برتن نہیں باپ کی لاش لاو —– خرم شہزاد

0
  • 38
    Shares

پاکستان میں رہنے والے تمام لوگ چاہیے وہ امیر ہوں غیریب ہوں، کوئی کام کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں لیکن ان سب میں ایک قدر مشترک ہے کہ سبھی پاکستان اور اس کے وسائل کے دشمن ہیں۔ یہ سب لوگ عاقبت نااندیش ہیں اور صرف آج میں زندہ رہتے ہیں۔ آنے والے کل اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے انہیں کوئی فکر نہیں۔ اس کے ثبوت میں ایک چھوٹی سی مثال بجلی کی کمی ہے، پورا پاکستان دن رات اس پریشانی اور عذاب میں مبتلا ہے کہ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن اس کے باوجود آپ ایک چھوٹے سے شہر میں شاپنگ سنٹر دیکھ لیں یا کسی بڑے شہر کا شاپنگ مال دیکھ لیں۔ ہر جگہ ڈیزائنگ میں بجلی کے بے تحاشا بلب استعمال کئے جاتے ہیں اور رات کے وقت میں اتنی روشنی ہوتی ہے کہ دن میں بھی شائدنہ ہو۔ یہ سب کیا ہے، کبھی کسی نے سوال کیا۔ کبھی کسی نے ان شاپنگ سنٹرز اور شاپنگ مالز کے خلاف کوئی بات کی۔ ہماری اپنی چھوٹی چھوٹی دکانوں پر کئی کئی انرجی سیور بہاریں دیکھا رہے ہوتے ہیں۔ کسی بھی قومی دن کے موقع پر چراغاں کرنا فرض سمجھا جاتا ہے ۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی کمی اور لوڈ شیڈنگ کے رونے اپنی جگہ۔

یہ سب باتیں مجھے پچھلے کچھ دنوں سے ملک کے کچھ شہروں میں گیس کی کمی اور عدم دستیابی پر احتجاج کرتے لوگوں کو دیکھ کر یاد آئیں۔ لوگ برتن لے کر بازار میں آ بیٹھے ہیں اور وہاں لکڑیوں پر کھانا پکا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں لیکن کیا یہ احتجاج کوئی رنگ لائے گا نہیں ۔۔۔ بالکل نہیں کیونکہ ملک میں کسی بھی چیز کی پیداوار کی ایک خاص مقدار ہوتی ہے اور اس کے استعمال میں بھی اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بسنے والوں کو یاد ہو گا کہ جب تک سی این جی نہیں آئی تھی، گھریلو صارفین کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی تھی۔ سی این جی پمپ کھلنے سے ہر شخص ان پر ٹوٹ پڑا اور تھوڑے ہی دنوں میں اس کاروبار سے وابسطہ لوگوں کو موقع دیا گیا کہ وہ روز کی بنیاد پر قیمت بڑھاتے چلے جائیں۔ تیس چالیس روپے کلو ملنے والی سی این جی یکدم ستر اسی تک پہنچی اور پھر اس کی واپسی کی کوئی امید نہ رہی۔ پاکستان میں ہر گاڑی سی این جی کروائی جا رہی تھی اور ایک موقع پر تو وہ لطیفہ بھی مشہور ہو گیا کہ ایک شخص اپنے دوست کو کہتا ہے کہ یار سوچ رہا ہوں کہ اپنا سگریٹ لائیٹر بھی سی این جی پر کروا لوں۔ موٹر سائیکل اور بڑی بسیں کسی سبب سے سی این جی نہیں ہو سکیں لیکن کار، ویگن اور کوچ سمیت شائد ہی کوئی سواری ہو جو سی این جی پر منتقل نہ ہوئی ہو۔ ایسا کرواتے ہوئے کسی عقل نے اندھے نے اپنے طور پر بھی نہیں سوچا کہ آج ملنے والے گیس کیا آنے والے کل میں بھی مل سکے گی اور یوں اس قدرتی نعمت کے بے دریغ استعمال سے کل ہم کس مصیبت یا پریشانی میں پڑ سکتے ہیں ۔۔۔ کیوں بھئی ۔۔۔ ہم کیوں سوچیں ۔۔۔ ہمارے منہ میں زبان ہے ناں، وہ چلائیں گے، دوسروں کو قصور وار ٹھہرائیں گے، حکومت کو گالیاں دیں گے اور سمجھیں گے کہ حق ادا ہو گیا ۔۔۔ اس کمال ذہنیت کے ساتھ پاکستانی گیس کے بے دریغ استعمال میں حد سے گزرتے چلے گئے اور پھر وہ دن آپہنچا جب حکومت یہ سوچنے لگی کہ اب گیس کارخانے والوں کو دی جائے، گھر والوں کو یا سی این جی اسٹیشن کو۔

بے حسی کی یہ کہانی صرف اتنی سی نہیں بلکہ اس میں ان حادثات کو بھی یاد کیا جائے جو سی این جی گاڑیوں کو پیش آئے۔ بچوں کی ایک گاڑی میں لگنے والی آگ میں اسکول کے ننھے بچوں کو بچاتے ہوئے اسکول ٹیچر اپنی جان سے گئی تو کس کے کان پر جوں رینگی۔ پورے پاکستان سے کس ماں باپ نے اپنے بچوں کی اسکول وین میں سی این جی سیلنڈر کی مخالفت کرتے ہوئے بچے کے لیے کوئی اور محفوظ سواری کا انتظام کیا ہو۔۔۔؟ کچھ ہی عرصے بعد ایک اور سکول وین میں اسی قسم کی آگ بھڑک اٹھی تھی لیکن پھر بھی پورے پاکستان میں کسی ماں یا باپ کو اپنے بچوں پر کوئی رحم نہیں آیا۔ حکومت نے گاڑیوں میں سی این جی سیلنڈر کے بارے قانون سازی بھی کی لیکن کسی ایک اسکول وین والے سے یہ مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ کسی قانون کو ہی مان لے۔

گیس کا ذکر ہو تو عام آدمی کی بے حسی کی داستانیں یہیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ ایک عام آدمی جس طرح سے ساتھ کے گھر والے کا دشمن بنا ہوتا ہے وہ ذکر بھی ہونا چاہیے۔ سردیوں میں جب گیس کا پریشر کم ہو جاتا ہے تو ان علاقوں میں لوگ ہیٹنگ گن استعمال کرتے ہیں۔ مختلف ناموں سے موجود یہ آلات گیس کا پریشر بڑھانے کے کام آتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کم گیس پریشر میں آپ کے گھر کی گیس پوری کرتے ہوئے یہ آلات اور کتنے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کرتے ہیں کیا کسی نے سوچا ہے۔ ایک گلی میں اگر دس گھر ہیں تو آٹھ کے ہاں ایسے ہی آلات استعمال کئے جاتے ہیں، بس بات اتنی ہے کہ کون پہلے دوسرے گھروں کی گیس کھینچ لے، یہ اس کی کاریگری اور دوسرے کی خراب قسمت ہے۔

یہ سب داستانیں نہ بلاول ہاوس کی ہیں اور نہ رائے ونڈ محل کی، بلکہ ہمارے اپنے گلی محلوں میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور عرصے سے ہو رہا ہے ۔ جہاں ایک عام آدمی جس قدر ہو سکے دوسرے کے ساتھ اور ملکی وسائل کے ساتھ دشمنی نبھانے کی پوری کوشش کرتا نظر آتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی چار برتن لے کر سڑک پر احتجاج کرئے تو کیا دوسرے اندھے اور بیوقوف ہیں جو نوٹس لیں گے۔ نہیں جناب ۔۔۔ سب کو سب کا پتہ ہے، اس لیے یہ چار برتنوں کے ساتھ ڈرامہ نہیں چل سکتا۔ آپ کو احتجاج کرنا ہے تو برتن نہیں اب باپ کی لاش لانی ہو گی ۔۔۔ شائد پھر آپ سے کوئی ہمدردی محسوس کی جائے ورنہ تو جو آپ کا حال ہے، اسی سڑک پر آپ کو لٹکا کر دوسروں کے مسائل کچھ کم کرنا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے۔ آپ بھی سوچیں اور سوچنے والے بھی سوچیں کہ اب کیا کرنا ہے ۔۔۔ آج کے حالات سے سبق سیکھ کر ایک عام آدمی اپنی بے حسی والی زندگی کو خیرباد کہے گا یا پھر احتجاج کے لیے باپ کی لاش لائے گا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: