دوسری شادی: محترمہ رقیہ اکبر کے سوالات کے جواب میں — انعام الروف

0
  • 106
    Shares

گذشتہ دنوں محترمہ رقیہ اکبر صاحبہ نے دوسری شادی کے حوالے سے دانش پہ ایک تحریر لکھی اور دوسری شادی پر چھ سوال اٹھائے۔ ذیل میں انعام روف نے ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اختلاف کیا ہے۔ دانش کا پلیٹ فارم اس موضوع پہ کسی بھی نقطہ نظر کی اشاعت کے لئے کھلا ہے۔ ادارہ


پہلا سوال: دوسری شادی کرنے والے مرد اور عورت دونوں کو معاشرہ قبول نہیں کرتا، مگر کیوں؟

جواب: ہمارے معاشرے میں اس کو قبول نہ کرنے کی وجہ ہندوانہ معاشرے کا اثر ہے۔ جس میں دوسری شادی سے اس حد تک نفرت تھی کہ بیوہ کو بھی جلایا جاتا تھا۔ جبکہ دوسری وجہ مولانا مودودی کے الفاظ میں ’’اس کا محرک یہ مغربی تخیل ہے کہ تعدد ازواج بجائے خود ایک برائی ہے اور از روئے قانون یک زوجی ہی کو رواج مطلوب ہے۔ یہ محرک ہمارے نزدیک سخت قابل اعتراض ہے۔ اور اس کی جڑ کاٹنا ضروری ہے۔ (خواتین اور دینی مسائل ۔ ص۔ ۱۱۸)‘‘
جبکہ پروفیسر ثریا بتول علوی لکھتی ہیں ’’عیسائیوں میں ابتدا ہی سے عورتوں سے تعلقات رکھنا روحانیت کے خلاف اور دنیا داری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ (تحریک نسواں اور اسلام۔ ص ۲۲۷)‘‘
انہی باتوں کو ذہن میں رکھ کر ان الفا ظ پر غور کریں جو دوسری شادی کرنے وا لوں پر ٹھرکی، اخلاقی کمزوری، نفس سے مغلوب اور منہ کے ذائقے بدلنے جیسے الفاظ کسے جاتے ہیں۔

دوسرا سوال: کیا واقعی مرد کی جنسی اور جبلی خواہش ایک عورت سے پوری نہیں ہو پاتی؟

جواب: معاشرے میں لاکھوں کی تعداد میں بیوہ اور طلاق یافتہ خواتیں موجود ہوں ایسے معاشرے میں آدم اور حوا کی مثال پیش کرنے پر داد وصول کیجیئے۔ آدم اور حوا کی اس استثنائی واقعے کو چھوڑ کر آدم کے بیٹوں کی صورتحال کیا تھی۔ اس بارے میں پروفیسر ثریا بتول علوی فرماتی ہیں ’’اگر تعدد ازدواج کوئی ظلم و زیادتی ہے تو اس کا آغاز ابتدائی دور کے انسان نے کیا تھا۔ دنیا کے بیشتر قوموں میں اس کا رواج رہا ہے۔ تمام مذاہب نے اس کی اجازت دی ہے؛ (ایضا۔ ص:۲۲۷)‘‘
آدم وحوا کی مثال دیتے ہوئے ایک مغرب زدہ خاتوں کے سامنے وقت کے ایک جلیل القدر عالم دین نے دوسری شادی پر قانونی پابندی کو درست قرار دیا۔ جبکہ اسی وقت بہت سی بظاہر لبرل نظر آنے والی خواتین دوسری شادی کو رواج دینے کی بات کر رہی ہیں۔ اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
پھر مرد کی فطرت کو بیان کرتے ہوئے پروفیسر ثریا بتول علوی فرماتی ہیں کہ ابتداء سے ہی مر د کا ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی طرف رجحان رہا ہے۔ اگر وہ ایک شادی پر اکتفا کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع دوسری بیوی کی خواہش یا ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ (ایضا۔ ص ۲۲۸)
لیکن خود محترمہ نے اس کا جواب دیا ہے وہ تضاد اور دلچسپی سے خالی نہیں۔ فرماتی ہیں؛ مرد کی جنسی ضرورت ایک ہی عورت سے پوری ہوسکتی ہے ماسوائے چند فیصد کے جس کے لیے ہی شاید دوسری شادی کا راستہ کھلا چھوڑ دیا گیا۔ کیا ان چند فیصد مردوں کو ہمارے معاشرے میں شادی کی اجازت ہے؟ آدم کے اس استثنائی واقعے کو لے کر اصول بنانے والے نے شکر ہے کہ عیسیؑ کے استثنائی واقعے کو پیش نہیں کیا ورنہ پہلی شادی پر بھی سوال اٹھتا۔

تیسرا سوال: اگر دوسری شادی اتنی ہی ناگزیر تھی تو خدا نے واضح اور صریح حکم کیوں نہ صادر فرما دیا، ایک ہی پر قناعت کا درس کیوں دیا؟

جواب: لیجیئے واضح اور صریح حکم نہ دینے کا شکوہ بھی دور کر دیتے ہیں۔ مفتی طارق مسعود فرماتے ہیں کہ؛ دین میں اصل حکم تو دو، تین یا چار شادیوں کا ہے لیکن مجبوری کی حالت میں (یعنی انصاف کرنے کی صلاحیت نہ ہو) تو ایک پر ہی اکتفا کا حکم ہے۔
اللہ نے پہلی شادی کے لیے بھی واضح اور صریح حکم صادر نہیں فرمایا بلکہ ترغیب دی ہے۔ جبکہ دوسری شادی کو انصاف کے شرط سے مشروط کیا۔ ایک ہی پر قناعت کا درس قرآن نے نہیں دیا بلکہ انصاف نہ کرنے والوں کو دوسری شادی سے منع کیا۔

چوتھا سوال: چار شادیوں کی اجازت کیا مرد کی کسی قلبی، جسمانی اور جنسی ضرورت کے لیے دی یا اس کے پیچھے کوئی خاص حکمت پوشیدہ تھی؟

جواب: اصل میں قرآن کے چار شادیوں کی اجازت کے لفظ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس سے پہلے ایک شادی کا رواج تھا۔ جبکہ قرآن نے کوئی خاص حکمت کے تحت چار تک اجازت دی۔ یہ پورا مقدمہ ہی غلط ہے۔ کیوں کہ قرآن کے نازل ہونے کے وقت چار سے زائد شادیوں کا رواج تھا۔ جس کی وجہ سے ایک مرد زیادہ بیویوں کے حقوق ادا نہیں کر سکتا تھا۔ عورتوں کو اس مظلومیت سے نکالنے کے لیے چار سے زائد شادیوں پر پابندی عائد کی جبکہ ایک سے زائد شادیوں کے لیے انصاف کی شرط مقرر فرمائی۔ یہ بات خود محترمہ نے مفتی محمد شفیع کے حوالے سے جو حصہ نقل کیا ہے اس سے بھی واضح ہے۔
اب آتے ہیں اس کی طرف کہ قرآن کی اس آیت میں ایک سے زائد شادی کرنے پر انصاف کے علاوہ کوئی شرط ہے؟ جس طرح اس کالم میں؛ ضرورت یا کچھ اور۔ ۔ ۔ ۔ ؛ کے عنوان سے واضح ہے کہ محترمہ اس کو صرف ضرورت کے ساتھ خاص کر دیتی ہیں۔
مولانا مودودی فرماتے ہیں کہ؛ آپﷺ کے عہد میں بکثرت صحابہ نے چار کی حد کے اندر متعدد نکاح کیے اور آپﷺ نے کسی سے یہ نہ فرمایا کہ تمہارے لیے یتیم بچوں کی پرورش کا کوئی سوال نہیں ہے۔ اس لیے تم اس اجازت سے فائدہ اٹھانے کا حق نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے صحابہ سے لے کر بعد کے ادوار تک امت کے تمام فقہاء نے ایسا سمجھا۔ (خواتین کے دینی مسائل)
مولانا وحید الدین خان فرماتے ہیں ’’انسانی سماج اور انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم مدینہ کی صورتحال محض وقتی صورتحال نہ تھی، یہ ایک ایسی صورتحال تھی جو اکثر حالات میں زمین پر موجود رہتی ہے، مذکورہ ہنگامی حالت ہی ہماری دنیا کی عمومی حالت ہے۔‘‘

پانچواں سوال: مرد دوسری شادی کیوں کرتا ہے؟

جواب: اس کی چار وجوہات بیان کرنے کے بعد محترمہ فرماتی ہیں کہ تیسری اور چو تھی وجہ کی شادی معاشرتی مجبوری، حالات کے جبر، اخلاقی کمزوری اور خودغرضی کی علامت ہے۔ دوسری شادی کو کبھی اخلاقی کمزوری، خودغرضی کی علامت، ضرورت، نفس سے مغلوب اور منہ کا ذائقہ بدلنے جیسے الفاظ سے یاد فرمانے کے بعد ضرورت کے تحت دوسری شادی کی اجازت دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ضرورت تک پابند کرنے کا اختیار آپ کو کس نے دیا؟ جبکہ قرآن نے صرف انصاف کی شرط مقرر کی ہے۔

احکام تیرے  حق ہیں مگر  اپنے  مفسر
تاویل سے قرآن کو  بنادیتے  ہیں پابند

اس کے بعد؛ رخصت و عزیمت؛ نفس کو قابو؛ حقوق العباد؛ کی جو نادر تشریح کی ہے وہ قابل نمونہ ہے۔ اس طرح ایک نمونہ رخصت و عزیمت کے اصول پر پیش خدمت ہے۔ خیرالقرون کے مردوں کے لیے لونڈیوں کے ساتھ ساتھ چار شادیوں کی اجازت اور دوسری طرف ’فتنے کے زمانے‘ کے مسلمانوں کے لیے لونڈیوں کو تمام علماء حرام قرار دیتے ہیں۔ جبکہ دوسری صورت چار شادیوں پر بھی پابندی؟ یعنی پہلے زمانے کے مردوں کے لیے ’رخصت‘ جبکہ ہمارے لیے ’عزیمت‘ کیا حقوق العباد میں وہ خواتین بھی آتی ہیں جن کی شادی نہ ہوئی ہو؟ کیا نفس پر قابو کی دعوت صرف مردوں کے لیے ہے یا عورتوں کے لیے بھی کہ اپنے نفس پر قابو کر کے اپنے شوہروں کو دوسری شادی کی اجازت دیں۔

چٹھا سوال: سوکنا پے کی جلن کوئی فطری امر ہے یا محض بر صغیر کی عورت اس مرض کا شکار ہے؟

جواب: اس کے جواب میں فرماتی ہیں کہ؛ میں اس سوال کا شاید استدلالی جواب تو تشفی بخش انداز میں نہ دے سکوں، مگر؛ پھر قرآن کے ایک واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات انسان کے ہر رشتے میں پائے جاتے ہیں۔ ان کو سوکن کے رشتے سے خاص کرنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔
آخر میں نبیﷺ کی زندگی کی طرف حوالہ دیتے ہوئے بیوہ عورتوں سے شادی کر نے کی ترغیب دی ہے۔ جس کو خود پیغمبر ﷺ نے اپنے صحابہ کو بھی اس انداز سے ترغیب نہیں دی جہاں کنواری سے شادی کی مخالفت جھلکتی ہو۔ لیکن پھر بھی سوال اٹھتا ہے کیا ہمارے معاشرے میں دوسری شادی ایک بیوہ عورت سے کرنے کی اجازت موجود ہے؟ یا یہ صرف دوسری شادی کی مخالفت میں آخری ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے؟

یہ بھی پڑھئے: ملازمت پیشہ عورت اور شادی کا انتخاب : منزہ احتشام گوندل

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: