ناانصافی نے سخت رنجیدہ کر دیا تھا۔ آپ کو معلوم ہے امی کہ یہ کتنا گھٹیا اخبار ہے۔ آخر آپ کو ہوا کیا ہے۔ آپ جانتی ہیں کہ وہ مر چکا ہے مجھے معلوم ہے کہ آپ جانتی ہیں کہ وہ مر چکا ہے ہر شخص جانتا ہے کہ وحید مراد اس دنیا میں نہیں۔ انہوں نے اپنا کپ میز پر رکھا اور زور سے بولیں ’’نہیں وہ نہیں مرا وہ زندہ ہے۔ وہ نہیں مرا‘‘۔

‘یہ کیا ہو رہا ہے باہر ‘ شور کی آواز سن کر ابا بولے۔
’’نہیں وہ زندہ ہے‘‘۔ امی ابا کی آواز کو نظر انداز کر کے دوبارہ بولیں۔ ‘پھر کہاں ہے وہ’ میری بھی آواز تھوڑی اونچی ہو گئی۔ میں مانتا ہوں کہ میری آواز اونچی ہو گئی۔ ’’ کہاں ہےوہ، بتائیں کہا ں ہے وہ؟‘‘ میں نے بھی اصرار کیا۔

’’اوہ مسٹر حساب دان‘‘، انہوں نے ایسے کہا جیسے انہیں مجھ سے بالکل نفرت ہو گئی ہو۔ میں بتا تی ہوں تمہیں کہ وہ کہاں ہے۔ وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئیں اور ہاتھ میں پکڑا اخبار میرے سر پر مارنا شروع کر دیا۔ ہر بار وہ کہتیں کہ میں بتا تی ہوں تمہیں کہ وہ کہاں ہے اور میرے سر پر اخبار سے مارتیں۔ میں بتا تی ہوں تمہیں کہ وہ کہاں ہے، میں بتاتی ہوں۔ وہ اس وقت محمد علی کے ساتھ ہے وہ رانی کے ساتھ ہے، وہ راج کپور کے ساتھ ہے، وہ جتندر کے ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔ وہ ایک ایک نام لیتیں اور میرے سر پر اخبار سے مارتیں۔ میں نےوہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی اور کمرے سے دوڑ کر باہر نکل آیا۔ ایسے بحث کا فائدہ؟ ان کے دماغ میں تھوڑا سا خلل ہے تو کیا ہوا۔ یہ ایک بے ضرر سا واہمہ ہے۔ آج کے بعد وہ جب بھی یہ موضوع چھیڑیں گی میں نظر انداز کرنے کی کوشش کروں گا۔ شاید غفران اس بارے میں ٹھیک ہی کہتا ہے۔ میں نے اپنا کوٹ کھونٹی سے لٹکایا۔ خوش قسمتی سے صرف اس وقت جب میں دروازے کے قریب کھڑا ہوتا ہوں تو مجھے ان کے ٹی وی کی آواز سنا ئی دیتی ہے جو اکثر صبح تین تین بجے تک چلتا رہتا ہے۔ تاہم جب ایک دفعہ میں اپنا دروازہ بند کر دیتا ہوں تو میرے کمرے میں مکمل خاموشی چھا جاتی ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: