تھر کا مسئلہ اور تجاویز ——– لالہ صحرائی

0
  • 145
    Shares

تھر کا قحط ان قومی المیوں میں سے ایک ہے جہاں کوئی نیا المیہ ظاہر ہونے کے بعد یہ پس منظر میں چلا جاتا ہے، پھر کچھ عرصہ بعد آنے والی کوئی نئی مصیبت اسے دوبارہ قومی منظر نامے پر لے آتی ہے، اس کے باوجود اس علاقے کیلئے سرکاری سطح پر ٹھوس اقدامات کبھی نہیں کئے گئے۔

سب سے پہلا سوال تو یہ بنتا ہے کہ قومی ڈویژیبل پول کی رقم میں سے صوبوں کو 10.30% حصہ غربت مٹانے اور 2.72% انورس پاپولیشن ڈینسٹی یعنی نقل مکانی کرنیوالوں کی مدد کیلئے دیا جاتا ہے جس کی کل رقم پچھلے دس سالوں میں کم و بیش 500 ارب روپے بنتی ہے، یہ رقم ان مفلوک الحال لوگوں پر خرچ نہیں ہوئی تو پھر کہاں گئی، یہ کوئی معمولی رقم نہیں تھی جو تھر کا قحط نہ مٹا سکتی۔

از بتائی گئی شرح کے حساب سے پچھلے سال سندھ حکومت کو 67.80 ارب روپے ملے تھے، آئینی اعتبار سے یہ طے ہے کہ ہر سال یہ رقم دس فیصد زیادہ ملتی رہے گی، اس پروگریسیو ریٹ سے رواں پانچ سالہ دور حکومت میں بھی یہ رقم 414 ارب روپے بنے گی، حقیقت میں کچھ زیادہ ہی ہوگی۔

رواں پانچ سالوں میں اس 414 ارب کی رقم سے بھی تھر میں بلاشبہ ایک انقلاب لایا جا سکتا ہے، اس کیلئے تجاویز دینے سے قبل تھرپارکر کا تفصیلی تعارف کرا دوں تاکہ ان تجاویز کا قابل عمل ہونا واضح ہو سکے۔

سندھ کے 29 اضلاع میں یہ رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا ضلع ہے جس کا صدر مقام  ہے جو کراچی کے متوازی 450 کلومیٹر انڈین گجرات کی طرف بدین کے قریب ایک چھوٹا سا شہر ہے۔

سات تحصیلیں جنہیں مقامی زبان میں تعلقہ کہتے ہیں، ان میں مٹھی 219071 افراد، ڈیپلو 147978، اسلامکوٹ 244662، چھاچھرو 351263، ڈاہلی 308487، ننگرپارکر 260170، اور کلوئی 118030 کی آبادی کیساتھ تھر میں شامل ہیں۔

تھر کا ڈیموگراف یوں ہے کہ اس کے 19638 مربع کلومیٹر رقبے پر کل 1649661 افراد بستے ہیں، اس حساب سے اس کی پاپولیشن ڈینسٹی 84 افراد فی مربع کلومیٹر بنتی ہے، اور سندھ کے آفیشئیل اکاؤنٹ کے مطابق انورس پاپولیشن ڈینسٹی کی شرح 1.6% ہے، یعنی سندھ کی آبادی اگر 48 ملین ہے تو یہاں سے تقریبا 0.766 ملین افراد عارضی طور پر ہجرت کرتے ہیں جو یقیناً تھر سے ہیں، علاوہ ازیں کوئی اور علاقہ ایسا ہے نہیں جہاں سے نقل مکانی کی ضرورت محسوس کی جاتی ہو۔

رقبے کے اعتبار سے یہ لوگ 9121 مربع کلومیٹر کے ایریا سے نقل مکانی کرتے ہیں جو تھر کی کل آبادی اور کل رقبے دونوں کا لگ بگ آدھا آدھا حصہ قرار پاتا ہے جو اپنے مقامات سے کم و بیش 800 کلومیٹر دور تک کا سفر کرتے ہیں۔

قیام پاکستان کے وقت یہاں 80% ہندو اور 20% مسلمان آبادی تھی لیکن 65 سے 71 کے درمیان انڈیا کیساتھ ہونے والے ڈیموگرافک ایکسچینج میں بیشتر ہندو خاندان راجھستان چلے گئے اور وہاں سے 3500 مسلمان خاندان یہاں منتقل ہوئے جنہیں فی خاندان 12 ایکٹر زمین روزگار کیلئے فراہم کی گئی تھی جو کل 42000 ایکڑ تھے، اب جیو۔ریلیجن پوزیشن یوں ہے کہ یہاں 80% مسلمان اور 20% ہندو بستے ہیں۔

ہماری اینجیو لائنز۔کلب۔انٹرنیشنل نے تھٹہ میں چار اور دادو میں تین ایسے گاؤں پکے تعمیر کرکے دئے تھے جو سن 2010 کے سیلاب میں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے تھے، ان پر فی مکان ایک لاکھ روپیہ لاگت آئی تھی جس میں ایک بڑا دالان، اس کے سامنے اتنا ہی بڑا برآمدہ، برآمدے کے ایک طرف کچن اور دوسری طرف واش روم تھا، اب یہ ساتوں گاؤں لائنز ولیج کہلاتے ہیں۔

اس لحاظ سے پہلی تجویز یہ ہے کہ تھر میں جو 766000 افراد قحط سے متاثر ہوتے ہیں، انہیں خاندان کے اعتبار سے دیکھا جائے تو میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتمل کل گھرانوں کی تعداد محض ڈیڑھ لاکھ بنتی ہے جنہیں تھر کی تحصیلوں کے پاس یا تھر کے ان کناروں پر بسانا چاہئے جو سندھ کے دیگر شہروں کے قریب واقع ہوں۔

وہاں ان گھرانوں کیلئے لائنز ماڈل ولیج جیسی پکی بستیاں تعمیر کرنے کیلئے آج ڈبل کاسٹ پر بھی صرف 30 ارب روپے درکار ہوں گے جس میں گھر کے سامنے ایسا کمپاؤنڈ بھی بن جائے گا جہاں یہ لائیواسٹاک پال سکیں، پھر دستکاری یا قریبی شہروں میں محنت مزدوری کرکے بھی اپنا روزگار باآسانی کما سکتے ہیں، قریبی شہروں کے اسکولوں، ہسپتالوں اور پانی کے نظام کو بھی 30 ارب روپے سے اپ۔گریڈ کردیں تو ان پر آنے والا اس آبادی کا بوجھ بھی کمپنسیٹ ہو جائے گا، اس کام پہ آپ بیشک 100 ارب روپیہ بھی لگا دیں تو بھی آنے والے فنڈ میں 300 ارب سے زائد رقم بچ جاتی ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ انہیں ان کی اپنی جگہوں پر ہی پانی کی سپورٹ دے دی جائے تو بھی یہ اپنے لائیواسٹاک، دستکاری اور زراعت سے اپنی اچھی گزران کر سکتے ہیں، اس ڈیڑھ لاکھ خاندان کو ڈیڑھ لاکھ پکا کنواں فراہم کرنے کیلئے بھی صرف 30 ارب روپے ہی درکار ہوں گے، اس کا بھی ایک جائزہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔

ہماری لائنز۔کلب کی ایک اور ٹیم نے 2007 میں تھر کے اندر کچھ کنویں بھی کھدوائے تھے، شائد آٹھ تھے اور دو سال قبل کئی دیہاتوں کو سولر۔انرجی سے بھی مکمل لیس کیا ہے۔

تھر کو پانی فراہم کرنے میں چند فلاحی تنظیموں کا بہت اچھا تجربہ ہے جن میں سائیں اللہ نواز سموں صاحب کے ادارے “تھر دیپ فاؤنڈیشن” نے تعلقہ مٹھی میں بیس سال تک اور کم و بیش اتنا ہی عرصہ سینیٹر جاوید جبار صاحب کے ادارے “بانہہ بیلی” نے بھی واٹر۔ویل سبجیکٹ پر بہت گرانقدر کام کیا ہے، تیسرے نمبر پر IBM کے طلباء کی تنظیم سوشل ویلفئیر اینڈ ٹرسٹ سوسائیٹی SWAT نے بھی درجن بھر کنویں بنوائے ہیں اور کئی جگہ تالابوں پر سولر پمپس بھی لگوائے ہیں۔

اس کام کا طریقہ کار یہ ہے کہ تھر کے لوگ یہ اندازہ لگانا جانتے ہیں کہ کہاں کہاں زیر زمین پانی ہو سکتا ہے، ایسی جگہوں کی مارکنگ وہ خود کرکے دیتے ہیں، کوشش یہ ہوتی ہے کہ دو گاؤں کے درمیان میں کنواں کھودا جائے تاکہ دونوں کو فائدہ ہو۔

پہلے مرحلے میں نشان زدہ جگہ پر ایک سادہ بورنگ کی جاتی ہے، جب ایک مخصوص گہرائی سے پانی کے اثرات والی مٹی برآمد ہونا شروع ہو جائے تو وہاں بورنگ مکمل کرلی جاتی ہے ورنہ روک دی جاتی ہے، یہ امکان کم و بیش 600 فٹ گہرائی پہ جا کے ظاہر ہوتا ہے، بعض جگہ یہ آثار 1000 فٹ پر بھی ملتا ہے۔

جہاں پانی کے آثار مل جائیں وہاں 1200 فٹ پر پانی بھی مل جاتا ہے جو بغیر پمپ کے بھی کافی اوپر تک آجاتا ہے اسلئے بورنگ مکمل کرکے پھر اس جگہ ہیوی مشینری سے 200 فٹ گہرا کنواں کھودا جاتا ہے، جس کے اندر پانی خودبخود اپنی فطری قوت سے بھر جاتا ہے، یہ کنواں اگر کچا رہنے دیا جائے تو ریت کے طوفان میں دب جاتا ہے یا پھر پانی کے کٹاؤ سے دیواریں گر جاتی ہیں، اسلئے کنویں کو اندر سے لازمی پکا کیا جاتا ہے تاکہ یہ سالہا سال تک قائم رہ سکے، ایک پکے کنویں کے جاری رہنے اور قائم رہنے کی اوسط عمر کم و بیش 25 سال ہوتی ہے۔

کنویں کو پکا کرنے کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جب یہ خشک ہو جائے تو اسے ڈھانپ کر محفوظ کر دیا جاتا ہے کیونکہ بارشوں کے بعد یہ پھر سے پانی کی فراہمی شروع کر دیتا ہے۔

اس کی لاگت کے بارے میں یہ ہے کہ جہاں کنواں کھودا جائے وہاں کے لوگ تمام افرادی قوت خود مہیا کرتے ہیں، آپ کو صرف بورنگ، پائیپ، ڈگنگ اور پکا کرنے کے اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں، جو ایک کنویں کی مد میں لائنز کلب کے تقریباً ایک لاکھ روپے سے بھی کم آئے تھے، آج کھلا خرچ کرکے بھی اسے دو لاکھ روپے فی کنواں فرض کرسکتے ہیں یا مذکورہ این جی اوز سے تازہ ترین اپڈیٹ لے سکتے ہیں۔

پاکستان کونسل فار ریسرچ آن واٹر ریسورسز PCRWR کیمطابق صحرائے تھر میں سالانہ ایک ٹریلین لیٹرز کے قریب بارش کا پانی برستا ہے جو یقیناً زیر زمین موجود رہتا ہے، ضرورت اسے باہر لانے کی ہے جس کیلئے حکومت چاہے تو رواں پانچ سالہ دور میں اس 414 ارب کے فنڈ سے انقلاب لا سکتی ہے جس پر یقیناً ان غریبوں کا ہی پہلا اور آخری حق ہے۔

اگر پورا پیسہ خرچنے کو جی نہیں چاہتا تو کم از کم دو کام ضرور کرنے چاہئیں، ایک یہ کہ سازدا کو پانی تلاش کرنے کے جدید سائنٹیفک اوزار، انجینئرز کو غیرملکی تربیت، ڈگنگ کیلئے ہیوی مشینری اور اس پراجیکٹ پر کام کرنیوالوں کیلئے ایک درجن موبائل ہومز جیسی موٹرز وہیکلز جو صحرا میں باآسانی چل سکیں وہ ضرور فراہم کر دیں تاکہ ان کیلئے صحرائے تھر کی گہرائی میں جانے اور رہنے کی سہولت پیدا ہوجائے۔

پھر آپ پبلک۔گورنمنٹ پارٹنرشپ کا نعرہ بھی لگائیں گے تو سینکڑوں افراد اور درجنوں فلاحی ادارے آپ کیساتھ کھڑے ہو جائیں گے جو کسی بھی کنویں کی آدھی قیمت حکومت کیساتھ شئیر کرنے کو تیار ہو جائیں گے مگر اس شرط پر کہ حکومت اپنا حصہ ان کے ہاتھ میں دیدے تو باقی آدھا یہ اپنے پلے سے بھی لگا لیں گے۔

تھر میں پانی کی تلاش کا کوئی سائنٹیفک ذریعہ نہیں ہے، ایک پاکستانی انجینئر عبدالخالق شیخ صاحب جو سعودی عرب کی کسی کمپنی میں ہائیڈرولوجسٹ تھے، انہیں محمد خان جونیجو صاحب نے سندھ ایرڈ زون ڈویلپمنٹ اتھارٹی SAZDA کی سربراہی آفر کی تھی اور ان کی سفارشات پر جاپان سے کچھ ضروری اپریٹس اور ہیوی مشینری بھی منگوا کے دی تھی۔

شیخ صاحب نے پہلی بار تھر میں زیر زمین پانی کی تلاش کو سائنٹیفک بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی تھی مگر مجھے معلوم نہیں یہ صلاحیت اب کس حد تک موجود ہے، البتہ حکومت چاہے تو اس کیلئے بتائے گئے انتظامات باآسانی کئے جا سکتے ہیں۔

تھر میں پانی کی تلاش اور کنووں کی کھدائی میں مذکورہ اینجیوز کیساتھ سازدا بھی اپنے انجینئیرز اور ہیوی مشینری کیساتھ پیش پیش رہی ہے، اگر کوئی نیکدل بندہ یا فلاحی تنظیمیں پندرہ بیس لاکھ کی لاگت سے تھر میں دس بارہ کنویں کھدوانا چاہیں تو ان اینجیوز سے رہنمائی اور سازدا سے تکنیکی امداد بھی لے سکتے ہیں۔

اب تک جس اینجیو نے بھی کام کیا ہے اس نے اپنا فوکس مٹھی، اسلام کوٹ اور ننگر پارکر جیسے شہروں کے قریبی علاقوں تک ہی محدود رکھا ہے تاکہ آنے جانے، رہنے سہنے اور راشن پانی کی سہولت دستیاب رہے، تھر کا ایک وسیع ایریا ابھی تک بدستور پہنچ سے باہر اور بنجر ہے جس کی بنیادی وجہ رہائش و خوراک کی عدم دستیابی، سنیک۔بائیٹ جو وہاں عام ہے اور پکی سڑکوں یا کم از کم ٹھوس کچے رستوں کا نہ ہونا سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔

ذاتی گاڑیوں اور ہیوی مشینری کو وہاں تک لیجانے کیلئے ٹھوس رستہ اشد ضروری ہے ورنہ ہر قسم کی گاڑی ریت میں دھنس جاتی ہے یا پھر رستے متعین نہ ہونے کی وجہ سے کسی منزل تک پہنچنے یا واپس آنے کا رستہ کھو بیٹھتی ہے جسے تلاش کرنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔

میری معلومات کے مطابق سندھ گورنمنٹ نے 2013 میں تھر کے اندر 20 کنویں کھودنے اور تالابوں پر 20 ہینڈ پمپس لگانے کا ایک پراجیکٹ کیا تھا، 2015 میں زرداری صاحب کے حکم پر تھر میں چھ سو کے قریب صاف پانی مہیا کرنے والے آر۔او پلانٹس بھی لگائے گئے تھے، جن میں سے متعدد فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے بند ہیں اور باقی بند ہو رہے ہیں، ان پلانٹس پر شائد 40 ارب روپیہ خرچ ہوا تھا جو بیکار جانے والا ہے، ان پلانٹس کی بجائے تھر میں کنووں کی ضرورت کہیں زیادہ ہے جن کا پانی کسی ٹریٹمنٹ کے بغیر بھی لیب ٹیسٹ کیمطابق پینے سمیت جملہ مصارف کیلئے بالکل فٹ قرار دیا گیا ہے۔

تھر کی قحط زدہ آبادی کو زندگی کی سہولتوں میں شامل کرنے کیلئے کوئی تکنیکی کمی ہے نہ فنڈز کی، کوئی کمی ہے تو وہ صرف اخلاص نیت اور دیانتداری کی ہے جو نہ جانے کب پوری ہوگی۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: