وقوفِ لمحات ادب اور چٹکلا بازی —— محمد امتیاز احمد

0
  • 2
    Shares

ادب لکھنا اور پڑھنا ایک سنجیدہ عمل ہے۔ ہمارے یہاں مشرقی روایت میں لفظاً بھی اس سے ایک سنجیدگی وابستہ ہے۔ زبان، ادب اور مسلمان گویا منسوبات ہیں۔ زبان دانی میں دنیا کی کوئی بھی قوم ہم سے برتر نہیں ہے۔ فن شاعری کو جو عروج ہم نے عطا کیا ہے اس سے مزید اب کوئی منزل نہیں ہو سکتی ہے لہٰذا اس معاملے میں بھی دنیا ہماری رہین ہے۔ زبان اور قواعدِ زبان کی جو جدید بحثیں ساختیات، اسلوبیات، قرات اور اسی قبیل کے دوسرے نظریات کے ضمن میں مغرب نے اب چھیڑ رکھی ہیں وہ ہمارے دانشوروں نے صدیوں پہلے کتابوں کی زینت بنارکھی ہے؛ لیکن بد قسمتی اور بد حالی یہ ہے کہ ہم ان سے لا علم و لاتعلق ہیں۔ اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ مغرب کے فراہم کردہ ہر قسم کے ادب کی نقل اتارتے ہیں۔ اس سے ہمارے یہاں ایک عجیب سی مضحکہ خیز صورت حال نے جنم لیا ہے۔ اور ادب اب سمٹتے سمٹتے چٹکلا بازی تک محدود رہ گیا ہے۔ اس موقعے پر مجھے وہ حکایت یاد آرہی جس میں “ایک صاحب کو یہ شوق ہوا کہ میں بھی” یار لوگوں “کی طرح جسم کو گود کر ایک شیر بنالوں! وہ گود گر کے پاس چلا گیا اور اس کے سامنے اپنی خواہش ظاہر کی۔ گودگر نے جب اسکی کمر سے کپڑے ہٹا کر ایک نشتر لگایا تو یہ تلملا کر بھول اٹھا” کیا بنا رہے ہو؟ “، “دُم” اس نے کہا۔ “دم چھوڑو، اس کے بغیر بھی شیر ہو سکتا ہے!” اس نے دوسرا نشتر لگایا تو یہ تڑپ اٹھا۔ پھر کہا “کیا بنا رہے ہو؟”، “کان۔” گود گر نے جواب دیا۔ “کان چھوڑو، اس کے بغیر بھی شیر ہو سکتا ہے!” اس نے پھر تیسری مرتبہ سوئی چبھوئی، تو یہ بلک اٹھا۔ “کیا بنا رہے ہو؟”، “ٹانگ”، گود گر بول اٹھا۔” “ٹانگ چھوڑو، اس کے بغیر بھی شیر ہو سکتا ہے!” یوں ہر دفعہ سوئی چبھنے پر وہ اس کو ایک عضو کے بنانے سے منع کرتے ہوئے دوسرے عضو کے بنانے کا تقاضا کرتا رہا۔ آخر کار گود گر اس کے رویے سے تنگ آکر جھنجھلاہٹ میں بولا۔ “احمق انسان، دم نہیں، کان نہیں، ٹانگیں نہیں، ۔۔۔۔ نہیں نہیں، پھر مجھے بتاؤ، شیر کیا ہے؟” یہی حال ہم نے اسلام اور ادب کا کیا ہے۔ یہاں موضوع بحث پر آتے ہوئے میں کہنا چاہتا ہوں کہ شاعری سے پہلے ہم نے عروض کو ختم کیا۔ اس کے بعدمصرعوں کی ترتیب کو الٹ دیا۔ پھر آتے آتے اس کو نثر بنادیا۔ پھر شاعری میں کیا رہ گیا؟ خدارا مجھے یہ سمجھا دیں۔

یہی درگت اب کہانی کی بھی کردی۔ اب افسانچہ لکھا جارہا ہے یعنی اپنی نالائقی کا واضح ثبوت دیا جارہا ہے۔ ادب کیا کوئی پہیلیاں بجھانے کا کام ہے؟جس میں تم بوجھو اور ہم جانیں والا معاملہ ہے! کل کو کوئی نیا “مؤجد صاحب” آئے گا اور وہ ایک جملے کی کہانی لکھے گا۔ اس کے بعد پھر کوئی ” اور صاحب” اٹھے گا اور وہ ایک لفظ کی کہانی سنائے گا۔ اس کے بعد یہ نقطے میں سمٹ جائے گی اور پھر نقطے کی قید سے بھی نکل جائے گی۔ یوں لافانیت اور ماؤرایت کے مراحل طے کرتے ہوئے اپنی تکمیل کو پہنچ جائے گی۔ بقولِ شاعر:

صنم سنتے ہیں، تیری بھی کمر ہے
کہاں ہے، کس طرف کو، کدھر ہے؟

پہلے شاعر، مشاعروں میں اپنا مزاق اڑوایا کرتے تھے اب یہ لت نثر لکھنے والوں کو بھی پڑ گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں اخباروں کے صفحات پر اپنا مزاق بنا رہے ہیں۔

ان احباب سے میری مخلصانہ، مؤدبانہ اور محبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو سنجیدگی سے استعمال کرتے ہوئے عمدہ کاوشوں کو پیش کریں۔ اگر وہ انہی چٹکلا بازیوں میں مصروف ہوکر فیس بک، وٹس ایپ اور دوسری ایپس میں تبصرہ اور پسند کے آپشن سے خوش ہوکر خوش فہمی میں مبتلا رہے تو عنقریب ان کا حال بھی دوسرے چٹکلا باز ادیبوں کی طرح فراموشی ہوگا۔ ادب ایک وسیع سمندر ہے اس میں تیرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ساحل پر کشتی میں بیٹھنا سمندر میں تیرنے کے برابر نہیں ہو سکتا یہ دونوں الگ الگ درجہ رکھتے ہیں۔

ان احباب سے میری یہ بھی گزارش ہے کہ وہ زیادہ پڑھیں اور کم لکھیں۔ تاکہ کوئی ٹھوس تخلیق سامنے آئے جو ذہن و دل کو جھنجھوڑ کر تخیل میں کوئی ہلچل پیدا کرسکے اور ہمیں سوچنے پر مجبور کرے ورنہ اس مغز ماری سے دور ہی رہیں۔ وہ اپنے اساتذہ سے لکھنا، پڑھنا سیکھ لیں۔ لفظوں کے کردار، اثرات اور اسرار سے واقف ہو جائیں۔ یہ بڑے فلسفیوں، ادیبوں اور الہامی کتابوں سے حاصل ہوگا۔ تخیل میں گہرائی و گیرائی پیدا کریں۔ حالات و واقعات کو کئی تناظرات میں دیکھ اور پرکھ کر ان کا تجزیہ کریں۔

واقعے کو صحافت کی نظر سے دیکھیں نہی بیان کریں۔ اس کو ادبیت کی نظر سے دیکھ کر تخلیقیت کے انداز میں بیان کریں۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر والے معاملے کے بجائے محنت شاقہ کرکے کسی خاص صنف میں مہارت حاصل کریں۔ اس صنف کے جو بھی تقاضے اور جو بھی زاویے ہیں ان سب پر نظر رکھیں اور اس کو بتمام جان لیں۔ اس سے تخلیق میں نکھار آئے گا اور تخیل بھی اپنے مراحل بحسن و خوبی طے کرے گا۔ پھر انشاءاللہ وہ وقت بھی آئے گا جب تخلیق اچھی تخلیق کا درجہ حاصل کرے گی۔

یہ بات بھی ازحد اہم ہے کہ ادب کی ادبیت کلاسیکی ادب میں ہے۔ جدید ادب علم کے باقی شعبوں کی طرح انتشار کا شکار ہو گیا ہے۔ اسی انتشار کی وجہ سے اس سے متعلق ہمارا نظریہ ( نظریہ ادب) بھی انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔ لہٰذا ادب کے نام پر اور ادب کے میدان میں وہ تحریریں بھی پنپ گئی ہیں جن کو یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ چونکہ ادب، اور غیر ادب کی تمیز ہی مٹ چکی ہے اس لئے اس کوتاہی کی طرف ہمارا دھیان نہیں جاتا۔

آخری بات یہ ہے کہ مغرب میں ادب فلسفہ بھی ہے۔ یعنی وہ اپنی تخلیقات میں فلسفے کو حاوی رکھتے ہیں اور فلسفے کا تعلق ذہن سے ہے۔ مغرب کے بڑے ادیب چاہے وہ، ہومر ہوں، ہیسیڈ ہوں، گوئتھے ہوں، دانتے ہوں، شیکسپیئر ہوں، ملٹن ہوں، کولرج ہوں یا جدید دور میں ادب کے نقاد۔ وہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ فلسفی بھی ہیں اور ان کی یہ فلسفیانہ حیثیت ادیبانہ حیثیت پر فائق ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ان کا مزاج، رسم و رواج، مخصوص عقائد اور حقیقت سے نا آشنائی ہے۔ اسیوجہ سے یہ فلسفہ ان کی تاریخ و روایت کا حصہ بن چکا ہے اور وہ اسی روایت کو دہرا رہے ہیں۔

جب کہ ہمارے یہاں ادب فن یعنی آرٹ ہے۔ فن کا تعلق حسیات سے ہے۔ لہٰذا ہم اپنی تخلیقات کو جمالیاتی تجربہ بنانے پر بنیادی توجہ دیتے ہیں اور اس کو شاہکار بنانے کے لئے اپنا تمام تر زور صرف کرتے ہیں۔ چونکہ ہمارے ادب کی روایت یہی فنکارانہ رہی ہے لہذا ہمارے یہاں یہی طرزاور طریقہ کار مستند سمجھا جائے گا۔ اسی لئے ہمارے بڑے فلسفی چاہے وہ سعدی شیرازی ہوں، حافظ ہوں، جلال الدین رومی ہوں، میر، غالب، اقبال یا فیض ہوں یا ناقدین میں وزیر آغا اور شمس الرحمن فاروقی ہوں۔ان کی ادیبانہ حیثیت ان کی فلسفیانہ حیثیت پر مقدم ہے۔

میں دوسرے کی نقل اتارنےکو کوئی عیب تو نہیں کہہ سکتا؛ لیکن اس وقت مجھے کوفت ہوتی ہے بلکہ اعتراض بھی ہے۔ جب یہ نقل اپنی ذات کو منہا کرکے منقول کی ذات کو نمایاں کرنے لگے۔ عرض ہے کہ نہ صرف انگریزی یا مغربی زبان و ادب سے مستفید ہوں بلکہ بقیہ زبانوں کے ادب سے بھی واقف ہوں؛ لیکن اپنی زبان و ادب اور اس کے لوازم کو ترک نہ کریں۔ ہمارا یہ استفادہ اور واقفیت اس کی ترقی و ترویج کا باعث بنے نہ کہ اس کے لئے تحقیر و تضحیک و تذلیل اور اس سے بڑھ کر اس کے لئے ایک سد!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: