اجرک —– شہزاد حنیف سجاول کا افسانہ

0
  • 60
    Shares

سالار اپنی کلاس کے باہر اکتایا ہوا کھڑا تھا جب اس نے پہلی بار سدرہ کو دیکھا تھا وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ گراؤنڈ والی ڈھلوان سےاتر رہی تھی ان تینوں میں وہ سب سے پیچھے تھی اگرچہ سالار اور ان کے درمیان اتنا فاصلہ تھا کہ سالار کو ان کے چہرے واضح طور پہ نظر نہیں آ رہے تھے لیکن سدرہ اپنے ملبوس کے باعث ان میں ممتاز تھی اس نے سیاہ عبایا پہن رکھی تھی اور سیاہ سکارف میں صرف اس کا چہرہ کھلا تھا سرخ اجرک اس کے بائیں کندھے کے اوپر اور دائیں بازو کے نیچے سے اس کے الٹے ہاتھ میں تھی اس لباس کی وجہ سےاس کی چال میں ایک عجب مردانہ وجاہت تھی۔ سالار بڑی محویت کے ساتھ انھیں دیکھ رہا تھا لیکن وہ کیفے ٹیریا کی جانب مڑ گئیں اور سالار اپنی بے ترتیب داڑھی کھجاتے بے ارادہ قدموں سے لائبریری کی جانب چل دیا جہاں وسّام کی موجودگی کا قوی امکان تھا۔

دوسری بار اس نے سدرہ کو تب دیکھا تھا جب وہ گراؤنڈ میں لیٹے دھوپ سینک رہا تھا اور وسّام اس کے پہلو میں بیٹھا ابن خلدون اور ابن رشد کے سماجی نظریات کا تقابلی جائزہ لے رہا تھا اور جب سالار کے جوابات محض ہوں ہاں اور پھر اس ہوں ہاں کا بھی درمیانی وقفہ بڑھنے لگا تو وسّام نے اسے پکڑ کر بٹھا دیا کیونکہ اب وہ اونگھنے لگا تھا تب اس نے انھیں گراؤنڈ کے عین وسط میں بیٹھے دیکھا تھا جہاں وہ شائد کچھ کھانے میں مشغول تھیں اور سدرہ اسی پیرہن میں ملبوس تھی دھوپ براہ راست اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی جس سے اس کا چہرہ تمتمایا ہوا تھا سالار شاید کچھ اور توجہ دیتا لیکن وسّام نے اسے نوٹس کا پلندہ تھما دیا اور وہ ان میں مگن ہو گیا کچھ دیر بعد جب پھر سے اس جانب نظر کی تو وہ وہاں سے جا چکی تھیں اچانک سے ایک خالی پن نے اسے گھیر لیا اور وہ گروانڈ میں انھیں تلاش کرنے لگا لیکن وہ کہیں جا چکی تھیں سالار کو دونوں واقعات کسی خواب کا حصہ محسوس ہو رہے تھے وہ بے دلی سے نوٹس کا جائزہ لینے لگ گیا لیکن جلد اکتا کر اٹھ کھڑا ہوا اور چاۓ پینے کیفے ٹیریا کی جانب چل دیا کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ شائد وہ وہیں موجود ہوں۔ وہ وہاں نہیں تھیں۔ اپنے خالی پن کے احساس کو بھرنے کےلئے سالار مفروضہ سازی میں مشغول ہو گیا جو اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

ایک دن وہ جوبلی ہال کے بر آمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھا زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا تھا سامنے دو طرفہ عمارتوں کے بیچ گلی تھی جو شائد بن گئی تھی بنائی نہ گئی تھی اور اس گلی کے سرے پر موجود کثیر منزلہ عمارت کی صرف دو منزلیں نظر آ رہی تھیں کیونکہ جوبلی ہال سے اس سرے تک مسلسل چڑھائی تھی جو سرے پے پہنچ کر ایک بلند چبوترے کی شکل لے لیتی تھی اور یوں اس کثیر منزلہ عمارت کی باقی منزلیں اس کے پیچھے چھپ جاتی تھیں بلند چبوترے کے ایک طرف کار پارکنگ تھی اور دوسری طرف گراؤنڈ۔ چبوترہ اگرچہ اس مقصد کے پیش نظر تخلیق کیا گیا تھا کہ تماشائی کھیل سے لطف اندوز ہو سکیں لیکن نسل نو کی مہم جویانہ طبیعت نے چبوترے ہی کو تماشا گاہ بنا دیا جہاں وہ تماشا کرتے اور کثیر منزلہ عمارت کے مکین تماش بینی۔ سدرہ کو پہلی بار اسی طرف سے آتے دیکھا تھا اسنے یہ برق نما خیال اس کے پردہ ذہن سے ٹکرایا ہی تھا کہ وہ سامنے سے آتی دکھائی دی، سالار کو لگا جیسے اس کا خیال مجسم ہو کر اس کے سامنے آ گیا ہو لیکن وہ حقیقت تھی اور آج بھی اسی لبادے میں ملبوس تھی جب وہ قریب پہنچیں تو سالار کھڑا ہو گیا اور جب وہ اس کے روبرو آئی تو سالار نے اسے مخاطب کر لیا وہ اس دوران فیصلہ کر چکا تھا کہ آج اس سے بات ضرور کرے گا۔ السلام علیکم! مجھے سالار عزیز کہتے ہیں سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں ہوں اور یہ جو کھیل آپ دیکھنے جا رہی ہیں میرا نوشتہ ہے۔ سالار نے تمہید باندھی۔ وہ ہنسنے لگیں اور ایک نے کہا آپ اسی لیے یہاں کھڑے ہیں کہ سب سے اپنا تعارف کرا سکیں۔ سالار اس جملے میں پوشیدہ طنز کو نظر انداز کر کے سدرہ کی طرف متوجہ ہو گیا۔

میں دراصل آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔
سالار کی بے ساختگی پر سدرہ ٹھٹھک سی گئی اور اس کی سہیلیاں بھی،
میں وجہ جان سکتی ہوں اس خواہش کی جبکہ ہمارا کوئی باہمی تعارف بھی نہیں ہے۔ سدرہ نے پر اعتماد لہجے میں کہا اور پہلی بار ان کی نگاہیں ایک دوسرے سے دوچار ہوئیں تو سالار نے اس کے چہرے کے نقوش جانچے۔

سیاہ سکارف میں لپٹا اس کا چہرہ ایسے تھا جیسے دودھ میں زعفران ملایا ہو گول چہرے پر بڑی بڑی کتھئی آنکھیں اور ان کی دراز پلکیں بے چین تتلیوں کی مانند پھڑ پھڑا رہی تھیں بلند رخساروں کے بیچ ایسی خوش تراشیدہ ناک جو نہ رخساروں سے دبتی ہو نہ ابھرتی ہو اور غنچہ دہن کا مطلب اسے اس دن معلوم ہوا تھا۔ اور لب جیسے پنکھڑی اک گلاب سی۔ بولتے ہوئے یہی لب حقدار ہیں کہ ان سے پھول جھڑیں۔

وجہ کوئی ایسی غیر معقول بھی نہیں، سالار بھی پر اعتماد تھا ۔ اگر آپ چاہیں تو ڈرامے کے اختتام پر ہم کیفے ٹیریا میں مل سکتے ہیں۔ وہ سالار کی بات کا کوئی جواب دیئے بنا ہی سیڑھیاں چڑھ گئیں۔

ڈرامے کے دوران سالار کی نظروں میں سدرہ کا چہرہ گھومتا رہا اسکی ہلکی ہلکی سوزش زدہ آنکھیں اس کے لئے معمہ تھیں جو کثرت گریہ کی علامت تھی۔ سالار کے ذہن کے افق پر کتنے ہی خیال ابھر ابھر کر ڈوبتے رہے اور ہر خیال اس کی بے چینی کو دو چند کرتا گیا۔ ڈرامے کی کہانی اور سدرہ کی زندگی میں کئی مماثلتیں تھیں جس کی وجہ سے سالار کے بارے میں اس کے خیالات بدل گئے۔ ڈرامہ ختم ہوا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور اس کے ساتھ ہی سالار کو سٹیج پر بلایا گیا جہاں ڈرامے کے کرداروں اور ڈرامیٹک سوسائٹی کے ممبران اور اساتذہ نے اس گھیر لیا سدرہ ہال سے نکل کر سیدھا کیفے ٹیریا کی جانب گئی حالانکہ اس کی سہیلیاں ہاسٹل جانا چاہ رہی تھیں۔ کافی دیر انتظار کے باوجود بھی جب سالار نہیں آیا تو وہ آٹھ کر جانے ہی لگی تھیں جب وہ کیفے ٹیریا میں آتا دکھائی دیا اور انھیں دیکھ کر سیدھا ان کے پاس آیا گو کتنی ہی آوازوں نے اس کا راستہ روکا۔ تاخیر کی معذرت کر کے وہ بیٹھ گیا۔

امید ہے آپ کو کھیل پسند آیا ہوگا۔ سالار کا روئے سخن اس لڑکی کی جانب تھا جس نے طنز آمیز جملہ کہا تھا۔ اسکی بجائے سدرہ گویا ہوئی۔ امید ہے آپ ہماری کوتاہ علمی سے درگزر فرمائیں گے اگرچہ ہمارا فہم اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتا لیکن اس کی لطافت کو محسوس کر سکتا ہے۔ سدرہ نے ڈرامے ہی کی ایک لائن کمال مہارت اور برجستگی سے دہرائی کہ سالار مسکرا کے رہ گیا۔

آپ کو مجھ سے ملنے کا اشتیاق کیوں ہے؟ سدرہ نے پوچھا۔
آپ کا مخصوص لباس اس اشتیاق کا سبب ہے۔ میں نے آپ کو جب بھی دیکھا اسی لباس میں ملبوس دیکھا اس کی کوئی خاص وجہ؟ سالار نے اپنا مدعا صاف گوئی سے بیان کیا۔
اس کی کوئی خاص وجہ نہیں آپ خواہ مخواہ متجسس ہو رہے ہیں۔ سدرہ نے وضاحت کی۔

سالار نے نفی میں سر جھٹکا اور کہنے لگا۔ کوئی ایک ایسی ٹھوس وجہ ضرور ہے جو آپ نے اس لباس کو یونیفارم قرار دے رکھا ہے۔ سدرہ کچھ خفیف سی ہو گئی اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ سالار کو اس کے لباس میں کیا دلچسپی ہے وہ کہنے لگی ہر انسان کو اپنی خواہش کے مطابق عمل کی آزادی حاصل ہے کیمپس میں سینکڑوں لڑکیاں اور بھی ہیں جو اپنی مرضی سے جیسا چاہتی ہیں لباس پہنتی ہیں اسی طرح میں بھی جس لباس میں خود کو آرام دہ محسوس کرتی ہوں پہنتی ہوں۔ معاف کیجئے گا مس اجرک۔ میرا نام سدرہ ہے سدرہ نے سالار کی بات کاٹ دی۔ تو مس سدرہ یہی تو میں کہنا چاہ رہا ہوں اور معاف کیجئے گا میرے خیال میں آپ کسی کمپلیکس کا شکار ہیں سالار ابھی بات کر رہا تھا لیکن سدرہ اکتاہٹ کا شکار ہو گئی اور اس کی بات دوبارہ کاٹ کر بولی آپ بلا وجہ ایک غیر ضروری چیز پر اپنی توانائی صرف کر رہے ہیں سیاہ رنگ مجھے پسند ہے اور اجرک میرے بابا کی ہے ان کی اجرک اوڑھ کر مجھے لگتا ہے وہ میرے ساتھ ہیں۔ یہ ایک معقول وجہ ہو سکتی ہے سالار نے خوشدلی سے کہا اور گفتگو کا رخ کسی اور طرف موڑ دیا وہ کچھ دیر تک بیٹھے مختلف موضوعات پر بات چیت کرت رہے اور پھر اپنے اپنے مامن کی جانب چلے گئے۔

اس ملاقات کے بعد بھی جو اگرچہ اتنی خوشگوار نہیں تھی دو طرف تشنگی سی باقی رہی سدرہ سالار کے تجسس پر غور کرتی رہی اور سالار یہ جاننے کی کوشش میں مگن رہا کہ جب کوئی لڑکی اپنے والد کی اجرک پہن کر کیمپس میں آتی ہے تو دراصل وہ کسی خوف کا شکار ہوتی ہے آئندہ کچھ دنوں تک ان کے درمیان کوئی بات ملاقات نہیں ہو سکی پھر ایک روز سالار اور وسّام گراؤنڈ میں آۓ تو انھیں وہ اسی کونے میں بیٹھی دکھائی دیں تو سالار ان کی جانب چل دیا وسّام کو اس کی اطاعت کے سوا چارہ نہیں تھا۔ کیونکہ اس کے نوٹس سالار کے پاس تھے ان کے پاس پہنچ کر سالار نے سلام کیا اور اور بیٹھ گیا اور کہنے لگا اگر آپ مونگ پھلی کی بجاۓ اخروٹ کھائیں تو اس کا دوہرا فائدہ ہو گا! وہ کیا؟ زینب بولی۔

زینب اور سدرہ کا تعلق ایک ہی گاؤں سے ہے اور وہ بچپن کی دوست ہے جبکہ ان میں تیسری گوہر نایاب ہے ایک تو اخروٹ خوردنی سے کھانسی نہیں ہوتی اور دوسرا دماغی قوت میں اضافے کا باعث ہے اور اخروٹ خوری کے دو موانع بھی ہیں گوہر نایاب بولی۔ کیا کیا سالار نے پوچھا۔ ایک تو گراں دام ہیں اور دوسرا توڑنے کی دشواری۔ سب ہنس دیے اور سدرہ بھی نارمل ہو گئی جو سالار کی آمد سے کچھ گھبراہٹ کا شکار ہو رہی تھی۔ ان کے درمیان ہلکی پھلکی گفتگو جاری تھی جب زینب نے اس کا رخ پھر سے سدرہ کے لباس کی طرف پھیر دیا سالار نے مسکرا کر سدرہ کی جانب دیکھا جو اس موضوع سے گریزاں نظر آتی تھی اور کہا میں آج کچھ نہیں کہوں گا مس اجرک کو برا لگے گا۔ نہیں لگے میری گارنٹی ہے گوہر بولی آپ بتائیں کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

”خوف”۔

سالار نے دو ٹوک انداز میں کہا، سدرہ چونک سی گئی کیونکہ سالار نے اس کے اندر کا چور پکڑ لیا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا، ‘انھیں کوئی خوف لاحق ہے جس سے چھٹکارے کے لیے یہ اپنے والد کی اجرک بطور ڈھال استعمال کرتی ہیں۔ سدرہ نے سوچا سالار بالکل سچ کہہ رہا ہے وہ شاید پہلا آدمی تھا جو اس کے دکھ کو سمجھ پایا تھا۔ آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں زینب نے تجسس کا اظہار کیا۔ وہ اس طرح کہ” سالار نے بات جاری رکھی” بطور سماجی علوم کے طالب علم میرا خیال ہے کہ اس طرح کے ماحول میں اگر کوئی فرد ایسا رویہ اپناتا ہے تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے ذاتی امتیاز پیدا کرنا۔ کوئی خاص فکری پس منظر۔ معاشرے سے بغاوت اور یا پھر عدم تحفظ کا احساس۔ سالار اب بے حد سنجیدہ لگ رہا تھا اور میرے تجزیے کے مطابق مس اجرک عدم تحفظ کا شکار ہیں آپ میرا نام لیا کریں سدرہ چڑ سی گئی۔ سوری مس سدرہ ! میں آئندہ محتاط رہوں گا اسی کے ساتھ ہی سالار اور وسّام آٹھ کھڑے ہوئے لیکن سدرہ کو اس نے انتہائی گہری سوچ میں مبتلا کر دیا تھا وجہ کی درست تشخیص کے بعد سالار نے اس احساس عدم تحفظ کے تدارک پر کوئی گفتگو نہ کی تھی وہ اس خوف سے جان چھڑانا چاہتی تھی لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیسے۔

سالار لائبریری میں ایک کتاب پر جھکا ہوا تھا جب سدرہ آ کر اس کے مقابل بیٹھ گئی اور چپ چاپ اسے دیکھنے لگی یونیورسٹی بھر میں اس کی ذہانت کے چرچے تھے لیکن اس میں تکبر یا نخوت کا شائبہ تک نہیں تھا اور اس وقت کتاب میں محو وہ بالکل کسی معصوم بچے کی طرح لگ رہا تھا سدرہ اسے دیکھتی جا رہی تھی اور سوچتی جا رہی تھی ان کے درمیان کتنی باتیں ہوتی تھیں لیکن وہ آج تک اپنے متعلق سالار کے جذبات نہ جان سکی تھی یونیورسٹی کی کتنی لڑکیاں تھیں جو۔ اس پر فدا تھیں وہ ان کی باتیں سنتا اور مسکرا دیتا تھا وہ عجیب آزاد منش انسان جو تعریف اور تنقید پر یکساں رد عمل کا مظاہرہ کرتا تھا ناقد اور عارف دونوں کا شکریہ ادا کرتا اور اپنے کام میں مگن ہو جاتا۔

سالار! کافی دیر گذر جانے پر سدرہ نے اسے پکارا۔ کتاب سے نظریں اٹھا کر اس نے سدرہ کو یوں دیکھا جیسے ان میں کوئی جان پہچان ہی نہ ہو اور پھر اگلے ہی لمحے سالار کی ملین ڈالر مسکراہٹ اس کے چہرے پر محیط تھی جب وہ مسکراتا تو اس کا پورا چہرہ مسکرا اٹھتا تھا اور یہی مسکراہٹ کئی ایک کے حق میں سم قاتل تھی۔ تو سدرہ بھی ان میں ایک تھی لیکن وہ اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتی تھی شعوری طور پر اس نے ایسا رویہ اختیار کر رکھا تھا خود سے لڑ لڑ کے اب وہ تھک سی گئی تھی سالار نے جب سدرہ کے چہرے پر تکدر کے آثار دیکھے تو فطری طور پر اسے بھی کچھ تشویش لاحق ہوئی۔ کیا بات ہے آپ کچھ افسردہ دکھائی دے رہی ہیں سالار کے استفسار بے حد اپنائیت تھی۔ چلیں کہیں باہر بیٹھتے ہیں مجھے آپ کے ساتھ بہت سی باتیں کرنی ہیں سدرہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔ وہ دونوں اٹھ کر کیفے ٹیریا میں آگئے۔ جی فرمائیے سالار نے بیٹھتے ہی کہا۔ وہ سراپا سوال تھا لائبریری سے کیفے ٹیریا تک اس کے ذہن میں ی کتنے خیال امڈے اور امڈ امڈ کر ڈوب گئے تھے لیکن اسے جس بات کی توقع تھی اس کا ذکر تو پورے فسانے میں نہیں تھا سدرہ کی محتاط روی کی بدولت وہ بھی تھم تھم کر چل رہا تھا اور اس پر اپنے احساسات کی پرچھائیں بھی نہیں پڑنے دیتا تھا وہ تو درکنار سالار نے تو وسّام سے بھی کبھی ان کا تذکرہ نہیں کیا تھا سدرہ کی آنکھیں سوجھ رہیں تھیں جیسے وہ ابھی ابھی رو کے آئی ہو حالانکہ عام طور پر بھی اس کی آنکھیں متورم سی رہتی تھیں سالار کو گو تشویش تھی لیکن وہ خود کو لا تعلق ظاہر کر رہا تھا

سدرہ نے کچھ دیر تک خود کو یک سو کیا اور پھر کہنے لگی۔

میرے بابا نے میری امی کے ساتھ اپنے خاندان کی منشا کے برخلاف شادی کی تھی سبھی لوگ ان کے مخالف تھے بابا کی نسبت ہماری چچی کی ہمشیرہ سے طے تھی لیکن بابا اس رشتے سے ناخوش تھے شادی کے بعد خاندان بھر نے بابا سے قطعہ تعلقی اختیار کر لی بابا گاؤں چھوڑ کر شہر آ گئے ہم چاروں بہن بھائیوں کی پیدائش شہر میں ہوئی جب دادا کا انتقال ہوا تو ہماری ملاقات اپنے ددھیال والوں سے ہوئی اور پھر ہمارا گاؤں آنا جانا شروع ہوا لیکن بابا کو اس بات کا شدید رنج تھا کہ ان والدین اور بہن بھائیوں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ میں چھٹی کلاس میں تھی جب ہاشم پیدا ہوا بابا بہت خوش تھے ہم تین بہنوں کے بعد ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی خاندان میں کسی نے بھی خوشی کا کوئی اظہار نہیں کیا بابا اس بات پر بہت دل گرفتہ ہو گئے اب وہ چپ چپ رہنے لگے تھے یہ بات کبھی ان کی زبان پر نہیں آئی لیکن وہ بے حد رنجور رہتے تھے جس کی وجہ سے انھیں دل کی تکلیف لاحق ہو گئی میں نے ایف سی کے امتحان دے رکھے جب ایک دن ہمیں پتا چلا کہ بابا کو آفس میں ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے انھیں ہسپتال لے گئے

لیکن راستے میں ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ سدرہ کی آواز بھرا گئی اور چپ ہو گئی سالار ٹانگیں پھیلائے کرسی پر نیم دراز سینے پر ہاتھ باندھے سر بہ سینہ اس کی باتیں سن رہا تھا اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں وہ سدرہ کو روتے نہیں دیکھ سکتا تھا اور سدرہ کی مشکل یہ تھی کہ وہ اس کے روبرو رو بھی نہیں سکتی تھی دونوں اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے تھے بظاہر ایک دوسرے سے جدا لیکن سا تھ ساتھ جیسے دریا کے دو کنارے ساتھ ساتھ چلتے ہیں لیکن باہم نہیں ہو سکتے

سدرہ نے سلسلۂ کلام وہیں سے جوڑا جہاں سے منقطع ہوا تھا۔ اب اس کی آواز رندھ سی گئی تھی اس کا کرب لفظ لفظ سالار پر وارد ہو رہا تھا وہ کٹ کٹ جا رہا تھا لیکن زبان سے سی بھی نہیں کر سکتا تھا۔ بابا کے بعد ہم اکیلے ہو گئے چچا اور دادی کا اصرار تھا کہ ہم گاؤں چلے جائیں لیکن امی ان سے خائف تھیں انھیں اپنے بھائی سے دستگیری کی امید تھی لیکن انہوں نے گاؤں چلے جانے کا مشورہ دیا تو ہمارے پاس اور رستہ نہ بچا تھا نا چار ہمیں گاؤں منتقل ہونا پڑا۔ ہم شہر کے پلے بڑھے بچوں کا دیہات میں رہنا نہایت مشکل امر تھا لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا میں نے پرائیوٹ بی اے کیا حالانکہ دادی اور چچا نے اس کی بے حد مخالفت کی۔ ہمارا مستقبل دن بدن مخدوش دیکھ کر امی نے اپنی ساری امیدوں کا بوجھ مجھ پر ڈال دیا انہوں نے سب سے لڑ کر میرا داخلہ یونیورسٹی میں کرایا اور اب وہ دادی اور چچا کے مسلسل عتاب کا شکار ہیں مجھے نہ چاہ کر بھی صرف امی اور بھائی بہنوں کی خاطر گاؤں جانا پڑتا ہے امی کی خواہش ہے کہ مجھے ڈگری ملنے کے بعد اچھی سی ملازمت مل جائے اور ہم دوبارہ شہر آ جائیں۔ جبکہ دادی اور چچا کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ امی کہیں جائداد میں بابا کے حصے کا مقدمہ نہ کر دیں اس قدر خوف اور اندیشوں کے سائے میں زندگی گزارنا ایک جبر مسلسل ہے میں اپنی زندگی اپنی چاہت کے مطابق نہیں گزار سکتی سب خواہشیں کرچی کرچی میرے سامنے بکھری پڑی ہیں اور مجھے ننگے پاؤں ان پر چلنا ہے جب میں پہلے دن یونورسٹی آنے لگی تو امی نے بابا کی اجرک مجھے دیتے ہوئے کہا تھا اسے خود سے الگ نہ کرنا یہ ہر خوف میں تمہاری پناہ ہر مشکل میں تمہاری دستگیر ہو گی یوں جانیے یہ یہ میرے وجود کا جزو لا ینفک ہے اس کے ہوتے میں خوفزدہ نہیں ہوتی کیونکہ اس کے ہوتے مجھے لگتا ہے میرے بابا میرے ساتھ ہیں۔ سدرہ اس کے بعد کچھ نہ کہہ پائی وہ جانتی تھی کہ اس کے بعد ایک بھی لفظ اسے رلا دے گا اور سالار اپنے تجسس کی توضیح کے بوجھ تلے دب رہا تھا۔ اس دن اسے معاشرتی جبر کا صحیح ادراک ہوا تھا اس دن اسے سماجی اقدار اور تہذیبی روایات کے کھوکھلے پن کا علم ہوا تھا۔ سالار اور سدرہ اس کے بعد کتنی ہی دیر وہاں بیٹھے خلاؤں کے خالی پن کو دیکھتے رہے اور دونوں یہ طے کر کے اٹھے کہ اپنی اپنی خواہش کی صلیب خود اٹھائیں گے۔

امتحانات آۓ اور گذر گئے سب نے ایک دوسرے کے فون نمبر اور ایڈریس کا باہم تبادلہ کیا رسم دنیا، موقع اور دستور کی حد تک سالار اور سدرہ نے بھی یہ رسم نبھائی لیکن اندر سے دونوں کو اس بات کا علم تھا کہ اب ان کی ملاقات نہ ہو گی۔ سدرہ اپنے گاؤں لوٹ گئی اور سالار ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ پاکستان میں قانون شکنی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی تحیقات میں مصروف ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے رزلٹ آگیا وہ جاننا تو چاہتا تھا کہ سدرہ کا رزلٹ کیسا رہا لیکن اس نے خود پہ قابو رکھا اور اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کے ساتھ منسلک ہوگیا۔ کئی ماہ بعد جب وہ چند دنوں کے لیے گھر آیا تو اسے سدرہ کا خط ملا لفافے پر ارسال کنندہ کا نام پتہ درج نہیں تھا اس لیے اس گھر والوں سے کہہ دیا کہ جب وہ آۓ گا تو دیکھ لے گا اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ سدرہ اسے خط بھی لکھ سکتی ہے یہ ایک طول طویل خط تھا جو دو ماہ پہلے کا لکھا تھا جس میں سدرہ اپنے مذکور شدہ اندیشوں کے حقیقت بننے کا ذکر کیا تھا اس کے چچا نے اول تو اس کی ملازمت کی شدید مخالفت کی لیکن پھر اس شرط پر رضا مندی کا اظہار کیا کہ سدرہ کی اس کے گنوار بیٹے سے کر دی جائے جو سکریپ کا کام کرتا ہے اور میٹرک فیل ہے سدرہ اور اس کی والدہ اس بات پر ہرگز راضی نہیں ہیں لیکن انھیں کوئی صورت نظر نہیں آ رہی اس کے بعد کے مندرجات سالار کا خون جمانے کے لئے کافی تھے سدرہ نے نہ صرف سالار سے اپنی محبت کا کھل کر اظہار کیا تھا بلکہ اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اگر وہ بھی اس کے لئے ایسے ہی جذبات رکھتا ہے تو اسے سدرہ کی امی سے بات کرنی چاہیے۔ خط کا اختتام ان اشعار کے ساتھ تھا۔

تو ملا بھی ہے تو جدا بھی ہے تیرا کیا کہنا
تو صنم بھی ہے تو خدا بھی ہے تیرا کیا کہنا
یہ تمنا ہے کہ آزاد تمنا ہی رہوں
دل مایوس کو مایوس تمنا نہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا

سالار خط پڑ کر گہری سوچ میں مبتلا ہو گیا کہ کیا کرے اسے واپس پراجیکٹ پر بھی جانا تھا کافی سوچ بچار کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ فی الحال اسے پراجیکٹ پر واپس جا کر ہفتہ دس کی رخصت لینی چاہیے واپسی پر امی کے ساتھ سدرہ کے گاؤں جانا چاہیۓ دو ہفتے بعد سالار دس کی چھٹی لے کر واپس آ گیا اس اپنی والدہ کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور ایک دن صبح سویرے ہی وہ سدرہ کے گاؤں روانہ ہو گئے گاؤں پہنچ کر سالار سدرہ کے موبائل فون پر کال کی لیکن اس کا رابطہ نہیں ہو سکا اس سے قبل بھی اس کی کئی بار کوشش کے باوجود سدرہ کا نمبر بند مل رہا تھا خوش قسمتی سے سالار کے پاس زینب کا نمبر تھا تو اس نے زینب کو کال کی جس نے اسے راستہ سمجھایا اور خود لینے باہر تک آ گئی سالار اور وہ باتیں کرتے اور چلتے رہے چلتے چلتے وہ آبادی سے باہر آ گئے لیکن سالار کچھ بولا نہیں وہ ایک قبرستان میں داخل ہو گئے جو اتنا بڑا نہیں تھا اور قبرستان کی دوسری طرف بھی کچھ مکان تھے شائد وہاں سدرہ کا گھر تھا اس احساس نے سالار کے وجود میں سنسنی سی بھر دی قبرستان کے سرے پر پہنچ کر زینب ایک قبر پر رک گئی جو اتنی پرانی نہ تھی اور سالار سے کہہ رہی تھی یہ سدرہ ہے جو تمہارے انتظار کے بوجھ تلے دبتی دبتی منوں مٹی تلے دب گئی، بہت دیر تک جب تم نے اس کے خط کا کوئی جواب نہ دیا اور اس کی دادی اور چچا کا اصرار دھونس اور دھمکی تک پہنچ گیا تو ایک رات وہ سوئی لیکن اگلی صبح کو اٹھی نہ۔ زینب دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی سالار کی امی جیسے بت بن گئی ہوں اور سالار گھٹنوں کے بل گر گیا اس کے کانوں میں آندھیوں کا شور بھر گیا اور آنکھوں میں دشت بلا کی ریگ۔ وہ کتنی ہی دیر اسی حال میں رہا پھر اس کی امی نے اسے اٹھایا جب ذرا اس کے ہوش سنبھلے تو اس نے ایک پیکٹ میں سے جو وہ ساتھ لایا تھا ایک اجرک نکالی اور سدرہ کی قبر پر ڈال ڈی۔ واپس جاتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا اب اسے ڈر نہیں لگے گا اب اس کے بابا جو اس کے ساتھ تھے جو ہر خوف میں اس کی پناہ گاہ تھی وہیں قریب ہی ان کی آخری آرام گاہ تھی۔

یہ بھی دیکھئے: گھر جاندی نے ڈرنا ! —– شہزاد حنیف سجاول

 

(Visited 112 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: