ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر انیلہ کمال سے گفتگو

0

انسان کے اندر اس کے ذہن کی صورت میں ایک بہت بڑا جہان آباد ہے۔خیالات،احساسات اورجذبات مختلف واقعات میں انسانی ذات کو ایک ایسا مرقع بناد یتے ہیں کہ اس میں حاات کے مطابق ہر لمحہ بدلتی کیفیات کی جمع تفریق کے لئے کوئی آلہ اگر کسی ہستی کے پاس ہے،تو وہ خدائے بزرگ و برتر کی ذات ہی ہوسکتی ہے۔ انسان کی شخصیت آئس برگ کی مانند ہے،جس کا بہت معمولی سرا باہر دکھائی دیتا ہے۔اسی لئے حکمائے عالم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ’’ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی‘‘ ۔اس کے لئے دیدۂ دل وا کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ تمام تر پیچیدگی کے باوجود آخر انسان کو انسان کے ساتھ رہنا توہے۔ معاملات بھی کرنے ہیں۔ محبت اور نفرت کے اظہار پر بھی مجبور ہونا ہے۔ سو انسانوں کی یہ بہت بڑی مجبوری ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھیں۔ اسی کا نام نفسیات ہے
مزید نفسیات کیا چیز ہے اور اس طرح کے سوالات ہم نے ماہر نفسیات قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر انیلہ کمال سے کئے ۔ کچھ رہ بھی گئے۔ جیسے یہ کہ کسی دور میں ترکی کو یورپ کا مرد بیمار کہا جاتا تھا۔ کیا پاکستان کو اب اس درجۂ منزلت پر فائز سمجھنا چاہیے؟ڈاکٹر صاحبہ سے ہمارے سوالات وجوابات ملاحظہ ہوں اور بتائیے گا کہ ان کی روشنی میں آپ خود کو ذہنی لحاظ سے کس حد تک صحتمند یا بیمار سمجھ پائے ہیں؟

————————————————————————————————-

سوال: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر صاحبہ، نفسیات ایک بڑا موضوع ہے۔ہم یہاں اکیڈیمک سائیکالوجی کی بات نہیں کریں گے اور اپلائیڈ سائیکالوجی میں بھی وہی باتیں کریں گے، روزمرہ کی زندگی میں ایک عام آدمی سے جن کا تعلق ہے اور اسے سمجھنے سمجھانے میں مدد مل سکے۔ پہلا میرا سوال یہ ہے کہ نفسیات کی کیا تعریف ہے؟
جواب: نفسیات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کسی بھی انسان کے رویے کا مطالعہ کرتی ہے کہ کوئی کس طرح سے بولتا ہے۔ اٹھتا بیٹھتا ہے، بات چیت کرتا ہے ۔ اس کے جو جذبات یا اقدامات ہیں،ان سب چیزوں کے مطالعہ کا نام نفسیات ہے۔
سوال: ہر انسان انفرادیت کا حامل ہے،منفرد ہے۔اپنی ذات کے حوالے سے ،صفات کے حوالے سے ، پھر اس کے جذبات ہیں۔ احساسات اور خیالات ہیں۔ اس کے ذہن میں ہر سیکنڈ میں دو خیالات آتے ہیں۔ ایک اسٹڈی کے مطابق ہر انسان دن میں پچاس ہزار خیالات سوچ چکا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب کیا یہ نہیں کہ ایک ایک فردکی اسٹڈی کے لئے ہمیں نفسیات کے الگ الگ پیرامیٹر بنانے پڑیں گے؟کیا یہ الجھائو کا باعث نہیں ؟
جواب: دیکھیں،جب آپ سائنٹفک اسٹڈی کرتے ہیں،تواس میں ایک ہوتا ہے،کیس ٹو کیس اسٹڈی۔ آپ کا فوکس ایک انسان ہوتا ہے۔ اس انسان کے ،جیسے آپ نے کہا،احساسات ہیں۔وہ کیا سوچتا ہے۔ زندگی اور اس کے اقدامات پر اس کی سوچ کا کیا اثر ہوتا ہے یا اس کے اردگرد کے ماحول پر کیا اثر ہو رہا ہے۔یہ گہرائی میں آپ تحقیق کر سکتے ہیں۔لیکن جب آپ نے انسانی نفسیات کو سمجھنا ہے،تو پھر آپ ایک فرد کی بات نہیں کرتے،گروپ کی بات کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس طرح کے اور کتنے لوگ ہیں۔ ان کا اوسط کتنا ہے۔اگر یہ بات اس میں ہے،تو باقیو ں میں کتنی ہو سکتی ہے۔سو فیصد یقین کے ساتھ کسی بھی انسان کے بارے میں آپ کچھ نہیں کہہ سکتے۔طبیعات یا ریاضی میں ہمیشہ دو جمع دو چار ہوتا ہے۔ انسان میں آپ یہ کہیں کہ آج اگر میں نے اس کو برابھلا کہا ہے،تو اس نے غصہ کھایا ہے۔ کل میں کہوں گا،تو بھی غصہ کھائے گا؟آپ کبھی اس کی شخصیت کے بارے میں پیشن گوئی نہیں کرسکتے۔آپ اتناکہہ سکتے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے۔لیکن سو فیصد نہیں کہہ سکتے
چنانچہ نفسیات کے بارے میں سمجھنا ہے،تو ہم بات کرتے ہیں گروپ کی۔گروپ اس قسم کا بھی ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی نفسیات کیا ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کسی خاص کلچر کے لوگوں کی نفسیات کیا ہے۔ہم یہ بھی بات کر سکتے ہیں کہ مردوں کی نفسیات کیا ہے۔ عورتوں اوربچوں کی کیا ہے۔ہم اس طرح بھی کرسکتے ہیں کہ مرد اگر اس عمر سے تعلق رکھتے ہیں ،تو ان کی نفسیات کیا ہے؟اگر مرد اتنے تعلیم یافتہ ہیں،تو ان کی نفسیات کیا ہے؟مطلب ہے کہ ہم ایک اوسط بیان دیتے ہیں
سوال: سقراط نے کہا تھا Know thy self خود کو پہچانو۔ایک اور اسکالر ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا: ’’آپ کے دنیا میں آنے کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ آپ اپنے آپ سے آگاہ ہوں۔ اگر آپ پوری دنیا سے آگاہ ہوں ،لیکن خود کو نہیں جانتے ،تو آپ محض اپنی توانائی اور وقت ضائع کر رہے ہو ں گے‘‘۔اسی طرح حضور مرتبتؐ کا فرمان مبارک ہے کہ جس نے خود کو پہچان لیا ،اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ یہاں اپنے آپ کو پہچاننے سے کیا مراد ہے اور اس پہچان کو کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
جواب: خود آگاہی قرآن میں بھی ہے کہ کائنات کو سمجھواور کائنات کا ایک حصہ ہم خود بھی ہیں۔علم حاصل کرو اور آپ جتنا علم حاصل کرو گے ،آپ کے سامنے سے پردے کھلتے جائیں گے۔جتنے پردے کھلتے جائیں گے،اتنی ہی آپ کے لئے زندگی آسان ہوتی جائے گی۔ اگر آپ کو اپنے بارے میں پتہ ہو گا،تو آپ دوسروں کے ساتھ بہتر انٹرایکشن کر سکیں گے
سوال: لیکن یہ ہو گا کیسے ؟مثال کے طور پرمیں خود کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔بقول شاعر
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
بحیثیت مجموعی ہماری قوم پر بھی یہ شعر صادق آتا ہے۔لیکن میں انفرادی سطح پر آپ کے پاس آیا ہوں اور سمجھنا چاہتا ہوں اپنے آپ کو۔اگر آپ مجھے سمجھنا یا سمجھانا چاہتی ہیں،تو اس میں کتنا وقت لگے گا اور اس کا طریقۂ کارکیا ہو گا؟
جواب: کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ انسان کی فطرت شروع کے سالوں میں بن جاتی ہے،جبکہ ایسا نہیں ہے۔انسان ہر زمانے میں عمر کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اپنے اردگرد کے ماحول کے مطابق اور اسے دیکھ دیکھ کر۔چنانچہ اپنے آپ کو سمجھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔یہ آپ کی سا ری زندگی کی تگ و دو ہے
پھر آپ کا اپنے آپ کو سمجھنا کیوں اہم ہے کہ آپ اپنے ماحول میں کتنا ایڈجسٹ ہو سکتے ہیں۔ہم لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ آپ سامنے والے بندے کو تبدیل نہ کریں۔آپ کچھ نہیں کرسکتے ، کیونکہ اس کی ایک اپنی حیثیت،اپنی ایک فطرت ہے۔ لیکن آپ کا زیادہ کنٹرول آپ کے اپنے اوپر ہے۔آپ اگر خود کو تبدیل کریں گے،تو سامنے والے فرد کے ساتھ آپ کے تعلقات یا جو بھی مسئلہ ہے،وہ ٹھیک ہو سکتا ہے
میں کل رات کی بات بتاتی ہوں۔میرا بیٹا 6 سال کا ہے۔ اس نے کہا ، ماما میرے سر پر لائیٹ جلی ہوئی ہے، مجھے نیند نہیں آرہی ۔میں نے اسے کہا،بیٹا ،کام تو کرنا ہے۔آپ اس طرح کرو کہ اپنی آنکھیں بند کرلو۔اب اگر آنکھیں بند ہوں گی،تو اب بتائو،اندھیرا ہو گیا ناں؟ہاں ہو گیا۔تو میں نے کہا سو جائو
مطلب کہنے کا یہ ہے کہ آپ بجائے یہ کہ دوسروں کو ٹھیک کرنے لگ جائیں،آپ اپنے آپ کو ٹھیک کرنا شروع کر دیں،تو معاشرے سے مسئلہ ختم ہو جائے گا
سوال: اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے ہو۔سب سے آسان ترین اگر دنیا کو تبدیل کرنا ہے،تو اپنی ذات کو تبدیل کرنا شروع کر دیں؟
جواب: بجائے یہ کہ آپ یہ دیکھیں کہ فلاں یہ نہیں کر رہا ، فلاں وہ نہیں کر رہا،پہلے آپ اپنے آپ کو چیک کریں کہ میں کیا کرر ہا ہوں۔اگر سب لوگ یہ کرنا شروع کردیں،تو ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی۔لیکن یہ اتنا آسان کام نہیں ہے
سوال: ہر شخص ظاہر ہے کہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ لوگ غربت،محرومیوں اور مجبوریوںکے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں اور ان کی شخصیت پر اس کی گہری چھاپ لگ جاتی ہے۔کئی لوگوں کو بچپن میں والدین کی محبت نہیں ملتی۔معاشرے کا جبر ہوتا ہے۔ کیا ایسے افراد اپنے ماضی کے بوجھ سے چھٹکار ا پا کر ایک نارمل انسان بن سکتے ہیں؟ اگر ایسا ممکن نہ ہو،تو کسی کے موجودہ ابنارمل رویوں کے لئے اسے کس حد تک ذمہ داراور مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
جواب: یہ ٹھیک ہے کہ بچپن میں جو آپ کو تجربہ ہوتا ہے،اس کا آپ کی شخصیت پر اثر ہوتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ شخصیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔سو فیصد تبدیلی تو کبھی نہیں ہوسکتی۔کبھی نہ کبھی ،کہیں نہ کہیں وہ کیفیت باہر نکل آتی ہے،لیکن اس کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
سوال: مطلب یہ کہ جب بھی کوئی فرد کوئی ایسا قدم اٹھاتا ہے،تو اس کے سامنے کے اقدام کے اوپر ہی قانون کا نفاذ ہو گا۔ معاشرے کے افراد کی اس کے بارے میں ایک رائے قائم ہوگی۔اس کے پس منظر کو جاننے کی کوشش نہیں ہو گی کہ آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے ، اس نے یہ اقدام کیوںکیا؟
جواب: دیکھئے،یہ دو سطح کی بات ہو رہی ہے۔ایک بات ہے اس کے غلط اقدام کی اور ایک اس کی ذہنی بحالی کی بات ہے۔جہاں تک سزا کی بات ہے،وہ تو اسے ملے گی ہی،جو اس نے غلط کام کیا ہے۔ ذہنی بحالی کی بات ہے، تووہ ضرور ہونی چاہیے ،تاکہ وہ حرکت دوبارہ نہ ہو۔لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ کسی نے غلط کام کیا ہے ،کیونکہ اس نے بچپن ایسا گزارا ہے،تو ایسی بات نہیں ہے
سوال: کیا صفات ہیں،جن کی بنا پر کسی کے بارے میں کہا جائے،وہ ذہنی طور پر صحت مند ہے؟
جواب: سادہ سی بات ہے کہ جو شخص اپنے معاشرے میں اچھی طرح سے ایڈجسٹ ہے۔اپنی فیملی میں بھی درست رویے کا حامل ہے،وہ نارمل ہے۔۔جو فرد یہ کہتا ہے کہ میری دفتر میں نہیں بنتی۔اس کا آپ نوٹ کریں گے کہ پورے کیرئیر میں جہاں اس نے نوکری کی ہو گی،وہاں کسی سے بھی نہیں بنی ہو گی۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ مسئلہ میرے ساتھ ہے،بلکہ میرے سے لوگ ٹھیک نہیں ہیں۔ اس میں یہ صلاحیت ہے کہ اس کے اردگرد کے ماحول میں جو اتارچڑھائو اور تضاد ہے،اس کے ساتھ مطابقت اختیار کرسکے
سوال: اسی طرح اس کے برعکس وہ کیا خصوصات ہیں،جن کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ یہ بندہ ذہنی اعتبار سے بیمار ہے؟
جواب: (ہنستے ہوئے)یہ تو ایک لمبی لسٹ ہے۔ کہنا بڑا مشکل ہے،لیکن پھر اگر سادہ الفاظ میں کہوں ،تو وہی ہے کہ ایسے شخص کو ایڈجسٹمنٹ کی پرابلم آرہی ہے۔جیسے ایک بچہ سکول میں نہیں ایڈجسٹ ہو رہا۔گھر میں اس کے بہت جھگڑے ہو رہے ہیں۔ اب اس میں بھی کلچر سے کلچر اورمعاشرہ سے معاشرہ فرق پایا جاتاہے
اس کی ایک مثال پاکستانی معاشرہ ہے،جس میں اگر آپ کسی بچے کو ڈانٹیں اور وہ آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے،تو ہم اسے گستاخی پر معمول کرتے ہیں۔ مغرب میں اگر آپ بچے کو ڈانٹیں اور وہ آپ سے آنکھیں چرائے،تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بچہ آپ کی بے عزتی کر رہا ہے۔اب یہاں جو چیز ابنارمل ہے،مغرب میں نارمل ہے۔
سوال: مذہب سے مراد راستہ ہے یا مذہب کا مطلب انسان اور خدا کے درمیان تعلق ہے۔ بالعموم اس میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ مذہبی آدمی کو محبت کرنے والا اور اعتدال پر کاربندفردہونا چاہیے۔اگر مذہب میں انتہا پسندی ہے،تو کیا ہم اس کو ابنارمل رویہ کہہ سکتے ہیں؟کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مذہب میں کچھ انحراف ہو گیا ہے یا فرد کی سوچ میں کوئی گڑبڑ ہوگئی ہے یا مذہبی تعلیمات کو سمجھنے میں کوئی فرق لگ گیا ہے؟
جواب: یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ہاں مذہب کا مطلب محض قرآن شریف ناظرہ اور پانچ وقت کی نماز پڑھنارہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم مذہب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ہماری مساجد میں یہی تو ہو رہا ہے کہ لوگ قرآن کو حفظ تو کر لیتے ہیں،سمجھتے نہیں ۔انتہا پسندی تبھی آتی ہے،جب ہمیں باضابطہ علم نہ ہو۔مذہب چاہے و ہ اسلام ہو یا دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو،جب بھی ان کا تقابلی جائزہ لیں،تو ہر مذہب آپ کو انسانیت سکھاتا ہے۔ہر مذہب اچھی باتیں سکھاتا ہے۔جو چیز نہیں ہوتی ، اس کا مطلب ہے کہ مذہب کو صحیح طور پر سمجھا نہیں گیا ہوتا
سوال: کیامذہب اور نفسیات میںباہم کوئی تعلق ہے؟
جواب: مذہب کا انسان کی فطرت سے گہرا تعلق ہے۔ آپ کا رویہ آپ کے اعتقادی سسٹم کے تحت ہے۔ مذہب کا تعلق آپ کے عقائد سے ہے۔جو آپ سمجھتے ہیں مذہب کے متعلق ،اسی کے مطابق آپ زندگی گزاررہے ہوتے ہیں
سوال: ہمارے ہاں مذہبی طبقات کی طرف سے اوراد اور وظائف تجویز کئے جاتے ہیں مختلف مسائل کے حل کے لئے یاذہنی سکون کے لئے۔وہ کس حد تک سود مند ہیں؟
جواب: آپ کی ذہنی صحت کا آپ کے عقائد کے نظام سے گہرا تعلق ہے ہی،جسمانی صحت کا بہت حد تک تعلق بھی آپ کے عقائد کے نظام سے ہے۔کئی قرآنی آیات میں آپ کے لئے شفا ہے۔ اگر آپ انہیں باقاعدگی سے ٖپڑھ رہے ہیںاور آپ کا عقائدی نظام اس سے مطابقت رکھتا ہے،تو یہ چیز اثرانداز ہوتی ہے۔نفسیات میں لوگوں نے یہ بھی کر کے دکھایا ہے کہ کسی بیماری میں آپ نے دوائی دی۔ بیماری کی دوا دینے کی بجائے خالی آپ نے پوڈردے دیا ۔علاج کیااور اس میں دوائی کوئی نہیں،لیکن مریض کو بتایا کہ یہ فلاں دوائی ہے، مریض اسی سے ٹھیک ہو گیا۔جبکہ اس کے اندر دوائی نہیں دی گئی ہے۔سائیکالوجی میں اسے کہتے ہیںplacebo effect
سو آپ کے اعتقادی نظام کے مطابق آپ کی باڈی تبدیل ہوتی ہے۔جب آپ غصہ کھاتے ہیں۔ہنستے یا روتے ہیں،تو آپ کی باڈی کے کیمیکلز اس کے مطابق تبدیل ہوتے ہیں۔اسی طرح جب آپ سوچتے ہیں کہ میں نے یہ چیز کھالی ہے،تو میں ٹھیک ہو جائوں گا،تو آپ کے باڈی کے کیمیکلز خود اس بیماری کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔سو یہ چیز بہت اہم ہے کہ آپ کا اعتقاد کا نظام کتنا مثبت اور مضبوط ہے۔ ہم لوگ کہتے ہیں کہ یہ شرک ہے کہ کسی آدمی کے سامنے جا کر اس سے دعا کے لئے کہیں۔جب کہ دعا آپ کو براہ راست اللہ سے کرنی ہے۔لیکن اس کا اعتقا د ہے کہ میں اس کے پاس جائوں گا،تو ٹھیک ہو جائوں گا۔تو یہ آپ کا اعتقاد آپ کو ٹھیک کر رہا ہوتا ہے۔
سوال: مغرب میں روحانیت کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے اور وہ مراقبہ بھی بہت کرتے ہیں۔اس کی کیا اہمیت ہے؟ کیا پاکستانی معاشرے میں بھی مراقبے کی سرگرمیاں ہیں؟کیا یہ نماز کے متبادل ہو سکتی ہیں؟
جواب: بالکل ہیں،لیکن یہمتبادل نہیں ہوسکتیں۔اللہ نے کہا ہے کہ نماز کی چھوٹ نہیں ہے۔آپ کے حصے کی کوئی اور نماز نہیں پڑھ سکتا۔لیکن مراقبہ آپ جب چاہیں، کر سکتے ہیں اور اس کا اثر ہوتاہے
سوال: پاکستان میں آبادی کے تناسب سے ماہرین نفسیات کا کیا تناسب ہے ؟کیا یہ اتنی تعداد میں ہیں کہ عملاّ معاشرے کے لئے کام کر رہے ہوں؟
جواب: نہیں ،بہت کم ہیں ہیں،جبکہ مسائل بہت ہیں۔ جوماہرین نفسیات ہیں،وہ بھی اتنے مؤثر نہیں ہیں۔ہمارے ہاں لوگ اس وقت آتے ہیں،جب انسان ہوش و حواس کھوبیٹھتا ہے۔جسے پاگل کہتے ہیں۔اس سٹیج سے پہلے کوئی نہیںآتا ۔اس نوبت تک پہنچنے سے پہلے آنا اہم ہوتا ہے۔ اسی وقت ہم زیادہ موثر ہوسکتے ہیں۔سکولوں میں ہم بہت کام کرسکتے ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں میں یہ کام ہو رہا ہے۔بچے کو بتائیں کہ اس کا رجحان کیا ہے۔وہ کس کورس کی طرف جائے، تو زیادہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ یہ باتیں ایسی ہیں ،جن کے بارے میں لوگوں کو پوچھنا چاہیے ا ور جو پوچھتے ہیں،وہ فائدے میں رہتے ہیں۔لوگوں کو ابھی ان باتوں کی آگاہی نہیں ہے
صرف آگاہی کی بات نہیں ،لوگ افورڈبھی نہیں کرسکتے۔ جب آپ کا پیٹ خالی ہو،تو آپ کو اور کچھ نہیں سوجھے گا،سوائے اس کے کہ آپ کو کھانے کو ملے۔جب آپ کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں،تب آپ آگے چلتے ہیں
سوال: نفسیات کی تعلیم حاصل کرنے والوں کی کھپت کہاں اور کتنی ہے؟
جواب: ہمارے سٹوڈنٹس مختلف جگہوں پر جاتے ہیں۔ہیومن ریسورسز میں جاتے ہیں۔ آرمی میں جاتے ہیں۔آرمی میں جو آئی ایس ایس بی میں آفیسرز کی سلیکشن کرنی ہوتی ہے۔مختلف این جی اوز میں جاتے ہیں۔ اسی طرح مختلف ٹیچنگ آرگنائزیشنز ہیں۔ہسپتالوں میں بھی ہیں،لیکن اس لیول میں نہیں۔ ایک عام انسان ہم سے فائدہ اٹھا سکے،ایسا نہیں ہے
سوال: آپ اس مقام تک پہنچیں۔پتہ نہیں کتنے مراحل سے گزر کراور کیا یہ آپ کی شعور ی کوشش تھی یا اس میں اتفاق بھی شامل ہے؟ اپنے بارے میں ہمارے قارئین کو کچھ بتانا چاہیں گی؟
جواب: میرے خیال سے میں اس مقام پر اس عمر میں آئی ہوں،جس پر لوگ کافی لیٹ آتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ میں نے اپنی تعلیم خود جاری رکھی۔میں نے ماسٹرز کے بعدبغیر کسی کے کہے ایم فل کیا ۔ایم فل کے بعد بغیر کسی کے کہے پی ایچ ڈی کیا۔پی ایچ ڈی کے بعد امریکہ سے جاکر پوسٹ ڈاکٹرل ڈگری لی۔یونیورسٹی میں پروموشن تجربے سے نہیں ہوتی۔ یہاں ہر دفعہ اسامی کی تشہیر کی جاتی ہے۔آپ نے اپلائی کرنا ہوتا ہے اور آپ مقابلے میں حصہ لیتے ہیں۔میں اس اعتبار سے خوش قسمت رہی کہ میرے سے بیس بیس سال سینئر لوگ تھے،ان سے مقابلے کے بعد میں یہاں اس پوسٹ پرآئی ہوں
دوسرا یہ کہ میرا اللہ پر بہت ایمان ہے ۔ اس نے میرا بہت ساتھ دیا ہے۔اس میں میرے لئے بہت سے لوگوں کی دعائیں بھی شامل حال تھیں
سوال: کسی زمانے میں مسلمان جن تعلیمی اداروں سے پڑھے،ان سے بڑے بڑے اسکالر، سائنسدان، ہیئت دان اور ماہرین طب تیار ہو کر نکلتے تھے۔اب یورپ کے تعلیمی اداروں میں بڑے لوگ تیار ہو رہے ہیں ۔ہمارے ہاںذہنی لحاظ سے بانجھ پن کی سی صورت حال کیوں ہے؟
جواب: آج سے اگر آپ آٹھ دس سال پہلے بات کہتے،تو میں اتفاق کرتی کہ اسی طرح ہے۔ اس وقت آپ کو سرپرستی نہیں تھی۔ آپ کو اپنے کیریئر میں،تنخواہوں میں فائدہ نہیں ہوتا تھا۔لوگ نہیں پڑھتے تھے۔ اب ہائر کمیشن نے حوصلہ افزائی کی ہے۔آپ دیکھئے گا کہ اگلے دس پندرہ سالوں میں کتنی تبدیلی آئے گی۔اب لوگ ہائر ایجوکیشن سے باہر جار ہے ہیں۔ پبلیکیشنز بھی کر رہے ہیں۔ریسرچ میں شیئرکر رہے ہیں۔ تبدیلی میں وقت لگتا ہے۔ آپ دس سال میں خاصی بڑی تبدیلی دیکھ پائیں گے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: