جامعہ پنجاب: سرخ اور سبز سے آگے کی بات ——- احمد الیاس

0
  • 203
    Shares

ہماری مادر علمی جامعہ پنجاب کی تاریخ میں دو کہانیوں کی دو زاویوں سے بہت اہمیت ہے۔ ایک تو ان دونوں ناولوں کی کہانی کسی نہ کسی طور جامعہ پنجاب ہی کے گرد گھومتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اسیً کی دہائی سے ہی یہ دونوں کتابیں جامعہ کے طلباءنے سب سے زیادہ گھسی ہیں۔ ان میں پہلا ناول قدرے سنجیدہ نوعیت کا ہے اور اس میں کسی قدر فکری گہرائی پائی جاتی ہے ، یعنی بانو قدسیہ کا طویل ناول۔۔۔ راجہ گدھ۔ دوسرا ناول ادبی معیارات کے لحاظ سے شاید نیم سنجیدہ اور بازاری ہی تصور کیا جائے مگر جامعہ میں ستر کی دہائی میں زیر تعلیم ایک یادگار نسل کو سمجھنے کے لیے بہت دلچسپ ذریعہ تصور کیا جاتا ہے اور اپنا ایک مخصوس فین کلب رکھتا ہے، یہ ہے راجہ انورکا لکھاہوِا مختصر ناول۔۔۔ جھوٹے روپ کےدرشن۔

ان دونوں کتب کی مقبولیت کا ایک سبب ان میں لگایا گیا جنسیات اور نظریاتی سیاست کا تڑکہ بھی ہے۔ گویا تھیم کے لحاظ سے یہ دونوں کتب مشابہت رکھتی ہیں۔ یہ دونوں کہانیاں تقریباً ایک ہی نسل کی جذباتی و فکری کشمکش کے پیش ِنظر وجود میں آئیں۔یہ نسل تھی بھٹو دور میں جوان ہونے والی پڑھی لکھی نسل۔ سماجی سطح پر جنیسات، مذہب اور دیگر حساس موضوعات پر کھل کر لکھنے اور بات کرنے کی اس قدر آزادی ہمارے ہاں پہلی بار کسی نسل کو ملی تھی۔سیاسی محاذ پر دیکھا جائے تو عالمی سیاست دھڑوں میں تقسیم تھی اور ہر ملک کی قومی سیاست بھی اسی عالمی دھڑے بندی کا عکس پیش کرتی تھی۔ ایسے میں اس نسل کے بڑے تھیم جنس،نظریاتی اختلافات اور مذہب کی حمایت یا مخالفت ہی ہوسکتے تھے۔ تاہم اس تھیم کو لے کر دانشوروں اور نوجوانوں نے کوئی متحد آواز پیدا نہیں کی بلکہ دو دھڑے وجود میں آئے۔ یہ دونوں دھڑے فقط دو سیاسی نظریات ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ اخلاقیات اور زندگی کی قدروں کو لے کر ان کا رویہ بھی مختلف تھا۔

اس وقت تک ملک میں جامعات کا سیلاب آیا تھا نہ اعلیٰ تعلیم کمرشلائز ہوئی تھی۔ جامعہ پنجاب ہی اس ساری فکری کشمکش کا سب سے بڑا تھیٹر بن گئی۔ فیکلٹی سے لے کر سٹوڈنٹ باڈی تک سبز ایشیاء اور سرخ ایشیاء کے نعرے لگاتے دو متحارب گروہ وجود میں آئے جن کے ثقافتی، ادبی ، فکری اور سیاسی معرکوں سے دو ہزار گیارہ تک ہماری قومی زندگی عبارت رہی، یہاں تک کہ ہماری نسل جوان ہوئی جس کے لیے یہ سارا اختلاف بے معنی اور سطحی ہوکر رہ گیا۔

راجہ گدھ اسلامی دائیں بازو کے تصور ِ انسان کا ایک چالاکی سے کیا گیا اظہار ہے۔ بانو آپا نے کمال خوبصورتی اور ذہانت سے اسلامی بیانیے کے مرکزی نکتے یعنی حرام و حلال کے تصور کو ڈھونڈا اور اسے جدید نفسیاتی ادب کی تکنیک کے ساتھ جوڑ کر پیش کردیا۔ دوسری طرف جھوٹے روپ کے درشن فکری اور تکنیکی طور پر کمزور محسوس ہوتا ہے مگر جذباتی اور احساساتی شدت اور تاثر اس میں بہت زیادہ ہے، یہی وہ خصوصیت ہے جو ہمارے مذہب بیزار دوستوں کے مختلف دھڑوں (اشتراکی، وجودی، فرائڈی، فلسفیانہ قنوطی وغیرہ) کی سب سے اہم خصوصیت ہے، معروضی فکر کی کمزوری جسے رد عمل پر مبنی احساس کی شدت سے ڈھانپ لیا جاتا ہے۔ جھوٹے روپ کی درشن اس کی بہترین مثال ہے۔

ہم دو ہزار پندرہ میں جامعہ پنجاب میں وارد ہوئے۔ ہمارے والد گرامی ستر کی دہائی کے اوائل اور بڑے بھائی صاحب مشرف دور میں یہاں زیر تعلیم رہ چکے تھے۔ ان کی یادوں اور میڈیا وغیرہ میں جامعہ کی کوریج سے ہمارا عمومی تاثر یہی تھا کہ جامعہ اب بھی جمعیت اور سرخوں کی کشمکش کا اکھاڑا ہے۔ تاہم تین سال اس ادارے کو اپنی زندگی کا مرکز بنانے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ جمعیت اور سرخے دونوں ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔ آج کا نوجوان ان دونوں کو غیر متعلق محسوس کرنے لگا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جمعیت نواز لیگ اور سرخے قوم پرستوں کے معمولی حواری بن کر رہ گئے۔ آج جمعیت کا مقابلہ جامعہ میں قوم پرستوں سے ہے۔ مگر یہ دونوں جامعہ کی ایک انتہائی قلیل آبادی کے نمائندہ ہیں اور پرانی سیاست کی فقط ایک یادگار ہیں۔ ایک عام طالب علم کو ان سے اور ان کی سوچ سے کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں۔

ایسے میں راجہ گدھ اور جھوٹے روپ کے درشن بھی جامعہ میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہیں۔ آج کا طالب علم اول تو فکشن پڑھتا نہیں کیوں کہ اس کی تعلیم کا رخ ہی کچھ اور کردیا گیا ہے۔ دوسرا اس نے پوسٹ ماڈرن دنیا میں آنکھ کھولی ہے جہاں اسے دنیا کو بلیک اینڈ وائٹ میں دیکھنا نہیں سکھایا گیا۔ گزشتہ نسلوں کو جو تصورات متضاد اور جدا جدا نظر آتے تھے، آج کا نوجوان انہیں سنکرونائز کر پارہا ہے۔ گزشتہ نسل کے لیے یا تو آپ لبرل ہوسکتے تھے، یا اسلامی یا پھر ترقی پسند۔ آج کے نوجوان کو یہ ہی بات سمجھ نہیں آتی کہ اسلام، لبرل ازم اور ترقی پسندی الگ الگ کیسے ہیں۔ اس کے لیے اسلام کا مطلب عورت کو زبردستی دوپٹہ پہنانا نہیں بلکہ فلاحی ریاست قائم کرنا ہے اور ترقی کا مطلب دوپٹہ اتروانا نہیں بلکہ دوپٹہ پہن سکنے کی آزادی ہے۔ ہم سے پہلی نسلیں اس طرز فکر کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس لیے وہ ہماری نسل اور ہمارے سیاسی اظہار کو کنفیوذ، بے سمت قرار دیتی ہیں۔

اس لحاظ سے موجودہ نسل بانو قدسیہ کے رویے کے قریب تر ہے جو اسلام پسندی کا ایک معتدل اور نرم رویہ ہے. یہ اپنے لائف سٹائل کے لیے ترجیح تو ظاہر کرتا ہے مگر دوسرے مکتب فکر کو بھی وِلن کی شکل میں پیش نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے ہمدردی رکھتا ہے ، حتیٰ کہ اس کی یاد کو سیمی شاہ جیسے خوبصورت کردار کی شکل میں امر کردیتا ہے۔ ۔ اس کے برعکس جھوٹے روپ کے درشن مین مذہب بیزاری یا ترقی پسندی کے نام پر جو رویہ اپنایا گیا وہ شدت اور کدورت کا رویہ تھا۔ راجہ انور نے مذہبی طبقے کو وِلن کے طور پر پیش کیا اور بالکل ایک طرفہ تصویر دکھائی۔ گویا آج کی نسل بانو آپا کو بھلے نہ پڑھ رہی ہو مگر اس کے رویوں کی تشکیل بانو آپا کےطرز احساس کے زیر اثر ہوئی ہے، بلکہ یوں کہیے کہ وہ بانو قدسیہ کی تخلیق کردہ دنیا میں رہتی ہے، راجہ انور کی نہیں۔

اس سارے تجربے نے ثابت کیا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بیانیہ صرف آپ کے یا آپ جیسے کچھ لوگوں کے لیے نہ ہو بلکہ اگلی نسل کی تشکیل میں موثر ترین عامل بنے تو نظریاتی ضرور بنیئے مگراپنے رویوں کو معتدل رکھیے، درمیان کی راہ کے قریب تر رہیے، دوسرے مکتب فکر کے لیے گنجائش رکھیے ، بجائے اسے وِلن کے طور پر پیش کرنے کے، نیز صرف جذبات اور رد عمل کی سیاست نہ کیجیے بلکہ معروضی فکری تجزیے اور اظہار کی تکنیک پرتوجہ دیجیے۔ جدت کی شدت فوری طور پر زبردست مگر انتہائی وقتی یا عارضی اثر پیدا کرتی ہے مگرروایت کی گہرائی فوری طور پر محدود مگر لمبی دوڑ میں بہت پائیدار اثرات چھوڑتی ہے۔ لہذا شدت چھوڑیے اور گہرائی اپنائیے۔

یہ بھی پڑھئے: دائیں، بائیں اور سرخ، سبز کی بات۔۔۔ سجاد خالد
(Visited 587 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: