وحید مراد اور ہمارا عہد: نیا پاکستان —- قسط 9 — خرم علی شفیق

0
  • 181
    Shares

یہ آخری قسط نہیں ہے۔ اگرچہ اس قسط کے آخر میں وحید مراد کی وفات کا تذکرہ ہو رہا ہے لیکن ’’پیار زیادہ ہے، زندگی کم ہے!‘‘ اس لیے اس کے بعد دو قسطیں اور ہوں گی۔ پچھلی قسط پر کچھ سوالات بھی پوچھے گئے ہیں۔ امید ہے کہ اُن کے جواب اگلی دو قسطوں میں شامل کیے جا سکیں گے۔ مصنف۔ (پچھلی قسط کا لنک)


ہم اپنی تاریخ کے ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے تھے جب کہا جا رہا تھا کہ قائداعظم نے جو پاکستان بنایا وہ 1971 میں ختم ہو گیا، اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ’’نیا پاکستان‘‘ وجود میں آ یا ہے۔ وہ عہد نامہ جس پر پاکستان کی بنیاد تھی، نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ لیکن جو نقش دل پر بیٹھ چکا ہوکیا اُسے صرف کاغذسے مٹا کر ختم کیا جا سکتا ہے؟ پرویز ملک کی فلم ’’سچائی‘‘ (1976) میں ایک کردار سے کہلوایا گیا:

’’برخوردار! یہ ملک ہمارے پاس قائداعظم کی امانت ہے۔ اور اپنے آپ کو اس کی تعمیر و ترقی و خوشحالی کے لیے وقف کر دینا ایک ایسا وعدہ ہے جو کسی کاغذ پر موجود نہیں لیکن جو ہر پاکستانی کے ضمیر نے قائداعظم کی رُوح سے کر رکھا ہے۔‘‘

برصغیر کی فلموں کا ایک پرانا موضوع ہے کہ ہیرو محبت میں چوٹ کھا کر شراب پینے لگے۔ پاکستان میں 1971 کے بعد نہ صرف یہ موضوع پہلے سے کہیں زیادہ دہرایا جانے لگا بلکہ اس نے ایک خاص شکل بھی اختیار کی جسے 1976 میں اداکار اور صحافی اسد جعفری نے ایک رسالے میں اِس طرح بیان کیا کہ وحید مراد کہتے ہیں، ’’یار، کیا مصیبت ہے کہ ہر فلم میں ہیرو وہی کچھ کر رہا ہے۔ دل ٹوٹا تو شراب پینے کے لیے کلب میں گئے اور وہاں پروین بوبی قسم کی کوئی چیز ڈانس کر رہی ہے۔‘‘

لیکن اس کے بعد کے چند برسوں میں جو کچھ پیش آیا اُس کی روشنی میں آج یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیوں اُسی زمانے میں پاکستانی معاشرہ یہ منظر بار بار دیکھنے کی فرمائش کرنے لگا تھا اور کیوں فرمائش کرنے والوں میں پڑھے لکھے، ان پڑھ، امیر، غریب، مذہبی اور آزاد خیال ہر قسم کے لوگ شامل تھے؟

مفصل جواب کبھی اور سہی، فی الحال اس قسم کی فلموں میں سے اگر صرف اُن پر نظر ڈالی جائے جو ’’فیملی فلمیں‘‘ بھی کہلائیں یعنی ہر طبقے نے انہیں قبول کیا تو اکثر میں دو باتیں مشترک ہیں۔ پہلی یہ کہ فلم کی ہیروئین، شراب اور نائٹ کلب پر ’’پابندی‘‘ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اِس مقصد کے لیے وہ معاشرے کے ہر ’’دستور‘‘ کو بالائے طاق رکھ دیتی ہے۔ طاقت، زبردستی اور دھینگا مشتی سے بھی کام لیتی ہے۔ اس طرح ہم اُس بیچینی کی ایک تصویر دیکھ سکتے جو بہت جلد عوام کی ایک بڑی تعداد کو ’’نفاذِ اسلام‘‘ کے مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر لانے والی تھی، اور یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اس مقصد کے لیے لوگ کس قسم کے طریقوں کو جائز سمجھنے پر تیار ہوتے جا رہے تھے۔

مطلب یہ نہیں ہے کہ ان فلموں نے نفاذِ اسلام اور مارشل لأ کا درس دیا۔ بلکہ یہ بات ہمارے ذہنوں میں جس وجہ سے بھی پیدا ہوئی تھی، فلمیں اسے ہمارے ذہنوں کے ڈھکے چھپے گوشوں سے نکال کر جانی پہچانی علامتوں کے ذریعے پیش کر رہی تھیں۔ وحید کی فلموں میں ’’محبت زندگی ہے‘‘ (1975) اور ’’شبانہ‘‘ (1976) اس کی شاید بہترین مثالیں ہیں (اگرچہ ایک ہلکی سی جھلک اُن کی اپنی فلم ’’جال‘‘ میں بھی موجود تھی، جس کا ذکر پچھلی قسط میں ہوا)۔ ان میں سے ’’شبانہ ‘‘ اُن کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی (یعنی سو ہفتے یا اس سے زیادہ چلنے والی) فلم بھی تھی۔

’’محبت زندگی ہے‘‘ (1975) کی کہانی زاہدہ مسرور نے لکھی اور مکالمے، منظرنامہ اور نغمات مسرور انور کے لکھے ہوئے ہیں۔ یہ کہانی ’’آشیانہ‘‘ (1964) کے ساتھ گہری مماثلت رکھتی ہے۔ وہاں زیبا اور لہری نے جو کردار ادا کیے، یہاں بھی وہ انہی کرداروں میں موجود ہیں۔ وہاں گھر سے مراد پاکستان تھا اور یہاں ایک ایسا گھر دکھایا جا رہا تھا جس کا ’’نقشہ‘‘ پچھلے پانچ برس میں تبدیل ہوگیا ہے۔ گھر کی سربراہ (زینت بیگم) کا بھانجا جمیل (وحید مراد) پورے پانچ برس لندن میں رہ کر واپس آتا ہے تو حیران ہو کر کہتا ہے:

’’اِس سارے گھر کا نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ مجھے یاد ہے، یہاں ایک محراب ہوتی تھی۔ اور اُس دیوار کی جگہ ایک خوبصورت سا دروازہ جو پائیں باغ میں کھلتا تھا۔ یہاں آپ کا تخت پوش اور اُس پہ آپ کا پاندان۔‘‘

محراب غائب ہو چکی ہے۔ پانچ سال پہلے غرارہ پہن کر تخت پوش پر بیٹھنے والی خالہ اب وِگ لگاتی ہے۔ پانچ سال پہلے گھونگھٹ نکال کر منگیتر سے شرمانے والی فرزانہ (ممتاز) اب فَری کہلاتی ہے اور لڑکوں کے ساتھ کلب جا کر ناچتی ہے۔ اُس کا سوتیلا بھائی عرفان (محمد علی) اِس روش کے بارے میں کہتا ہے، ’’کیا یہ بات باعثِ شرم نہیں کہ تم نے اپنی تہذیب اور اپنے کلچر کو چھوڑ کر غیروں کی تہذیب کے وہ پہلو اپنائے ہیں جو خود اُنہیں پسند نہیں!‘‘

فلم کے مکالمے سیاسی اور فوجی استعاروں سے بھرے ہوئے ہیں، مثلاً عرفان کو پریشان دیکھ کر چچا جان (لہری) کہتے ہیں، ’’پھر اپوزیشن سے کوئی کلیش ہوا ہے ورنہ اِس اداسی کی اور کوئی وجہ تو نہیں ہو سکتی!‘‘ عرفان، اپنی ہونے والی بیوی نادرہ (زیبا) سے کہتا ہے، ’’یہ جمہوری دَور ہے۔ آپ میرے کسی بیان پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتیں۔‘‘ نوکر، ’’نئی مالکن زندہ باد!‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔ یہ نئی مالکن، نادرہ، ایک کرنل (قوی) کی بیٹی ہے، اور کہتی ہے، ’’اِس گھر میں آج سے نئی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ یعنی کہ پرانی حکومت کا تختہ اُلٹ گیا ہے۔‘‘ اس کے بعد یہ کرنل کی بیٹی گھر کے افراد کو نائٹ کلب جانے اور شراب پینے سے روکتی ہے اور اُنہیں مغربی رنگ سے مشرقی رنگ کی طرف واپس لانے کی کوشش کرتی ہے۔

’’شبانہ‘‘ میں یہی کام شبانہ (بابرہ شریف) انجام دیتی ہے۔ وہاں بھی سیاسی قسم کے طنز و مزاح کی چاشنی موجود ہے، مثلاً ایک بے ایمان آدمی کے نوکر (ننھے) کا بار بار دہرایا جانے والا فقرہ، ’’ہر دَور میں ہم جیسے لوگوں کے ساتھ یہی ہوا ہے!‘‘

دوسری بات یہ ہے کہ امریکی مصنف اسٹینلے والپورٹ نے’’زلفی بھٹو آف پاکستان‘‘ میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ بھٹو کی پھانسی پر (جو 1979 میں ہوئی)، پورے پاکستان میں ہنگامے کیوں نہ ہوئے اور بغاوت کیوں نہ ہو گئی جبکہ انہوں نے گرفتار ہونے سے صرف چند ماہ قبل (1977 میں) سندھ اور پنجاب میں بھاری اکثریت بھی حاصل کی تھی؟ والپورٹ نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ لیکن ایک جواب ہم اپنے طور پر ’’محبت زندگی ہے‘‘ کے مشہور نغمے سے برآمد کر سکتے ہیں، اگر ہم فرض کرنا چاہیں کہ لوگ یہ بات اپنی اُس ’’محبوب ‘‘ قیادت سے کہہ رہے ہیں جسے اُنہوں نے پانچ برس پہلے بڑی توقعات کے ساتھ منتخب کیا تھا:

تیری لگن میں نکلے اور کھو گئے ہم،
پوچھ نہ کیا تھے، کیا ہو گئے ہم!
غم سے اگر دامن نہ چھڑاتے،
موت سے پہلے ہی مر جاتے!
دل نہ جلائیں گے ہم، اب مسکرائیں گےہم،
آنسو بہانا ہم نے چھوڑ دیا، چھوڑ دیا!
دل کو جلانا ہم نے چھوڑ دیا، چھوڑ دیا!
پھرتے تھے مارے مارے، تیری گلی میں پیارے،
لے، آنا جانا ہم نے چھوڑ دیا، چھوڑ دیا!

اب جبکہ بھٹو کی پھانسی کو تقریباً چالیس برس گزر چکے ہیں، اِس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ بعض لوگوں کو اُن سے جو محبت اور عقیدت ہے، وہ مستقل ہے۔ اسی طرح یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بعض لوگوں کو اُن سے شدید نفرت بھی ہے۔ اس لیے اُن کے بارے میں پاکستانی قوم کی مجموعی رائے کا تعین کرتے ہوئے دونوں آرأ شامل کرنی ہوں گی۔ ’’محبت زندگی ہے ‘‘ کے اِس نغمے میں بھی محبوب کے لیے یہ دونوں جذبات موجود ہیں۔ لیکن فائدہ یہ ہے کہ یہ نغمہ ان متضاد جذبات کو الگ الگ نہیں رہنے دیتا بلکہ اُن کے درمیان ایک قدرتی وحدت محسوس کروا کے چھوڑتا ہے۔

یہی بات اُس نغمے کے بارے میں کہی جا سکتی ہے جو فلم ’’شبانہ‘‘ میں بالکل ایسی ہی سچوئشن پر وحید نے (مہدی حسن کی آواز میں) گایا ہے، اور جسے تسلیم فاضلی نے لکھا۔ بلکہ اسے تو کسی تاویل کے بغیر بھی اُس زمانے کے سیاسی حالات پر منطبق کیا جا سکتا ہے:

دل شیشہ سمجھ کے توڑ دیا، منزل پہ لا کے چھوڑ دیا
ہم نے اِن پیاسے ہونٹوں کا پیمانوں سے ناتہ جوڑ لیا
وہ پیار نہیں ایک سپنا تھا، سپنوں سے شکایت کون کرے!
جو درد ملا اپنوں سے ملا، غیروں سے شکایت کون کرے!

’’شبانہ‘‘ کی کہانی اور منظرنامہ شباب کیرانوی نے لکھے تھے۔ کیرانوی کے بارے میں مشہور ہے کہ ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ہر چیز فلم میں ڈال سکتے تھے، یہاں تک کہ اپنی ہی فلموں کے چربے بنانے میں بھی اُن سے زیادہ نمبر شاید کسی نے حاصل نہیں کیے۔ لیکن ان کے ہاتھ میں بڑی پختگی تھی، ادب اور جمالیات کے ذوق میں پورے تھے اور ناظرین کو شروع سے آخر تک اسکرین کی طرف متوجہ رکھنے کا فن بھی خوب جانتے تھے۔ یہ باتیں اچھی ہوں یا بری، اُنہیں اس قابل ضرور بناتی تھیں کہ اگر معاشرے میں مجموعی طور پر کوئی خیال پروان چڑھ رہا ہو تو وہ اسے علامتوں کی مدد سے برآمد کر کے سب کے سامنے رکھ سکیں خواہ ان علامتوں کی تشریح سے انہیں خود کوئی سروکار نہ ہو۔

اس لیے ’’شبانہ‘‘ میں بڑے بھائی اختر (شاہد) کی شراب نوشی، فریب کاری اور ہوس کی داستان معنی خیز ہے۔ 1971 کے سانحے کی وجوہات میں اُس زمانے کے اربابِ اقتدار کی رنگ رلیوں کا ذکر بھی کیا جاتا تھا۔ پھر یہی شکایات نئی قیادت کے خلاف پیدا ہونے لگیں، بالخصوص جب 1973 کے بعد پیپلز پارٹی نے بائیں بازو کے دانشوروں کو فارغ کر کے ایک طرف جاگیرداروں کے ساتھ مراسم بڑھائے اور دوسری طرف مذہبی انتہاپسندوں کو خوش کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ’’شبانہ‘‘ میں اختر بھی اپنے باپ کو دھوکہ دینے کے لیے اپنی عیاشی کے اسباب کو چھپا کر پل بھر میں اپنی خوابگاہ میں عبادت اور پرہیزگاری کا ماحول پیدا کر دیتا ہے اور موقع ملتے ہی پھر کُھل کھیلنے لگتا ہے۔ ایک غریب لڑکی، فرزانہ (بابرہ شریف)، سے جھوٹے وعدے کر کے شادی کر لیتا ہے، جیسے 1970 کے انتخاب میں غریب عوام کے ساتھ وعدے کیے گئے تھے۔ مطلب نکل جانے کے بعد دلہن کو کھڑکی سے باہر پھینک دیتا ہے اور وہ ایک ٹانگ سے محروم ہو جاتی ہے، جیسے پاکستان اُس انتخاب کے بعد آدھا رہ گیا۔

فرزانہ کی ہمشکل بہن شبانہ کہتی ہے، ’’ایسے بے غیرت آدمیوں کو جب تک اُن کے جرم کی سزا نہ دی جائے وہ کبھی باز نہیں آ سکتے!‘‘ اس کے بعد وہ فرزانہ بن کر سب کے سامنے آتی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف اختر چکر کھا جاتا ہے بلکہ اختر کا چھوٹا بھائی انور (وحید مراد) بھی بعض غلط فہمیوں میں مبتلا ہونے لگتا ہے۔ آخر ایک خاص موقع پر وہ اصلی فرزانہ کو سب کے سامنے لاتی ہے جس کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے اور جس کی گود میں اختر سے پیدا ہونے والا بچہ ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، اُس وقت یہ کہا جا رہا تھا کہ پرانا پاکستان ٹوٹنے سے ایک نیا پاکستان وجود میں آ گیا ہے۔ اس روشنی میں دیکھا جائے تو ایک ٹانگ سے محروم فرزانہ ’’پرانے پاکستان‘‘ کی مثال اور بیباک شبانہ ’’نئے پاکستان‘‘ کا تصوّر دکھائی دیتی ہیں۔ نتیجہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ پرانے پاکستان کی ٹانگ توڑنے والے یہ کہہ کر بات ختم نہیں کر سکیں گے کہ اب نیا پاکستان آ گیا ہے۔ انہیں بہرحال پرانے پاکستان کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ اِس خیال کے ساتھ وہ نغمہ ایک نگینے کی طرح بیٹھتا ہے جو فلم میں اختر اِس موقع پر سُناتا ہے:

اِن سے ملیے، یہ ہیں میرے اپنے مگر،
اپنا کہتے ہوئے اِن کو لگتا ہے ڈر!
جانے کب ساتھ دیں، جانے کب چھوڑ دیں،
رِشتے ناتوں کو یہ جانے کب توڑ دیں!
بے مروّت یہی، سنگدل بھی یہی،
میرے اپنے یہی، میرے قاتل یہی!
اپنا دامن ذرا جھاڑ کے دیکھیے، آستینوں سے خنجر نکل آئے گا!
بیوفا کون ہے، کون ہرجائی ہے، فیصلہ آج محفل میں ہو جائے گا!

’’محبت زندگی ہے‘‘ اور ’’شبانہ‘‘ سمیت وحید کی آٹھ فلمیں1975 میں، تیرہ 1976 میں اور دو 1977 میں ریلیز ہوئیں۔ ان میں سے ’’جوگی‘‘، ’’سجن کملا‘‘ اور ’’اکھ لڑی بدوبدی‘‘ پنجابی فلمیں تھیں۔ اُردو فلمیں’’عزت‘‘، ’’صورت اور سیرت‘‘، ’’دلربا‘‘، ’’جب جب پھول کھلے‘‘، ’’زبیدہ‘‘، ’’راستے کا پتھر‘‘، ’’ناگ اور ناگن‘‘، ’’محبوب میرا مستانہ‘‘، ’’وقت‘‘، وعدہ‘‘، ’’زیب النسا‘‘، ’’خریدار‘‘، ’’ثریا بھوپالی‘‘، ’’جیو اور جینے دو‘‘، ’’شبانہ‘‘، ’’آپ کا خادم‘‘، ’’پرستش ‘‘ اور ’’اپنے ہوئے پرائے‘‘ کے علاوہ ’’گونج اٹھی شہنائی‘‘، جو ہدایتکار ایس ایم یوسف کی آخری فلم تھی (جنہوں نے وحید کو بطور اداکار متعارف کروایا تھا)۔

ان فلموں کے یادگار نغمات میں سے کچھ ہیں، ’’دل دیا بھول ہوئی، ہم نے بھی سوچ لیا، تُو نہیں اور سہی‘‘ (عزت)، ’’کیا پتہ زندگی کا‘‘ (جب جب پھول کھلے)، ’’ساتھی میرے بِن تیرے‘‘ (زبیدہ)، ’’پیار کرنا تو اِک عبادت ہے‘‘ (راستے کا پتھر)، ’’ساون کے دن آئے بالم، جھولا کون جھلائے‘‘ (ناگ اور ناگن)، ’’یہ لوگ بڑے ہم لوگوں پہ ہنستے ہی رہے ہیں‘‘ (وقت)، ’’دل توڑ کے مت جیّو، برسات کا موسم ہے‘‘ (وقت)، ’’بھیگی بھیگی رات میں، رم جھم کی برسات میں، آ جا میرے ساتھیا پیار ہم کریں‘‘(وعدہ)، ’’پیار تو اِک دن ہونا تھا، ہونا تھا، ہو گیا‘‘ (خریدار)، ’’جس طرف آنکھ اٹھاؤں تیری تصویراں ہیں‘‘(ثریا بھوپالی)، ’’تیرے سوا دنیا میں کچھ بھی نہیں میرے صنم‘‘ (شبانہ)، اور ’’اِک میں ہی برا ہوں باقی سب لوگ اچھے ہیں‘‘ (اپنے ہوئے پرائے)۔


بنگلہ دیش میں 15اگست 1975 کو فوج کے باغی افسروں نے شیخ مجیب الرحمٰن، ان کے دو بیٹوں اور دوسرے افرادِ خانہ کو قتل کر دیا۔ کچھ عرصے کی سیاسی ابتری کے بعد جنرل ضیأالرحمٰن کی فوجی حکومت قائم ہو گئی، جنہوں نے 1977 میں صدارت کا عہدہ بھی سنبھال لیا۔ ان کے بعد تقریباً ایک سال سویلین حکومت رہی لیکن 1982 میں جنرل حسین محمد ارشاد نے پھر فوجی حکومت قائم کی۔ یہ دونوں جرنیل اسلامی رجحانات رکھتے تھے اور انہوں نے بنگلہ دیش کو اسلامی شناخت دینے کے لیے خاصے اقدامات کیے۔

پاکستان بھی کچھ مختلف سروسامان کے ساتھ انہی راستوں سے گزرا۔ مارچ 1977 میں بھٹو نے انتخابات کروائے۔ تقریباً تمام اپوزیشن پارٹیوں نے پاکستان قومی اتحاد کے نام سے متحدہ محاذ بنایا اور نظامِ مصطفےٰ ؐکے نفاذ کا مطالبہ پیش کیا۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں حکومت پر دھاندلی کا الزام لگا اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ بھٹو نے اپوزیشن کے بغیر نئی پارلیمنٹ کا فتتاح کیا۔ ملک میں احتجاج ہوا۔ کئی شہری قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ بھٹو نے اپوزیشن کے مطالبات کے پیشِ نظر اسلامائزیشن کا آغاز کیا۔ ہفتہ وار چھٹی اتوار کی بجائے جمعے کو کر دی، اور شراب اور نائٹ کلبوں پر پابندی لگا دی۔ جولائی 1977 میں جنرل ضیأ الحق نے مارشل لأ نافذ کیا۔ کچھ عرصہ بعد بھٹو کو گرفتار کر کے ان پر قتل کے ایک پرانے الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور 4 اپریل 1979 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔

اسلامی قوانین بنانے کی پالیسی، جس کا آغاز بھٹو حکومت کے آخری دنوں میں ہوا تھا، جنرل ضیأالحق کے زمانے میں زیادہ عروج پر پہنچی۔ یہ بات متنازعہ ہے کہ یہ قوانین کس حد تک اسلامی اور مؤثرتھے۔ لیکن ضیأ کے بارے میں بھی یہ بات اب پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ بعض لوگوں کو ہمیشہ اُن سے عقیدت اور بعض کو نفرت رہے گی۔ اس معاملے میں بھی قوم کی مجموعی رائے کا تعین کرتے ہوئے دونوں قسم کی آرأ کے درمیان وحدت تلاش کرنی ہی پڑے گی۔

اس کا طریقہ قائداعظم کی 11اگست 1947 کی تقریر میں بھی بتایا گیا ہے لیکن دانشوروں کی بٹیربازی نے اُسے خاصا اُلجھا دیا ہے۔ اس لیے فی الحال ہم ایک فلم سے کام چلا سکتے ہیں، ’’خدا اور محبت‘‘ (1978)۔ یہ نام مرکزی کردار (محمد علی)، کے ایک مکالمے سے ماخوذ ہے جس میں آنحضورؐ کی شان میں کہا گیا ہے، ’’اِس اچھوتے اِنسان نے دنیا کے تمام بندوں سے اتنی محبت کی، اتنی محبت کی، کہ خدا کو اِس محبت سے محبت ہو گئی۔ ‘‘ مرکزی کردار کی دُعا ہے:

’’پروردگار! تیرے خزانے میں سب سے بڑی دولت محبت ہے۔ لیکن آج کا انسان، انسان سے محبت کرنا بھول گیا۔ انہیں پھر سے یاد دلا دے میرے معبود، کہ تیرے محبوبؐ نے گالیاں سن کر بھی تیرے بندوں کو دعائیں دی ہیں۔ پتھروں کی بارش برسانے والوں پر رحمتوں اور بخششوں کے بادل برسائے ہیں۔ جسمِ مبارک کے خون سے نعلین بھر گئے لیکن پھر بھی یہی کہا کہ میں خدا کی مخلوق پر قہر بن کر نہیں، محبت کا سراپا بن کر، رحمۃ للعالمین بن کر آیا ہوں۔ میرے معبود، میرے معبود! اپنے محبوب کے صدقے میں اپنے بندوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے پیار اور محبت پیدا کر دے۔ انہیں محبت کا جذبہ عطا فرما دے۔‘‘

وحید نے اس فلم میں ایک ایماندار ٹیکسی ڈرائیورجمیل الدین کا کردار ادا کیا۔ یہ ہمیشہ اپنی ماں کے دِکھائے ہوئے نیکی کے راستے پر چلتا ہے لیکن آخر حالات سے تنگ آ کر ماں سے پوچھ بیٹھتا ہے، ’’کس خدا پہ بھروسہ رکھوں! جس کی تم اور میں ساری زندگی عبادت کرتے رہے؟ کیا دیا ہے اُس خدا نے ہمیں؟ موت سے بدتر یہ زندگی؟‘‘ جواب اُسے ماں کی بجائے مرکزی کردار کچھ ایسے انداز میں دیتا ہے کہ جبر و قدر کے پیچیدہ مسئلے کی وہ تشریح ہمارے سامنے آ جاتی ہے جو علامہ اقبال نے پیش کی اور اُن سے پہلے مولانا رُوم نے، جنہوں نے کہا تھا، ’’پرواز باز کو بادشاہ کے پاس لے جاتی ہے اور کوّے کو قبرستان کی طرف لے جاتی ہے‘‘ (اگلی دفعہ یہ فلم دیکھتے ہوئے مولانا رُوم کے اِس شعر کو ذہن میں رکھیے گا)۔

اِس فلم کا پورا اسکرپٹ ( کہانی، مکالمے، منظرنامہ اور نغمات) فیاض ہاشمی نے لکھا۔ گزشتہ قسطوں میں ان کا تعارف ایک نظریاتی شاعر اور مصنف کے طور پر ہو چکا ہے۔ اس فلم کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ بعد میں وہ ایک باعمل صوفی بن گئے اور بہت سے لوگ اُن کے مرید بھی ہوئے۔ ’’خدا اور محبت‘‘اُن کے اِس مسلک کا اعلان سمجھی جا سکتی ہے اور اس کے مرکزی کردار میں مصنف کی آیندہ زندگی کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ فلم کے بعض واقعات میں اُسی طرح تصوّف کے کچھ نکات ہیں جس طرح صوفی ہمیشہ حکایتوں کے ذریعے بیان کرتے آئے ہیں۔ بلکہ فلم کا سب سے مشہور نغمہ بھی بعض پرانے صوفیانہ سوالات پر مبنی ہے:

پوچھوں گا خدا سے جا کر وہ حُسن دیا کیوں تجھ کو؟
میری توبہ جس سے ٹُوٹے، کافر جو بنا دے مجھ کو!
واللہ تُو سب سے پیارا، ترے عشق نے ہم کو مارا!

اگر ’’آشیانہ‘‘ والا گھر 1964 کا پاکستان تھا (اور وہ فلم بھی فیاض ہاشمی نے ہی لکھی تھی)، تو’’خدا اور محبت‘‘ کا گھر 1978 کا پاکستان ہے۔ گھر کی سب سے بڑی شخصیت کا مزاج اسلامی ہے لیکن باقی افراد کی کیفیت کچھ اور ہے۔ بھابھی جی (تمنا) خودغرض اور دنیاپرست ہیں۔ ان کا بھانجا (لہری) خبیث اور دھوکہ باز ہے۔ نوکر وں میں سے کچھ بدمعاش اور حرام خور ہیں۔ گھر کا وارث (غلام محی الدین) ایک دنیادار شخص ہے جو باہر تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک میم (روحی بانو) سے شادی کر کے اُسے اپنے ساتھ لایا ہے۔ میم کی چھوٹی بہن ریٹا (بابرہ شریف) بھی ساتھ آئی ہے، جسے تقابلِ ادیان سے دلچسپی ہے۔

’’خدا اور محبت‘‘ سمیت 1978 میں وحید کی آٹھ اور 1979 میں سات فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ان میں’’سہیلی‘‘، ’’پرکھ‘‘، ’’نذرانہ‘‘، ’’آواز‘‘، ’’بہن بھائی‘‘ اور ’’ترانہ‘‘ جیسی یادگار فلمیں شامل تھیں۔ ’’شیشے کا گھر‘‘واحد فلم تھی جس میں وحید نے ہیرو کی بجائے صرف ولن کا کردار ادا کیا۔ ’’عورت راج‘‘ اپنے انوکھے موضوع کی وجہ سے یادگار ہے کیونکہ اس میں وحید سمیت اُس زمانے کے بعض مشہور اداکاروں نے نسوانی اور بعض مشہور اداکاراؤں نے مردانہ کردار ادا کیے۔ ان دو برسوں میں ریلیز ہونے والی ان کی بقیہ فلمیں ’’آدمی‘‘، ’’انسان اور شیطان‘‘، ’’وعدے کی زنجیر‘‘، ’’یہاں سے وہاں تک‘‘، ’’نشانی‘‘ اور ’’راجہ کی آئے گی بارات‘‘ ہیں۔

ان فلموں نے بہت سے ایسے نغمات دئیے ہیں جو شاید ہمیشہ زندہ رہیں، جیسے ’’آواز وہ جادو سا جگاتی ہوئی آواز‘‘ (سہیلی)، ’’کسی نے کسی کو اِتنا نہیں چاہا ہو گا‘‘(پرکھ)، ’’بانٹ رہا تھا جب خدا سارے جہاں کی نعمتیں‘‘ (نذرانہ)، ’’تُو میرے پیار کا گیت ہے‘‘ (آواز)، ’’یہ ہری بھری آبادیاں‘‘ (آواز)، ’’دو ساتھی جیون کے ‘‘ (بہن بھائی)، ’’نشانی تیرے پیار کی ‘‘(نشانی) اور ’’روز کہتا ہوں بھول جاؤں تجھے، روز یہ بات بھول جاتا ہوں‘‘ (راجہ کی آئے گی بارات)۔


ابن صفی کے ناول ’’جونک اور ناگن‘‘ میں ایک کردار کہتا ہے کہ لڑکیاں وحید مراد پر مرتی ہیں تو دوسرا اُسے جواب دیتا ہے،’’دس سال پہلے کی بات ہو گی!‘‘ یہ ناول 1976 میں شائع ہوا۔ لیکن وحید کی مقبولیت میں واضح کمی چار سال بعد شروع ہوئی۔

ان کی 1980 میں ریلیز ہونے والی پانچ فلموں، 1981 کی نو، 1982 کی تین اور 1983 کی ایک فلم میں سے بہت سی باکس آفس پر ناکام رہیں۔ ان میں ایسی فلمیں بہت کم ہیں جنہوں نے دیکھنے والوں کے ذہنوں پر پہلے کی فلموں جیسا تاثر چھوڑا ہو۔ یہ فلمیں ہیں ’’ضمیر ‘‘، ’’چھوٹے نواب‘‘، ’’بندھن‘‘، ’’بدنام‘‘، ’’پیاری‘‘، ’’میرے اپنے‘‘، ’’گن مین‘‘، ’’دل نے پھر یاد کیا‘‘، ’’کالا دھندا گورے لوگ‘‘، ’’کرن اور کلی‘‘، ’’گھیراؤ‘‘، ’’آئی لوو یو‘‘، ’’آہٹ‘‘ اور ’’مانگ میری بھر دو‘‘ کے علاوہ پنجابی کی ’’انوکھا داج‘‘، ’’پرواہ نئیں‘‘ اور ’’ ووہٹی جی‘‘، اور پشتو کی ’’پختون پہ ولایت کنبہ‘‘۔

ابن صفی کا انتقال 26جولائی 1980 کو ہوا۔ سرکاری سطح پر تو شاید کچھ بھی نہیں کیا گیا لیکن عوامی سطح پر کم سے کم ایک سال تک سوگ کی سی کیفیت رہی۔ وہ لوگ بھی سوگوار ہوئے جنہوں نے کبھی ابن صفی کی کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی۔ تقریباً ہر محلے میں کرائے کی لائبریریاں کُھلی ہوئی تھیں جہاں بنیادی طور پر ابن صفی کے ناول کرائے پر دئیے جاتے تھے لیکن اس طرح اور کتابیں اور رسائل بھی چلتے تھے۔ جنرل اسٹوروں اور کولڈ ڈرنک کی دکانوں پر بھی کتابیں بکتی تھیں کیونکہ لوگ ہر ماہ ابن صفی کا نیا ناول ہر طرح اور ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ابن صفی کے بعد چند برسوں میں معاشرے سے مطالعے کا شوق اُٹھ گیا اور کتابوں کی دکا نیں بڑی تیزی سے کم ہونے لگیں۔ اس کی مختلف وجوہات بتائی گئی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ جب تک ابن صفی زندہ رہے، لوگوں میں مطالعے کا شوق کم نہیں ہوا بلکہ بڑھتا ہی رہا۔ اُن کی وفات کے ساتھ ہی کم ہونے لگا۔

ستمبر 1980 میں وحید سخت بیمار پڑے اور اُن کا اپنڈکس کا آپریشن ہوا۔
اگلے برس یعنی 1981 میں انہوں نے ذاتی فلم ’’ہیرو ‘‘ کا آغاز کیا۔ یہ فلم آرٹس کی پیشکش تھی۔ کہانی خود لکھی۔ اخبارات میں اُن کا ایک بیان آیا کہ ’’’ہیرو‘ میں ایک نیا وحید مراد آپ کے سامنے آئے گا۔‘‘

لیکن جون 1982 میں اُن کے والد نثار مراد فوت ہو گئے۔ اس کے بعد وہ خود بھی السر کی وجہ سے سخت بیمار پڑے۔ 2 جنوری 1983 کو اُن کا السر پھٹ گیا اور انہیں لاہور میں ایک پرائیوِیٹ کلینک میں داخل کیا گیا۔ آپریشن کر کے معدے کا ایک حصہ نکال دیا گیا۔ نتیجے میں اُن کا وزن بہت گھٹ گیا۔ اس کے بارے میں انہوں نے چند ماہ بعد ٹی وی پروگرام ’’سلور جوبلی‘‘ میں بتایا، ’’میں اتنا بدل گیا تھا کہ میں اُن فلموں میں کام کر نہیں سکتا تھا جن میں پہلے کر چکا تھا۔ کیونکہ شکل ملتی نہیں تھی۔ تو میں نے کچھ دن انتظار کیا۔ کہ اب چہرہ ٹھیک ہو جائے۔‘‘

گزشتہ برس، جولائی 1982 میں، بھارتی اداکار امیتابھ بچن فلم ’’قلی‘‘ کی شوٹنگ کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے۔ پاکستانی اخبارات میں بھی ان کی خبریں چھپتی رہیں، لوگوں نے سخت پریشانی کا اظہار کیا اور دعائیں مانگیں کیونکہ گزشتہ چھ سات سال سے وی سی آر پر بھارتی فلمیں دیکھنے کا رواج شروع ہو چکا تھا (اگرچہ 1984 تک پاکستان میں وی سی آر ایک غیرقانونی شے رہی)۔

چنانچہ 1983 کے اوائل میں ہفت روزہ ’’اخبارِ جہاں‘‘ میں کارٹونسٹ جاوید اقبال نے ایک مضمون میں پاکستانیوں کو شرم دلائی کہ وحید مراد بھی لاہور کے ایک ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا لیکن قوم نے کوئی خبر نہیں لی حالانکہ یہی قوم چند ماہ پہلے پڑوسی ملک کے ہیرو کے لیے اتنی بے چین ہو گئی تھی۔

احمد رشدی کو دل کے عارضے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے گلوکاری سے منع کر دیا تھا۔ وہ کئی برس غائب رہے۔ لیکن مکمل طور پر گانا چھوڑنا اُن کے بس میں نہ تھا ۔’’ہیرو‘‘ کے لیے بھی ایک نغمہ ریکارڈ کروایا جو وحید پر فلمایا گیا۔ یہ دونوں کا آخری فلمی گانا ثابت ہوا۔ لیکن رشدی کا بالکل آخری نغمہ ریڈیو کے لیے تھا:

آنے والو سنو، میرے پیارو سنو! ہم نہ ہوں گے مگر ہو گی روحِ سفر!
یہ دلوں کی صدا ہے ہماری دعا: یہ ہمارا وطن، روشنی کا چمن، لہلہلاتا رہے، جگماتا رہے!
ملک آزاد ہے پر ہمیں یاد ہے، خونچکاں خونچکاں ظلم کی داستاں،
کتنی قربانیاں دے کر حاصل ہوئی، یہ وطن کی زمیں اب جو منزل ہوئی،
میرے پیارو اِسے تم بھلانا نہیں، اپنی منزل سے تم دُور جانا نہیں!
اِس سے چاہت کرو، سب کی خدمت کرو!
شاعر اِس کے لیے شعر کہتے رہے، دُکھ اٹھاتے رہے، درد سہتے رہے،
اپنا خونِ جگر صَرف کرتے رہے، اِس کی تصویر میں رنگ بھرتے رہے،
ان کے افکار سے صبح کی روشنی، ان کے خوابوں سے ہے روح کی زندگی،
ملک کو سرخرو، دوستو کر کے چلو!
جو ملا ہم کو فن، کر کے نذرِ وطن، اپنی آواز سے، رس بھرے ساز سے،
ہے دلوں کو خوشی، آنکھ کو روشنی، شادماں ہو گئی ہر طرف زندگی!
دیکھو، جب تک جیے، ہم اِسی کے لیے جاں لٹاتے رہے، گیت گاتے رہے!
اِس سے اُلفت کرو، تم بھی خدمت کرو!
جھومتی ڈالیاں، دھان کی بالیاں، کہہ رہی ہیں یہاں ہوں گی خوشحالیاں!
اپنے محنت کشوں کی یہ تصویر ہیں، ان کے عزم و عمل کی یہ تحریر ہیں!
ان کی ہمت کی تم داد دینا سدا، ان کی عظمت کو تم یاد رکھنا سدا،
تم بھی محنت کرو، تم بھی آگے بڑھو،
ہم نہ ہوں گے مگر ہو گی روحِ سفر! آنے والو سنو، میرے پیارو سنو!

احمد رشدی کا انتقال 11اپریل 1983 کو ہوا۔

————
انگریزی ہفت روزہ ’’میگ‘‘ نے وحید پر فیچر شائع کیا جس کی مناسبت سے پورے سرورق پر اُن کی تصویرتھی اور ساتھ لکھا تھا، ’’کیسا عروج اور…‘‘(“What A Rise And …”) ۔ انٹرویو ثمرہ نیازی نے لیا۔ وحید نے اس بات سے انکار کیا کہ اُن پر ’’زوال‘‘آیا ہے۔ فلمی دنیا کی بعض دوسری شخصیات کے تبصرے بھی اس فیچر میں شامل کیے گئے۔ ان میں سے بھی اکثر نے کہا کہ زوال پاکستان کی پوری فلمی صنعت پر آیا ہے، جس کی مختلف وجوہات ہیں۔

وی سی آر کے ذریعے بھارتی فلموں کا جو سیلاب آیا ہوا تھا اُس کے حوالے سے وحید کا ایک بیان بھی انہی دنوں شائع ہوا جس میں اُنہوں نے صدرِ پاکستان جنرل ضیأ سے کہا تھا کہ اگر بھارتی فلموں کی یلغار نہ روکی گئی تو پاکستان کو نظریاتی مملکت بنانے میں کامیابی نہ ہو سکے گی۔

اسے وحید کی علامتی حیثیت ہی سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کی فلمی صنعت کا زوال سب کو ’’وحید مراد کا زوال‘‘ دکھائی دیتا تھا۔ اس حوالے سے جو کچھ اُن کی وفات کے بعد لکھا گیا اُس کا تذکرہ اگلی قسط میں کیا جائے گا۔ جو کچھ اُن کے سامنے کہا جا رہا تھا اُس پر اُنہوں نے ٹی وی پروگرام ’’سلور جوبلی‘‘ میں تبصرہ کر دیا (یہ پروگرام یوٹیوب پر موجود ہے)۔

’’سلور جوبلی‘‘1983 میں نشر ہوا۔ میزبان انور مقصود تھے۔ اس پروگرام میں عام طور پر کم سے کم ایک شخصیت فلم انڈسٹری کی بھی بلائی جاتی تھی (بعض دفعہ ایک سے زیادہ بھی ہوتی تھیں) اور ہر دفعہ پرانی پاکستانی فلموں کے تین نغمے نئے گلوکاروں کی آوازوں میں پیش کیے جاتے تھے۔ پرانی موسیقی اور طرز بڑی حد تک برقرار رکھی جاتی تھی۔ اس پروگرام نے دوبارہ ان فلموں اور نغموں کی یاد دلا دی اور نئی نسل کو بھی ان سے متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس پروگرام میں وحید کو دیکھ کر کئی لوگ حیران ہوئے۔ وہ بہت کمزور دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ عرصہ بعد جب تعزیتی مضامین کا سلسلہ شروع ہوا تو کسی نے لکھا بھی کہ پروگرام دیکھتے ہوئے یقین نہیں آ یا کہ یہ وحید مراد ہے بلکہ یوں لگا جیسےاُن سے ہلکی سی مشابہت رکھنے والا کوئی شخص ہے۔ وحید نے اپنے فلمی کیرئیر کے بارے میں کہا، ’’خیر، فلم انڈسٹری نے بہت کچھ دیا۔ شہرت دی، نام دیا، عزت دی، پیسہ دیا۔ بس یہ ہے کہ ایم اے کا استعمال نہیں ہوا۔ کیونکہ ایم اے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جس نے پہلی جماعت بھی نہ پاس کی ہو ناں، اُس کے چانسز فلم انڈسٹری میں زیادہ ہیں آج کل۔‘‘

انور مقصود نے پوچھا کہ ایم اے کا استعمال کب کریں گے تو وحید نے جواب دیا:

’’ہو سکتا ہے، عنقریب! کیونکہ بیس بائیس سال جو—فلم انڈسٹری کی زندگی ہوتی ہے – صبح آٹھ نو بجے جانا، کبھی دو بجے تین بجے رات کو آنا، بے وقت کھانا، سونا، تو اِس سے میں اب کچھ حد تک اُکتا گیا ہوں۔ سوچ رہا ہوں کہ کچھ ایسا – ایسی کوئی نوکری یا بزنس یا کچھ ایسا ہو کہ جو – جس طرح لوگ باقاعدہ زندگی گزارتے ہیں، نو سے شام پانچ چھ بجے تک – اُس کے بعد پھر اپنے بیوی بچوں کو وقت دیتے ہیں، وہ کروں۔‘‘

انور مقصود نے ایک سوال اس حوالے سے کیا کہ ماضی میں بعض ہیروئینوں نے وحید کے ساتھ کام نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وحید نے جواب دیا، ’’یہ سوال شاید آپ کو اُنہی سے کرنا چاہیے۔ اور مجھ سے یہ کئیوں نے پوچھا اور میں نے سبھی سے یہی کہا کہ بھئی اُن سے پوچھیں کہ کیوں نہیں کیا اور اب کیوں کرتی ہیں؟‘‘

کچھ عرصہ بعد ریڈیو پر خوش بخت شجاعت کو انٹرویو دیا۔ یہ زندگی میں اُن کا آخری انٹرویو ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا، ’’ایک نغمہ جو – میں سوچتا ہوں کبھی کہ اگر میں جب ایکٹر ویکٹر نہیں ہوں گا – یا ہوسکتا ہے میں رہوں بھی، دوسرے پارٹ کروں – لیکن میں اچانک غائب ہو جاؤں دنیا سے، مر جاؤں، کچھ ہو جائے، تو یہ گانا میرے بعد اگر بجتا رہے، ’بھولی ہوئی ہوں داستاں، گزرا ہوا خیال ہوں۔ جس کو نہ تم سمجھ سکے، میں ایسا اِک سوال ہوں!‘‘

’’ہیرو‘‘ کی پروڈکشن میں تاخیر ہو رہی تھی لیکن اس کے نغمے ریلیز کر دئیے گئے۔ فلم کی ریلیز سے پہلے بلکہ شاید وحید کی زندگی میں ہی اِس فلم کا ایک نغمہ ریڈیو پر بار بار چل کر بہت مقبول ہو گیا۔ یہ ناہید اختر کی آواز میں تھا۔ موسیقی کمال احمد نے بنائی۔ شاعرتسلیم فاضلی تھے (یہ اُن کے بھی آخری نغمات میں سے تھا):


’’مل گئے تم تو اِک یہی غم ہے – پیار زیادہ ہے، زندگی کم ہے!
مجھ کو صدیوں کی زندگی بھی ملے، پھر بھی رہ جائے گی کمی کوئی
لاکھ کِھل جائیں آرزو کے کنول، دل میں رہ جائے گی خوشی کوئی
پھر بھی چاہیں گے جب تک دم ہے!
میں تجھے یوں ہی دیکھتی ہی رہوں، تیرے رُخ سے نظر نہ ہٹ پائے!
تیرے خوابوں میں ایسے کھو جاؤں، جب کھلے آنکھ موت آ جائے!
خواہشوں کا عجب عالم ہے!
ٹوٹ پائے نہ جو قیامت تک، ایسا وعدہ نبھا نہیں سکتے
وقت کی اِس سیاہ آندھی میں اِک دِیا بھی جلا نہیں سکتے
روشنی دل کی کتنی مدھم ہے!

ستمبر 1983 میں لاہور میں راوی روڈ پر کار چلاتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ مسرور انور کا کہنا ہے:

’’اس شام اس اطلاع کے ملتے ہی کہ وحید مراد کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، میں بیوی کے ہمراہ سروسز ہسپتال پہنچا۔ جنرل وارڈ میں وحید مراد ایک بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کی خوبصورت روشن آنکھوں کو پٹی میں لپٹا دیکھ کر دل بجھ کر رہ گیا۔ میں نے قریب جا کر خیریت پوچھی۔ وحید کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا، ’زندہ ہوں!‘ پھر تھکے تھکے لہجے میں بولا، ’سمجھ میں نہیں آتا یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے۔ خدا جانے اِن گردشوں سے کب جان چھوٹے گی؟ ایک اُلجھن ختم نہیں ہوتی کہ دوسری آ جاتی ہے۔ ‘ میں نے وحید کو تسلی دی۔ پرویز ملک نے بھی سمجھایا۔ مگر وحید کی افسردگی کم نہ ہوئی۔ اسی دوران وہاں وہ آدمی آ گیا جس نے وحید مراد کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا تھا۔ اُس نے بتایا کہ یہ بہت بہادر آدمی ہے۔ یہ اپنی کار میں لہو لہان بیٹھے تھے۔ میں قریب پہنچا تو انہوں نے اطمینان سے کہا، میاں ذرا میری کار کو دھکیل کر پیچھے کر دو تاکہ میں ہسپتال چلا جاؤں۔ اُس آدمی نے مزید کہا کہ مجھے اُس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ ایکسیڈنٹ میں زخمی ہونے والا شخص وحید مراد ہے۔ میں ان کی جرأت پر حیران رہ گیا۔ پھر میں نے فوراً ایک گزرتی ہوئی ویگن کو روکا اور انہیں سہارا دے کر اُس میں بٹھایا اور ہسپتال لے آیا۔
’’وحید مراد نے سروسز ہسپتال کے جنرل وارڈ میں تین دن کافی پریشانی اٹھائی۔ پھر پرائیویٹ کلینک میں شفٹ ہو گئے اور ایک ہفتے بعد خیریت سے اپنے گھر منتقل ہو گئے۔‘‘

علاج کے بعد بھی ہونٹ اور ایک آنکھ کے پپوٹے پر زخم کا نشان رہ گیا۔ پلاسٹک سرجری کا مشورہ دیا گیا۔ 11 نومبر کو وہ اپنے چھ سالہ بیٹے عادل کو ساتھ لے کر کراچی چلے گئے۔ سلمیٰ اپنی بہن مریم عیسیٰ سے ملنے امریکہ گئی ہوئی تھیں۔ عالیہ بھی ساتھ گئی تھیں۔ کراچی میں وحید کے دو فلیٹ تھے لیکن وہ ڈیفنس سوسائٹی میں اپنی منہ بولی بہن بیگم ممتاز ایوب کے گھر ٹھہرے۔ 13 نومبر کو اُنہوں نے عادل کی ساتویں سالگرہ منائی۔ اگلے دن مِڈ ایسٹ ہسپتال میں پلاسٹک سرجری کے آپریشن کے لیے وقت لیا۔ انہیں 24 نومبر کا کوئی وقت دیا گیا۔ اس کی نوبت نہیں آئی۔

نومبر کی 23 تاریخ کو صبح کے قریب ان کے دل کی دھڑکن بند ہو گئی۔ ان کی میّت کا تابوت اُن کی والدہ کے پاس لاہو رلے جایا گیا۔ وہ صدمے سے بے حال ہو گئیں۔ پچھلے سال ان کے شوہر کا انتقال ہوا تھا۔ اب اکلوتا بیٹا صرف پینتالیس برس کی عمر میں فوت ہو گیا تھا۔

—جاری ہے—

اگلی قسط کا عنوان ہے، ’’وحید مراد کا قاتل کون؟‘‘ وحید کی وفات پرقوم کے ردِ عمل اور اُن کی آخری فلم ’’ہیرو‘‘ کی ریلیز سے آج تک کی کہانی جو وحید کے ساتھ ہمارے موجودہ تعلق پر ختم ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: