کارپوریٹ ادبی میلے، جدید کاروباری ریاستیں اور ناول نگاری — ارون دھتی رائے کا تازہ انٹرویو

0
  • 586
    Shares

بھارت سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ دانشور، ادیبہ ارون دھتی رائے کا یہ انٹرویو 3 جنوری 2018ء کو ’بوسٹن لٹریری ریویو‘ پہ شایع ہوا۔ اس انٹرویو کے منتخب حصوں کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
اس انٹرویو کی پاکستان کے ادبی و سیاسی منظر نامے میں ایک اہمیت ہے۔ ارون دھتی رائے ان چند ایک آزاد اور باغی دانشور اور ادیبوں میں سے ایک ہیں، جن کا خیال یہ ہے کہ کارپوریشنوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور نیولبرل ریاستوں کی سپانسر شپ کے ساتھ ہونے والے ادبی میلے، کانفرنسز جن میں بڑے بڑے منحرف دانشور اور ادیبوں کو بلاکر بظاہر باغیانہ خیالات کے اظہار کی اجازت دی جاتی ہے، وہ بھی احتجاج، بغاوت اور مزاحمت کو بے اثر بنانے کا کارپوریٹ حربہ ہیں۔
ارون دھتی رائے بی جے پی کے بارے میں کسی شک و شبہ میں نہیں ہیں، وہ اس کو ہندو راشٹریہ بنانے کی داعی آر ایس ایس کا سیاسی بازو خیال کرتی ہیں۔ پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کے بارے میں بھی لبرل اور لیفٹ کے ایک حصّے کا رویہ منافقانہ ہی ہے۔
ارون دھتی رائے ہندوستان کو ہندوتوا اور لبرل ازم کے باہمی میلاپ سے بننے والی کارپوریٹ نیشن سٹیٹ کے ایجنڈے بارے کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہیں۔ اور نہ ہی وہ ہندو راشٹریہ کے سیوکوں کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مظلوموں کے اندر سے ہونے والے چند ایک تشدد کے نمونوں کو لیکر بیلنس کرنے کی پالیسی لیکر آتی ہیں، اگرچہ وہ اس ناجائز متشدد ردعمل کو بھی جائز نہیں کہتیں۔ ان کا کہنا ہے جس قسم کی منتشر، بکھرے ہوئی صورت حال کا ہمیں سامنا ہے، اسی بکھرے ہوئے عمل کی کہانی لکھنا ہی آج کے ادیب کا فریضہ ہے۔
ان سے یہ انٹرویو ایونی سیج پال نے کیا، جو آپ انگلش لٹریچر گریجویٹ ہیں اور وہ بوسٹن ریویو کی ایسوسی ایٹ ایڈیٹر رہی ہیں۔


ایونی سیج پال: آپ نے ایک بار لکھا تھا کہ ’’جارج بش نے وہ کارنامہ (چند سالوں) میں سرانجام دے ڈالا، جس کے لیے لکھاری، محقق اور ایکٹوسٹ کئی عشروں سے کوشش کررہے تھے۔ اس نے (ساری) پائپ لائنوں کو آشکار کردیا۔ اس نے امریکی ریاست کے غارت گر آپریٹس کے کل پرزوں، نٹس اور بولٹ کا ایک مکمل نقشہ عوام کے سامنے رکھ دیا۔‘‘ یہ کہنے سے آپ کا مطلب کیا تھا؟ اب جبکہ اس بات کو کہے دس سال گزر گئے اور دو مزید صدور آگئے، کیا امریکی سلطنت کی غارت گرد فطرت ویسے ہی شفاف نظر آتی ہے؟

ارون دھتی رائے: میں بش کے کھردری اور ذہانت کی کمی کے ساتھ کی گئی اس کمنٹری کا حوالہ دے رہی تھی جو نائن الیون کے واقعات کے بعد اور اس کے ساتھ افغانستان و عراق پہ حملے کے میدان میں کی گئی۔ اس نے امریکہ کے اندر ڈیپ اسٹیٹ سوچ کو بے نقاب کرڈالا۔ ایسی شفافیت اوبامہ کے ادوار میں ویسے ہی غائب ہوگئی، جیسے ڈیموکریٹس کے دور اقتدار میں عمومی طور پہ یہ غائب ہوجایا کرتی ہے۔ اوبامہ کے ادوار میں ہمیں معلومات کی کھوج لگانا پڑتی اور یہ دیکھنے کے لیے کہ کتنے بم برسائے گئے اور کتنے لوگ مارے گئے کے لیے مختلف ٹکڑوں کو جوڑنا پڑتا تھا اگرچہ نوبل انعام کے لیے کي گئی مقبول تقریر کو شاندار طریقے سے ادا کی گئی تھی۔ ان کی ملک کے اندر پالیسیاں مختلف ہونے کے باوجود،یہ بھی ‎سچ ہے کہ ڈیموکریٹس کی خارجہ پالیسی بھی ریپبلکن کی طرح جارحانہ سے جارحانہ ہی ہوتی چلی گئیں تھیں۔ نائن الیون کے بعد سے، بش اور اوبامہ کے ادوار کے دوران، کتنے ممالک برباد ہوئے؟ اور اب ٹرمپ کا دور ہے، جس میں، ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ذہانت و نفاست بے کار کی چیزیں ہیں۔اور وہ جو ڈبلیو تھا،جب اس کا ٹرمپ سے موازانہ ہوتا ہے، تو وہ زرا سنجیدہ دانشور تھا۔ اب امریکہ کی پالیسی دنیا کو ٹویٹ کی جاتی ہے گھنٹہ بہ گھنٹہ کی بنیاد پہ۔ اب اس سے زیادہ تو آپ شفاف نہیں ہوسکتے نا۔ تو یہ مبہم غارت گری ہے۔ کس نے سوچا ہوگا کہ ایسا ممکن ہوسکتا ہے؟ لیکن یہ تو ممکن ہوگیا بلکہ ممکن سے بھی کہیں زیادہ۔اور یہ اس سے بھی کہیں زیادہ تیزی سے ممکن ہوجائے گا اگر ٹرمپ نے ایران پہ حملہ کردیا تو۔

اے ایس: آپ کے دو ناول ‘گاڈ آف سمال تھنگز اور دا منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس’ دو الگ الگ عشروں میں شایع ہوئے ہیں۔ ان دونوں ناولوں کے مابین اسلوبیاتی فرق کی نشاندہی ہوئی ہے۔ جبکہ دونوں سیاست اور تشدد بارے بات کرتے ہیں لیکن پہلے والا ناول غنّائی حقیقت پسندی کا حامل کہا جاتا ہے۔ جمال اس کے غالب استغراق میں سے ایک ہے اور اس کا اختتام بھی خوش کن نوٹ پہ ہوتا ہے۔ منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس، دوسری طرف، زیادہ عاجل، منتشر اور روکھا ناول ہے، جہاں پہ رائيگانی کا دور دورہ ہے۔ مابعد کالونیل اور گلوبل ناول میں غنائی حقیقت پسندی کو غالب رکھتے ہوئے کیا غلبے کے عالمی نظاموں کو مختلف طریقے سے بیان کرنے کی ضرورت کے بارے میں بیان آپ کا اسلوبیاتی انتخاب تھا؟ کیا ناول ہندوستانی انگريزی فکشن میں حقیقت باصرہ کے بارے دوبارہ سے سوچ و بچار کرنے کی بالواسطہ دعوت ہے؟

رائے: دونوں ناول مختلف اقسام کے ہیں۔ کہانی کو بیان کرنے کے لیے ان کو دو مختلف طریقے درکار ہیں۔ دونوں، زبان نامیاتی طور پہ جیسے نمودار ہوئی، ویسے ہی میں نے ان کو لکھا ہے۔ میں شعوری طریقے سے واقعی ‘اسلوبیاتی انتخابات’ سے واقف نہیں ہوتیں۔ ‘گاڈ آف سمال تھنگز’، میں نے زبان کی طرف اپنا طریقہ جو محسوس کیا وہ وہی ہے جو انگریزی اور ملیالم دونوں ہی رکھتا ہے۔ اور یہی وہ طریقہ تھا جس سے اس مقام اور وہاں کے لوگوں کی کہانی بیان ہوسکتے تھے۔ جبکہ دا منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس زیادہ خطرات کا حامل وینچر تھا۔ اسے لکھنے کے لیے، مجھے ایک بہت اونچی عمارت کی چھت سے گاڈ آف سمال تھنگز کی زبان کو گرانا پڑا اور پھر نیچے بھاگ کر اس کو دوبارہ سے اکٹھا کرنا پڑا۔ یہ ناول لکھا تو انگريزی میں گیا، لیکن اس کا تخیل کئی زبانوں میں تھا۔۔۔۔ ہندی، اردو، انگریزی۔

میں ایسے ناول کو لکھنے کی کوشش کرنا چاہتی تھی جو محض ایک ایسی کہانی تک محدود نہ ہو جو چند کرداروں کے زریعے سے بیان کی گئی ہو جو ایک خاص پیش آمدہ صورت حال کے خلاف لائیو پلے کرتے ہوں۔ میں نے ناول کی ایسی بیانیہ ہئیت کو تصور کرنے کی کوشش کی گویا یہ دنیا میں مرے حصّہ کے عظیم میٹروپول ہوں۔ قدیم، جدید، مربوط اور غیر مربوط۔ ہائی ویز۔ تنگ پگڈنڈیوں، پرانے صحن اور نئی روش۔ ایسی کہانی جس میں آپ کھوجاتے ہیں اور آپ کو اس میں سے واپس آنے کے لیے تگ و دود کرنا پڑتی تھیں۔ ایسی کہانی جس کے اندر قاری کو رہنا پڑتا ہے، نہ کہ اس میں تحلیل ہونا۔ ایسی کہانی جس میں نے لوگوں کو سگریٹ پینے کے لیے رکے بغیر اور ہیلو کہنے جیسے ماضی سے گزارنے کی کوشش نہیں کی۔ ایسی کہانی ہے جس میں چھوٹے سے چھوٹے کردار بھی آپ کو اپنے نام، اپنی کہانیاں سناتے ہیں، وہ جہاں سے آتے ہیں،جہاں وہ جانے کی خواہش رکھتے ہیں بارے بیان کرتے ہیں

میں مانتی ہوں، دوسرا ناول بکھرا ہوا اور عاجل سا ہے۔۔۔۔ مجھے قریب دس سالوں میں لکھے گئے ایک ناول کو ‘عاجل۔ارجنٹ’ بتانے والا خیال بھاتا ہے۔۔۔۔ لیکن میں اسے روکھا نہیں کہوں گی۔ اکثر کردار، آخرکار، عام مقامی لوگ ہیں جو روکھے پن کے آگے سرنڈر کرنے سے انکار کرتے ہیں، جو ان کے اردگرد ہے، جو ہر طرح کے عامی پیار ، مزاح اور فحش گوئی پہ اصرار کرتے ہیں، جو سب لچکدار طریقے سے غیرمتوقع مقامات پہ فروغ پاتے ہیں۔ دونوں کتابوں میں کرداروں کی زندگی، محبت، غم، مایوسی اور امید بہت سختی سے ایک دوسرے سے نتھی ہے، اور کافی ناپائیدار ہیں، مجھے یقین نہیں ہے کہ میں ان دونوں ناولوں میں سے کسے زیادہ روکھا جانتی ہوں اور ان میں سے کس کو زیادہ امید افزا۔

میں ان میں سے کچھ درجہ بندیوں میں نہیں سوچتی، جن میں آپ نے مجھ سے سوال کیا ہے۔ مثال کے طور پہ، مجھے بالکل بھی نہیں پتا کہ ‘گلوبل ناول’ کیا ہوتا ہے۔ میں تو اپنے دونوں ناولوں کو بہت زیادہ مقامی سمجھتی ہوں۔ مجھے تو حیرانی ہے کہ وہ کتنی اسانی نے ثقافتوں اور زبانوں میں سفر کرلیے ہیں۔ دونوں ناولوں کا 40 سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ لیکن کیا محض اس سے یہ ناول گلوبل یا عالمگیر ہوگئے ہیں؟ اور پھر اصطلاح ‘پوسٹ کالونیل/مابعد نوآبادیات پہ بھی حیران ہوں۔ میں نے بھی اکثر اسے استعمال کیا، لیکن کیا کالونیل ازم۔نوآبادیات ماضی کا قصّہ ہوچکی؟ دونوں ناول مختلف طریقوں سے سوال کو منعکس کرتے ہیں۔ بہت سی اقسام کے پیوست اور انجانے کالونیل ازم۔نوآبادیاتی نظام اب بھی موجود ہیں۔ کیا ہم ان کو ہک سے نیچے گرنے نہیں دے رہے؟ یہاں تک کہ ‘ہندوستانی انگریزی فکشن’  بھی بظاہر بہت دلکش قسم لگتی ہے۔ لیکن اس کا حقیقی معنی ہے کیا؟

جسے ہم ہندوستان کہتے ہیں، اس ملک کی سرحدیں تو فرنگیوں نے کھنچیں تھیں۔ ‘ہندوستانی انگریزی’ کیا ہے؟ کیا یہ پاکستانی انگریزی یا بنگلہ دیشی انگریزی سے مختلف ہے؟ کشمیری انگریزی؟ ہندوستان میں 780 زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں سے باقاعدہ تسلیم شدہ 22 زبانیں ہیں۔ ہماری زیادہ تر اںگریزیاں ہماری ایک یا ایک سے زائد ان زبانوں سے مشابہت سے باخبر ہیں۔ میری کتابوں کے کردار بہت سی زبانوں میں بولتے ہیں، اور ایک دوسرے میں اس کو ترجمہ کرتے ہیں۔ میری تحریر میں، ترجمہ، تخلیق کا بنیادی عمل ہے۔ وہ اور خود مصنف بھی ترجمے کی زبان میں جیتے ہیں۔ سچی بات ہے، میں اپنے آپ کو ‘ہندوستانی انگریزی فکشن’ کی ادیب نہیں سمجھتی۔ مجھے تو لگتا ہے کہ میرا فکشن تو ایک ایسے مقام سے آتا ہے جو قدیم ترین بھی ہے، اور ساتھ جدید بھی ہے اور یہ اقوام کے تصور سے بہت کم کھوکھلا ہے۔

کیا دا منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس ہندوستانی انگريزی ناول میں حقیقت باصرہ کی پیشکش کو دوبارے سے سوچنے کی دعوت ہے؟ شعوری طور پہ تو ایسا نہیں ہے۔ لیکن ایک ادیب کے شعوری ارادے تو ایک کتاب آخرکار جس شکل میں مکمل ہوتی ہے،اس کا ایک حصّہ ہوتی ہے۔ جب میں فکشن لکھتی ہوں تو میرا صرف مقصد ایک ایسی کائنات تخلیق کرنا ہوتا ہے، جس میں میں قاری کو چلنے پھرنے کی دعوت دیتی ہوں۔

اے ایس: آپ کے دوسرے ناول کے آخر میں ایک کردار سوال کرتا ہے: “ایک بکھری ہوئی کہانی کو کیسے بیان کیا جائے؟” ناول ایسے کرداروں سے بھرا ہوا ہےجن کی زندگیاں قومی منظرناموں کی محدودیت کے سبب محدود کردی یا کمتر بنادی گئی ہیں۔ اور پھر بھی ان کی کہانیاں مزاح، اشتعال، فعالیت اور توانائی سے بھری ہوئی ہیں۔ آپ ایک ایسے وقت میں جب لوگوں کو مسلسل نیو امپریل نیشن سٹیٹس کے بیانیے اٹھاکر پھینک رہے ہیں، داستان گوئی تک کیسے پہنچ جاتی ہیں؟

رائے: قومی منظر نامے اور نیشن سٹیٹس بیانیے اس صورت حال کا صرف ایک جزو ہیں جس سے میرے ناول کے کردار نبردآزما ہیں۔ ان کو دوسرے بور کردینے والے اور محدودیت کے حامل کئی اقسام کے تصورات سے بھی معاملہ کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔ جیسے جات پات کے تصور، مذہبی تعصب، صنفی سٹیریو ٹائپنگ سے۔ متھ جو تاریخ کا نقاب پہنے ہوئے ہو یا تاریخ جو متھ کا نقاب پہنے ہوئے ہو سے۔یہ خطرناک کاروبار ہے اور ایک خطرناک کہانی کو بیان کرنا ہے۔ آج کے ہندوستان میں ‘کہانی کہنا’ نہ صرف ریاستی عتاب کو دعوت دینا ہے بلکہ مذہبی جنونیوں، جاتی گروپوں، اخلاقیات کے محافظوں اور سب سے بڑھ کر بلوائیوں کے عتاب کو دعوت دینا ہے، جن کو سیاسی تحفظ حاصل ہوتا ہے، جو سنیما ہال جلاڈالتے ہیں، جو ادیبوں کو ان کے ناولوں سے دست بردار ہونے پہ مجبور کرڈالتے ہیں، جو صحافیوں کی ہتھیا/قتل کر دیتے ہیں۔ سنسرشپ کی یہ متشدد شکل اب قابل قبول سیاسی تحرک کا طریق بنتا جارہا ہے اور ایک دستوری عمارت کی شکل اختیار کرتا جاتا ہے۔ادب، سینما اور آرٹ کے ساتھ اب ایسے سلوک کیا جاتا ہے، جیسے پالیسی بیانات یا پارلیمنٹ سے منظوری کے منتظر قانونی مسودے ہوں اور ان کو لازمی ہر ایک خود ساختہ سٹیک ہولڈر کے خیال کے مطابق کہ کیسے وہ، ان کی برادری ، ان کی تاریخ یا ان کے وطن کو دکھایا جائے کے عین مطابق ہونا چاہئیے۔ اور کوئی حیران کن بات نہیں ہے کہ ہر قسم کا تعصب امنڈتا چلا جارہا ہے اور ان کے خلاف ہوتا جارہا ہے،جن کی کوئی سیاسی حمایت پشت پہ نہیں ہے یا ان کے پاس کوئی منظم حلقہ نہیں ہے۔ میں نے حال ہی میں ایک ملیالم فلم کیرالہ جیسی ترقی پسند ریاست میں دیکھی، جس کا نام تھا ‘ ابراہیم کے بیٹے’۔ اس میں کمینے، ذلیل ولن سب کے سب کالے افریقی تھے۔ کیرالہ میں کیونکہ افریقی کمیونٹی نہیں ہے، تو اس قسم کی نسل پرستی کا کھیل رچانے کے لیے فکشن میں ان کو درآمد کیا گیا۔ ہم اس قسم کی چیز کا الزام محض ریاست کو نہیں دے سکتے۔ یہ سماج ہے، یہ لوگ ہیں۔ فنکار، فلم ساز، اداکار،لکھاری ۔۔۔۔ جنوبی ہندوستانی جن کو شمالی ہندوستانی ان کی سیاہ جلد کے سبب برا بھلا کہتے ہیں بدلے میں اسی طرح کی وجوہات کے سبب افریقیوں کو ذلیل کرتے ہیں۔ بہت عجیب و غریب ہے یہ۔

ایسے ماحول میں لکھنا، فلمیں بنانا یا حقیقی صحافت کرنا خاصا ڈرادینے والا عمل ہے۔ قریب پہنچتے ہوئے بلوائیوں کی بھنبھاہٹ ایک مستقل بیک گراؤنڈ اسکور بورڈ کی طرح ہے۔ لیکن کہانی کو بہرحال کہا ہی جانا ہے۔

ایک بکھری کہانی کو کیسے بیان کیا جائے؟ یہ سوال میرے دوسرے ناول کے مرکزی کرداروں میں سے ایک کردار ٹیلو- ٹیلوٹما نے ۔۔۔ جو دہلی کے قبرستان میں ایک غیرقانونی قبرستان میں رہتی ہے، اپنی نوٹ بک پہ درج کیا تھا۔ وہ خود ہی اس کا جواب دیتی ہے: آہستہ آہستہ ڈھل کر ہر ایک شخص میں؟ نہیں ،بلکہ دھیرے دھیرے ڈھل کر ہر ایک شئے میں۔ ٹیلو ایک آرکیٹکٹ ، خاص چیزوں کو آرکائیوز کرنے والی، اور بستر مرگ پہ پڑے شخص کی سٹینوگرافر، ایک استاد اور انجان، غیر مطبوعہ کہانیوں کی مصنفہ ہے۔ اس کی نوٹ بک کے مندرجات لوگوں، جانوروں، جنات اور ارواح کے بارے میں مشاہدات ہیں، جن کے ساتھ وہ اپنی زندگی کے گوشے شئیر کرتی ہے۔ آج ہمارے گرد جو بحث و مباحثے زیر گردش ہیں ان کو دیکھتے ہوئے، ٹیلو کو شاید سختی سے اس کی اس طرح سوچنے کی عادت کو جھڑک دیا جائے۔ اس کو بتایا جائے گا کہ ؛ دھیرے دھیرے ہر کوئی بن جانا’ یا اس سے بھی بدتر ” ہر شئے ہوجانا” نہ تو عمل طور پہ درست ہے اور ہ ہی سیاس؛ طور پہ۔ جو کہ مطلق سچ ہے۔ تاہم ایک کہانی کار کے لیے، شاید یہ سب مسئلے نہیں ہوتے۔ ان زمانوں میں جو ہمارے زمانے کی طرح سراپا دیوانگی اور شکستہ ہوتے ہیں میں ‘ دھیرے دھیرے ہر شئے ہوجانے’ کی کوشش امکانی طور پہ ایک لکھاری کے لیے شروعات کرنے کے اعتبار سے اچھی جگہ ہے۔

اے ایس: ناول لکھنے کے علاوہ، آپ ایک نامور مضمون نگار اور سیاسی ایکٹوسٹ بھی ہیں ۔ تو کیا آپ ایکٹوازم، فکشن اور نان فکشن کو ایک دوسرے کی توسیع مانتی ہیں؟ ایک کہاں سے شروع ہوت ہے اور دوسری کیاں پہ آپ کے نزدیک ختم ہوتی ہے؟

رائے: مجھے یقین نہیں ہے کہ میں استقلال، غیر متزلزل بے رحمی کی حامل ہوں جو مجھے ایک اچھا ایکٹوسٹ بنائے۔ میں سوچتی ہوں کہ ‘ادیب’ قریب قریب ان اوصاف کا مالک ہوتا ہے،جن کی میں ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ میرا فکشن اور نان فکشن ایک دوسرے کی توسیع یا ایکسٹنشن ہیں۔ وہ کافی حد تک الگ الگ ہیں۔ جب میں فکشن لکھتی ہوں، میں وقت لیتی ہوں۔ یہ آرام سے انتہائی فرصت کے ساتھ، غیر ضروری عجلت سے بچ کر کرنے کا کام ہوتا ہے اور اس سے مجھے بے پناہ شادمانی ملتی ہے۔ جیسا میں نے کہا، میں ایسی کائنات تخلیق کرتی ہوں جس کی سیر میرے قاری کریں۔

مضامین ہمیشہ ایک صورت حال جو لوگوں پہ مسلط ہورہی ہوتی ہے، فوری مداخلت کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ دلائل، درخواستیں ہوا کرتی ہیں کسی شئے پہ مختلف طریقے سے دیکھنے کے لیے۔ میرا پہلا سیاسی مضمون ‘ تخیل کی موت’ 1998ء میں ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد لکھا گیا تھا۔جبکہ دوسرا ‘ عظیم تر مشترکہ مفاد’ سپریم کورٹ کی جانب نرمدا دریا پہ سردار سراوار ڈیم پہ ديے گئے حکم امتناعی اٹھائے جانے کے بعد لکھا گیا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ وہ سلسلہ میری 20 سالہ مضمون نگاری میں بدل جائے گا۔ ان سالوں میں لکھنے، سفر کرنے، دلائل دینے، عدالتوں کے بلاوے اور یہاں تک کہ میرا جیل جانا اس سرزمین بارے میری سوجھ بوجھ کو گہرا کرےگا جہاں میں رہتی ہوں، اور جن لوگوں کے میں درمیان میں رہتی ہوں ان کے بارے میں نہ صرف میری سوجھ بوجھ گہری ہوگی بلکہ میں ان طریقوں سے سوچ پاؤں گی جن کا میں نے تصور بھی نہیں کیا ہے، اور میرے اندر تہہ در تہہ یہ فہم تشکیل ہوگی۔

ان بیس سالوں میں جیسے میں رہی، ویسے نہ رہی ہوتی تو میں ‘دا منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس؛ لکھنے کے قابل نہیں ہوتی۔ لیکن جب میں فکشن لکھتی ہوں تو سیاسی مضامین کے لکھنے کی طرح میں مقام منطق و استدلال و حقیقت سے نہیں لکھتی۔ فکشن تو سالوں کے اس غور وفکر سے آتا ہے جو ایک لائیو/براہ راست تجربہ ہوتا ہے جو بار بار ایسے ظاہر ہوتا ہے جیسے میری جلد پہ پسینہ۔ فکشن میں اپنی کھال سے لکھتی ہوں۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب میں نے ‘ دا منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس’ لکھنا شروع کیا، میں نے خود کوایک رسوبی چٹان کی طرح محسوس کیا جو اپنے آپ کو ناول میں بدل رہی ہو۔

اے ایس: ‘پاور پالیٹکس'(2001) میں، آپ نے لکھا: ”ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کے باشندوں کو اکٹھا کرکے ٹرکوں کے دو قافلوں میں سوار کردیا گیا ہے۔ (ایک بڑا قافلہ ہے اور ایک ننھا منا سا ہے) اور ان دونوں الگ الگ متضاد سمت میں روانہ کردیا گیا ہے۔ ننھا منا سا قافلہ ایک آب و تاب والی منزل کے راستے پہ رواں دواں ہے جو کہیں ٹاپ آف دا ورلڈ ہے۔ جبکہ دوسرے قافلہ تو بس تاریکی ميں ڈوب کر گم ہوجاتا ہے،،،، اور ہم سے کچھ کے لیے ہندوستان میں زندگی ان دو قسم کے ٹرکوں کے قافلوں کے درمیان میں کہیں معلق ہونے جیسسی ہے، ہر ایک کانوائے میں میں سے کوئی ، اس کے حرکت کرنے پہ جیسے صفائی سے الگ کردیا گیا ہو، جسمانی طورپہ نہیں، بلکہ جذباتی اور دانشورانہ اعتبار سے۔” تو دنیا بھر کی اقوام جنھوں نے خود کو بے قابو اور انتہائی تیز رفتاری سے عالمگیریت اور نیولبرل ازم سے متعارف ہونے کے لیے کھول دیا ہے، کے لیے ، کیا آپ یہ کہتی ہیں کہ وہ جو ٹاپ آف دا ورلڈ کے لیے روانہ ہوئی تھیں کریش ہوگئی ہیں؟ اور ان کا کیا بنا ہے جو آہستہ آہستہ الگ کیے گئے؟

رائے: یہ ابھی کریش نہیں ہوئیں۔ لیکن ان کے پہیے جام ہوگئے ہیں اور انجن حد اعتدال سے گزرکر گرم ہوچکا ہے۔ جہاں تک ان کا تعلق ہے جو رفتہ رفتہ کھینچ کر الگ کردیے گئے، وہ دو کیمپوں میں بٹ گئے ہیں اور ایک دوسرے کو توڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ پرائم منسٹر نریندر مودی دراصل کارپوریٹ ہندؤ نیشنلزم کی تجسیم ہے۔ بی جے پی کے اکثر ممبران کی طرح، وہ بھی راشٹریہ سوامیک سنگھ-آر ایس ایس کا رکن ہے، جو سب سے طاقتور ہندؤ نیشنلسٹ تنظیم ہے آج کے ہندوستان میں۔ بی جے پی آر ایس ایس کا حقیقت میں سیاسی بازو ہے۔ آر ایس ایس جس کی بنیاد 1925ء میں رکھی گئی، کا مقصد عرصہ دراز سے ہندوستانی آئین کو بدلنا بدل کر ہندوستان کو سرکاری طور پہ ایک ہندؤ راشٹریہ میں بدلنا ہے۔ مودی نے مرکزی سیاست میں اپنے کرئیر کا آغاز اکتوبر 2001 میں کیا تھا، جب اس کی پارٹی نے اسے (غیرمنتخب) چیف منسٹر برائے ریاست گجرات کے لیے میدان میں اتارا۔ فروری 2002ء میں (جب نائن الیون کے بعد اسلامو فوبیا پورے عروج پہ تھا) گجرات میں منظم اور منصوبہ بند قتل عام ہوا۔ ہندؤ خدائی فوجدار بلوائیوں نے دن دہیاڑے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور دسیوں ہزار کو ان کے گھروں سے بے گھر کردیا۔ چند مہینوں کے اندر ہندوستان کی کئی ایک بڑی کارپوریشنوں کے سربراہوں نے اعلانیہ مودی کی حمایت کردی، ایک ایسا آدمی جس کا کوئی پولیٹکل ٹریک ریکارڈ نہیں تھا، اسے انہوں نے اپنا پرائم منسٹر چن لیا تھا۔ یہ شاید اس لیے ہوا کہ انہوں نے مودی کے اندر ایک فیصلہ ساز بے رحم سیاست دان کو تاڑ لیا تھا جو نئی معاشی پالیسیوں کو چلا سکتا تھا اور ملک سے احتجاجوں اور بے چینی کو ختم کرسکتا تھا۔ یہ سارے کام کانگریس پارٹی کی حکومت کرنے میں حیل و حجت سے کام لے رہی تھی اور وہ مسلسل کارپوریشنوں کے ساتھ باہم دلچسپی کی یادداشتوں پہ دستخط کرنے کے باوجود ان کو ٹالتی آرہی تھی۔ اس سارے عمل میں 12 سال لگے؛ مئی 2014ء میں، مودی بھاری اکثریت کے ساتھ پردھان منتری بنے۔ بین الاقوامی میڈیا اور سربراہان مملکت نے ان کو عالمی منظر نامے سے خوش آمدید کہا کیونکہ ان کو یقین تھا کہ یہ شخص بین الاقوامی سرمایہ کی منزل تک پہنچنے کے خواب کو ممکن کردینے والا ہے۔

اگرچہ اس کے اقتدار میں آنے کے چند سال کے اندر ہی، اس کے ہردلعزیز کارپوریشن اور اس کے قریبی اتحادیوں کے خاندانوں نے اپنی دولت میں کئی گناہ اضافہ کرلیا تھا،مگر مودی اتنا بے رحم، چاک و چوبند آزاد معشیت کا بندہ ثابت نہ ہوسکا،جتنی انہوں نے امید لگائی تھی۔ اس کی وجوہات آئیڈیالوجی کی بجائے اس کی نااہلیت میں چھپی ہیں۔ مثال کے طور، نومبر 2016ء میں، رات گئے، وہ ٹی وی پہ آیا اور اس نے ‘ڈی مونیٹائزیشن’ کی پالیسی کا اعلان کردیا۔ اسی لمحے، 80 فیصد سے زایادہ ہندوستانی کرنسی نوٹ بے گار ہوگئے۔ اس کا مقصد کالے دھن کا ذحیرہ کرنے والوں پہ بجلی گرانا تھا۔ ایک ارب کی آبادی کا ملک ہالٹ کی پوزشن پہ آگیا۔ اس پیمانے پہ کسی حکومت نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔ یہ تو بالکل ایک مطلق العنان آمر کی طرز کا گھمنڈ پہ مبنی اقدام تھا۔ کئی ہفتوں تک روز، اجرتی مزدور، ٹیکی ڈرائیورز، چھوٹے دکاندار لمبی قطاروں میں کھڑے رہے تاکہ اپنی تھوڑی بہت بچت پہ مبنی رقم کو نئے نوٹوں سے بدلواسکیں ساری کرنسی، کالی اور سفید دونوں ہی قریب قریب واپس بینکوں میں پہنچ گئی۔ یہ بہت بڑا بجٹ تھا اور بری طرح سے یہ پالیسی ناکام ہوگئی۔

ڈی مونٹائیشن اور گڈز اینڈ سروسز پہ نئے بھاری ٹیکسز نے چھوٹے کاروباری اور عام آدمیوں کی ہوا خراب کردی۔ بڑے سرمایہ کاروں یا اکٹر عام لوگوں کے لیے، حکومت کی سائیڈ سے اسے ‘ کاروبار دوست’ بتانا خوفناک تھا۔ اس کا کھلے عام مطلب کل تھا کہ اس حکومت کے نہ تو کہے لفظوں کا اعتبار ہے اور نہ ہی یہ قانونی طور پہ اپنے اوپر کوئی بندش محسوس کرتی ہے۔

اے ایس: لفظ ‘ ایمپائر/سلطنت’ اکثر خصوصی طور پہ مغربی یا امریکی مسئلے کے طور پہ لیا جاتا ہے۔ کیا آپ ہندوستان اور دوسری پوسٹ کالونیل اقوام کو نئے جیو پولیٹکل پیراہن میں سلطنت کی پرانی شکلیں اختیار کرتے دیکھتی ہیں؟ ‘دا منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس’ میں، آپ نے ہمیں دکھایا ہے کہ کیسے ہندوستان کی حکومت نے نگرانی اور انسداد دہشت گردی کی ایسی حکمت عملیاں ترقی دے لی ہیں جو کہ اپنے سکوپ کے اعتبار سے مطلق العنان تو ہیں مگر بہت ہی نرمی سے اس کو بروئے کار لاتی ہیں ۔ ہم گلوبل ساؤتھ میں اب ایک ایمپائر کا سوچ سکتے ہیں ، خاص طور پہ ایسے وقت میں جب پوسٹ کالونیل اقوام اپنے پرانے نوآبادیاتی آقاؤن سے کہیں زیادہ اخلاقی طور پہ سنگدل ہیں؟

رائے: یہ دلچسپ ہے کہ جو ممالک اپنے آپ کو جمہوریہ کہلاتے ہیں جیسے ہندوستان، اسرائیل امریکہ وہ فوجی قبضے چلانے میں مصروف ہیں۔ کشمیر دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز اور افواج کی موجودگی کے حوالے سے سب سے زیادہ گنجان علاقہ ہے۔ ہندوستان نوآبادی سے امپریل طاقت بتدریچ راتوں رات میں بدل گیا ہے۔ جب سے انگریزوں نے آگست 1947ء میں ہندوستان چھوڑا،تب سے کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب ہندوستانی فوج اور نیم فوجی دستے اپنی ملک کی سرحدوں کے اندر اپنے ہی لوگوں کے خلاف تعینات نہ کیے گئے ہوں:میزورام، منی پور، ناگا لینڈ، آسام، کشمیر، جموں، حیدرآباد، گوا، پنجاب، بنگال اور اب چھتیس گرذ، اڑیسہ، جھاڑکھنڈ۔ مارے جانے والوں کی تعداد دسیوں یا سینکڑوں ہزار میں ہے۔ یہ خطرناک شہری کون ہیں جوجو عسکری طاقت کے شکنجے میں گرفتار ہونا چاہتے ہیں؟ وہ آدی واسی/مقامی قبائلی، کرسچن، مسلم، سکھ، کمیونسٹ ہیں۔ جو پیٹرن ابھرتا ہے وہی خود بولتا ہے۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے وہ واضح طور پہ یہ ہے کہ ایک اونچی جات کے ہندؤں کی ریاست ہے جو اپنے سے ہر ایک غیر اور دوسرے کو دشمن مانتی ہے۔ بہت سے تو ہندؤمت کو ہی بذات خود کالونیلزم کی شکل سمجھتے ہیں۔ آریاؤں کا دراوڑوں اور دوسرے مقامی باشندوں پہ حکومت کرنا ، جن کی تاريخ کے سب نقش کھرچ ڈالے گئے ہیں، جن کے شکست کھا گئے حکمرانوں کو ہندو دیومالا میں شکست خودرہ راکھششوں اور اسورا بدل دیا گیا۔ ان یدھوں/ جنگوں کی کہانیاں سینکڑوں لوک کہانیوں،مقامی گآؤں کے میلوں میں زندہ و جاوید جاری و ساری ہیں، جس میں ہندؤمت کے راکھشش دوسرے لوگوں کے دیوی دیوتا ہیں۔ اسی لیے میں لفظ پوسٹ کالونیل سے سہمت نہیں ہوتی۔

اے ایس: ٹرمپ کے زمانے میں انکار اور سماجی انصاف بارے گفتگو مین سٹریم ہوچکی ہے۔۔۔ بلکہ سوشل میڈیا ہیش ٹیگ اکثر ڈائریکٹ ایکشن کی بات کرتے ہیں اور کارپوریشنیں کثرت سے ‘اپ لفٹ/اوپر اٹھانا’ اور سماجی ذمہ داری/ سوشل ریسپانبلٹی کی بات کرتی ہیں، جبکہ ساتھ ساتھ وہ اپنی غیر اخلاقی کاروباری سرگرمیوں کو دگنا کرتی جاتی ہیں۔ کیا احتجاج آج کل اپنی قوت اثر۔ پوٹنشل کھوچکا ہے؟ اور ایسی فضا میں، کس قسم کا انحراف و انکار ایمپائر کی تنظیم و نیٹ ورک میں شگاف ڈال سکتا ہے؟

رائے: آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ کارپوریشنیں خوشی کے میلے ،منحرفین (سٹیٹس کو) سیمیناروں کی میزبانی اور ادبی میلوں کو سپانسر کر رہی ہیں، جس میں جس میں تقریر کی آزادی کا شدت سے دفاع نامی گرامی ادیب کرتے ہیں۔ منحرف ہونا دلکش اور نیا کارپوریٹ طریقہ ہے۔ اس کے بارے میں ہم کیا کرسکتے ہیں؟ جب امریکہ میں عظیم الشان شہری حقوق کی تحریک، ویت نام جنگ مخالف احتجاج بارے سوچتے ہیں، تو ہمیں یہ بات حیران کرتی ہے کہ کیا حقیقی احتجاج اب ممکن بھی رہا ہے؟ یقینی طور پہ ممکن ہے۔ میں گوٹنبرگ، سویڈن، میں تھی ، حال ہی می، جب دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب سب سے بڑے نازی مارچ ہوئے۔ نازی، نازی مخالف احتجاج کرنے والوں سے زیادہ تھے، بشمول ناراض اینٹی فا تحریک والوں کے سے دس گنا زیادہ تھے۔ کشمیر میں، نہتے دیہاتی، فوجی گولیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ بستار، سنٹرل انڈیا میں، غربیوں کی مسلح جدوجہد نے دنیا کی کچھ سب سے بڑی کارپوریشنوں کو کام سے روک دیا ہے۔ لوگوں کی کامیابیوں کو سیلوٹ کرنا بنتا ہے، اگرچہ ان کامیابیوں کا اکثر ٹی وی پہ چرچا نہیں ہوتا۔ کم از کم جو لوگ ان کامیابیوں سے واقف ہیں، ان کو ایسا کرنا چاہئیے۔ لوگوں کو بے بس بنانا، بے طاقت محسوس کرانا اور امید سے خالی بتانا بھی پروپیگنڈے کا حصّہ ہے۔
بشکریہ ایسٹرن ٹایمز

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  اقبال احمد: ایک فراموش دبستان سیریز 1 : حّریت کے تین نشان — احمد الیاس
(Visited 100 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: