الفاظ و اظہار کی محدودیت اور آرٹ و ریاضی —– عزیز الرحمان

0
  • 121
    Shares

اظہار کے کئی طریقے ہیں اور الفاظ کی اپنی لمیٹیشن ہے سو اظہار کو لفظوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ نثر اور شاعری لفظوں کے روپ میں انسانی اظہار کا میڈیم ہیں۔ مگر یہی جذبات لطافت کی اعلی شکل میں ڈھل جائیں تو آرٹ کی شکل میں رو پذیر ہوتے ہیں۔ مصوری اسی کی ایک صورت ہے۔ یہاں اظہار کے طریقوں کے جائز و ناجائز ہونے کی بحث مطلوب نہیں ہے۔ ناجائز تو لفظوں کا غیر مناسب اظہار بھی ہو سکتا ہے سو آرٹ کے نام پر بھڑکنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

لفظوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ تفصیل طلب ہوتے ہیں اور ان کا تھوڑا سا کم یا زیادہ استعمال معنی و منشا کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ لفظوں کا استعمال آغاز کی نشانی اور کچے و سہل ذہنوں تک رسائی کے لئے مناسب تر ہوتا ہے۔ جوں جوں معانی میں بلاغت و لطافت کے وسیع و عریض جہاں شامل ہونا شروع ہو جاتے ہیں اس کے ساتھ ہی لفظ کا پیمانہ چھلک پڑتا ہے اور اپنی کم دامنی کا بھانڈا پھوڑ دیتا ہے۔ اظہار کی دنیا میں الفاظ کی حاکمیت کو قائم رکھنے کے لئے ایسی صورتحال میں نثر کو چھوڑ کر شاعری کا سہارا لیا جاتا ہے تا کہ دریا کو کوزے میں بند کرنے کی سعی کی جائے۔ شاعری دراصل اون کے گولے کی مصداق ہے کہ بہت سارے مفاہیم جمع کر کے اظہار کے مختصر پیرائے میں بیان کر دیئے جاتے ہیں۔ اس سے یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ وہ مضامین بھی بیان ہو جاتے ہیں جن کو حساسیت کی وجہ سے نثر میں بیان کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ احمد جاوید صاحب آج کل جس طرح اساتذہ کے شعروں کی تشریح کو کھول کر بیان کرتے ہیں اس سے یہ نکتہ باآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔

لفظوں کی لمیٹیشن کا یہ معاملہ سائنس میں یوں ظہور پذیر ہوا کہ کائنات کے حقائق کی فلسفیانہ جہتوں کو فزکس کی صورت میں عملی تعبیر ملی تو اس کے اظہار کا بیڑا ریاضی نے اٹھایا۔ یہ جو ریاضی کی زبان میں فارمولے ہمارے سامنے آئے ہیں ناں ان میں سے ایک ایک فارمولہ کئی کئی صفحوں پر مشتمل الفاظ کے بیانئے کا نچوڑ اور قطعی بیان ہے۔ ایک ایسا بیان جسے کھولنے بیٹھ جاؤ تو کتابوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔

یہاں رک کر غور کریں تو لگتا ہے کہ سوشل سائنسز اور ہیومینٹیز کے تمام ڈسپلنز کے افکار عالیہ کے اظہار کی ممکنہ طور پر سب سے کامل شکل آرٹ ہے اور سائنسی ڈسپلنز میں افکار عالیہ کی عملی تطبیق کے لئے اظہار کی سب سے موثر شکل ریاضی ہے!

دو اشکالات بہرحال اس مرحلے پر پیدا ہوتے ہیں۔ اول تو یہ کہ اظہار کی ان دو اعلی روایات کی بھی کسی درجے پر باہم آمیزش و ادغام کی کوئی صورت ہے کہ نہیں؟ اگر ایسا کچھ ہے تو پھر یہ کہنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ کائنات میں دراصل بیان حقیقت ایک ہی اور اس کے اظہار کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں۔ یہ وحدت الوجود کی طرف لے جانے والا ڈسکورس ہو سکتا ہے جسے مزید سمجھنے کی ضرورت ہے۔

دوسرا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اظہار اپنی اعلی شکل میں جب سمٹ کر آرٹ اور ریاضی کے پیراہن میں نمودار ہوتا ہے تو خالق نے اپنا کلام لفظوں کی صورت میں کیوں اتارنا پسند کیا ہے؟ ایک ممکنہ جواب یہ ہے کہ اظہار کی لطافت آرٹ و ریاضی کی سطح پر عالی قدر ہو سکتی ہے مگر ابلاغ کا مسئلہ ایک بالکل دوسری بات ہے۔ قرآن کتاب مبین ہے سو اس میں ابلاغ کی صلاحیت و غایت اسی صورت میں پوری ہو سکتی تھی جب یہ ایبسٹریکٹ طریقہ اظہار کے بجائے الفاظ پر مشتمل بیان کی صورت میں سامنے آئے۔ یہاں مزید سوالات بھی جنم لیتے ہیں جن پر ابھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:  فیض صاحب، کلچر اور ایکس کیوز می —– عزیز ابن الحسن
(Visited 218 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20