انسان کا حیوان بننے کا سفر —- اسد احمد

0
  • 90
    Shares

انسان جن صفات کے بنا پر اشرف المخلوقات کا درجہ پاتا ہے، یا انسان کے کون سے اعمال اور افعال اس کو حیوان سے ممیّز کرتا ہے اس کے تین درجات ہیں۔
جبلت ((Intrinsic
جذبات (Emotions)
عقل (Reason)

یہ وہ تین درجے ہیں جہاں سے انسان کے اشرف مخلوق ہونا متعین ہوتا ہے۔ اس درجہ بندی میں جتنے عوامل (Factors) آتے ہیں ان میں سے ہر ایک انسان کو ایک اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے۔ جلب، جذبات اور عقل میں جب بھی تغیر واقع ہوتا ہے تو انسان اپنے اصل مقام کو کھو بیٹھتا ہے۔

جبلت Intrinsic:
سب سے پہلے جلبی خواہشات پر نظر ڈال لیجیے، اس لحاظ سے انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حیوان بھوک کو مٹانے اور شہوت و لذت حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی راستہ اختیار کرتا ہے۔ ایسی ضروریات انسانوں کی بھی ہوتی ہیں لیکن انسان کو حیوان سے اوپر لے جانے والی اور اس سے ممیّز کردینے والی صفت یہ ہے کہ انسان ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہ ذرائع استعمال نہ کرتا جو ذرائع حیوان استعمال کرتا ہے۔ جب جبلی سطح (instinctual level) پر حیوانی ذرائع انسان کو مغلوب (Dominate) کرتا ہے تو انسان معاشرے میں اپنی انسانی حیثیت کھو کر inhuman status اختیار کرلیتا ہے۔

شاہ ولی اللہ ؒ انسانی کے اندرونی قوتوں اور خصائص کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: ایک ملکوتی خصائص ہیں، اور دوسرے حیوانی خصائص۔ حیوانی خصائص وہ ہیں جن پر انسان بہت زیادہ زور دیتے ہیں، یہ خصائص اوپر جلبت کے تحت ذکر ہوئے یعنی بھوک مٹانا، پیاس کا احساس، نیند اور جنسی تقاضے وغیرہ۔ اس کے برعکس ملکوتی خصائص پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ لیکن خاص لوگ زیادہ توجہ ملکوتی خصائص پر دیتے ہیں اس لیے یہ خاص لوگ بہیمیّت سے دور رہتے ہیں۔ انسان ملکوتی خصائص کو جتنا ترقی دے گا اس قدر بہمیّت سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ انسان ہونے کا اعلیٰ درجہ اس راہ پر حاصل ہوتا ہے۔

جذبات Emotions:
دوسری سطح جذبات کا ہے۔ جذبات انسانی فطرت کا حصہ ہے لیکن اس کا بھی ایک متعین دائرہ ہے جس کو عبور کرتے ہوئے انسان اپنے اصل مقام سے دور ہوجاتا ہے۔ شدید غم و غصہ اور خوشی کے وقت انسان کا رویہ اس کی اصل حثیت متعین کرتا ہے ان دونوں موقعوں پر نظر رکھنے کی بڑی اہمیت ہے۔ عام طور پر انسان ان دونوں موقعوں جو رویہ اختیار کرلیتا ہے اس سے اس کی اصل حیثیت ختم ہوجاتی ہے اور ایک دوسرے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے پھر وہ انسان نہیں رہتا۔ تاہم غصہ حیوان بھی کرتا جس کی وجہ سے وہ بے لگام ہوکر سب کچھ کر گزرتا ہے۔ اگر انسان بھی غصے کے وقت وہ مظاہرہ کرے جو جانور کرتا ہے تو اس میں اور حیوان میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ کیوں کہ انسان کو حیوان سے ممیز کرردینے کے لیے ایک اور چیز دی گئ ہے اور وہ خود پر قابو کرنے کا اختیار۔ حیوان کو یہ اخیتار نہیں دیا گیا۔ چنانچہ جب اس سطح پر انسان خود کو قابو میں نہ لائے تو حیوانیت کے درجے پر فائز ہوجاتا ہے۔ جب انسان جذبات سے مغلوب ہوجائے تو وہ اپنا اصل مقام کھو بیٹھتا ہے۔

عقل Reason:
تیسرا درجہ عقل کا ہے۔ عقل انسان نے صرف خواہشات کی تابع بنا دیا گیا ہے۔ مذکورہ دو سطحوں کا صحیح تعین بھی اس آخری سطح سے ہوتا ہے۔ کیوں کہ اگر عقل انسانی مسخ ہوجائے تو ذکر کردہ دونوں سطحیں اپنی آپ دھرام سے گر جاتی ہیں۔ کچھ دیر کے لیے تصور کریں اگر انسان اپنی خواہشات سے مغلوب ہو کر خواہشاتِ نفسانی کو پورا کرنے کے لیے حیوانی طریقہ اپنائے اور عقل سے اس کو جائز ثابت کرنے پر اصرار بھی کریں تو کیا یہ انسان انسان رہ جائے گا؟ ہر گز نہیں!
عقل خواہشاتِ نفسانی کی تابع نھیں ہے۔ انسان خواہشات پورا کرنے کے لیے آزاد نہیں چھوڑا گیا بلکہ جانور، جس میں عقل نہیں، جبلی خواہشات پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر آزاد ہے اس کے برعکس انسان، جو عقل رکھتا ہے، کو صرف ایک اختیار دیا کہ وہ خود کو قابو میں رکھے کیوں کہ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان خود کو جانور سے ممیّز کرسکتا ہے۔ اب اگر انسان اس عقل کو خود کو جانور بنانے کے لیے اور مزید ستم یہ کہ اس بہیمیت کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کرے، ایسا آدمی گوشت پوشت کا ایک وجود تو ہوسکتا ہے انسان کا مرتبہ نہیں پاسکتا۔

عقل بے لگام نہیں ہے بلکہ اصول کا پابند ہے۔ اس کے برخلاف عقل کو خواہشات کا پابند بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بھلا اس عقل کی کیا حیثیت جو خواہشات کی پابندی کرے۔ اگر ان تینوں درجوں پر ایک نگاہ ڈال لیجیے تو بہت واضح نظر آئے گا کہ انسان صرف جبلی خواہشات کو حیوانی طریقے سے پورا کرنے کے لیے عقل کا سہارا لیتا ہے۔ کیا عقل کا مرتبہ اس حد تک گرچکا کہ اب وہ حیوانی خواہشات کی پابندی کرے گا؟ اگر ایسا نہیں تو عقل کا دائرہ متعین ہے اور وہ انسان اس کے اصل مقام میں رہنے کی پابند کرے گا تاکہ انسان اپنے اصل مقام پر فائز رہے۔۔

یہ بھی پڑھیئے:  حقیقت ِکُبریٰ اور انسانی عقل —– مجیب الحق

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: