مہاراجہ رنجیت سنگھ ——- رضوان علی گھمن

0
  • 15
    Shares

سردار جی آپ نے پھر غلط نان لگا دیا ہے میں نے چکن کی پرچی دی تھی لیکن آپ نے آلو والا لگا دیا ہے۔ لگتا ہے آپ کے بھی بارہ بج گئے ہیں۔ میں نے گروپال کو چکن نان کی پرچی دکھاتے ہوئے کہا۔ راضی پتہ ہے سکھوں کے بارہ کب بچتے تھے مالک نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے کہا وہ اچانک وہاں آ گئے تھے اور انھوں نے باہر سے ہی میری بارہ بجے والی بات سن لی تھی جس کا انہوں نے اچھا خاصا برا بھی منایا تھا۔ گلشن کمار بھاٹیہ کارلسروہے کے اس انڈین ریسٹورنٹ کے مالک تھے جہاں میں ویٹر ہوں۔ یہ چندی گڑھ کے تھے۔ راضی! ہری سنگھ نلوا کو جانتے ہو انہوں نے مجھ سے سوال کیا جس کاجواب نفی تھا۔ میں ہری سنگھ نلوا کو نہیں جانتا تھا۔ اچھا مہاراجہ رنجیت سنگھ کو تو جانتے ہو انہوں نے اگلا سوال کردیا۔ جی تھوڑا بہت جانتا ہوں مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب کے ایک بڑے سکھ حکمران تھے۔ میں نے جواب دیا۔ اچھا بس اتنا ہی جانتے ہو وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگے۔ سوری بھاجی! مجھے بارہ بجے والی بات نہیں کرنی چاہیے تھی میں نے شرمندگی سے کہا۔ راضی! مجھے افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ تم نے 12 بجے والی بات کی ہے افسوس اس کا ہے کہ تمہیں مہاراجہ رنجیت سنگھ اور اس کے کمانڈر ہری سنگھ نلوا کا پتا نہیں ہے۔ انڈیا اور پاکستان کی یہی سب سے بڑی بدنصیبی ہے۔ ہم اپنے ہیروز کو بھی مذہب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ٹیپوسلطان قائد اعظم اور علامہ اقبال تمہارے ہیرو ہیں جبکہ نہرو جی اور مہاتما گاندھی ہمارے۔ ہم نے اپنے اپنے ہیروز کو تو بانٹ لیا لیکن مہاراجہ رنجیت سنگھ کو بھول گئے۔ ہم نے اس شیر پنجاب کو بھلا دیا جس کے قدموں کی آواز سے کابل کے گلی محلے لرز جاتے تھے۔ راضی بیٹا سکھوں کے بارہ مغلوں کے خلاف نہیں افغانیوں کے خلاف بجتے تھے۔ ہمارا ہندوستان ملائیشیا سے لیکر افغانستان تک تھا۔ جسے تاریخ میں سینکڑوں بار لوٹا گیا۔ سکندر سے لے کر انگریز تک یہاں سبھی کو راستہ ملا ہے۔ ہندوستان نے مزاحمت ضرور کی لیکن کامیابی صرف رنجیت سنگھ کو ہی ملی تھی۔ راضی صاحب پنجاب کے اس شیر نے مسلسل چالیس سال تک تمہارے ملک پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ جسے تم لوگ جانتے تک نہیں ہو۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ ہندوستان کی تاریخ کا وہ پہلا اور آخری شیر تھا جس نے افغانیوں کو نہ صرف لاہور پورے پنجاب اور کے پی کے سے نکالا تھا بلکہ یہ افغانیوں کا پیچھا کرتے کرتے کابل تک چلا گیا تھا۔ ہمارا ہندوستان افغانستان کے آخری شہر مزارشریف تک تھا پورا افغانستان ہندوستان کا حصہ تھا جسے ہم سے چھین لیا گیا۔ لیکن چونکہ چھیننے والے مسلمان تھے اس لئے آپ کی تاریخ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ راضی بیٹا اٹھارہویں صدی کے آخر تک افغانی پورے پنجاب پر قابض تھے اور انگریز پورے مشرقی ہندوستان پر۔ رنجیت سنگھ گوجرانوالہ کے ایک سردار کا بیٹا تھا۔ اس نے سترہ سال کی عمر میں صرف پچیس ہزار کی فوج کے ساتھ افغانیوں سے لڑائی کی تھی۔ رنجیت سنگھ کے پیچھے کوئی بہت بڑی سلطنت نہیں تھی۔ وہ گوجرانوالہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے سردار کا بیٹا تھا لیکن اس نے بہادری کی وہ بڑی بڑی مثالیں قائم کی ہیں جو آج تک دنیا میں کہیں نہیں ملتیں۔ رنجیت سنگھ نے پچیس ہزار کی مختصر سی فوج کے ساتھ نادر شاہ درانی کے پوتے شاہ زمان درانی کو شکست دی تھی اور لاہور ان کے قبضے سے آزاد کروا لیا تھا۔ صرف بیس سال کے قلیل عرصے میں رنجیت سنگھ پورے پنجاب کشمیر کے پی کے اور فاٹا پر قابض ہو چکا تھا۔ یہ ساٹھ ہزار کی فوج لے کر افغانستان میں داخل ہوا اور کابل تک پہنچ گیا۔اس کا جرنیل ہری سنگھ نلوا فوج لے کر کابل کی گلیوں میں گھومتا تھا۔ لیکن کسی افغانی کو باہر نکلنے کی جرآت نہیں ہوتی تھی۔ افغانی فوج قلعوں میں محصور ہو کر رہ گئی تھی۔ آپ ڈیورنڈ لائن کو انگریزوں کا کارنامہ سمجھتے ہو حقیقت میں یہ رنجیت سنگھ کا تحفہ ہے۔ وہ تو کابل کو بھی سکھ سلطنت میں شامل کرنا چاہتا تھا۔ اسے انگریزوں نے ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ ماننے پر مجبور کیا۔ آج کا موجودہ پاکستان سکھ سلطنت پر ہی بنا ہوا ہے۔ سکھ سلطنت بھی دریائے راوی کے کنارے سے فاٹا تک پھیلی ہوئی تھی اور آج کا موجودہ پاکستان بھی انہی سرحدوں تک پھیلا ہوا ہے۔ میرے بچے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے چالیس سال تک تمہارے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ اس نے افغانیوں کو لاہور سے بھگانا شروع کیا تھا اور کابل تک چھوڑ کر آیا تھا۔ اگر انگریز درمیان میں نہ آتا تو آج افغانستان کا نام ہی اس دنیا میں نہ ہوتا۔ کابل اور مزار شریف آج ہمارے ملک کا حصہ ہوتے۔ عرب مسلمان بہادر تھے۔ رومن یونانی ایرانی منگول اور انگریز بہادر تھے۔ ترک بھی بہادر تھے انہوں نے اپنے علاقوں سے باہر نکل کر دنیا کو فتح کیا۔ جبکہ ان افغانیوں کو راستہ ہی صرف ہندوستان کا آتا تھا۔ جہاں کے لوگ کاشتکار تھے۔ افغانیوں کے پاس جب بھی پیسہ ختم ہوا انہوں نے ہندوستان کا رخ کیا۔

ہم لوگ کمزور تھے اس لیے لٹتے رہے لیکن جب ہم نے آنکھیں دکھانی شروع کی تو ان کی بزدلی بھی نظر آنے لگی۔ ساٹھ ہزار کی فوج نے پورے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی۔ ان ساٹھ ہزار میں بھی صرف پندرہ ہزار سکھ تھے۔ اور ان پندرہ ہزار سکھوں کی دہشت کابل کے گلی کوچوں میں نظر آتی تھی۔ پوری افغان فوج قلعوں میں محصور ہو کر بیٹھی ہوئی تھی۔ انہیں گلی کوچوں میں سکھوں کے بارہ بجتے تھے جسے آج تم مذاق میں کہتے ہو۔ راضی میرے بچے پاکستان اور ہندوستان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم کل بھی بھائی تھے آج بھی ہیں اور آنے والی کئی صدیوں تک بھائی ہی رہیں گے۔ دوبھائیوں کی اس لڑائی میں بہت سے لوگوں کا کاروبار لگ گیا ہے۔ جس دن انڈیا اور پاکستان دونوں بھائیوں میں صلح ہوگئی کسی کو جرات بھی نہیں ہوگی ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کی۔ بس ہمیں اپنے محسنوں کو پہچاننا ہوگا۔ اپنے ہیروز کو پہچاننا ہوگا۔ رنجیت سنگھ اور ہری سنگھ نلوہ دونوں ہمارے ہیرو ہیں۔ انہوں نے ہمارے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ راضی میرے بچے ہیرو صرف مسلمان یا ہندو ہی نہیں ہوتا۔ ہیرو کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ رنجیت سنگھ نے تمہارے ملک پاکستان کی مٹی میں جنم لیا ہے۔ وہ گوجرانوالہ کا سپوت تھا جو آج بھی آپ سے اپنا حق مانگ رہا ہے۔ آپ اگر اس کو عزت نہیں دے سکتے تو نہ دیں۔ لیکن کم از کم اس کا مذاق تو مت اڑائیں۔ میرے بچے اپنے ہیروز کا مذاق اڑانے والی قومیں کبھی آگے نہیں بڑھتیں۔

انہوں نے پیار سے میرے گال تھپتھپائے اور ریسٹورنٹ سے باہر چلے گئے۔وہ اپنے پیچھے ہزاروں سوال چھوڑ گئے تھے جنکے جواب ہم پاکستانی عوام نے دینے ھیں۔

(Visited 161 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: