میرا ذوق مطالعہ اور پسندیدہ کتب —— احمد جاوید (1)

0
  • 355
    Shares

ذاتی حالات کے بارے میں گفتگو کرنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔ مختصراً عرض کرتا ہوں کہ میں 1954 میں یوپی کے مشہور شہر الہ آباد کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ بالکل شروع کے تین سال اپنے دادا دادی کے ہاں بسر ہوئے۔ اُس کے بعد ہم لوگ پاکستان آگئے پھر جوانی تک کراچی میں رہا۔ 1981میں وہاں کے حالات کی وجہ سے کراچی چھوڑ دیا۔ 1985تک صوبہ خیبر پختون خواہ میں رہا۔ 1985-86 میں لاہور آگیا اور اقبال اکیڈمی جوائن کر لی۔

جس کو تعلیم کہاجاتا ہے اس کا آغاز تو اپنی دادی کے ساتھ ہوا میری دادی ماشاء اللہ بہت باذوق خاتون تھیں۔ اس زمانے کے اعتبار سے بہت پڑھی لکھی تھی۔ اس زمانے میں پڑھی لکھی خاتون وہ سمجھی جاتی تھیں جنھیں فارسی آتی ہو، تو وہ فارسی جانتی تھیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے ابتدائی برسوں میں جب میں نے سکول جانا شروع نہیں کیا تھا۔ میرے اندر فارسی سے رغبت پیدا کر دی۔ اُن کا طریقہ بہت اچھا تھا وہ روز مجھے تین لفظ سکھاتی تھیں۔ اُس کی وجہ سے زبان کا ایک بنیادی ذوق پیدا ہوا۔ باقاعدہ سکول کی تعلیم کا آغاز کراچی میں ہوا۔

ذوق مطالعہ کو پروان چڑھانے میں سب سے پہلی شخصیت میرے دادا کی تھی جس نے اثر ڈالا، میرے دادا الہ آباد یونی ورسٹی میں انگریزی پڑھاتے تھے اور وہ نہایت ہی غیر معمولی پڑھے لکھے آدمی تھے اور اچھی خاصی لائبریری کے مالک تھے۔ عجیب طرح کے ذوق کے آدمی تھے مطلب یہ کہ انھوں نے ساری زندگی اپنا گاؤں اور اپنا گھر نہیں چھوڑا، اور نہ ہی بدلا گو کہ دنیا داری کے اعتبار سے بہت کامیاب آدمی تھے، اگرچہ اُن کے لیے اِن چیزوں پر قائم رہنا کافی مشکل ہو گا، لیکن انھوں نے اپنی وضع نہیں بدلی۔ گھر میں ان کی جو لائبریری تھی اس میں تقریباً چار پانچ ہزار کتابیں تھیں، مجھے یاد ہے کہ میری سمجھ آئے یا نہ آئے میں کوشش کرتا تھا کہ ہر کتاب کو کھول کے دیکھوں، میرے اندر ذوقِ مطالعہ پیدا ہونے کی سب سے پہلی اہم وجہ یہی ہے۔ میرے دادا ذرا سخت مزاج اور بارعب تھے، ہر گاؤں میں عموماً گھر بڑے بڑے ہوتے ہیں تو وہاں جو ہمارا گھر تھا‘ اس میں باہر کئی Pillars بنے ہوئے تھے ایک مرتبہ میں کوئلے سے اپنی دانست میں اُس پر انگریزی لکھ رہا تھا کیوں کہ میں اُن کی کتابیں دیکھتا رہتا تھا، الٹے سیدھے لفظ ہوتے تھے۔ شام کو جب دادا نے یہ کارروائی دیکھی جو خاصی خوف ناک تھی لیکن انھوں نے پہلی مرتبہ مجھے بلا کے گلے لگایا اور پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا ہے۔ میں نے کہا میں نے انگریزی لکھی ہے۔ میری عمر اُس وقت پانچ چھ سال ہو گی تو انھوں نے گود میں اٹھایا گلے لگایا اور کہا کہ ہاں ہمیشہ لکھتے رہنا لیکن کاغذ پر لکھا کرو۔ اس واقعہ نے میری زندگی کو ایک رخ دیا۔

اُس کے بعد میرے لیے سب سے زیادہ مفید اور سب سے زیادہ Provoking صحبت سلیم احمد کی تھی۔ 1969 میں جب میں میٹرک میں تھا تو سلیم احمد سے متعارف ہوا۔ سلیم احمد بہت بڑے ادیب‘ شاعر اور استاد تھے ریڈیو پاکستان کے انتہائی لائق لکھاریوں میں سے تھے۔ میری خوش قسمتی کہ میری شاعری میں دل چسپی کو دیکھتے ہوئے کہ ایک کلاس فیلو نے، جو ان کے رشتہ دار تھے مجھے ان سے ملا دیا، اس کے بعد میری زندگی واضح طور پر اُن کی صحبت کی وجہ سے یک سو ہو گئی۔ مطالعہ کا نہ صرف انھوں نے شوق پیدا کیا، بلکہ مطالعہ کے راستے بھی دکھائے اور پھر جو کہتے تھے اُس کی نگرانی بھی کرتے تھے۔ یہ پڑھو یہ نہ پڑھو، یعنی نگرانی کرتے تھے کہ پڑھا یا نہیں پڑھا اور اس بارے سوالات بھی کرتے۔ جیسے ایک روایتی استاد ہو۔ پھر کچھ مضامین کو پڑھنا اور انھیں پڑھ کے سنانا میری ذمہ داری تھی۔ اُس میں وہ غلطیاں پکڑتے تھے۔ گویا مرکزی حیثیت میری تربیت میں سلیم احمد صاحب کی ہے۔ انھوں نے مجھے ایسے مطالعہ سے جس کا کوئی مقصد نہیں تھا، اُس سے روکا بھی اور میرے ذوق کی اصلاح کی، میرا خیال ہے کہ میرے ذہن کی اگر کوئی نشوونما ہوئی ہے تو وہ سلیم احمد صاحب کی وجہ سے ہے۔ وہ بہت ہی عظیم انسان تھے اور انھوں نے اپنے بیٹوں کی طرح میری تربیت کی۔

یہ بھی دیکھئے:  سلیم احمد بنام احمد جاوید : تاریخی خطوط

 

اُن کے زیر سایہ برسوں گزر گئے اس لیے کہیں اور میرا استفادے کا تعلق پیدا نہیں ہوا۔ استفادے کا سارا سلسلہ سلیم احمد صاحب سے وابستہ رہا۔ تو یہاں تک کہ جہاں میرے اپنے اندر اپنی رائے بُننے کا عمل شروع ہوا۔ وہ بھی اُنھی کی صحبت میں شروع ہوا۔ جب آدمی میں رائے بننے کا عمل شروع ہو جائے تو وہ پھر کسی نئے استاد کی تلاش میں نکلتا ہے میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ویسے سلیم احمد کے حلقے میں بہت سے لوگ تھے۔ جن سے مجھے بہت فائدہ ہوا اُن کے چھوٹے بھائی شمیم احمد سے مجھے بہت فائدہ ہوا کہ روایتی شاعری کو کیسے پڑھنا چاہیے۔ اُن کے ایک دوسرے دوست تھے۔ جمال پانی پتی ان سے بہت استفادہ کیا اور اُن سے بھی تعلق رہا یعنی میرا جب تشکیلی دور تھا تو وہ سلیم احمد اور اُن کے حلقے سے پورا ہوا۔

سلیم احمد نے میرے لیے ایک نصاب بنایا تھا۔ اُن میں کلیاتِ میر، ول ڈیورانٹ کی The History of Philosophy ایک اور عجیب وغریب کتاب تذکرئہ غوثیہ شامل تھیں۔ ایلیٹ کے تمام مضامین اور کچھ نظمیں یعنی لمبی نظمیں اور محمد حسن عسکری کی تمام کتابیں۔ عسکری صاحب سلیم احمد کے استاد تھے اور سلیم احمد اُن کے آگے ایسے ہی تھے جیسے کوئی مرید اپنے پیر کے سامنے ہوتا ہے۔ میں نے ایسی شاگردی استادی کبھی نہیں دیکھی، یعنی اپنے استاد پر ایسا نثار ہوجانے والا شاگرد میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ آخری زندگی میں اُن کے باہمی تعلقات میں تلخی اور ناہمواری بھی آگئی تھی سلیم احمد کے جسارت میں لکھنے کی وجہ سے۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ سلیم احمد عسکری صاحب کے بارے میں کسی بھی طرح کی ناگواری یا شکایت کے احساس میں مبتلا ہوں۔

اس طرح میرے مطالعہ کا باقاعدہ اس نصاب اور آغاز عسکری صاحب کی کتب سے ہوا۔ پھر کلیات میر اور فلاسفی کی کچھ کتب جن کا آغاز Story of Philosophy اور ہوا۔ اُس کے بعد Jingle bellet کے History of Ideas تھی۔ جن کتابوں کا مجھ پر دیرپا اثر ہوا اور لگتا ہے کہ ساری زندگی رہے گا وہ ہیں ’’کلیات میر‘‘ اور ’’حسن عسکری‘‘ صاحب۔

میرا بنیادی رجحان اور پسندیدہ موضوع تو شاعری اور مذہب کا مطالعہ ہی ہے ساری اردو شاعری اور تمام بڑی فارسی شاعری کچھ انگریزی شاعری۔ لیکن میری شخصیت و فکر پر جو اثرات ہیں وہ دینی لحاظ سے مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا مودودی کے ہیں۔

عسکری صاحب کی ہر تحریر اردو میں لکھی جانے والی سب سے اچھی تحریر ہے۔ عسکری صاحب بھٹو مرحوم کے شیدائی تھے، بھٹو صاحب کی آمد پر عسکری سٹرک پر کھڑے ہوتے تھے اور ان کا استقبال کرتے تھے، لیکن اِن کی تحریر میں اتنی طاقت ہے کہ یہ اپنے ساتھ دشمنی بھی کسی کے دل میں ہو، تو اُس کو بھی اپنے تابع کر سکتے ہیں، کہ انھوں نے اردو میں جس موضوع پر لکھا ہے وہ سب سے اچھا لکھا ہے۔ آپ ان کی کوئی تحریر چھوڑ نہیں سکتے۔ یہ سلیم احمد کے ساتھ گزرے ہوے وقتوں کا یا ابتدائی وقتوں کا احوال ہے سب سے بڑی achievment میر تقی میر اور حسن عسکری صاحب تھے۔ اُن کی کتاب ’’ستارہ یا بادبان‘‘ اُن کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اِس نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔ میں نے اِس کو کوئی بیس مرتبہ پڑھا ہو گا۔

میرا بنیادی رجحان اور پسندیدہ موضوع تو شاعری اور مذہب کا مطالعہ ہی ہے ساری اردو شاعری اور تمام بڑی فارسی شاعری کچھ انگریزی شاعری۔ لیکن میری شخصیت و فکر پر جو اثرات ہیں وہ دینی لحاظ سے مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ہیں۔

مولانا مودودی صاحب کو اُس زمانے اس لیے پڑھا کہ سلیم احمد کی رائے اُن کے بارے میں بہت اچھی تھی اس لیے میں نے بہت زیادہ پڑھا۔ ان کے بعد مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کو پڑھا اور پھر کچھ تصوف کا لٹریچر پڑھا۔ میری اُس وقت بنیادی دل چسپی تصوف میں تھی۔ اُس وجہ سے تھانوی صاحب مجھے بہت زیادہ Attract کرتے تھے پھر تصوف کی جو بھی بنیادی کتابیں ہیں تقریباً میں نے اکثر اُس زمانے میں پڑھیں۔ میٹرک سے گریجویشن تک کے دور میں۔

مولانا مودودی صاحب کی جو کتابیں ہیں اُن میں ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ ان کی اہم ترین اور بنیادی کتابیں ہیں جس میں ان کی پوری فکر اور تصور دین سمجھ میں آجاتا ہے۔ اُن کا ’’تفہیمات‘‘ کا جو سلسلہ ہے اُس کا مجھ پر بہت زیادہ اثر ہوا کیونکہ اُس میں بہت سے Relevant مسائل تھے۔ بہت سارے میرے مسائل بھی تھے۔ جس پر وہ جواب لکھتے تھے۔ اُن کا بہت اثر ہوا۔ ایک اور اہم ترین کتاب ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ ہے جو شاید اُس وقت کتابی شکل میں نہیں تھی‘ بلکہ ڈاکٹر عبد الودود کے ساتھ اُن کا مکالمہ چل رہا تھا اور رسائل میں چھپ رہاتھا۔ اُس سے میں بہت متاثر ہوا۔ ان سے متاثر ہونے کا ایک وہ دینی جذبہ تھا لیکن دوسرا سبب یہ ہوا کہ ان کا استدلال بہت ہی قابل اعتبار ہے۔ اگر مودودی صاحب کی دو تین نمائندہ تحریریں منتخب کی جائیں تو اِن ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ ضرور شامل ہوں گی۔ اصل میں اُن کا سب سے بنیادی کام اُن کی تفسیر ہے۔ ایک کتاب جو شاید کم نظر آتی ہے، لیکن بہت اہم اور قابل ذکر کتاب ہے وہ ’’اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی‘‘ ہے۔ وہ بھی میری بہت پسندیدہ کتاب ہے۔ لیکن اُس زمانے میں میرے لیے تھوڑی مشکل تھی۔ یہ کتاب غالباً مولانا مودودی صاحب کی سب سے مشکل کتاب ہے لیکن جو ’’قرآن کی بنیادی اصطلاحیں‘‘ ہیں اِس کی اہمیت یہ ہے کہ مودودی صاحب کی ساری کتابوں کا جو سرور اس میں نظر آتا ہے وہ کسی اور میں نہیں۔ تو اگر کوئی شخص اُن کی فکر کا مطالعہ کرنا چاہے تو اُس کے لیے بہتر ہے کہ وہ اِس سے آغاز کرے۔

حضرت تھانوی کی جو ’’التکشف عن مہمات التصوف‘‘ مجھے بہت اچھی لگتی تھی۔ ایک اُن کی مختصر سی کتاب سے تعلیم دین اور مواعظ کے بارے میری آج بھی رائے ہے کہ ہندوستان میں کسی نے اُن جیسا نثری مواعظ پیدا نہیں کیے۔ زندگی کے بارے میں ان کی تحقیق لوگوں کی ریسرچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کتابوں سے زیادہ رواں ہے۔ اب مجھے زیادہ جو دل چسپی ہے وہ اُن کے مواعظ سے ہے اور ان کی کتاب ’’تربیت السالک‘‘ اگر میں دوسروں کو بتائوں تو پھر پہلے تعلیم الدین ضرور پڑھو۔

مولانا ابوالکلام آزاد بھی اُس زمانے میں میں نے بہت پڑھا۔ لیکن مولانا آزاد کا اُس وقت تاثر اچھا نہیں پڑا اب میری رائے دوسری ہے مجھے لگا کہ ان میں تصنع بہت زیادہ ہے۔ ممکن ہے اُس کا ایک mind set یہ بھی ہو کہ عسکری صاحب چونکہ اُن کے بہت زیادہ مخالف تھے۔ اس وجہ سے میری رائے بن گئی۔ عسکری صاحب نے ایک جگہ ان کے بارے لکھا بھی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اُس شخص کا کیا ذوق کمال ہو گا جو چائے پر پندرہ صفحے لکھ ڈالے۔ ممکن ہے اس زمانے میں اِن باتوں کا اثر رہا ہو اور اس وجہ سے مولانا آزاد کا اثر تھوڑا سا منفی تھا۔ اب ایسا نہیں ہے۔ ابو الکلام آزاد کی تحریر میں معنی مغلوب ہوتے ہیں۔ اسلوب غالب ہوتا ہے، اور اُن کی تحریر مدلل نہیں ہوتی تحکمانہ ہوتی ہے۔ حسرت نے کہا کہ ’’جب سے دیکھی ہے آزاد کی نثر۔ نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا‘‘ لیکن مجھے نثر اُن کی آج بھی اچھی نہیں لگتی کہ اُس وقت سے ہی نہیں اچھی لگتی تھی۔ اور بات کی اہمیت دلیل کی بات پر نہیں زور کی بنیاد پر ہو جاتی ہے۔ مولانا ابو الحسن ندوی مجھے اچھے لگتے تھے جواب بھی لگتے ہیں۔ لیکن اُن کی باتوں میں جان نہیں ہے۔ میں شخصیت کے حوالے سے انھیں مولانا مودودی کے برابر ہی سمجھتا ہوں۔ وہ عبادات میں شاید مولانا سے بہت آگے ہوں لیکن ذہانت میں نہیں، یہ میری اپنی رائے ہے۔ مولانا دریا بادی کو بھی پڑھا ہے اور پسند بھی ہیں لیکن میری شخصیت پر سب سے زیادہ اثر حضرت تھانویؒ اور مولانا مودودیؒ کا ہی رہا ہے۔

شاعری میں میرا دل بہت لگتا ہے مثلاً میر ہیں، میں میر کو اب بھی ساری عمر پڑھ سکتا ہوں‘ غالب ہیں اسی طرح فارسی میں حافظ‘ مولانا رومی دونوں اور دیوانِ نظیری۔

شاعروں میں جو تین نام سب سے پہلے میرے کان میں پڑے تھے، وہ یہ تھے. سعدی، غالب اور اقبال۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں اپنا نام بھی لکھ پڑھ نہیں سکتا تھا۔ جب کچھ بڑا ہوا، یعنی تختی لکھنا سیکھی تو میرے دادا کے ایک چھوٹے بھائی، علی ظہیر صاحب عثمانی، مجھ سے اقبال کے چھوٹے چھوٹے شعر لکھواتے تھے. لکھنے میں خاصی غلطیاں ہوتی تھیں مگر عجیب بات ہے کہ وہ اشعار جیسے میرے دل میں جذب ہو جاتے تھے اور مجھے اپنے اندر کچھ ایسے گہرے احساسات کی بیداری کا تجربہ ہوتا تھا جو عام طور پر بچوں کے احساساتی نظام کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔

آگے چل کر غالباً ساتویں آٹھویں جماعت میں پہنچ کر میں نے پہلی مرتبہ “بانگِ درا” کھولی. “ہمالہ” اور “شکوہ”، یہ دو نظمیں خاص طور پر اتنی اچھی لگیں کہ تقریباً یاد ہو گئیں. پھر تو برسوں یہ عالم رہا کہ شاید ہی اقبال خوانی میں کبھی ناغہ ہوا ہو. آج سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بڑی شاعری کا ذوق اگر میرے اندر پیدا ہوا ہے تو اس کی بنیاد غالب نے بھی نہیں بلکہ اقبال نے رکھی ہے. ان کا ڈکشن اور لہجہ ایک آفاقی عظمت رکھنے والی شاعری کی آواز ہے. کم از کم اردو شاعری اتنی بڑی آواز کسی کو نہیں معلوم ملی۔

جدید شعرا میں مجھے۔ ن۔ م۔ راشد۔ عزیز حامد مدنی پسند ہیں اُن کو بہت زیادہ نظر انداز بھی کیا گیا۔ اِن کے بارے میں میری رائے اب بھی بہت اچھی ہے۔ لیکن اُس زمانے میں جو ایک انہماک تھا۔

فکشن کا مطالعہ میرا تاحال کم ہے۔ کیوں کہ افسانہ میں سلیم احمد کی دل چسپی نہیں تھی اس لیے فکشن میں نے تھوڑا پڑھا، لیکن یہ کہ جیسے ابتدائی زمانے میں پسندیدگی Develop ہو جاتی، قراۃ العین حیدر کے افسانے اچھے لگے تھے، خیر بعد میں، میں نے فکشن پڑھا اپنی ضرورت کے لیے تو اندازہ ہوا کہ اردو فکشن خاصا کمزور ہے۔ جب دوسری زبانوں کا فکشن دیکھا تویہ فکشن کسی شمار قطار میں نہیں آتا تھا۔ میری یہ رائے اپنی ہے۔ زیادہ متاثر کن فکشن روسی افسانوی ادب ہے اور نارتھ امریکہ کا فکشن ہے اور جنوبی ہندوستان کا فکشن ہے۔ تامل وغیرہ زبانوں میں اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ فکشن میں میری انتہائی پسندیدہ شخصیات کون ہے تو وہ دستوفسکی۔ جوزف کا دنولٹ۔ اور سموئیل پنکوٹ، جو انگلینڈ کا ہے۔ یہ لوگ ایسا لکھتے ہیں جو آپ کو مجبور کر دیتے ہیں کہ آپ انھیں بار بار پڑھتے رہیں۔ بہت سی چیزیں آپ کو عالم وجود سے بلند کر دیتی ہیں۔

اِن کے ناول بھی جوزف کا ونونٹ کا جو ناول ہے Art of Japanese ہے۔ دنیا کے بڑے ناولوں میں سے ایک ہے۔ دوستو فکسی بھی اہم ناولسٹ ہے۔ سیموئیل بیکٹ Play writer ہے۔ Cater of Abselt کے بانیوں میں سے ہے۔ اِس کا Waiting for Godot Happy days بہت بڑی چیزیں ہیں۔ Jay foneجو ہیں۔ اس نے ناول لکھے ہیں لیکن اُسے دنیا کا سب سے بڑا Short story writerکہتے ہیں۔ Short stories میں ان کا بہت بڑا نام ہے اور ناول میں بھی ہے۔ Gille Descal یہ اِس کے دو بڑے ناول ہیں۔ اِس کی بڑی دل چسپ کہانیاں بھی ہیں۔ Hunger Artist۔

عربی مجھے نہیں آتی۔ انگریزی میں طنز و مزاح میں نہیں پڑھ سکا۔ مجھ سے انگریزی میں نہیں پڑھاگیا کیوں کہ میرے خیال میں جب تک کسی زبان کی انتہائی محاوراتی سطح پر عبور نہ ہو اور ظاہر ہے اہل زبان کی ندرت کسی دوسری زبان میں نہیں ہو سکتی کہ وہ اِس زبان کو اہل زباں کی طرح سمجھ سکیں اور طنز و مزاح کو انجوائے کریں ا س لیے طنز اور مزاح کو انگریزی میں نہیں پڑھا ہے۔

—اس دلچسپ تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے—

یہ مضمون بھی دلچسپ ہے: میرا علمی و مطالعاتی سفر —– سجاد میر

اس وڈیو میں احمد جاوید صاحب اپنے علمی سفر کی داستان بیان کر رہے ہیں:

(Visited 1,863 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: