دامِ رسائی: مشرق اور مغرب کی بات ———- فیضان جعفری

1
  • 57
    Shares

جان سے پیاری آدرش! سلامتی ہو

بیٹی خیریت موجود ہے اور خیریت ہی مطلوب ہے۔ یہ نامہ جب تک تمہیں ملے گا، حالات کیا ہوں گے؟ کچھ کہہ نہیں سکتا۔ سانس لینے میں دشواری ہے اور سردی کی شدت ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ کوئی دن جاتا ہوگا کہ کسی عزیز یا دوست کی وفات کی خبر نہ مل رہی ہو۔ اب تو لگتا ہے دنیا میں بے یار ہوگیا ہوں اور اپنے دوستوں کے حلقے میں واحد میں ہی بچا ہوں۔ یہاں امریکہ میں کئی ریاستوں میں برفباری کی وجہ سے کاروبارِ زندگی مفلوج ہے مگر مجھے یوں لگتا ہے جیسے میرے لئے زندگی مفلوج ہوچکی ہے۔ قوتِ ارادی لنگڑا اور لڑکھڑا رہی ہے۔

جی تو چاہتا ہے تم سے روبرو باتیں کروں مگر ایسا عنقریب ممکن نظر آتا نہیں۔ تم لاہور میں ہو اور لاہور کے حالات اس لئے بھی امید افزاء ہیں کہ بہت دنوں سے کسی سانحے یا دہشتگردی کے واقعے کی خبر نہیں ملی۔ تم نے لکھا ہے کہ بھارتی کشمیر میں آزادی کی جس لہر نے جنم لیا ہے وہ اسے آزادی کے ساحل سے ہمکنار کرکے چھوڑے گی، کشمیریوں کے خون رائیگاں نہیں جائیں گے تو بیٹی یاد رکھنا کشمیر کا مسئلہ انسانی سانحے اور المیے کا نہیں بلکہ معاشی ہے اور معاشی مسئلے عوامی احتجاج یا حکومتیں طے نہیں کرتیں بلکہ سرمایہ کار طے کرتے ہیں اور کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیریوں کے سوا کسی کے مفاد میں نہیں اور کشمیریوں کا نقصان کسی دوسرے کا نقصان نہیں لہٰذا غلط امید سے بہتر ہے انسان کوئی امید پیدا نہ کرے کیونکہ مایوسی ہمیشہ غلط امید سے پیدا ہوتی ہے۔

یہ سرمایہ داری بھی عجیب نظام ہے، یہ خود ایک ایسا سانپ ہے جو اپنے دشمن سانپ کا زہر نکال کر اسے اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ اس میں قباحت کا پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کے اخلاقی و روحانی وجود کا منکر ہے جو کہ انسان کو شرف اور انفرادیت عطا کرتا ہے وگرنہ تو انسان دیگر حیوانات کی طرح مادی و جبلی وجود رکھتا ہے۔ انسان کے اخلاقی وجود نے اسے صبر و رضا، عدل و احسان، معرفتِ ذات اور تفریقِ حق و باطل کا ادراک دیا وگرنہ تو مادی وجود فقط ضرورت اور طلب ہے جس میں ضرورت پوری کرنے کیلئے کیا گیا ہر کام درست ہے اور صبر نام کی شے نہیں ہے۔ سہولت کو خواہش اور خواہش کو ضرورت بنانا مادیت پرستی ہے اور اس میں انسان شب و روز کی چکی میں پستا ہے مگر سراب کا نخلستان کبھی نہیں ملتا۔ معرفتِ ذات، انسان کو اپنی انفرادی شناخت و احساس دیتی ہے اور معرفتِ قدرت کا در وا کرتی ہے مگر مادیت پرستی کا مدعا اجتماعی تقلید ہے۔ اس لئے مجھے کہنے دو کہ انسان کا اخلاقی وجود جابجا اس معاشی اجارہ داری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

مشرق اور مغرب میں یہی ایک فرق تو ہے کہ مشرق انسان کے اخلاقی وجود سے فرار حاصل نہیں کرسکا اور مغرب نے اس سے جان چھڑا کر انفرادی آزادی حاصل کرلی حالانکہ وہ ایک اجتماعی پابندی کے زیرِ اثر ہے۔ مشرق کی طرح مغرب نے ایک فرد کو مصنوعی نرگسیت اور خودپسندی کی بجائے اپنا فخر اپنے نظام میں رکھ دیا ہے جس سے اب ایسا ممکن نہیں رہا کہ مغرب میں رہنے والا کوئی شخص مشرقی اقدار کو بہتر اور قابلِ تقلید سمجھے جبکہ مشرق نے اپنی آبا پرستی یا تہذیب پرستی کو جدیدیت کا جامہ نہ پہنا کر قدامت پرستی کو فروغ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ملٹی نیشل کمپنیاں مغرب میں کامیاب ہیں اور مشرق ان کی منڈی ہے جبکہ مشرق سے کبھی کوئی ملٹی نیشنل کمپنی اٹھ کر مغرب میں نہیں گھس پائی اور نہ ہی مشرق میں مستقل طور پر ارتقاء پذیر رہی۔ مشرق کے اسی رویے نے انسانی بے بضاعتی اور کم ہمتی کو جنم دیا ہے جو ہمیں مشرق کے لٹریچر میں خوب نظر آتا ہے۔ ذاتی زندگی میں غمناک نہ ہو کر بھی ہمیں غم کی شاعری پسندی آتی ہے، بے بسی سے بھرپور افسانہ اچھا لگتا ہے، ظلم و ستم سے بھرا ناول دل کو کھینچتا ہے اور باہمی اونچ نیچ ہمارا تھیٹر ڈرامہ ہے۔ دل میں غم ہو تو انسان ماضی کی طرف بھاگتا ہے اور خوشی و اطمینان انسان کو مستقبل کی طرف دیکھنے پر اکساتا ہے۔

بھارت کی انتہا پسندی، بھارت کا اختصاص نہیں ہے بلکہ برصغیر کے باطنی ظرف کا ایک مظہر ہے۔ ابھی بنگلہ دیش سے بھی تو وہی آوازیں آئی ہیں جو پاکستان سے آرہی تھیں اور چند دن بعد بھارت سے آئیں گی۔ بیٹی اس خطے میں کوئی معتدل اور انتہا پسند نہیں، کوئی سیکولراور مذہبی نہیں، کوئی لبرل اور فاشسٹ نہیں ہے۔ یہ لوگ مفادات کے مارے ہوئے لوگ ہیں، جہاں مفادات دیکھتے ہیں وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ صدیوں کی غلامی، آقاؤں کی پے در پے تبدیلی اور احساسِ کمتری نے یہاں کے اجتماعی شعور کو اس ہانپتے ہوئے کتے کی مانند بنا رکھا ہے جو گوشت کی بو سونگھ کر کبھی ایک گلی میں بھاگتا ہوا پہنچتا ہے اور کبھی دوسری میں۔

ہمارے ہاں دیکھو تو سب سڑکوں پر آرہے ہیں جارہے ہیں، اسکول، کالج، دفاتر اور فیکٹریاں بھرے پڑے ہیں مگر جوں ہی مذہبی انتہا پسند یا سیاسی جماعتیں کاروبارِ زندگی معطل کرنا چاہتے ہیں بآسانی کرلیتے ہیں اور بہت سے لوگ ہم میں سے ہی نکل کر اپنا کام کاج چھوڑ کر اپنے گروہی مفادات کے تحفظ کیلئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم کیسے بدنصیب لوگ ہیں کہ ہمارے قاتل بھی ہمارے قتل کے خلاف احتجاج میں شامل ہوتے ہیں جیسے قصور کی ننھی زینب کا قاتل اس کے قتل کے احتجاج میں شامل تھا۔ ہمارے برے حالات کے ذمہ دار ہماری مصیبتوں پر مذمت، رنج، افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ستم ظریفی ہی تو ہے، یہ بد نصیبی نہیں تو پھر کیا ہے؟

یہ باتیں روبرو ہوں تو کئی اور زاویے نکلیں مگر اب یوں ہے کہ مجھ میں اب لکھنے کی اور سکت نہیں ہے۔ اب جی چاہتا ہے دنیا کے یہ بکھیڑے چھوڑ کر زندگی اور موت بارے لکھوں۔ طبیعت اجازت دے تو اسی ہفتے لکھوں گا بشرط زندگی۔

تمہارا باپ
شہریار باری
کیلیفورنیا
سوم وار، جنوری سات دو ہزار انیس

یہ بھی پڑھئے: مغرب معنی کی تلاش میں —— عمر ابراہیم
(Visited 116 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. kamaal hai is daur main bhi koi itna classical piece of art likh sakta hai bht daad bht sataish . please keep on writing .we want to read more content like this .

Leave A Reply

%d bloggers like this: