حسرت کی ‘لطیف ہوسناکی’ سے بنے بھائی کی روشنائی اور ذکر حافظ تک ——— عزیز ابن الحسن

0
  • 127
    Shares

نایاب آوازوں کے پیکروں سے ہمارے دامن سماعت کو مسلسل آباد رکھنے والے سخی نے اگلے روز بنے بھائی کی آواز سنوائی تو ان کی “ذکر حافظ” بھی یاد آئی اور “روشنائی” بھی۔

جیسا کہ معلوم ہے کہ ترقی پسند تصور ادب کے حقیقی معمار پروفیسر احمد علی اور اختر حسین رائپوری تھے لیکن ہندوستان میں ایک نئے تصور حیات، نئے تصور ادب اور زندگی اور ادب کے اٹوٹ رشتے پر سب سے زیادہ زور دینے والی ترقی پسند تحریک کے رشتے اپنے بانی مبانیوں سے زیاد ہ عرصے تک برقرار نہ رہ سکے تھے۔ اس کی وجہ تحریک کا وہ مخصوص سخت گیر مزاج تھا جو ادب اور انقلابی تبدیلیوں کی داعی کسی بھی جماعت کے لئے سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔ اسی مزاج میں احتیاط اور اعتدال کا مشورہ سجاد ظہیر کو بالکل ابتدائی دنوں میں دیا گیا تھا، جس پر افسوس کہ کبھی عمل نہ ہوا۔

خلیل الرحمن اعظمی نے لکھا ہے کہ ١٩٣٥ء میں لندن میں جب سجاد ظہیر اور ان کے ساتھیوں کو ہندوستانی ادیبوں کی ایک انجمن بنانے کا خیال آیا تو اس زمانے میں سجاد ظہیر کو لوئی آرا گوں نے انسانی مزاج اور خاص طور پر اہل قلم کی خود سری اور منہ زوری کو سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا کہ:

ہمیں ہمیشہ اپنی تحریک میں مختلف مکتب خیال کے ترقی پسند مصنفوں کو شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے… دوسرے یہ کہ ادیبوں اور مصنفوں کو منظم کرنا بہت مشکل کام ہے اس لئے کہ مصنف اپنے کو ہر قسم کی تنظیم سے ماوراء تصور کرتے ہیں۔ آراگوں نے کہا کہ اس کام میں بہت صبر و استقلال اور وسیع المشربی سے کام نہ لیا جائے گا تو کامیابی مشکل ہے۔

١٩٣٥ء میں لندن سے ترقی پسند مصنفین کے پہلے مینی فسٹو کے آنے سے لیکر ١٩٤٩ء میں نا متفق ادیبوں کے دوہرے بائیکاٹ تک،اور ادب و زندگی کے آزاد اور اٹوٹ تعلق پر اصرار سے لیکر اس پر مخصوص اشتراکی حقیقت نگاری اور مارکسی آئیڈیالوجی کو مسلط کرنے اور اپنے پرانے ساتھیوں کی صدائے احتجاج کو خاطر میں نہ لانے تک ترقی پسند تحریک کا سفر اس بات کا گواہ ہے کہ تحریک کے قائدین نے اس بات کو مسلسل نظر انداز کیا کہ ”مصنف اپنے کو ہر قسم کی تنظیم سے ماورا تصور کرتے ہیں”، خواہ یہ تنظیم کسی دل خوش کن نظریے ہی کے نام پر بنائی گئی ہو۔ باقی رہی ”صبر و استقلال اور وسیع المشربی کی بات” تو اس کا اندازہ سید سبط حسن کے اس جواب سے ہو جاتا ہے جو انہوں نے اپنی جماعت کی انتہاپسندی اور غیر ترقی پسند ادیبوں کے بائیکاٹ کے سوال کے سلسلے میں انتظار حسین کو دیا تھا: ”اصل میں چین میں انقلاب آجانے کے بعد ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ بس اب پاکستان میں بھی انقلاب آیا کہ آیا اور اس سے ہمارا دماغ پھر گیا” تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سخت گیر بے اعتدالیوں کا آغاز بالکل شروع میں ہی ہو گیا تھا۔

ابتدائی شِکرہ صفت و ترتریا مزاج ترقی پسندوں نے ایک طرف ماضی کی ہر چیز کو رد کرنا شروع کردیا تھا اور دوسری طرف “نئے ادب” والے کچھ جنس نگار جب کچھ زیادہ ہی آپ سے باہر ہونے لگے تھا۔ جب  اس کا الزام بھی ترقی پسندوں پر آنے لگا تو سجاد ظہیر جیسے لوگوں نے سوچا کہ معاملات کی اگر یہی روش رہی تو ترقی پسند تحریک جو کہ ایک اصلاحی پروگرام کو لے کر چلی ہے اسے نقصان پہنچے گا۔

ترقی پسندوں کو نئے ادب والوں کے چند مخصوص مسائل، از قسم اسلوب و ہیئت کے تجربات، لاشعوری اظہارات اور عریانی و فحاشی جیسے ”ناکردہ گناہوں” کا بوجھ بار بار اپنے سر سے اتارنا اور وضاحت کرنا پڑتی تھی۔ ڈاکٹر عبدالعلیم کا مضمون ” ترقی پسند ادب کے بارے میں چند غلط فہمیاں” اور سجاد ظہیر کی وضاحتیں اس سلسلے میں خاصی متوازن تھیں، لیکن ترقی پسندوں پر فحاشی اور جنس نگاری کا الزام اتنا شدید تھا کہ آخر انجمن کو اکتوبر ١٩٤٥ء حیدر آباد دکن میں منعقدہ ایک کانفرنس میں فحاشی کے خلاف باقاعدہ ایک قرار داد پیش کرنا پڑ ۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ ”اردو ادب میں اس وقت فحاشی کے جو رحجانا ت پروان چڑھ رہے ہیں ان کا ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند ادب کے نظریے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ترقی پسند ادیب فحاشی کے خلاف ہیں”، وغیرہ وغیرہ۔ مگر لطیفہ یہ ہوا کہ اس تجویز کی مخالفت دو پرانے انداز کے لوگوں، قاضی عبدالغفار اور مولانا حسرت موہانی، نے کی! حسرت نے قرارد اد پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس میں جہاں فحاشی کے خلاف ہونے کا ذکر ہے وہاں یہ اضافہ کیا جائے کہ ‘لیکن، ترقی پسند، لطیف ہوس ناکی کے اظہار میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے”۔ مولانا کی اس ترمیمی تجویز نے جلسے کی سنجیدہ فضا کا رنگ ہی بدل دیا۔ اس ترمیم کو شامل کرنے کامطلب بقول سجاد ظہیر ترقی پسندوں کے لئے تضحیک کا سامان فراہم کرنا تھا۔ چنانچہ قرار داد واپس لیتے ہی بنی۔ اس وقت تو ترقی پسند اس پر خاصے چراغ پا تھے لیکن بعد میں سجاد ظہیر نے اس واقعے کو “روشنائی” میں مزے لے لے کر لکھا ہے۔ مولانا حسرت کی پوری شخصیت داڑھی ٹوپی اور پھٹی پھٹی آواز کو تصور میں لائیے اور پھر “لطیف ہوسناکی” پر ان کے اصرار کو دیکھئیے، خیال آج بھی متبسم ہو جاتا ہے۔ لاریب یہ اصرار شاعری کو عارفانہ عاشقانہ اور فاسقانہ میں تقسیم کرنے والا شخص ہی کر سکتا تھا۔ واللہ کیا وسیع النظر بزرگ تھے یہ ہمارے!

ویسے معلوم نہیں کہ ترقی پسندوں کی طرف سے عریانی اور لطیف ہوس ناکی کی مخالفت واقعی کسی بلند ادبی واخلاقی آدرش کے پیش نظر تھی یا منٹو و میرا جی کے رد عمل میں ؟ پہلی بات یوں درست نہیں لگتی کہ “انگارے” کے زمانے 1933 تک تو سجاد ظہیر اور ان کے ساتھی اس جنس نگاری میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے!
لیکن خیر بعد میں سجاد ظہیر نے اس نزاکت کو محسوس کیا، یہ بھی بڑی بات ہے۔

اگلی بات یہ ہے کہ ترقی پسندوں کی طرف سے ابتدا میں جب ماضی کی ادب کو رد کرنے کا سلسلہ  شروع ہوا تو اس غیر متوازن رویہ کو بھی سجاد ظہیر نے جلد ہی محسوس کرلیا تھا۔ ان کی معروف کتاب “ذکر حافظ” اس تاثر کو رد کرنے کی ایک کاوش تھی۔ اسی طرح پروفیسر ممتاز حسین بھی بعد میں امیرخسرو کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ ان لوگوں کے ہاں خسرو اور حافظ کی تعبیر بھی کچھ ترقی پسندانہ انداز ہی کی ہوگئی تھی۔
جدیدیت پسند ذہن کا یہ مخصوص طریقہ واردات ہے جو یہاں بھی کارفرما تھا کہ اول تو ماضی کی روایتوں کو رد کرو لیکن اگر ان کا رد کرنا ممکن نہ رہے تو پھر ان کی تعبیر بدلو۔

سجاد ظہیر کی شخصیت ان کے ادبی اور سیاسی نظریات، اسیری اور کمیونسٹ اور ترقی پسند تحریک میں ان کی خدمات کے حوالے سے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں جن کے چند معروف لکھنے والے ڈاکٹر قمر رئیس، گوپی چند نارنگ، ڈاکٹر اندر بھان بھسین، علی احمد فاطمی، جمال نقوی،ڈاکٹر جعفر احمد اور عبدالروف ملک ہیں۔
سجاد ظہیر کی دو معروف کتابیں “روشنائی” اور “ذکر حافظ” دونوں راولپنڈی سازش کیس میں گرفتاری اور مچھ جیل میں اسیری کے دوران لکھی گئی تھیں۔ روشنائی تو کم و بیش ساری ہی انہوں نے اپنی حافظہ میں محفوظ یاد داشتوں کی بنیاد پر لکھی تھی۔ ذکر حافظ کے لئے البتہ وہ مطلوب کتابیں عبدالرؤف ملک(برادر عبداللہ ملک) سے منگواتے رہے تھے۔ انہوں نے جیل سے اپنی بیوی کے نام جو خطوط لکھے وہ بھی بہت معروف ہوئے۔ سجاد ظہیر اپنے ایک خط میں پروفیسر ممتاز حسین کے بارے میں بڑا دلچسپ جملہ لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ تنقید تو ان کی بڑی پکی اور مضبوط مارکسسٹ انداز کی ہوتی ہے مگر جب کبھی وہ اپنی پسند ناپسند کے کچھ شعر لکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ شعر کی روح کو چھو نہیں سکے۔ علاوہ ازیں ان کا اسلوب بھی کافی الجھا ہوا ہوتا ہے۔

راولپنڈی سازش کیس میں فیض احمد فیض بھی انھی کے ساتھ حیدرآباد جیل میں قید رہے تھے۔ سجاد ظہیر کا انتقال ستمبر 1973 میں روس میں ہوا جہاں وہ ایفرو ایشیائی ادیبوں کی ایک کانفرنس میں شریک تھے۔ ایک روایت کے مطابق فیض ہی ماسکو سے انکی لاش لے کر ہندوستان گئے تھے۔

آخر میں بنے بھائی کیلئے کہے گئے فیض کے یہ اشعار دیکھئے

نہ اب ہم ساتھ سیر گل کریں گے
نہ اب مل کر سر مقتل چلیں گے
حدیث دلبراں باہم کریں گے
نہ خون دل سے شرح غم کریں گے
نہ لیلائے سخن کی دوست داری
نہ غم ہائے وطن پر اشک باری
سنیں گے نغمۂ زنجیر مل کر
نہ شب بھر مل کے چھلکائیں گے ساغر
بنام شاہد نازک خیالاں
بیاد مستیٔ چشم غزالاں
بنام انبساط بزم رنداں
بیاد کلفت ایام زنداں
صبا اور اس کا انداز تکلم
سحر اور اس کا آغاز تبسم
فضا میں ایک ہالہ سا جہاں ہے
یہی تو مسند پیر مغاں ہے
سحر گہ اب اسی کے نام ساقی
کریں اتمام دور جام ساقی
بساط بادۂ و مینا اٹھا لو
بڑھا دو شمع محفل بزم والو
پیو اب ایک جام الوداعی
پیو اور پی کے ساغر توڑ ڈالو

بہرکیف آج ڈاکٹر خورشید عبداللہ کی طرف سے بنے بھائی کی آواز کی ضیافت ہوئی تو یی چند باتیں ارتجالاً ذہن میں آگئیں امید ہے کہ احباب لطف اندوز ہوں گے۔
دعا ہے کہ ہمارے ان تمام تر قی پسند و غیر ترقی پسند اور جنس نگار بڑے ادیبوں کو اللہ تعالیٰ اپنے جوار رحمت میں رکھے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: