ریاست ِمدینہ ناروےجیسی ہوگی؟ —– احمد الیاس

0
  • 68
    Shares

وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک ِانصاف اپنے نظریے کی بنیاد ریاستِ مدینہ کے تصور پر رکھنے کی دعویدار ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اکیسویں صدی میں ریاستِ مدینہ کا تصورایک اخلاقی آئیڈیل اورسیاسی اصول تو ہوسکتا ہے، کوئی تفصیلی معاشی یا سیاسی نظام فراہم نہیں کرسکتا۔ اس بات کا وزیر اعظم کو بھی اندازہ ہے چنانچہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ اس آئیڈیل کو کس قسم کی معاشی و سیاسی میتھڈولوجی سے حاصل کریں گے تو ان کا اشارہ شمالی یورپ کی ریاستوں (ناروے، سویڈن، آئس لینڈ، ڈنمارک اور فن لینڈ) کی طرف ہوتا ہے جنہیں اسکینڈے نیوین ریاستیں بھی کہاجاتا ہے۔ اگرچہ نظری سطح پر یہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں کیونکہ رسولِ خدا ﷺ اور ان کے خلفاء نے بھی اپنے دور کے بہترین طریقوں کا استعمال کر کے ہی اس آئیڈیل کو حاصل کیا تھا جس کا ذکر آج عمران خان کرتے ہیں۔ جنگِ بدر کے مشرک قیدیوں کا مدینےوالوں کو فدیےکے طور پر تعلیم دینا، سلمان فارسی ؓکا خندق کھودنے کا ایرانی طریقہ بتانا، سیدنا عمرؓ کا صوبائی بیوروکریسی کا ایرانی ماڈل پر مبنی نظام، خالد ؓبن ولید کی جنگی حکمتِ عملیاں اور عساکرِاسلام کی تنظیم، سیدنا عثمانؓ کےدور میں رومی ماڈل پر مسلم بحریہ کا قیام۔ ۔ ۔ یہ سب تکنیکیں مذہبی آئیڈیل کے حصول کا ذریعہ تو تھیں مگر بذات خود سیکولر اوردنیا دارانہ تھیں اور غیرمسلموں سے سیکھی گئی تھیں۔ لہذا اگر عمران خان ریاستِ مدینہ کا آئیڈیل حاصل کرنے کی خاطر دنیاداری سے متعلق کچھ غیر مسلموں کی تکنیکیں استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یہ بالکل فطری، جائز اور ضروری ہے۔ خود ریاستِ مدینہ کے معماروں نے بھی یہی کیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ کیا کیا پاکستان کے لیے اسکینڈے نیویا کا ڈیموکریٹک سوشلسٹ ماڈل کام کربھی سکتا ہے یا نہیں؟ ہر ماڈل کو اس ملک کے معروضی حالات سے مطابق ہونا لازم ہے جس پر اسے اپلائی کیا جانا ہے۔ جو پالیسی کسی ایک ملک کے لیے کام کرتی ہے ہے، ضروری نہیں وہ سب کے لیے کام کرے۔ کیا اسکینڈینیویا اورپاکستان کے معروضی حالات ایک سے ہیں ؟ کیا ناروے یا سویڈن میں اپنائی جانے والی کامیاب پالیسیاں ہمیں بھی فائدہ پہنچا پائیں گی؟

کسی بھی ریاست کے چار عناصر بتائے جاتے ہیں۔ آبادی، رقبہ، حکومت اور اقتدارِ اعلیٰ۔ حکومت اور اقتدار اعلیٰ پر تو ہمارا کچھ نہ کچھ اختیار ہوتا ہےمگر علاقے اور آبادی پر یہ اختیار نہ ہونے کے برابر ہے مگر ان دونوں عناصر کا کردار ہمارے معروضی حالات کا رخ طے کرنے میں سب سے کلیدی ہوتا ہے۔

علاقے کے اعتبار سے شمالی یورپ کی یہ ریاستیں دنیا سے الگ تھلگ اور دور دراز واقع ہیں جہاں شدید سردی، اور تاریخی طور پر کوئی خاص زرعی یا تجارتی وسائل نہ ہونے کے سبب کسی کی دلچسپی نہ رہی۔ ان ملکوں کو نہ کسی کو کالونی بننا پڑا نہ انہیں جنگیں لڑنی پڑیں۔ یہ ملک قدرے سکون سے ترقی کرسکے، ان کی دولت کبھی لوٹی نہیں گئی اور نہ ان کی جغرافیائی لوکیشن کے سبب ان کی ایسی دشمنیاں بنیں کہ انہیں دفاع پر بہت پیسہ خرچ کرنا پڑتا۔ اس کے برعکس پاکستان عالمی گزرگاہوں کے چوراہے پر واقع ہے، بے شمار حملہ آوروں کی گزرگاہ رہا ہے، بدترین کولونیلزم کا نشانہ بنا ہے اور آج بھی اپنی جغرافیائی لوکیشن کے سبب دفاع پر خرچنے کے لیے مجبور ہے۔ لہذا یہاں اسکینڈے نیو ین طرز کی ویلیفئیر پر خرچنے کے لیے پیسہ نہ تو دستیاب ہے نہ ہی ہوسکتا ہے۔

آبادی کی بات کی جائے تو اسکینڈے نیویا کے پانچ ملکوں کی آبادی بمشکل تین کروڑ ہے یعنی خیبر پختونخواہ کی آبادی سے بھی کہیں کم۔ ان میں سب سے بڑا ملک سویڈن ایک کروڑ نفوس رکھتا ہے یعنی لاہور سے بھی کم۔ معاشی لحاظ سے سب سے زیادہ اہمیت آبادی میں اضافے کی شرح کی ہوتی ہے۔ ناروے کی آبادی میں سالانہ اضافےکی شرح ایک اشاریہ دو، سویڈن میں صفر اشاریہ سات، ڈنمارک میں صفر اشاریہ پانچ، فن لینڈ میں صفر اشاریہ چار اور آئس لینڈ میں صفر اعشاریہ چھ ہے۔ یعنی نہ ہونے کے برابر۔ پاکستان کی آبادی سالانہ دو فیصد شرح سے بڑھ رہی ہے۔ گویا ہمیں معاشی نمو کی ضرورت بھی ان ممالک سے کہیں زیادہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ سویڈن سالانہ تین فیصد، ڈنمارک دو فیصد اور ناروے کی معیشت ڈیڑھ فیصد شرح سے بڑھ رہی ہے۔ ہمیں اپنی آبادی اور غربت کی نسبت سے سالانہ کم از کم سات سے آٹھ فیصد معاشی شرح نمو چاہیے۔

یہ سات آٹھ فیصد شرح نمو کیسے مل سکتی ہے ؟ یقیناً اسکینڈے نیوین ماڈل اس سلسلے میں ہماری مدد نہیں کرسکتا کیوں کہ ان ممالک کی اپنی شرح نمو بہت کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ امن و امان اور بہترین حکومتوں کے باوجود ان ممالک کی شرح نمو اتنی کم کیوں ہے؟ دراصل بہت کم لوگ یہ بات یاد رکھتے ہیں کہ عموماً حکومتوں کے پاس دولت کمانے کا سب سے بنیادی اور اہم ذریعہ محصولات ہی ہوتے ہیں۔ پبلک منی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، صرف ٹیکس پئیرز منی ہوتی ہے۔ اسکینڈے نیوئین ریاستیں ویلفئیر پر خرچ کرنے کے لیے پیسہ زیادہ تر محصولات سے ہی اکٹھا کرتی ہیں۔ لہذا ڈنمارک میں انکم ٹیکس پچپن فیصد ہے۔ ناروے میں یہی شرح چالیس، سویڈن میں ساٹھ، آئس لینڈ میں چھیالیس اور فن لینڈ میں پچپن فیصد ہے۔ ان تمام ممالک میں سیلز ٹیکس یا ویلیو ایڈیڈ ٹیکس بھی پچیس فیصد ہے۔ اس کے برعکس دنیا میں سب سے زیادہ شرح نمو رکھنے والے ممالک مثلاً بھارت، بنگلادیش، ویتنام، ملائیشیا اور ترکی وغیرہ میں انکم ٹیکس پچیس سے پینتیس فیصد اور سیلز ٹیکس یا ویلیو ایڈڈ ٹیکس دس سے بیس فیصد کے درمیان ہے۔ اس کی وجہ ابن خلدون کا بیان کردہ وہ سادہ سا معاشی اصول ہے کہ محصولات کی کم شرح معیشت کی زیادہ شرحِ نمو کا سبب بنتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معیشت میں اضافہ صرف پیداوار میں اضافے سے ہوتا ہے اور پیداوار میں اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب پیداواری شعبوں میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جارہی ہو۔ جب ریاست کسی بھی مقصد کے لیے بہت زیادہ محصولات اکٹھے کرتی ہے تو وہ دراصل اس دولت کو غیر پیداواری مقاصد کے لیے حاصل کرلیتی ہے جسے سرمایہ کاری میں لگ کر پیداوار میں اضافے کا سبب بننا تھا۔ اسی لیے دیکھا گیا ہے کہ جن ممالک کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو سب سے زیادہ ہے، ان کی شرح نمو بہت کم ہے۔ تمام اسکینڈینوئین ریاستوں کا ٹیکس ٹوجی ڈی پی ریشو پچاس سے ساٹھ فیصد ہے۔ اس کے برعکس تیز شرح نمو رکھنے والی معیشتوں میں یہ شرح آٹھ سے چوبیس فیصد کے درمیان ہے۔

گویا ہمارے پاس اول تو معیشت پہلے ہی بہت چھوٹی اور کمزور ہے اور آبادی بہت بڑی اور تیزرفتاری سے پھیلتی ہوئی۔ یعنی کھانا بہت کم اور کھانے والے بے تحاشا اور روز افزوں، اس پر اگر ہم ناروے اور سویڈن جیسے امیر ملکوں کی نقل کرکہ ویلفئیر کے نام پرسارا پیسے محصولات کی مد میں اکٹھے کرنے لگیں تو شرح نمو بھی ایک دو فیصد تک گرجائے گی بلکہ شاید منفی میں چلی جائے۔ ایسے مِیں وہ دن بہت جلد آجائے گا جب ویلفئیر کے لیے محصول اکٹھا کرنے کو بھی حکومت کے پاس کوئی زرائع یا وسائل نہیں رہیں گے۔ سوشلزم کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت دولت کی تقسیم نو کے نام پر اس قدر محصولات لگاتی ہے کے بہت جلد اسے محصولات لگائے جانے کے قابل لوگ ملنا بھی بند ہوجاتے ہیں۔

اب یہاں سوال یہ ہے کہ اسکینڈینوئین ممالک میں یہ نظام کیسے اتنا کامیاب ہے ؟ تو اس کا جواب مل چکا ہے کہ وہاں کی محدود اور نہ بڑحتی ہوئی آبادی کے سبب انہیں شرح نمو کی ضرورت ہی نہیں اور جو دولت ان کے پاس ہے وہ ہمیشہ کے لیے کافی ہے کیونکہ دولت استعمال کرنے والے بھی نہیں بڑھ رہے۔ ، تاریخی خوش قسمتی اور جغرافیائی لوکیشن کے سبب انہوں نے بہت سکون سے ترقی کرکہ کافی دولت اکٹھی کرلی ہوئی ہے جس کے اکٹھے ہونے کے بعد ہی وہ فلاحی ریاست بنا سکے۔ اب اگر ان کی آبادی بڑحنے کی شرح یہی رہے تو وہ دولت میں کوئی اضافہ کیے بغیر بھی صدیوں تک فلاحی ریاست چلا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے پاس نہ تو پیسہ ہے نہ ہماری آبادی ہی رکی ہوئی ہے۔ ہمارے لیے اسکینڈینویا کا نسخہ کسی صورت کام نہیں کرسکتا۔

تو پھر کیا کیا جائے ؟ فلاحی ریاست بناَئی جائے یا نہیں ؟ اور اگر بنائی جائے تو کیسے ؟ خود مدینہ کی فلاحی ریاست میں کلیدی کردار فتوحات اور جہاد سے حاصل ہونے والے مال غنیمت نے ادا کیا تھا مگر آج کے دور میں وہ بھی ممکن نہیں رہا۔ ایسے میں کیا ماڈل اپنایا جاسکتا ہے ؟ اس سوال کے لیے ہمیں وقت اور جگہہ میں اپنے سے قریب تر معروضی حالات رکھنے والے ان ممالک کو دیکھنا ہوگا جنہوں نے گزشتہ کچھ عرصے میں کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا۔

اس سلسلے میں کچھ ایشیائی ممالک مثلاً جنوبی کوریا، ملائیشیاء ترکی اور بھارت کی مثالیں کسی نہ کسی حد تک ہمیں کچھ سکھا سکتیں ہیں۔ ان ممالک کے حالات ہمارے جیسے تھے تاہم ان ممالک نے سرمایہ کاری کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی، حکومت نےبہت زیادہ محصولات لگانے سے پرہیز کیا اور کاروبار کو آسان بنایا، خسارے میں چل رہے ادارے (اور سرکاری ادارے ہمیشہ خسارے میں ہی رہتے ہیں) سیاسی مصلحتوں کے تحت سرکار کی تحویل میں نہیں رکھے بلکہ کاروبار کو اس سیکٹر میں پہنچایا جہاں اسے ہونا چاہیے یعنی پرائیوٹ سیکٹر اور یوں انہیں خسارہ پورا کرنے اور لمبی چوڑی سرکاری مشینری کو تنخواہیں دینے پر خرچہ کرنے کی بجائے تعلیم اور صحت پر خرچ کرنے کے لیے پیسہ ملا۔ دوسری طرف کم محصولات، نیشنلائزیشن کے خوف سے آزادی اور ریڈ ٹیپ کے خاتمے سے بڑی تعداد میں کاروبار کھڑے ہونے لگے اور لوگوں کو اسی سیکٹر میں روزگار ملنے لگا جہاں انقلابی پیمانے پر پائیدار روزگار تخلیق ہوسکتا ہے یعنی پرائیوٹ سیکٹر۔

بائیں بازو کے دوست اسے نیولبرل ازم کہہ کر مسترد کردیں گے اور شکوہ کریں گے کہ یہ طریقہ کار معاشی ناہمواری کو بڑھا دیتا ہے۔ ایک حد تک ان کی بات درست ہے کہ سرمایہ دارانہ معیشت میں امیر کی دولت میں اضافے کی شرح غریب کی دولت میں اضافے سے زیادہ ہوتی ہے مگر غریب غریب تر ہوجاتا ہے، یہ بات ماننے کی نہیں۔ امیر اگر اپنی دولت کسی سبب ذخیروں میں محفوظ نہ کرلے اور سرمایہ کاری کرے تو اس کا فائدہ آخر کار غریب کو ہی پہنچتا ہے۔ حکومتوں کا کام امیر کو سرمایہ کاری پر آمادہ یا مجبور کرنا ہے، اس کا سرمایہ محصولات کی صورت چھین لینا نہیں۔ امیر دولت ذخیرہ کرے تو صرف غریب غریب رہتا ہے مگر حکومت دولت کی ذخیرہ کرے تو سب غریب ہوجاتے ہیں۔ امیر دولت کی سرمایہ کاری کرے تو سب کو فائدہ ہوتا ہے۔

اس عمل میں توازن پیدا کرنے اور زیادہ منصفانہ اور فلاحی بنانے کے لیے اگر کسی ماڈل سےسب سے زیادہ سیکھا جاسکتا ہے تو وہ جرمنی کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین کا تیار کردہ اور ڈو لبرل ماڈل ہے۔ اس ماڈل کی چارخصوصیات ہیں۔

  1. تعلیمی نظام اور فنیً تربیت کا باہم جڑا ہوا ہونا۔ جرمنی میں ان انتہائی ذہین بچوں کے سوا جنہیں ایکیڈیمیا میں جانا ہوتا ہے، تمام بچے سکول میں ہی کوئی نہ کوئی ہنر سیکھنے لگتے ہیں اور تعلیم کے حصے کے طور پر کسی کمپنی سے وابستہ کردیے جاتے ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی وہ عموما اسی کمپنی سے وابستہ رہتے ہیں اور وہاں سے تربیت لینے کی بجائے تنخواہ لینے لگتے ہیں۔ یوں روزگار بھی با آسانی مل جاتا ہے، باہنر ورکنگ فورس بھی وجود میں آتی ہے اور انڈسٹری کو بھی فروغ ملتا ہے۔
  2. مینو فیکچرنگ اکانومی۔ ہماری معیشت زراعت سے صنعت کی طرف نہیں بلکہ صرف تجارت اورملازمت کی طرف جارہی ہے۔ یہ دونوں شعبے صنعت پر کھڑے ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں صنعت نہیں بڑھ رہی۔ یوں ہمارے ٹریڈاور سروس سیکٹرز ہوا میں کھڑے ہیں اور ببلز ہیں جو پھٹ رہی ہیں۔ ہم پروڈیوسنگ سوسائٹی نہیں بلکہ کنزیومنگ سوسائٹی ہیں۔ بائیس کروڑ کے قوم کے لیے یہ شرم کی بات بھی ہے اور خطرے کی بھی۔ اس کے برعکس جرمن ماڈل مینوفیکچرنگ پر مبنی ہے، یہی سبب ہے کہ پائیدار ہے۔
  3. ریسرچ سیکٹر۔ جرمنی کی معیشت مینوفیکچرنگ پر مبنی ہے اور اس کی مینوفیکچرنگ ریسرچ کی وجہ سے تمام دنیا میں سب سے تگڑی ہے۔ چین جیسا ملک بڑی آبادی اور سستی افرادی قوت کی وجہ سے بہت زیادہ صنعتی و زرعی پیداوار کرتا ہے اور بہت بڑا ایکسپوٹر ہے مگر جرمنی صرف آٹھ کروڑ آبادی کے ساتھ اور مہنگی افرادی قوت کے باوجود برآمدات اور صنعت میں چین سے کچھ خاص پیچھے نہیں۔ اس کی وجہ صرف ریسرچ سیکٹر ہے جو جرمنی کو وہ سب بنانے کے قابل بناتا ہے جو چین کبھی نہیں بنا سکتا۔
  4. صحت اور تعلیم۔ جرمنی میں کچھ بھی پبلک سیکٹر کے پاس نہیں اور نہ ہی مفت ہے سوائے تعلیم اور صحت کے۔ یہ دو شعبے معیشت نہیں معاشرت کے شعبے ہیں۔ ناانصافی یہ نہیں کہ سب کو برابر دولت نہ ملے یا امیر بہت امیر اور غریب بہت غریب ہو۔ ناانصافی یہ ہے کہ سب کو دولت کمانے کے برابر مواقع نہ ملیں اور غریب بہت غریب رہنے پر مجبور ہو۔ تعلیم اور صحت کی مفت فراہمی سب کوموقع کی سطح پر برابر لے آتی ہے۔ اور ان شعبوں پر خرچنے کے لیے حکومت کے پاس پیسہ تب ہی آتا ہے جب
    الف۔ کرپشن نہ ہو۔
    ب۔ فضول خرچیاں نہ ہوں۔
    ج۔ لمبی چوڑی بیوروکریسی نہ ہو۔
    د۔ ایسے شعبوں پر کوئی سرکاری پیسےخرچ نہ ہورہے ہو ں جن پر پرائیوٹ سیکٹر کو خرچنے کے لیے آمادہ کیا جانا چاہیے مثلاً سٹیل مل، ائیر لائن، ریلوے، ٹی وی، ریڈیو، میٹرو بسیں اور ٹرینیں، وغیرہ وغیرہ۔

اس ساری بحث کا حاصل کلام یہ ہے کہ اگر عمران خان صاحب فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو انہیں سکینڈینیویا کو دماغ سے نکال دینا چاہیے اور جرمنی وجنوبی کوریا کو رکھ لینا چاہیے۔ وزیراعظم اگرچہ بہت ذہین شخص نہیں ہیں مگر ان میں ایک اچھی عادت ہے کہ وہ بہت جلد اپنی غلطیوں سے سیکھ لیتے ہیں۔ امید ہے کہ وہ سیکھ لیں گے کہ پرائیوٹائزیشن، آسٹیرٹی، مینوفیکچرنگ سیکٹر کی امداد، کاروبار کرنے کی آزادی اور سرخ فیتے کا خاتمہ، زبردست ریسرچ سیکٹر، کم شرحِ محصولات، آمدنی یا کاروبار کی بجائے پراپرٹی اور ذخیرہ شدہ دولت پر ٹیکس اور اس ٹیکس سے سب سے زیادہ تعلیم اور صحت پر خرچ ہی فلاحی ریاست کی طرف جانے کا راستہ ہیں۔

(Visited 175 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: