میرا ذوق مطالعہ اور پسندیدہ کتب —— احمد جاوید (2)

0
  • 76
    Shares

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

اردو زبان میں جس تحریر نے مجھ پر بہت اثر ڈالا ہے وہ جو سننے میں آپ کو عجیب لگے گی۔ مجھے بہت زیادہ اثر پڑا ہے ’’تواریخِ حبیبِ الٰہ‘‘۔ یہ سب باتیں میں ماضی میں ہو کر کر رہا ہوں۔ یہ سیرت کی ایک کتاب ہے۔ صوفی عنایت احمد کاکا کوروی صاحب کی جب وہ کالے پانی کی سزا پر تھے۔ اور محض حافظے کی بنیاد پر انھوں نے لکھا تو اُس کتاب میں جیسی تاثیر ہے وہ اگر کسی کو Catch کر لے تو وہ پورا بدل جاتا ہے۔ مطلب یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کا میں ایک صفحہ بھی شدت جذبات سے پڑھے بغیر نہیں رہ سکا۔ جب کوئی چیز آپ کے ذہن کو بدل دے اور آپ کے جذبات کو بھی بدل دے یہ ہوتا ہے مکمل انقلاب۔ اِس کتاب کی یہ تاثیر میرے تجربے میں ہے کہ اس نے میرے ذہن اور میرے احساسات کو بالکل ایسے بدل دیا اور آج بھی مجھے کوئی روحانی مسئلہ ہو تو میں یہ کتاب دیکھتا ہوں۔

اخبار میں بالکل سرسری طور پر پڑھتا ہوں۔ ایک ہی پڑھتا ہوں۔ جنگ اور کبھی کبھار نوائے وقت دیکھ لیتا ہوں۔ یعنی اخبار بینی سے مجھے مناسبت کبھی نہیں ہوئی۔

میرا سفر مطالعہ کے بغیر تو کٹ نہیں سکتا۔ خاص طور پر ٹرین یا بس میں۔ جو بھی کتاب ہاتھ لگ جائے پڑھتا ہوں۔ مثلاً فلسفے کی کئی کتابیں سفر میں پڑھیں ہیں اور شاعری بھی اکثر دوران سفر پڑھی ہے۔

فلسفے میں سب سے زیادہ مجھ پر اثر ہوا ہے Dialouges of Plato (مکالمات افلاطون) اور kant (کانٹ) کا۔ Critic of Pure Reason پر Nietzsche  یہ دو کتابیں ہیں جو بہت حد تک اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ خیالات کیا ہیں لیکن یہ کتابیں آپ کو کہیں اور کھڑا ہو جانے پر مجبور کردیتی ہیں۔ اس طرح امام غزالی کی ’’تہافتہ الفلاسفہ‘‘ اور ’’مقاصدالفلاسفہ‘‘ یہ دو کتابیں ہیں جس نے میرے ذہن کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ اگر کوئی آدمی فلسفہ پڑھنا چاہے تو اسے چاہیے کہ ابتدا کسی اچھی تاریخ فلاسفہ سے کرے مثلاً میں نے جو پڑھی تھی وہ Story of philosophy تھی۔ اِس کی خوبی یہ ہے کہ یہ بہت ہی شگفتہ نثر میں ہے ول ڈیورنٹ نے انگریزی لکھنے والوں میں بہت ہی خوب صورت قسم کی نثر لکھی ہوئی ہے اور ول ڈیورنٹ کیPleasure of philosophy پڑھیں۔ اور اُس کے بعد برٹانیکایا کسی اور انسائیکلو پیڈیا سے اپنے ذوق اور نقطہ نظر کے مطابق کوئی مکتب فکر Adopt کرے۔ لیکن جو بنیادی Skill ہے اِن دو چیزوں سے حاصل کر لے۔

دوسری اہم ترین بات اگر کوئی بھی علم حاصل کرنا ہے تواس کے لیے کتاب ڈھونڈنے سے پہلے استاد ڈھونڈنا چاہیے۔ ورنہ آپ چند مستقل غلط فہمیوں میں مبتلا رہیں گے۔

میرے مطالعے کے کوئی خاص اوقات نہیں ہیں۔ پڑھتا اب بھی کم ہوں۔ اب پڑھنا ضرورت کے تابع ہے۔ پہلے میں آٹھ آٹھ گھنٹے پڑھتا تھا۔ حافظہ پہلے تو اچھا تھا لیکن اب کمزور ہو گیا ہے۔ اس طرح نہیں جو پہلے تھا۔

میرے مطالعے میں کوئی چیز اثر انداز نہیں ہوتی۔ شور ہو، مجمع ہو، جب مجھے پڑھنا ہے تو پڑھ لیتا ہوں۔ یہ ٹھیک ہے کہ خاموشی اور تنہائی میں مطالعہ زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ لیکن شور شرابا ہو تو پھر بھی میرے لیے مطالعہ بہت زیادہ مشکل نہیں ہوتا، نوٹس لکھتا تھا، کتاب کے حاشیے پر، یہ میری عادت ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  خریطہ جواہر — اردو میں فلسفے کی بہترین کتب: اعجاز الحق اعجاز

 

اپنے مطالعہ میں بچوں کو شامل کرتا ہوں انھیں کو پڑھاتا ہوں، لیکن میری اب ترجیحات بدل گئی ہیں۔ میرے مقاصد اُن کے لیے ذہنی سے زیادہ اب دینی ہیں۔ میں زیادہ وقت اُن کی دینی تربیت کے لیے صرف کرتا ہوں اور اِس میں اِس بات کا خیال رکھتا ہوں کہ اُن کی ذہانت میں ترقی ہو۔ میرے خیال میں ذہانت اور اخلاق یہ دینی ضروریات ہیں۔ اِس لیے میں کافی اہتمام کرتا ہوں۔ لیکن ذہانت فلسفے کے حوالے سے نہیں پیدا کرنا چاہتا۔ کیونکہ فلسفے کا آزاد مطالعہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ اسی لیے میں نے اپنے بچوں کو فلسفے سے دور رکھاہے Logic وغیرہ سے بھی۔ لیکن کوشش یہ ہوتی ہے کہ یہ کامیاب نہیں بن سکتے تو نہ بنیں، بہت قابل نہیں بن سکتے تو نہ بنیں لیکن نیک ضرور بن جائیں۔

میں نے جتنی کوشش کی ہے کتابیں لینے میں وہ شاید کم لوگوں نے کی ہے۔ یا جتنے شوق سے میں کتابیں لینے جاتا تھا اب وہ کم ہو گیا۔ لیکن ایک دوسری عادت مجھ میں ہے کہ میں کتابیں جمع نہیں کرتا۔ اُس میں اپنے آپ کو ایک ذریعہ سمجھتا ہوں کہ اگر میں نے پڑھ لی ہے تو آگے دے دوں۔ تو جہاں تک لائبریری کی بات ہے تو میرے پاس کوئی لائبریری وغیرہ نہیں لیکن یہ ہے کہ وہ سب کتابیں میری دسترس میں رہی ہیں۔ ہم لوگوں نے ایک اچھا نظام بنایا ہوا ہے جس میں کتابیں گویا سب کی ملکیت ہیں۔ اور سب کی دسترس میں ہیں۔ چند کتابیں جو کہ جو مذہبی ہیں۔ میں گھر میں رکھتاہوں یہ صرف 7، 8ہزار تک کتابیں ہوں گی۔

میں اس معاملے میں کتابیں نذر کر دیتا ہوں۔ اور جب بھی کسی سے کوئی کتاب مانگی ہے اُس نے دے دی ہے۔ اور اُس میں مجھ سے کئی مرتبہ کوتاہی ہوئی ہے دینے میں۔ اگر اِس معاملہ میں کبھی مجھ سے کوتائی ہوئی ہے تو یہ میری طرف سے ہوتی ہے۔ مجھے کسی نے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی۔

بہت کتابیں ایسی ہیں جو نایاب تھیں بہت مشکل سے ڈھونڈی گئیں۔ کچھ پرانے ٹیکسٹ تھے تصوف کے وہ مشکل سے ملے۔ ایک صاحب تھے ابو طالب مکی۔ اُن کی کتاب ہے ’’قوت القلوب‘‘ وہ میری رائے میں تصوف کی بنیادی کتاب ہے۔ مفصل ہے اور نہایت ہی ضخیم اور اِس کا اثر غزالی جیسے آدمی نے بھی قبول کیا ہے۔ اگر آپ مجھ سے یہ کہیں کہ میرے تصوف سے وابستہ تصورات کی تشکیل میں کس کتاب نے سب سے زیادہ اثر ڈالا تواس ضمن میں نام لوں گا ’’قوت القلوب‘‘ کا‘ آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ میں نے تصوف کی ہر کتاب پڑھی ہوگی۔

مطالعے کا پروگرام مطالعے کرنے والوں کی صحبت سے بنتا ہے۔ ایسے کوئی نہیں بنا سکتا کہ آپ اُس کو کہیں کہ گھنٹہ لگائے یا دو گھنٹے۔ اصل چیز یہ ہے کہ جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں ان لوگوں سے ہم نشینی اور صحبت جاری رہنی چاہیے۔ ایسے لوگوں کی صحبت میں رہ کر آپ کو اپنے مطالعے کی ضروریات کا اندازہ ہوگا اور وہ بنیادی شوق پیدا ہو گا جو آپ سے وقت Spare کروائے گا۔ میرا مشورہ ہر ایک سے یہی رہتا ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھاکرو، ان شاء اللہ مہینے بعد ہی تم خود کتابیں ڈھونڈتے نظر آؤ گے اور اپنی مصروفیات میں سے تردّد کرکے وقت نکالو گے، کیونکہ اب وقت ضائع ہونے کے اتنے ذرائع پیدا ہو گئے ہیں، مطلب کہ ایک عجیب دھوکا سا پیدا ہوگیا ہے کہ ہمارا وقت ضائع نہیں ہو رہا، ہم مصروف ہیں۔ اس کی موجودگی میں ہر کسی سے مجھے اتنا کہنا ہے کہ آپ دو گھنٹے پڑھا کرو۔ یہ بہت ضروری ہے یہ بے معنی باتیں نہیں۔ یعنی اُس کے ذہن میں یہ بات محفوظ ہی نہیں رہے گی۔ بہتر ہے کہ کوشش اور رغبت دونوں کی جائے۔ پڑھے لکھے لوگوں کی صحبت کی طرف۔ اِس کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ ہماری معاشرت نہیں ہے۔ یہ روایات باقی رہیں۔ لوگ پڑھتے تھے۔ اب ٹی وی نے ہماری زندگی میں مرکزی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ اور اب یہ روایت باقی نہیں رہی۔

ادبی مطالعہ ناگزیر ہے۔ ایک تو یہ کہ اِس سے آپ کو زبان کا علم حاصل ہوتا ہے۔ ادبی مطالعے کے بغیر زبان کا علم حاصل کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔ اور دوسرا فائدہ اِس کا یہ ہے کہ اِس سے آپ کا جمالیاتی شعور تربیت پاتا ہے۔ یہ دونوں مقاصداتنے بڑے اور اہم ہیں کہ اِن کو نظر انداز کرنا گویا انسانوں کی طرح زندگی گزارنے سے دست بردار ہونا ہے۔ میری نظر میں وہ انسان نہیں ہے جس کو لفظ کا علم نہیں۔ لفظ جس پر اثر نہیں کرتا۔ لفظ جسے اپنے طرف کھنچتا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ہماری بدیہی و فطری ضرورت بھی ہے روحانی ضرورت بھی ہے اور جمالیاتی ضرورت بھی۔

مطالعے کا تسلسل آپ کی فکر میں دونوں طرح کی تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے، ایک یہ کہ اُس کی تکمیل کرتا ہے۔ تکمیل کا عمل بعض اجزا کو چھوڑنے سے اور بعض نئے اجزا کو اختیار کرنے سے ہوتا ہے، یہ بنیادی تبدیلی تو نہیں ہوتی یہ ایسے ہی ہوتا ہے جیسے آپ کے الگ خیال کی پرانی دلیلیں رد ہو جائیں اور کئی نئی دلیلیں حاصل ہو جائیں اور تبدیلی بھی آتی ہے کہ آپ کے بنیادی تصورات بدل جاتے ہیں۔

میرے خیال میں میں نے پہلی قسم کی تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔ اور میرے بنیادی نظریات تو شاید مطالعے کی وجہ سے نہیں بدلتے لیکن اُن بنیادی نظریات کو Support کرنے والے دلائل جو ہیں وہ بدل گئے ہیں یہ مطالعے کا ایک قدرتی اثر ہے۔ جو بہت سے لوگوں پر ہوتاہے۔ اگر باقی زندگی میں بالکل تنہائی کا موقع ملے تو اپنی زندگی کے لیے تین کتابیں جو اپنے ساتھ رکھنا چاہوں گا وہ ریاض الصالحین۔ مثنوی مولانا روم اور دیوان حافظ رکھنا چاہوں گا۔

میری ایک مزاجی مجبوری ہے کہ میں غیر مذہبی تحریروں سے اشتعال محسوس کرتا ہوں۔ آج بھی اور نوجوانی میں بھی کرتا تھا۔ ہمارا جو ایمانی وجود ہے اُس میں جذبہ پہلے ہے خیال بعد میں۔ جو آدمی اس ترتیب کو بدلنا چاہیے گا وہ اپنے ایمانی وجود کو کمزور کرے گا۔

سیرت کی ایک کتاب ہے حکیم عبد الرؤف دانا پوری کی کتاب ’’اصح السیر‘‘ وہ مجھے بہت اچھی لگی۔ یا ابن قیم کی ایک کتاب سے ’’زاد المعاد‘‘ ہے بہت شوق سے پڑھتا ہوں۔ یا مولانا مناظر احسن گیلانی صاحب کی کتاب ’’النبی الخاتم‘‘ ہے۔ اور یہ سب سے مختصر ہے اور پر تاثیر بھی ہے اسی طرح علم پیدا کرنے کے لیے ایک مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کی ایک کتاب ہے۔ نشر لطیب فی ذکر الحبیب بہت ہی زبردست اور اہم کتاب ہے۔

ختم شد


یہ بھی ملاحظہ کیجئے:
ہمارا مغرب سے اختلاف کہاں پر ہے؟ احمد جاوید

ڈاکٹرمبارک علی: مطالعاتی اور علمی زندگی — حصہ اول

(Visited 665 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20