اٹھارہویں ترمیم اور پسماندہ عوام —– لالہ صحرائی

4
  • 139
    Shares

اٹھارہویں ترمیم اس چیز کے پیش نظر نہیں تھی کہ صوبوں کو ان کا حق نہیں مل رہا یا ان کے وسائل پنجاب یا افواج پاکستان کھا جاتی تھیں۔

قبل ازاں قابل تقسیم قومی آمدنی آئینی فارمولے کے مطابق آبادی کی بنیاد پر تمام صوبوں میں تقسیم کر دی جاتی تھی، اس حساب سے اگر ایک صوبے کو فی کس 100 روپے ملتے تو باقیوں کو بھی اتنے ہی ملتے تھے۔

جب مردم شماری گزشتہ پانچ سال میں نہ ہوئی ہو تو پرانی مردم شماری میں نئے اندراج جمع خرچ کرکے کام چلا لیا جاتا تھا، اگر کسی صوبے کے رجسٹر پیدائش و اموات درست مرتب نہیں ہوتے تھے تو یہ اس کی اپنی کوتاہی تھی بہرحال نیٹ ایفیکٹ تمام صوبوں کیلئے تقریباً مساویانہ ہی رہتا تھا۔

اٹھارہویں ترمیم سے قبل صوبوں کے دو مطالبات مالی کمزوریوں کی وجہ سے اور چار مطالبات آئینی ترمیم کے بغیر پورے نہیں ہو سکتے تھے۔

ان میں ایک یہ کہ قومی آمدنی میں مرکز کا حصہ کم کرکے صوبوں کا حصہ بڑھایا جائے جو اس وقت بالترتیب 57 اور 43 فیصد تھا۔

دوسرا یہ کہ صوبائی ریسورسز کے استعمال پر رائلٹی کی شرح بھی بڑھائی جائے۔

تیسرا یہ کہ موجودہ فنڈز سے جب مرکزی حکومت کی ضروریات تقریباً پوری ہو رہی ہیں تو نئے ابھرنے والے سروسز سیکٹر پر سیلز ٹیکس لگا کے اسے وصول اور استعمال کرنے کا حق صوبائی حکومتوں کو دے دیا جائے تاکہ وہ اپنی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کر سکیں۔

چوتھا یہ کہ صوبوں کو اپنی ڈویلپمنٹ کیلئے بیرونی دنیا سے جوائنٹ وینچرز، تکنیکی امداد کے معاہدات، شارٹ ٹرم، لانگ ٹرم مالیاتی امداد اور انویسٹمنٹس لینے کی اجازت ہونی چاہئے۔

پانچواں یہ کہ این۔ایف۔سی کے تحت صوبوں میں تقسیم ہونے والی قومی آمدنی کو ڈیموگرافک فارمولے کی بجائے ملٹی۔فیکٹر فارمولے سے تقسیم کیا جائے تاکہ مخصوص صوبائی علاقوں میں پسماندگی اور انورس پاپولیشن ڈینسٹی کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے جو وہ مروجہ بجٹ کے تحت حل نہیں کر پا رہے۔

چھٹا یہ کہ منتخب اسمبلیاں تحلیل کرنے کی صدارتی پاورز ختم کی جائیں۔

ان میں ناجائز مطالبہ تو کوئی نہیں لیکن مالیاتی کمزوری کی وجہ سے کوئی ایک یا تمام مطالبات پورے کرنا کسی دور میں بھی ممکن نہیں تھا۔

مشرف۔لیڈ گورنمنٹ آنے تک مملکت میں صرف سوا لاکھ لوگ لگ بھگ 500 ارب روپیہ ٹیکس دیتے تھے، انہوں نے سی۔بی۔آر کو نئے کریڈینشئیلز اور کمپیوٹرائزڈ سسٹم کیساتھ جب ایف۔بی۔آر میں کنورٹ کیا تو مملکت کی تاریخ میں پہلی بار قومی آمدنی کو سرخاب کے پَر دستیاب ہوئے تھے لہذا مشرف گورنمنٹ نے ہی پہلی بار مرکز کا حصہ 57 فیصد سے بتدریج کم کرتے کرتے اپنے آخری بجٹ میں 47 فیصد تک لا کے ایگریگیٹ 10 فیصد تک کرٹیل کیا تھا۔

مشرف۔لیڈ گورنمنٹ نے ریوینیو کلیکشن 1300+ اور ودہولڈنگ ٹیکس کی پروویژن سے اس میں 200 ارب روپے سالانہ مسلسل اضافے کی گنجائش بھی چھوڑی تھی لہذا اب پی۔پی۔لیڈ گورنمنٹ وہ تمام صوبائی مطالبات پورے کرنے کی پوزیشن میں تھی جو اوپر بیان کئے گئے ہیں۔

اٹھارہویں ترمیم میں تمام صوبائی مطالبات من و عن تسلیم کرکے لاگو بھی کر دئے گئے، اب کل قومی ریوینیو کا 42 فیصد مرکز کو ملتا ہے جس میں وزارتِ داخلہ، خارجہ، دفاع اور دیگر قومی ادارے اور کارپوریشنز چلتی ہیں۔

دفاعی بجٹ جس ریشو سے پہلے دن ملتا تھا اسی ریشو سے آج ملتا ہے، فوج کوئی 80 فیصد بجٹ نہیں کھاتی، اس موضوع پر سترسالہ تاریخ کو کوور کرتے ہوئے میرے دو مضامین دانش پر موجود ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جو قوم آج 4000 ارب روپیہ ٹیکس دیتی ہے اس کی استعداد میرے حساب سے 10000 ارب روپے سالانہ ہے لیکن یہی قوم سن 1998 میں مشرف۔کوپ سے پہلے 500 ارب روپے دیتی تھی اور سیاستدان اپنی نااہلی چھپانے کیلئے الزام فوج پہ لگا دیتے تھے جو لاعلم طبقے کی جڑوں تک میں راسخ ہوا بیٹھا ہے، فوج پر مال خوری کا الزام اس وقت جچتا جب ایوب سے مشرف تک آنے والے ڈکٹیٹرز ڈنڈے کے زور پہ عوام سے ٹیکس نکلوا کر اپنا بجٹ بڑھا لیتے۔

یہ الزام تو آپ پرویز مشرف پر بھی نہیں لگا سکتے جس نے آپ کی اکانومی اور ٹیکس کلیکشن کو ڈبل سے بھی دو سو ارب روپے اوپر پہنچایا بلکہ سالانہ دو سو ارب مسلسل اضافے کی پروویژن بھی کرکے دی اور مرکزی بجٹ بھی 10 فیصد کم کیا لیکن فوجی بجٹ میں 02 فیصد بھی اضافہ نہیں کیا، فوجی بجٹ کا ریشو آج بھی وہی ہے جو سن 1950 میں تھا، حقیقت میں قوم خود 80 فیصد کی چور تھی اور آج بھی 60 فیصد کی چور ہے۔

قوم کو جو حقیقی فائدہ ہوا وہ صرف ریوینیو کلیکشن کی ری۔ماڈیولیشن سے ہوا، اس کا ایک جائزہ بھی پیش کر دیتا ہوں:

سن 1998 کا بجٹ اوور۔لے 552 ارب کا تھا جس کی مکمل تفصیلات مجھے دستیاب نہیں ہو سکیں، اسلئے ناقابل تقسیم حصہ اس میں سے خارج نہیں کرسکتا لہذا ٹوٹل بجٹ کو ہی بنیاد بنا کر میں ایک عمومی تصویر کشی کروں گا جو آپ کو ماضی اور حال کا وہ فرق بتا سکے جس کے تحت اٹھارہویں ترمیم کے باقی رہنے یا اسے ختم کرنے سے متعلق آپ ایک رائے قائم کر سکیں۔

552 ارب میں سے 57 فیصد مرکز کا نکال دیا جائے تو باقی 43 فیصد جو صوبوں کیلئے بچتا ہے اس کی مقدار لگ بھگ 240 ارب روپے بنتی ہے، اس وقت تقسیم کا چونکہ سنگل سٹرنگ ڈیموگرافک فارمولا ہی لاگو تھا لہذا اس میں سے فی کس آبادی کے حساب سے پنجاب کو 138 ارب، سندھ کو 56 ارب، سرحد کو 33 ارب اور بلوچستان کو 13 ارب روپے تک ملے ہوں گے۔

اس رقم میں اپنے اپنے صوبائی محصولات جمع کرکے صوبے پھر اپنا بجٹ بناتے ہیں، اس سال سندھ کا ٹوٹل بجٹ صرف 59 ارب کے لگ بھگ تھا۔

اس رقم کو قابل تقسیم آمدنی کی نسبت فیصد کے حساب سے دیکھا جائے تو پنجاب کو 57.88 فیصد، سندھ کو 23.28 فیصد، سرحد کو 13.54 فیصد اور بلوچستان کو 5.30 فیصد حصہ ملا تھا۔

اب نئے ملٹی فیکٹر فارمولے سے سن 2009 کے بعد ہر سال جو رقم صوبوں میں تقسیم ہوتی ہے اس کی فیصد یوں ہے، پنجاب 51.74 فیصد، سندھ 24.55 فیصد، خیبر 34.62 اور بلوچستان 09.09 فیصد۔

ان شرحوں میں سندھ، خیبر اور بلوچستان کو جو اضافہ ملا ہے وہ رائلٹی، پسماندگی اور نقل مکانی کے سپورٹ فنڈ سے ملا ہے۔

اس ملٹی فیکٹر فارمولے سے پنجاب کو چونکہ 06 فیصد سالانہ کا نقصان ہوتا تھا جس کی مالیت اس وقت کم و بیش ایک ارب روپیہ سالانہ بنتی تھی، اس سال یہ پونے دو ارب تک بنے گی، لہذا یہ ترمیم شہباز شریف کی مفاہمت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی جس نے پاورٹی اور انورس ڈینسٹی کو قبول کرکے پنجاب کا ملٹی ملین روپیہ چھوٹے صوبوں کے حق میں چھوڑ دیا تھا حالانکہ یہ پسماندگی پنجاب کی پیدا کی ہوئی نہیں تھی بلکہ ماضی کی مالی کمزوری اور پھر حاصل شدہ پیسہ بھی عوام پر لگنے کی بجائے رئیسوں کی جیب میں جانے سے پیدا ہوئی تھی پھر بھی پنجاب نے کھلے دل سے سب کے مطالبے کو قبول کر لیا، اس پر زرداری صاحب اور گیلانی صاحب نے میڈیا کے سامنے شہباز شریف اور اہل پنجاب کا خصوصی شکریہ ادا کیا تھا۔

اہل پنجاب نے بھی شہباز شریف کے اس فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کیا تھا، ہمارے ہاں کوئی ایک آواز بھی ایسی نہیں تھی جو اس بات کے خلاف ہو کیونکہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ خیبر میں چند جگہوں پر، بلوچستان کے کئی اضلاع میں اور سندھ کے پورے تھرپارکر میں ہموطنوں کو شدید پسماندگی اور نقل مکانی کا سامنا رہتا ہے۔

ملٹی فیکٹر فارمولے میں چونکہ پسماندگی کیلئے 10.3 فیصد اور انورس پاپولیشن یا نقل مکانی کرنے والوں کی سیواداری کیلئے 2.7 فیصد رقم بطور خاص مختص ہے جو ہر صوبہ ڈائریکٹ انہی لوگوں پر خرچ کرنے کا پابند ہے۔

اب میں اس رقم کی مقدار اور ایک اہم سوال قوم کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ آپ اس مضمون کی بنیادی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

ملٹی فیکٹر فارمولے کی ترتیب یوں ہے کہ ٹوٹل قابل تقسیم آمدنی کا 82% حصہ تمام صوبوں کی فی کس آبادی کیمطابق انہیں دیدیا جاتا ہے۔

اس کے بعد کل رقم کا 5% ریوینیو جنریشن کی مد میں دیا جاتا ہے۔

اب ریوینیو جنریشن کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ اس ریوارڈ کی رقم سے پچھلے سال پنجاب کو 57.2 ارب، سندھ کو 65 ارب، کے۔پی۔کے کو 6.5 ارب اور بلوچستان کو 1.3 ارب ملے ہیں۔

اس سے یہ غلط فہمی دور ہو جاتی ہے کہ شہر کراچی ملک کو ستر فیصد ریوینیو دیتا ہے، یہ بات ماضی کی نسبت درست تھی لیکن اس میں بھی ملک بھر کے تجار کا حصہ شامل تھا جو اب ڈرائی۔پورٹس اور متعدد صنعتی زون بننے کی وجہ سے دیگر صوبوں میں منتقل ہوگیا ہے۔

البتہ خیبر میں حطار، بلوچستان میں حب، گڈانی، وندر جیسے صنعتی زونز ہونے کے باوجود ان دونوں کا قلیل ریوارڈ تجارتی سرگرمیوں کی کمی یا پھر ٹیکس کلچر کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے، گوادر پورٹ اور سی۔پیک کے ناقدین کو بھی سوچنا چاہئے کہ خیبر و بلوچستان کو ریوینیو کلیکشن کیلئے ان چیزوں کی کس قدر شدید ضرورت ہے۔

پھر اس رقم کا 10.30% غربت مٹانے کا حصہ ہے جس کی پچھلے سال کی کل مقدار 267.8 ارب روپے بنتی ہے، جس میں سے پنجاب کو 62.02 ارب، سندھ کو 62.70 ارب، کے۔پی۔کے کو 74.50 ارب اور بلوچستان کو 68.58 ارب روپے ملے ہیں۔

پھر اس رقم کا 2.7 فیصد حصہ انورس پاپولیشن ڈینسٹی کیلئے مخصوص ہے جس میں بارانی و صحرائی علاقوں کے لوگ قحط سالی اور سرد علاقوں کے لوگ برفباری کی وجہ سے ہر سال کچھ ماہ کیلئے نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں۔

پچھلے سال یہ رقم 70.72 ارب روپے تھی، جس میں سے پنجاب کو 3.07 ارب، سندھ کو 5.10 ارب، خیبر کو 4.62 ارب اور بلوچستان کو 57.93 ارب روپے ملے ہیں۔

یعنی چار صوبوں کو مالی کمزوری کی بنا پر 1998 میں کل رقم صرف 240 ارب روپے ملی تھی، اب قدرے کشادہ دامن میں پچھلے سال انہی چار صوبوں کو 339 ارب روپے صرف چند علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کیلئے ملے ہیں جبکہ باقی سماج کیلئے ملنے والا بجٹ الگ ہے جس کی کل مقدار 3500 ارب کے قریب ہے۔

اس بات کو مزید سم۔اپ کرکے یوں سمجھ لیجئے کہ جن چار صوبوں کے پاس 1998 میں اپنی عوام کیلئے کل سرمایہ صرف 240 ارب روپے تھا، پچھلے سال ان کے پاس 3500 ارب روپے سے زائد تھا جس میں سے 339 ارب صرف پسماندہ علاقوں پر خرچ کرنا تھا۔

اتنے بڑے اضافے کے بعد کیا 1998 کے مقابلے میں 2017 کی عوام کو بنیادی ضروریات اور کوئی دیگر خوشحالی حاصل ہے؟

جس مقصد کیلئے صوبائی خودمختاری اور اٹھارہویں ترمیم کا راستہ اختیار کیا گیا تھا کیا اس کے تحت صوبائی عوام کی حالت میں پہلے سے کوئی بہتری آئی ہے یا تمام طبقات حسب معمول سسکنے پر ہی مجبور ہیں؟

اب آپ پانچ سال کا اندازہ لگانے کیلئے 3500 کو راؤنڈ۔ڈاون کرکے 3000 کرلیں اور 339 کو 300 کرلیں اور یہ اندازہ لگائیں کہ کیا پچھلے پانچ سال میں صوبوں کے اندر عمومی طور پر کہیں 15000 میں سے 35 فیصد انتطامی اخراجات نکال کے کم از کم 10000 ارب روپیہ کہیں خرچ ہوا نظر آتا ہے؟

پسماندگی مٹانے کا 1300 ارب اور نقل مکانی کا 355 ارب روپیہ روہی، چولستان، تھرپارکر، چاغی، اور خیبر کے پسماندہ ترین علاقوں میں کہیں پر لگایا گیا ہے؟

پسماندگی دور کرنے کیلئے جو 267 ارب روپے سالانہ ملتے ہیں اس کے مطابق پانچ سال میں پنجاب نے روہی پر 300 ارب، سندھ نے تھرپارکر میں 315 ارب، خیبر نے کہیں 370 ارب اور بلوچستان نے چاغی یا اس جیسے کسی علاقے میں 350 ارب روپے خرچ کئے ہیں؟

کیا نقل مکانی کیلئے مختص سالانہ 71 ارب کے سپورٹ فنڈ سے پانچ سال کے کل بننے والے 350 ارب سے بالترتیب پنجاب نے روہی میں 15 ارب سے، سندھ نے تھرپارکر میں 25 ارب سے، خیبر نے کسی جگہ 23 ارب سے اور بلوچستان نے 290 ارب کی لاگت سے کہیں کوئی شیلٹر ہوم قائم کئے ہیں؟

تھرپارکر کی پسماندگی اور نقل مکانی کا المیہ آئے دن ہمارے سامنے آتا ہے جبکہ دیگر صوبوں میں تھر کے مماثل طبقات کو ایسی مشکلات پیش نہیں آتیں جیسی تھر میں واقع ہوتی ہیں، کیا اسے ایڈریس کیا گیا ہے جبکہ سندھ کو ملنے والے پسماندگی اور نقل مکانی کے فنڈز پر تھرپارکر کا اپنا ڈائریکٹ استحقاق بنتا ہے۔

ان دونوں فنڈز کی سالانہ مقدار سندھ کو 68 ارب روپے ملتی ہے، اسے 60 کے حساب سے بھی دیکھیں تو گزشتہ دس سال میں تھرپارکر پر 600 ارب روپیہ لگانا چاہئے تھا جبکہ سندھ حکومت نے شائد چالیس ارب سے چند آر۔او پلانٹس اور کچھ کنووں کا اہتمام کیا ہے اور کوئی قابل ذکر ریلیف نہیں ملتا۔

تھر کے معاملے کو اس کے ڈیموگراف اور زمینی صورتحال کو مدنظر رکھ کے دیکھیں تو صرف پسماندگی و نقل مکانی کے سپورٹ فنڈ سے ہی اس کے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں جبکہ باقی صوبائی بجٹ پر بھی حصہ بقدر جثہ تھر کا برابر حق موجود رہتا ہے، اس چیز کا عنقریب ایک الگ مضمون میں جائزہ لیں گے۔

ان باتوں کے پیش نظر اٹھارہویں ترمیم میں اسمبلیاں تحلیل کرنے کی پاورز سمیت کسی چیز کو بھی ان۔ڈو کرنا قطعاً مناسب نہیں ہے کیونکہ اس ترمیم کی موجودگی میں ملک دشمن اور قوم پرست عناصر کے پاس افواجِ پاکستان، مرکز یا پنجاب کے خلاف کسی قسم کے پروپیگنڈے کا کوئی جواز ہی باقی نہیں رہتا تاہم صوبائی عوام کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا گلہ انہیں اپنی قیادت سے ضرور کرنا چاہئے۔

اس بات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیا مرکز اور افواج پاکستان کے اسٹیک ہولڈرز اپنی عوام کو یونہی سسکتا ہوا چھوڑ دیں یا ان کی بہتری کیلئے صوبوں کو دی ہوئی کچھ رعائیتیں واپس لیکر مرکز کو دے دیں تاکہ مرکز ایم۔این۔ایز کے ذریعے ان پسماندہ طبقات پر خود خرچ کر سکے۔

یہ فیصلہ کرنا افواج پاکستان کا ڈومین نہیں لیکن تھر کا علاقہ بالخصوص سٹریٹجک اہمیت کا بھی حامل ہے جہاں فوجی نکتہ نظر سے مینؤربلٹی فراہم کرنے والے انفراسٹرکچر کا ہونا بہت ضروری ہے، لہذا وہ اسٹیک ہولڈر ضرور بنتے ہیں، بلوچستان اور دیگر علاقوں میں بھی یہ صورتحال ہو سکتی ہے مگر مجھے ان علاقوں کا یقینی علم حاصل نہیں۔

پتا نہیں اٹھارہویں ترمیم میں ترمیم کرنے کی افواہوں میں کوئی صداقت ہے یا نہیں، اگر ہے تو حکومت کس حد تک ترمیم کرنا چاہتی ہے یہ پھر بھی واضح نہیں، اس غیریقینی صورتحال کے باوجود اس مضمون میں عوامی ترقی بالخصوص پسماندہ عوام کے حق میں اٹھائے گئے سوالات کی اہمیت کسی طرح بھی کم نہیں ہوتی۔

مرکزی حکومت کیلئے بہتر یہی ہوگا کہ ایک متفقہ آئینی پوزیشن سے غیر ضروری چھیڑ چھاڑ کرنے کی بجائے صوبائی حکومتوں پر ایک قرار داد کے ذریعے زور دیا جائے کہ وہ بجٹ کے صحیح استعمال سے پسماندہ طبقات کی حالت میں بہتری لانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

اہل رائے احباب سے بھی خصوصی گزارش ہے کہ اس مضمون میں پیش کئے گئے اعداد و شمار اور احوال کے آئینے میں پسماندہ طبقات کے حق کیلئے ضرور آواز اٹھائیں تاکہ صوبائی حکومتیں رواں پانچ سالہ دور میں بھی ماضی کی طرح ان غریبوں کو نظر انداز نہ کریں۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

4 تبصرے

  1. انتہائی اہم اعدادوشمار پر مشتمل مضمون ہے. جس میں کافی سلگتے ہوئے مسئلہ پر گفتگو ہے. آپ نے صوبائی سطح پر پسماندہ ترین علاقوں کی طرف توجہ رکھی ہے جبکہ میں اپنی اجمالی پوسٹ میں شہری علاقوں ساتھ روا رکھے گئے رویہ کی طرف توجہ دلا چکا. ہمارے ہاں سنجیدہ احباب بھی اب شاید کسی بھی مسئلے پر معروضی انداز میں گفتگو کے قابل نہیں رہ گئے. سیاسی عصبیت نے ذہنوں کو ایسا ماؤف کیا ہے کہ تنقید کے بجائے تضحیک کا چلن عام ہے. اور اس میں عام لکھاری تو کیا اچھے اچھے پروفیسرز اور علمی مقام رکھنے والے بھی لگے ہوئے ہیں

    • لالہ صحرائی on

      جی ہاں میں نے بجٹ کے آئینے میں پسماندہ علاقوں کو ہی فوکس کیا ہے کہ بجٹ میں سے ان کا حصہ بھی ان تک نہیں پہنچ رہا، شہری علاقوں میں بھی صورتحال آئیڈیل نہیں پھر بھی وہاں کچھ نہ کچھ آنہ پائی تو لگ ہی جاتا ہے۔

      آپ کی یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ سطحی سیاسی طرفداریوں کے علاوہ حقائق کی بنیاد پر سنجیدہ، معاملہ فہم اور عوام کی حمایت میں گفتگو کا دور دور تک نام و نشان نہیں ملتا، یہ بہت قابل افسوس امر ہے۔ تبصرے کیلئے شکریہ سر۔

  2. 2009 کیا اب بھی خیبر کی فیصد اتنی نہیں ہو سکتی. 34؟
    باقی عمدہ تاہم قدرے بے نتیجہ تحریر. شاید یہ مقصود نہ ہو.

Leave A Reply

%d bloggers like this: