کچھ تو بدلیں کہ نیا سال شروع ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عطا محمد تبسم

0
  • 21
    Shares

آج سے مجھے دودھ کے بغیر ایک چمچہ چینی کی چائے دینا۔ یہ کہتے ہوئے میں نے سب کو حیران کر دیا۔ عمران نے پوچھا کہ کیوں؟ میں نے کہا کہ میرے ایک دوست نے کہا ہے کہ سال شروع ہونے سے پہلے کچھ نہ کچھ نیا کرنا چاہیئے، کوئی مثبت تبدیلی جس سے آپ کی شخصیت میں نکھار پیدا ہو، انسانی زندگی نظم و ضبط کی پابند نہ ہو تو آگے چل کر اسے بہت سے نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو نظم و ضبط کی عادت بہت ناگوار گزرتی ہے۔ وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں لچک دار روئیے اپنا چاہیئے۔ ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ وہ کئی برس پہلے پیدل نہ چلنے کی عادت کا شکار ہو گئے، اس عادت کے سبب انھیں بسا اوقات سخت مشکل کا سامنا کر نا پڑتا اور تھوڑا سا پیدل چلنے پر بھی انھیں پیروں اور گھٹنوں میں سخت درد ہوتا، پھر ایک دن انھوں نے پیدل چلنے کا تہیہ کر لیا، کہتے ہیں سب سے پہلے میں نے گھر ہی میں لان میں تھوڑا تھوڑا چلنا شروع کیا، پھر گھر سے باہر اس فاصلے کو بڑھایا، اب کہتے ہیں کہ میں روزانہ سات کلو میٹر ضرور پیدل چلتا ہوں۔

جو لوگ نرم دل اور معاون فطرت رکھتے ہیں، وہ افراد اپنی غلطی کھلے دل سے تسلیم کرکے نہ صرف اپنی اصلاح کرتے ہیں بلکہ اس تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے اپنے ماحول، دوستوں اور عزیز و اقرباء میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے سر گرم رہتے ہیں۔ سونا جاگنا اور نئے دن کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہر انسان کی ضرورت ہے۔ ہم اس میں بھی اعتدال اور اچھی عادتوں سے محرومی کا شکار ہوتے جارہے ہیں، رات گئے تک انٹرنیٹ اور فیس بک کے چکر میں جاگنا اور صبح سویرے نہ اٹھنا آپ کی صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے، بہت سے افراد رات کو دیر سے سونے اور صبح دیرسے اٹھنے کے عادی ہوتے ہیں، اسی باعث اکثر اوقات وہ اسکول، یونیوسٹی یا آفس آخری وقت میں بھاگم بھاگ پہنچتے ہیں۔ لیکن اگر آج سے طے کرلیں کہ صبح سویرے اٹھیں گے اور فجر کی نماز باجماعت ادا کریں گے اور اس کے لیے بھرپور تیاری اور کوشش کریں تو بہت جلد آپ اپنے شخصیت میں ایک خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے، ایک تو صبح کی تازہ ہوا اورآکسیجن سے بھرپور ماحول آپ کی صحت بہتر بنائے گا اور آپ کو کبھی تنگی وقت کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے گا، اگر آپ کتابوں سے دلچسپی رکھتے ہیں اور مطالعہ کی عادت اپنا چاہتے ہیں تو اس بارے میںبھی کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں۔ اگر آپ درسی کتابوں میں لکھے کو حرف آخر سمجھ کر رٹا مارنے کے بجائے اس کی تہہ میں پہنچ کر نئی چیزیں دریافت کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں تو سوچ بچار اور اچھے مطالعے کی عادت اپنائیں، روزانہ دس صفحات بھی پڑھنا شروع کریں تو ہر ماہ تین سو صفحات کی ایک کتاب ختم کر سکتے ہیں۔ کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی لائیں، عمر کے ساتھ ساتھ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر ہم نے اپنا لائف اسٹائل نہیں بدلا تو پھر ڈاکٹر ہمیں اس لائف اسٹائل کو بدلنے پر مجبور کریں گے۔ وقت کو برت نا سیکھیں، کہ زمانہ تیزی سے بدل رہا ہے، کمپیوئٹر، موبائیل، لیپ ٹاپ کو تفریح نہ بنائیں، اس میں بہت سے کام کی چیزیں ہیں، انھیں سیکھنے پر توجہ کریں۔ لکھنے کی عادت کو اپنائیں، زندگی کو سادہ بنانے کیلئے نئی عادات اپنائیں۔ دنیا میں کوئی چیز مکمل نہیں، اس لیے بہت زیادہ پرفیکشن پر زیادہ وقت اور توانائی ضائع نہ کریں۔ اس سے آپ کا ذہن بھی متاثر ہوتا ہے اور خوداعتمادی بھی کم ہو جاتی ہے۔ زندگی کے منفی پہلو دیکھنے سے زندگی میں خوشی باقی نہیں رہتی۔ ہر قسم کے حالات میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی مثبت پہلو ضرور ہوتا ہے اور بدترین حالات کو بھی تبدیل کرنا ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے خوش رہیں اور حالات کو بدلنے کی کوشش کرتے رہیں۔

اپنی زندگی سے خوف اور ڈر کو نکال دیں اپنے لیے جیئں، یہ نہ سوچیں کہ دوسرے کیا کہیں گے، اگر یہ کیا تو یہ عادت آپ کی زندگی کو محدود کر دیتی ہے۔ نئی چیزوں کو آزمانے میں کوئی برائی نہیں اور ہر ایک کو منفرد نظر آنے کا حق ہے۔ نئے آئیڈیاز اور منصوبوں پر کام کریں، یہ نہ دیکھیں کہ دیگر افراد کیسے انہیں دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، دیگر افراد کے خیالات کی پروا کئے بغیر زندگی گزارنے کو اپنی عادت بنائیں۔ زندگی میں شکر کرنا سیکھیں۔ ہمیں جو نعمتیں حاصل ہیں ہم زندگی میں ان چیزوں کا شکر ادا نہیں کرتے۔ دولت پر بہت زیادہ توجہ دینا ختم کر دیں، اپنی روزمرہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو۔ سوشل میڈیا پر ناراض ہونا چھوڑ دیں۔ کسی کے کامنٹس برے لگیں تو اسے دوستوں کی فہرست سے نکا ل دیں ’آپ بھی یہ عادت ڈال لیں‘ آپ بھی اچھی زندگی گزاریں گے۔ میں نے کچھ اور نئی عادتیں بھی اپنی زندگی میں شامل کر لی۔ آپ کو اپنی قابلیت کے بل ہی پر دنیا جیت سکتے ہیں۔ اپنے بزنس کو جتنی اچھی طرح آپ سمجھتے ہیں اتنی اچھی طرح کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔ اگر آپ کی کچھ عادات کی وجہ سے آپ کو آپ کے بزنس میں نقصان اٹھانا پڑ رہاہے تو ان باتوں سے بچیں، جو آپ کی کامیابی میں رکاوٹ بننے کا کام کر رہی ہیں۔ ’’آج نہیں کل‘‘ والی عادت سے دور رہیں۔ اپنے آج اور آج کرنے پر یقین رکھیں۔

کرنے کے کام تو بہت ہیں اور ان کے بارے میں ہر شخص کو اچھی طرح پتہ ہے کہ انھیں کیا بدلنا ہے، ہم تو بس اتنا ہی کہنا ہے کہ

خود سے خود کو بدل رہا ہوں میں
اپنی عادت بدل رہا ہوں میں

(Visited 85 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: