ہم سب کی خارش اور خواتین کے اصل مسائل —- فارینہ الماس

0
  • 65
    Shares

کھجلی پہ بات، کھجاتےبات شروع ہوئی تھی رافعہ زکریا صاحبہ کی تحریر ”کیا مرد، خواتین کے سامنے خاص اعضا کھجانا بند کر سکتے ہیں” سے اور ختم ہو ئی محترم جناب مظفر نقوی کی ایک بے سروپا تحریر ”کیا خواتین مردوں کے خاص اعضا سے نظر ہٹا سکتی ہیں؟” پر۔

یوں محسوس ہوا کہ جیسے ہمیشہ کی طرح محض قارئین کی ذہنی عیاشی کا سامان فراہم کرنے یا رگوں میں جنسی سنسنی کا وبال و بھونچال مچانے کا بندوبست کیا گیا ہو۔ ایک انتہائی حساس موضوع کو ایسے بنا دیا گیا جیسے کوئی طوائف بیچ چوراہے, بد قماشوں کے ہجوم کی پھبتیاں سہہ رہی ہو۔ پھر نیچے آراء کے خانے میں کمال کا فکری ہنر سامنے آرہا تھا۔ ایک طرف مردوں کو ماں بہنوں کا خیال کر لینے کی تلقین اور عورت کو اپنے بھائی اور باپ کی عزت کے واسطے تو دوسری طرف عورت کے وجود کی بھرپور تذلیل اور اس مسئلے کی انتہائی بھونڈے دلائل سے سراسر نفی۔ حاصل بحث تھا ”عورت کا جسم اس کی مرضی” تو پھر ”مرد کا جسم بھی اس کی مرضی” بلکل جیسے کو تیسا یا اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے مصداق۔

عورت کے کچھ مسائل خود اس کے پیدا کردہ ہیں لیکن اکثر مسائل ایسے ہیں جو مرد کے نامناسب رویوں سے جنم لیتے ہیں۔ ایسے رویوں پر پوری ذمےداری اور سنجیدگی سے بات ہونی چاہئیے کیونکہ اب یہ حقیقتیں ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔لیکن مذکورہ دونوں لکھاریوں نے جس طرح ہیجان انگیز عنوانات کے علاوہ چومنے، چاٹنے، کھرچنے، کھجلانے جیسے الفاظ کو اپنی اپنی تحریروں میں محض بیہودگی اور لچر گوئی کی علامات بنا دیا یہ واقعی قابل افسوس ہے۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح خیالات کے بیہودہ اظہار سے وہ عورت کو عزت و احترام کا مقام دلا پائیں گے یا مرد لکھاری سمجھتے ہیں کہ وہ مردوں کا دفاع کر پائیں گے تو ایسا بلکل نہیں، یہ محض خیالات کی آوارگی کا بندوبست ہے اور کچھ نہیں۔

مضمون میں جو بات کھول کر سب کے سامنے رکھی گئی (گو کہ اسے پیش کرنے کے لئے درکار حوصلہ خواتین نے کچھ عرصہ قبل می ٹو مہم کے آغاز سے ہی پکڑ نا شروع کر رکھا ہے) وہ کوئی الزام نہیں اور نہ ہی کسی خاص ملک کی خاص کلاس کی خواتین پر ٹوٹنے والے قہر کی بپتا۔ یہ ایک ایسے قبیح، گھناؤنے اور کراہت انگیز رویے کا ذکر ہے، جو ہر معاشرے میں صنف نازک کو سہنا پڑتا ہے۔ ہر لڑکی اپنے بچپن سے لے کر زمانہء طالبعلمی اور دور ملازمت تک کئی بار ہراساں کی جاتی ہے۔ وہ اگر گھر سے خود کو چادر یا نقاب میں ڈھک کر نکلے تو بھی اسے مرد حیلوں بہانوں سے ایسے استحصال کا شکار بناتا ہے۔ گھر سے اس کے نکلنے کا مقصد علم کا حصول یا اپنے والدین و چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت، اسے نفسیاتی و ذہنی کرب میں مبتلا کرنے کو مرد پورا کردار ادا کرتا ہے۔ وہ اگر کم سن بھی ہے اور اس کا جسم جنسی اشتعال بڑھانے کے قابل بھی نہیں پھر بھی مرد اسے بازاروں، سڑکوں یا گلیوں کے تنگ و تاریک رستوں پر ہراساں کرتا ہے۔ اس کا راستہ روکنا، غلیظ فقرے اچھالنا، اسٹاپ پر کھڑی ڈری سہمی لڑکیوں کو فحش اشارے کرنا، گھر تک ان کا موٹر سائیکل پر پیچھا کرنا، ان کی طرف چھوٹے چھوٹے پتھر اچھال کر متوجہ کرنا، بسوں میں چڑھتے ہوئے ان کے جسم سے اپنا جسم مس کرنا، کمسن بوکھلائی بچیوں کو دکانداروں کا عید کی رات چوڑیاں چڑھاتے کلائیوں کو بری طرح دبانا، جوتا پہناتے ہوئے پاؤں سے اوپر تلک اپنا ہاتھ پھیرنا، بسوں کے سفر کے دوران چادروں، برقعوں میں ملبوس خواتین کو پچھلی سیٹوں سے چھپ کر ہاتھ بڑھا کر چٹکیاں کا ٹنا۔

یہ خارشی مسئلہ تو ایک طرف، ہو سکتا ہے کچھ مردوں ہی کی رائے کے مطابق انہیں واقعتاً کھجلی کا خاندانی مسئلہ درپیش ہو لیکن صاحب ان کے بارے کیا خیال ہے جو خواتین کو دیکھ کر سر پر ہیلمٹ پہنے ہوئے موٹر سائیکل پر بیٹھے خود کو برہنہ کرنے لگتے ہیں۔ یہاں ہراسگی کے زمرے میں نا تو  ان خواتین کو لایا جا رہا ہے جو گھروں سے جنسی اشتعال دلانے والا بڑے گلے کی چھوٹی قمیص اور ٹانگوں سے چپکے پاجامے والا لباس پہن کر نکلتی ہیں اور نا ہی ان پڑھی لکھی لبرل خواتین کو جنہیں آپ موم بتی مافیا کا نام دیتے ہیں۔ یہ ایسے سٹریٹ کرائم کی بات ہو رہی ہے جس کا شکار خاصی تعداد میں ڈری، سہمی، مجبور گھریلو اور سادہ لڑکیاں ہوتی ہیں۔ اور جو اپنے باپ یا بھائی سے ایسے واقعات کا محض اس لئے ذکر نہیں کرتیں کہ کہیں ان کی تعلیم کا حق ہی نہ چھن جائے۔ ایسا بھی نہیں کہ تمام مرد ایسے غلیظ افعال میں مبتلا ہیں لیکن ایک وسیع تعداد میں کم پڑھے لکھے یا جاہل مرد خصوصاً جو معاشرتی سطح پر کسی طرح کی سوشل لائف کا حصہ نہیں، ایسے افعال میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ گو کہ بعض پڑھے لکھے حضرات بھی پروفیسروں یا ڈاکٹروں کی صورت اس مرض کا شکار پائے گئے۔ منٹو نے غلط نہیں کہا تھا کہ “مرد کے حواس پر عورت نہیں تو کیا ہاتھی سوار ہو گا”۔ لیکن اصل فساد تب شروع ہوتا ہے جب کوئی شخص جبلی حرص میں اس قدر مبتلا رہنے لگے کہ اپنے حواس پر قابو ہی نہ پا سکے۔

یہ مسئلہ صرف ہمارا ہی نہیں پورا عالمی معاشرہ اس فساد کا شکار ہے۔ سٹریٹ ہراسمنٹ پر کئے جانے والے گیلپ سروے کے مطابق خواتین کو سڑکوں، بازاروں اور پارکوں میں مردوں کی طرف سے چھونے، اشارے کرنے یا دوسری کئی طرح سے ہراساں کرنے کے واقعات کا اسرائیل کی 68 فیصد، یوکے کی 64فیصد، برازیل کی 89فیصد، پاکستان کی 96فیصد اور ترکی کی 93فیصد خواتین شکار ہیں۔ افغانستان جہاں خواتین جنسی اشتعال دلاتا لباس نہیں بلکہ برقعہ اوڑھ کر باہر نکلتی ہیں وہاں 93فیصد خواتین سڑکوں پر ہراساں کی جاتی ہیں۔

گارڈین اخبار کی 2018 کی سروے رپورٹ کے مطابق اس گھمبیر مسئلے کے سلسلے میں دنیا کے کئی ممالک اپنی حقیقی صورتحال کے برعکس انتہائی مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے کم بتاتے ہیں۔ ڈنمارک میں یہ شرح 31فیصد بتائی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں تقریباً 80 فیصد خواتین پندرہ سال کی عمر سے ہراسمنٹ کی کسی نہ کسی صورت کا شکار رہتی ہیں۔ امریکہ میں یہ شرح 44فیصد بتائی جاتی ہے جبکہ یہ 81 فیصد ہے۔ فرانس میں 41 فیصد بتائی جاتی ہے جبکہ یہ شرح 75فیصد ہے۔ یہ پڑھے لکھے ترقی یافتہ ملکوں کی طرف سے عورت کے وجود اور اس کے مسائل سے چشم پوشی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ یہ وہ معاشرے ہیں جو عورت کی آزادی کے علمبردار سمجھے جاتے ہیں۔

اس مسئلے کو چھپانے یا اس کی اہمیت سے انکار کرنے کا چلن ہمارے معاشرے میں بھی موجود ہے جہاں رجعتی دانشور یا صاحب علم بھی کسی نہ کسی طریقے سے براہ راست یا بلواسطہ طور پر ان رویوں کی حمایت کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت مظفر صاحب کی تحریر بھی ہے جس میں مسئلے کو سمجھنے اور تسلیم کرنے اور مردوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے، مردوں کو مظلوم اور ہراسیت کا شکار قرار دے دیا گیا۔ اس میں ان کا شاید کوئی قصور نہیں کیونکہ ہوتا یہی آیا ہے کہ جب سوال اٹھایا جاتا ہے عورت کی محکومیت و مظلومیت کا تو جواب آتا ہے کیا صرف عورت ہی ظلم کا شکار ہے مرد نہیں؟ اس کا جواب ہے ہاں مرد بھی کئی حوالوں سے مظلومیت کا شکار ہے۔ اس موضوع پر میں اپنی ایک تحریر “مرد ہمیشہ ظالم ہی نہیں ہوتا” میں کھل کر اظہار کر چکی ہوں۔ لیکن مرد کی مظلومیت کا مقابلہ بہرحال عورت کی مظلومیت سے نہیں ہو سکتا۔ ہم جس سماج میں جی رہے یہ ایک پدر سری معاشرہ ہے۔ جہاں حاکمیت، طاقت اور اختیار مرد سے اور محکومیت و مظلومیت عورت سے منسوب کر دی گئی ہے۔ ذہنی و جسمانی اذیت و ذلت کا بوجھ وہ صدیوں سے اٹھائے اپنے حالات کے گھپ اندھیروں میں بھٹک رہی ہے۔ کبھی اسے ایک جنس کی مانند بازار میں بیچا گیا تو کبھی ناگوار بوجھ سمجھ کر پیدا ہوتے ہی دفنا دیا گیا۔ کبھی اسے شیطان کی ایجنٹ سمجھا گیا تو کبھی بدی و شر انگیزی کا شاخسانہ بتایا گیا۔ اسے باندی بنا کر پاؤں کی جوتی کی طرح رگیدا گیا تو کبھی شوہر کی چتا میں چپ چاپ جل مرنے کی ترغیب دی جاتی رہی۔ اسے ہمیشہ سے ہی خانگی سطح پر باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی تابعدار بنا کر ہر ظلم سہنے کا سبق دیا گیا۔ قدیم یونان کے بڑے بڑے فلسفیوں کی بھی اس کے بارے کیا رائے تھی اسکا اندازہ سقراط کے اس قول سے لگا لیجئے کہ “عورت سے زیادہ فتنہ و فساد کی چیز دنیا میں کوئی نہیں۔ یہ دفلی کا وہ درخت ہے کہ جو بظاہر بہت خوبصورت معلوم ہوتا ہے لیکن اگر اسے چڑیا کھا لیتی ہے تو مر جاتی ہے”۔ اہل روم کی بھی صورتحال خاص مختلف نہ تھی جہاں مرد کو قانوناً حق حاصل تھا کہ وہ اپنی بیوی کو اس کے کردار کے شبہ میں قتل کر دیں۔ انیسویں صدی کے صنعتی انقلاب سے قبل والے یورپ میں کوئی بھی ایسا قانون نہ تھا جو عورت کو مرد کے ظلم سے بچا سکے۔ قدیم یورپ میں تو بڑی مدت تک یہ طے کرنا ہی محال تھا کہ کیا عورت کے وجود میں بھی کوئی روح ہوتی ہے اگر ہے تو آیا وہ انسانی ہے یا حیوانی۔ قدیم ایران اور عرب میں بھی عورت کو ناپاک اور نجس ہی سمجھا جاتا۔ اقوام عالم کی ایک طویل تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عورت کو مرد کی بد سلوکی، تنگ نظری اور جہالت کا ہمیشہ سے سامنا رہا۔ ماسوائے اسلام کی آمد کے بعد کے دور کے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب انسانی معاشرہ مہذب ہوتا چلا گیا عورت کی حیثیت کو بھی قبولیت کا شرف ملنے لگا اس کے حق میں قوانین بھی بنائے گئے اور صنعتی انقلاب میں عورت کے حقوق اور اس کی معاشرتی برابری کا نعرہ لگایا گیا۔ لیکن عورت پر زیادتی وظلم اور دست درازی کے واقعات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے۔ جنسی طور پر اسے کئی حیلوں بہانوں سے ہراساں کیا جانے لگا۔

سرمایہ دارانہ نظام نے جہاں معاشی عدم توازن کو بڑھاوا دیا وہیں انسان کی اخلاقی قدروں کو بھی تہس نہس کر دیا۔ اس خلاقی انحطاط کا سب سے بڑاشکار عورت ہی بنی۔ معاشرہ کئی طرح کے ذہنی و نفسیاتی مسائل کا اظہار عورت کی بے حرمتی و بے عزتی سے کرنے لگا۔ یہ اسی بے عزتی کا اظہار ہے جو مرد اپنی مردانگی دکھانے کی خاطر اپنے اعضا اسے دکھا کر کرتا پھرتا ہے۔ کبھی مرد نے سوچا ہے کہ اس کی ان حرکات سے عورت کس قدر سنگین ذہنی و نفسیاتی کرب کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسے ایسا اذیت ناک خوف محسوس ہوتا ہے جو کسی جنگلی درندے کو دیکھ کر بھی نہیں ہوتا ہو گا۔

مرد کا عورت کی طرف راغب ہونا ایک فطری عمل ہو سکتا ہے لیکن اس کا ایسا کریہہ اظہار کہ اس کے وجود سے ہی نفرت دلانے لگے؟ وہ مرد جو ایسے اعمال کا اظہار کرتے ہیں وہ قطعاً اس کی سنگینی کو سمجھ نہیں سکتے۔ مرد اپنی مردانگی یا شہوانیت و حیوانیت کا اظہار کئے بغیر اگر کسی عورت سے مرعوب ہوتا ہے تو اسے اس کی نظر مین اپنی عزت و احترام بنانے کا پورا حق ہے۔ اگر یہ مرعوبیت فطری ہے تو وہ اس سے محبت کے اظہار کا بھی حق رکھتا ہے۔ اسے نکاح کا پیغام بھی بھیج سکتا ہے یہ اس کا شرعی حق ہے۔ اگر عورت بھی اس کے لئے اپنے دل میں مثبت خیالات رکھتی ہو گی تو ہوسکتا ہے اس کا جواب بھی مثبت ہی ہو۔ لیکن زور و جبر سے اپنے وجود کا احسا س دلاکر اسے مرعوب کرنا مردانگی نہیں، ناشائستگی اور بدتہذیبی کی بد ترین صورت ہے۔ اور مظفر صاحب میں تو کیا کوئی بھی سلجھا ہوا مرد بھی آپ کی اس بات سے اتفاق نہیں کرے گا کہ عورت معاشرے پر غالب ہے یا عوامی جگہوں پر ان کا اختیار و اثر رسوخ زیادہ ہے یا وہ عورت کارڈ استعمال کرتی ہے۔ میرا سوال ہے کہ آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟ آپ کی اس رائے کا جواب اپنے اگلے کالم میں دوں گی، ابھی اس پر ہی اکتفا کریں۔

یہ بھی ضرور پڑھئے: جنسی ہراسانی میں لڑکیوں کا کردار — محمود فیاض
(Visited 686 times, 1 visits today)

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: