عُمرِ رواں کے لمحے لمحے کا احساس —- محمود خارانی

0
  • 28
    Shares

ہر سال کے اختتام پر ہم اپنی زندگی کا ایک نہایت قیمتی حصہ اور پورا سال کھو رہے ہوتےہیں، جو برف کی طرح پگھل کر رزق خاک ہوجاتا ہے، مگر ہمارے اندر نہ احتسابِ زندگی پر آمادگی نظر آتی ہے اور نہ ضیاعِ عمر پر درد و غم کے آثار!!
شاعر نے سچی تصویر کشی کی ہے:

نفس کی آمد و شد کہہ رہی ہیں غفلت کیش
کہ مثل برف ترا بہہ رہا ہے راس المال

اکبر الہ آبادی نے بھی کہا تھا کہ :
جب سالگرہ ہوئی تو عقدہ یہ کھلا
یاں اور گرہ سے ایک برس جاتا ہے

آئیے عمر کے گزرتے لمحات کی قدر دانی مفتی اعظم مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ سے سیکھتے ہیں، جو اپنے دور کی عظیم دینی و ملی شخصیات میں سے ایک تھے، پاکستان کا مفتی اعظم، تحریک آزادی کا سرکردہ رہنما، جامعہ دارالعلوم کراچی کا بانی، مشہور اردو تفسیر معارف القرآن سمیت سو سے زائد اردو اور عربی کتابوں کا مصنف۔

شاہراہ زندگی پر سفر کے دوران مفتی اعظم مولانا محمد شفیع رحمہ اللہ ہر قدم اس احساس کے ساتھ اٹھاتے کہ:
جواہرات ہیں تیرے یہ وقت کے لمحات
انہیں تو غفلت و نسیاں کےطاق میں مت ﮈال

آپ کا معمول تھا کہ ہر چند سال بعد گزشتہ عمر کا مرثیہ پڑھتے تھے۔ آپ کی فارسی اور اردو کے عارفانہ کلام میں ایسے مفصل مرثیے ملتے ہیں، جو آپ نے عمر گزشتہ پر مرثیہ کے طور پر پڑھے، چند مرثیے پیش خدمت ہیں :
30 سال کی عمر کو پہنچے تو 1345ھ کو عمر رفتہ پر مرثیہ میں کہا:

نہ ز علمت نصیب روشنیۓ
نہ بدست تو توشہ اعمال
خواجہ مصروف عقد سالگرہ
واز گرہ رفتہ اش دگر یک سال
شیشہ سرخ داشتی بر چشم
جملہ عالم شدہ بچشمت لال
فکر آں روز پیش گیر کہ چوں
ایستادی حضور رب جلال
(ترجمہ) : نہ تجھے علم سے کوئی روشنی ملی، نہ تیرے ہاتھ میں اعمال کا توشہ۔
جناب سالگرہ منانے میں مصروف، جبکہ سال کا گرہ ہاتھ سے نکل گیا۔
آنکھ پر سرخ چشمہ لگانے سے اسے ساری دنیا لال نظر آتی ہے۔
اس دن کی فکر کر جب رب کے حضور کھڑے ہونا ہے۔

پانچ سال بعد دوبارہ گویا ہوۓ:

سی و پنج تو رفت در غفلت
پنج باقی مگر نگہداری
تا بکے شکوہ ہاۓ خواب گراں
اے کہ خواب تو بہ ز بیداری
جملہ عالم بخدمتت مشغول
واۓ بر حال تو کہ بیکاری
راحت از تو بہ ہیچ کس نہ رسید
حیف باشد کہ مردم آزاری
(ترجمہ) : پینتیس سال غفلت میں گزر گئے، باقی پانچ سال کی حفاظت کر۔
کب تک خواب گراں کا شکوہ، تم تو وہ ہو جس کا سونا بیداری سے بہتر ہے۔
پوری کائنات تمہاری خدمت میں مصروف، مگر افسوس کہ تو خود بیکار پڑا ہے۔
تم سے کسی کو کچھ آرام نہیں پہنچا، حیف ہے کہ تو لوگوں کو تکلیف پہنچاتا رہا۔

1363ھ کے مرثیہ میں کہا:

دیر سے بج رہا ھے کوس رحیل
تو پڑا سو رہا ھے خوار و ﺫلیل
گن غنیمت یہ عمر کی ساعات
جوہر بے بہا ہیں یہ اوقات
لہو و غفلت میں کھوچکا ھے پچاس
قدر کر , رہ گئے ہیں جو انفاس

ساٹھ کے مرحلے میں پہنچنے کے بعد خوگرِ غم کا لہجہ کچھ یوں ہوگیا: (لاہور صفر 1372ھ):

اس قدر ہوگیا ہوں خوگر غم
دل میں کوئی خوشی نہیں آتی
گدگداۓ کوئی ہزار مگر
اب لبوں پر ہنسی نہیں آتی
عمر رفتہ کی یاد شام و سحر
کس جگہ کس گھڑی نہیں آتی
ہوچکی ھے جو غفلتوں میں بسر
پھر کے وہ زندگی نہیں آتی

1376ھ کے مرثیہ میں آہ و فغاں ملاحظہ کیجۓ:

عمر کے ہوچکے ہیں باسٹھ سال
اور اپنا وہی تباہ ھے حال
اف یہ موۓ سفید و روۓ سیاہ
الغیاث الغیاث یا اللہ
عمر گزری ہوا پرستی میں
غفلت و معصیت میں مستی میں
اب خلاصی کی کوئی راہ نہیں
تیرے در کے سوا پناہ نہیں۔

بالآخر عمر عزیز کا یہ مرثیہ خواں 10 شوال 1396ھ/1976ء کو کراچی میں وفات پاکر ہمیشہ کیلۓ قرار پاگیا۔ تغمدہ اللہ بغفرانہ۔ آپ کے ان مرثیوں میں ہمارے لئے یہ پیغام موجود ہے کہ ہم عمر کے لمحے لمحے کی قدر کریں، اسے دین و دنیا کے فائدے کے کام میں لگادیں، بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ بعد میں کف افسوس نہ ملنا پڑے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: