چند ھندسوں کا بدلنا کوئی تو جدت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عینی نیازی

0
  • 11
    Shares

ذاتی احتساب، پچھتائوں، تجزیئے اور نئے عہد و پیما ں کے سا تھ 2019ء کا سورج طلوع ہو چکا۔ ہمارے مایہ ناز شاعر فیض احمد فیض تو نئے ماہ و سال کی آمد کو ہندسوں کے بدلنے کا کھیل سمجھتے تھے، بے شک ما ہ و سال کا بدلنا کائنات قدرت کا ایک اصول ہے۔ زندگی میں جدت، کو ئی نئی تبدیلی جو کارآمد ہو اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی ضرور ہونی چا ہیے۔ کچھ ایسا ہی عزم لے کر نئے سال کا آغاز کر یں کہ اصل کھیل ہی انسان کا خود اپنی اصلا ح کرنا ہے، اپنا جائزہ لینا شخصیت میں، عادتوں رویوں میں، مثبت تبدیلی لانا پھر اس پر جم کر کاربند ہو جانا ہی زندگی کی کامیابی ہے ورنہ ما ہ و سال تو ہم سب کی حیات و موت کا ایک پہیہ ہے جو گھومتا رہے گا آخر ہما رے ابدی سفر پر روانہ ہونے تک جاری و ساری رہے گا۔

عربی کا مقو لہ ہے کہ وقت تلوار کی ما نند ہے اگر تم نے اسے نہیں کاٹا تو وہ تمھیں کاٹ دے گی۔ بے شک وقت کبھی نہیں تھمتا یہ ایسا وسیلہ ہے جو آپ دوبارہ پیدا نہیں کر سکتے۔ لارڈ چسٹر کہتا ہے کہ تم اپنے منٹوں کی حفا ظت کرو گھنٹے اپنی حفاطت خود کر لیں گے لیکن یہ وقت کیا ہے؟ محض مہینے، ہفتے، دن، رات کے جمع کا حاصل یعنی 365 دن سال کہلاتا ہے اور اسی ماہ و سال کی گنتی میں جتنے پل ہم نے زندگی سے خوشی کشیدکی وہی ہمارا سرمایہ حیات ہے۔

فینکلن کہتا ہے کہ زندگی سے محبت کر تے ہو تو وقت کو ضا ئع نہ کرو کیونکہ وقت ہی زندگی ہے لیکن ہم زندگی اپنی شرا ئط پر جیتے آئے ہیں خواہ کتنا ہی گھا ٹا ہو جا ئے لاکھ نئے سال پر ہم عہد و پیماں باندھیں ارادہ کریں کہ وقت کی قدر کریں گے کر نہیں پاتے۔

موجودہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ پہلی صدی قبل مسیح کا مصنف سائرس کہتا ہے کہ عقلمند انسان اپنے مستقبل کی اس طرح حفا ظت کرتا ہے جیسے وہ حال میں ہو۔ ہمارا ہر اقدام نتیجے کے اعتبار سے مستقبل کا وا قعہ ہے۔ زندگی کا ہر مسئلہ اہم ہے اگر آپ کوئی مشکل پیش آئے تو اسے اپنے لئے ایک چیلنج سمجھیں حالات کا جھٹکا انسان کو متحرک کرتا ہے جس سے آپ کی سوئی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں آپ کے اندر حالا ت سے مقا بلے کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے اس دنیا میں ہر مسئلے کا ایک حل موجود ہے اور ہر مشکل کی ایک تدبیر ضرور ہے۔ قر آن میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ خدا نے جو نظا م بنایا ہے اس میں ہر مشکل کے سا تھ آسانی ہے وقت کی اہمیت و قدر و قیمت پر جگہ جگہ ہمیں قرا ٓن کریم میں ہدایت کی گئی ہے لیکن افسوس کہ بحیثیت مسلمان ہم اس پر غور و فکر نہیں کر تے اس کے برعکس غیر مسلم ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کر تے نظر آتے ہیں جو ہما رے دین نے ہمیں سیکھنے کا حکم دیا ہے۔

فینکلن کہتا ہے کہ زندگی سے محبت کرتے ہو تو وقت کو ضا ئع نہ کرو کیونکہ وقت ہی زندگی ہے لیکن ہم زندگی اپنی شرا ئط پر جیتے آئے ہیں خواہ کتنا ہی گھاٹا ہو جا ئے لاکھ نئے سال پر ہم عہد و پیماں باندھیں ارادہ کریں کہ وقت کی قدر کریں گے کر نہیں پاتے۔ ہم اپنے بارے میں غور و فکر کر تے ہوئے حقا ئق کا زیادہ خیال نہیں رکھتے اپنی ذات سے مشکل سوالات نہیں پوچھتے تجزیہ نہیں کرتے کہ اپنی غلطیوں کے ذمہدار ہم خود ہیں۔ اس سال اپنی ذات کا احتساب ہمیں خود کر نا ہوگا۔ بحیثیت مسلمان ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ہر سیاہ رات کے بعد صبح کا اجالا ضرور ہوتا ہے۔ وطن عزیز کے حوالے سے بھی پر امید ہوں کہ تمام مشکلات کے باوجود عدلیہ اور فوج نے اپنا کردار باحسن و خوبی نبھایا پوری قوم نے متحد ہو کر دہشت گردی سے نمٹنے کا عزم کیا عدلیہ کے دلیرانہ فیصلوں کی بدولت ہم سب مطمئن ہیں کہ نئے سال میںمثبت تبدیلی آنی شروع ہو گی۔

ملک جس کر ائسس سے گزر رہا ہے اس سے نکل کر اگلے سال کچھ اچھے حالات ہما رے منتظر ہوں گے۔ پوری قوم نے ان اکہتر سالوں میں گرتے پڑتے بہت سبق سیکھا ہے ہر آنے والے لیڈر نے سبز باغ دکھا کر قوم کی پشت پر وار کیا ہے بس ہم اپنے بروٹس کو شاکی نظروں سے دیکھتے رہ گئے۔ نیا سال ہمارے لئے ایک روشن پاکستان کی ضمانت ہو 2019ء کا سورج وقت کی لو ح پر بہت سارے نئے امکانات کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے بے شک چند ہندسوں کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں ہے۔

وقت کبھی یوٹرن نہیں لیتا، یہ آگے بڑھتے رہنے کا نام ہے لیکن زندگی سیکنڈ چانس کو استعمال کر نے کا بھی نام ہے مایوس نہ ہوں نیا سال کچھ نئے عہد نئے ارادوں کے ساتھ شروع کریں جیسے ہم عہد کر لیں کہ تمام ان ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے جن کو دیکھتے کئی ماہ و سال گزر گئے اس سال مستقل مزاجی سے ورزش کرنا غصہ پر قابو پانا سیکھنا ہے۔ قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھنا و سمجھنا اور کوئی نئی زبان سیکھنے کی کوشش ضرور کرنا ہے۔ وقت ہمارے ہاتھ سے تیزی سے نکلتا جا رہا ہے۔ یہا ں بھی طلب اور رسد کا نظام رائج ہے۔ وقت بہت کم اور کام اتنے زیادہ کہ زندگی میں فرصت کے لمحات میسر ہی نہیں۔ گزرتے لمحوں میں جو غلطیا ں لاپروائیاں ہو چکی جن بہترین مواقع کو ہم کھو چکے تو کوئی با ت نہیں زندگی دوسرے مواقع سے بھری پڑی ہے جنہیں استعمال کر کے اپنی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔

زندگی کا سفر کبھی ہموار راستے پر نہیں ہوتا یہ حالات کی مواقفت نا مواقفت کو دیکھ کر طے کیا جا تا ہے۔ بے شک سفر حیات حادثات اور مشکلا ت سے بھری ہوئی ہے یہ سبھی کو پیش آتے ہیں۔ راستوں کے پتھروں اور کانٹوں کے باوجود منزل تک پہنچنے کا حو صلہ رکھئے رکاوٹیں ہما رے لئے زینہ کا کام کرتی ہے۔ نئے حالات کے مطابق نیا حل سوچئے کامیابی کا یہی را ستہ ہے۔

(Visited 47 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: