گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اور شعرا کا احساسِ محرومی —— ڈاکٹر جابر حسین

0
  • 167
    Shares

پاکستان کے شمال میں واقع کوہ قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ و دیگر پہاڑی سلسلوں میں محصور خوب صورت اور دلکش وادیوں پر مشتمل علاقہ گلگت بلتستان کہلاتا ہے جسے پہلے شمالی علاقہ جات کے نام سے جانا جاتا تھا۔ گلگت بلتستان نام رکھنے کی خاص وجہ اس علاقے میں دیگر خوبصورت وادیوں اور علاقوں کاشامل ہونا ہے۔ گلگت میں چھ اضلاع گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، نگر اور استور شامل ہیں جبکہ بلتستان میں چار اضلاع سکردو، گانچھے، شگر اور کھرمنگ ہیں۔

کشمیر کے شمال مغرب میں اور اس سے بالا دریائے سندھ کے دوسرے کنارے پر وادی گلگت واقع ہے۔ اس علاقے میں گلگت کے علاوہ استور، دیامر، غذر، ہنزہ، نگر، بونجی اور چلاس شامل ہیں۔ گلگت کا قدیمی نام سارگن تھا۔ سار کے معنی جھیل اور گن سے مراد راستہ ہے۔ گلگت کو ازمنہ قدیم میں گری گرت بھی کہا جاتا رہا ہے۔ گری کا مطلب ہے ہرن جبکہ گرت کا مطلب ہے ناچنا۔ یعنی ہرن ناچنے کی جگہ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے کہ یہاں ہرنوں کی بہتات تھی اور وہ آزادانہ طور پر یہاں گھوما پھرا کرتے تھے۔

۲۰۱۸ء میں “گلگت بلتستان آرڈر ۲۰۱۸ء” کے نام سے ایک حکومتی پالیسی پر مشتمل آرڈر لاگو کیا گیا ہے جسے عوامی نمائندوں سمیت عوام کی اکثریت یہاں کے حقوق و وسائل پر استحصالی قبضے کی کوشش قرار دیتے ہوئے قبول کرنے کو دل سے تیار نہیں

تاریخ سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں کشمیر سے کوئی قوم آئی ہے اور گلگت بلتستان کو آباد کیا ہے بلکہ تاریخ یہ کہتی ہے کہ افغانستان کے شہر بدخشان سے ایک قوم اس خطے میں آئی جو بروشو کہلاتی ہے۔ اسی قوم نے بتدریج کشمیر تک رسائی حاصل کی، کشمیر کو نہ صرف آباد کیا بلکہ اس کی جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر نام بھی تجویز کیا اور کوشر نام رکھا جو بعد میں کئی تہذیبوں کے باہم ٹکراؤ کی وجہ سے کوشر سے کشیر اور پھر کشمیر ہو گیا۔ پہلی بار ۱۳۴۶ تا ۱۳۵۹ء اور دوسری بار ۱۳۵۹ تا ۱۳۷۹ء میں ہمیں چندکشمیری تاجر اور کاریگر گلگت بلتستان میں نظر آتے ہیں۔ کشمیریوں کی آمد کے حوالے سے یہ دور بڑا اہم تصور کیا جاتا ہے۔

۱۸۶۰ء میں جب ڈوگرہ فوج نے پوری طرح گلگت بلتستان کی باگ دوڑ سنبھالی تو والئی پونیال کے علاوہ تمام امراء جو ڈوگرہ فوج کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے اپنے فیصلوں پہ پچھتانے لگے۔ اس دور میں ڈوگرہ افواج کی طاقت کے زیر اثر گلگت بلتستان کا علاقہ کشمیر کا بزور حصہ بنا لیا گیا۔ ۱۸۷۸ء تک ڈوگرہ گلگت بلتستان پر راج کرتا رہا۔ ۱۸۷۹ء کو گلگت میں پہلی برٹش ایجنسی قائم کی گئی۔ اقتدار کی ڈوری ڈوگروں نے انگریزوں اور انگریزوں سے ڈوگروں کے درمیان منتقل ہوتی رہی اور گلگت بلتستان کے عوام ظلم و بربریت کی چکی میں پستے رہے۔ آخرکار یکم نومبر ۱۹۴۸ء کو گلگت بلتستان کواللہ تعالیٰ نے آزادی جیسی عظیم نعمت سے سر فراز فرمایا اور غلامی کا طوق اتار کر سکھ کا سانس لے لی۔ ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد یہاں کے مقامی حکمران راجائوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت پر اعتماد اور دو قومی نظریہ نیز نظریہ پاکستان سے دلی و نظریاتی قربت و محبت کی بنا پر پاکستان سے غیر مشروط الحاق کا اعلان کیا۔ یکم نومبر ۱۹۴۸ء تا حال گلگت بلتستان کا یہ خوبصورت، قدرتی حسن و وسائل اور قابل رشک تہذیب و ثقافت کا حامل پورا علاقہ پاکستان کے زیر انتظام ہے۔

بلتستان کا کل رقبہ ۱۰۱۱۸ مربع میل ۲۶۲۰۵کلو میٹر ہے جس میں سے تقریباً ؐ۳۸۸ کلو میٹر ۱۹۷۱ کی جنگ میں بھارت کے قبضے میں چلا گیا۔ بلتستان کی آبادی ۱۹۵۱ کی مردم شماری کے مطابق ۱۲۵۱۶۲ تھی ۱۹۸۱ء میں محمد یوسف حسین آبادی کے مطابق ۲۲۳۲۹۶ تھی۔ ۱۹۹۸ء میں گلگت بلتستان دونوں کی آبادی ۸۷۰۳۴۷ کے قریب تھی اس وقت ایک اندازے کے مطابق گلگت بلتستان کی تقریباً ۱۲۵لاکھ کے قریب آبادی ہے۔

٫۱۹۹۹ میں گلگت بلتستان کے آئینی مسئلے سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک جامع فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے مطابق یہاں کی عوام کو حقِ حکمرانی اور آزاد عدلیہ کے قیام کا آئینی حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا متعلقہ و مطلوبہ متن ملا حظہ کیجیے:

“We, further, allow the above petition and direct the Respondent Federation as under:
To initiate appropriate administrative, legislative, measures within a period of six months from today to make necessary amendments in constitution/relevant statute/ statues/ order/ orders/ notifications to ensure the people of Northern areas enjoy their above fundamental rights namely, to be governed through their chosen representatives and to have access to justice through an independent judiciary interlaid for enforcement of their fundamental rights guaranteed under the constitution’’

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق گلگت بلتستان کو پچھلی دہائی میں اگرچہ پاکستان کے دیگرصوبوں کی طرح بظاہر ایک صوبے کا درجہ تو دے دیا گیا لیکن اختیارات و وسائل اب بھی وفاقی وزیر برائے امور کشمیر ہی کے زیراختیار ہیں۔

اگست 2009 کو وفاقی کابینہ نے اپنے متفقہ فیصلے میں گلگت و بلتستان کے انتظامی و قانونی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اور وہاں کے عوام کو مزید اختیارات اور داخلی خود مختاری دینے کے لیے ایک نئے اصلاحاتی پیکیج کی منظوری دی ہے جسے ’’ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے چار بنیادی نکات ہیں۔

۱۔ گلگت بلتستان کے شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی
۲۔ ایک آزاد خود مختار منتخب حکومت
۳۔ منسٹریوں کا قیام
۴۔ بجٹ میں اضافہ ۔یہ آرڈیننس ’’لیگل فریم ورک آرڈر 1994‘‘ کی جگہ میں آمد ہوا۔ صدر پاکستان نے ستمبر 2009 کو آرڈیننس پر دستخط کرتے ہوئے گلگت بلتستان کی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا اور نومبر 2009 میں نئے الیکشن کروانے کی منظوری دی۔ ستمبر 2009ء کو باقاعدہ پیکیج کا اچانک اعلان ہو گیا اور صرف 20 دنوں میں ووٹر فہرستیں تیار کر کے 12 نومبر 2009ء کو انتخابات کروا دیے۔

۲۰۱۸ء میں “گلگت بلتستان آرڈر ۲۰۱۸ء” کے نام سے ایک حکومتی پالیسی پر مشتمل آرڈر لاگو کیا گیا ہے جسے عوامی نمائندوں سمیت عوام کی اکثریت یہاں کے حقوق و وسائل پر استحصالی قبضے کی کوشش قرار دیتے ہوئے قبول کرنے کو دل سے تیار نہیں البتہ مقامی حکومت بالجبر عوام الناس پر اس آرڈر کے نفاذ کو اپنی کامیابی اور آئندہ سیاسی کیئریر کے لیے ضروری سمجھتی ہے‘‘۔ عوام کے لیے عوامی حکومت ’’جمہوریت‘‘ کہلاتی ہے لیکن اگر عوام کی اکثریت جس اقدام کو نہ سراہے اسے بالجبر جاری رکھنا نہ صرف جمہوریت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے بلکہ پاکستان سے دل و جان سے محبت کرنے والی عوام الناس کے دل و دماغ میں پاکستان کے خلاف غم و غصے کو ہوا دینے کے مترادف اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے عسکری شہداء کی تاریخ گواہ ہے کہ الحاقِ پاکستان سے تاحال سرحدی حفاظت کی کڑی اور کٹھن ذمہ داری ادا کرنے میں یہاں کے جوانوں کا کیا کردار رہا ہے۔ آئینی و صوبائی حقوق سے محروم رکھے جانے کے باوجود عوام و خواص کے دلوں میں پاکستان، پاکستان کی آزادی، پاک فوج اور پاکستانی قومی ہیروز سے والہانہ اور بے لوث محبت اس وقت بھی اتنی شدت سے پائی جاتی ہے جس کی مثال شاید مکمل طور پر صوبائی و آئینی حقوق سے استفادہ کرنے والے اہلِ وطن بھی پیش کرنے سے قاصر ہوں۔ چند ماہ قبل موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار نے گلگت بلتستان کا ایک نجی دورہ کیا اور اپنے دورے سے واپس اسلام آباد پہنچ کر اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’میں نے گلگت بلتستان کے ہر پتھر پر پاکستان سے محبت کے نعرے لکھے دیکھے‘‘۔ اسی تسلسل میں ان کا ایک بیان بھی اخبارات کی زینت بنا کہ ’’پنجاب سے زیادہ تو گلگت بلتستان کے لوگ محب وطن ہیں‘‘۔ وقت بہت تیزی سے بدل رہا ہے اور نوجوانوں میں خود آگہی اور وطن پرستی کی لہر کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔ اہلیانِ گلگت بلتستان ایک طرف پاکستان کے دیگر صوبوں کو حاصل مراعات کو بھی دیکھتے ہیں تو دوسری طرف اپنے قدرتی وسائل سے مالا مال خطے کی محرومیت اور اس ضمن میں حکام کی لیت و لعل والی پالیسی کے باعث برگشتہ و برہم نظر آتے ہیں۔ اپنے وسائل و مسائل کے حوالے سے مقامی اہلِ فکر و علم اور اہل فن و دانش میں کافی تشویش و تحیر پایا جاتا ہے۔

مشتے از خروارے کے طور پر چند شعری مثالیں اس ضمن میں پیش کی جاتی ہیں جن سےمتذکرہ بالا مدعا کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

از امجد متاثر

مری ہمت کہاں میں چھوڑ جاوں
مجھے پیرس مجھے جاپان گلگت
درخشان جب رہاہے اس کاماضی
اخوت کی تھی ایک پہچان گلگت

از آصف علی آصف

روک دے یہ انتخابی جھوٹ پر مبنی نظام
پہلے میری آئینی وہ حیثیت واضح کرے

از شاہ جہاں مضطر

کیا سوچ کے اجداد نے آزاد کیا تھا
کیا سوچ کے پھر ہم کو غلامی میں رکھا ہے
اب کے تو تمہیں ہوش میں آناہے ضروری
پائوں جو ابھی برف کے پانی میں رکھا ہے

راقم کی بھی اسی حوالے سے ایک آزاد نظم ملا حظہ کیجیے جو تین چار سال قبل لکھی گئی تھی:

سرِ افلاک سے محوِ تکلم حضرتِ کے۔ ٹو مرا ہمدم
جو ہمدوشِ قمر دیوسائی کا سرسبز میداں ہے،
وہ میرا ہی تملک ہے۔
فلک بوسی کیا کرتی ہے دستارِ فضیلت جن کی،
مرے کہسار ہی تو ہیں۔
ہزاروں ٹن ذخیرہ آبِ یخ بستہ لیے آغوش میں کہسار ہیں میرے۔
گلیشیر ایسے ایسے ہیں کہ جن کو دیکھ کر عقلِ بشر حیران رہ جائے۔
مرا تو کُل وجود اک شاہکارِ دستِ قدرت ہے۔
پڑوسی میرے دو ایسے ہیں جن سے رشتہ پاکستان کا بے حد نمایاں ہے،
بھارت اک طرف اور چین میری دوسری جانب
یہ باتیں اک طرف اور دوسری جانب مرا یہ حال،
تشخص میرا مبہم کر دیا جاتا رہا ہے،
چھیاسٹھ سال بیتے پر ابھی تک اجنبی ہوں میں۔

اب وقت آیا ہے کہ اس خوبصورت علاقے کو اس کے آئینی و صوبائی حقوق دئیے جائیں۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ گلگت بلتستان کے محب وطن جس احساس محرومی کے شکار ہیں اسے عوامی امنگوں ا ور آئینی تقاضوں کے عین مطابق فوری طور پر ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔


یہ بھی دیکھئے: نئی شاہراہ ریشم اور چین کے عزائم ۔ چارلی کیمبل – مترجم محمد آصف

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: