ابعادی حدود (Dimensional Limits) اور جنت کا دروازہ —– نعمان کاکاخیل

1
  • 67
    Shares

ایک سفید کاغذ لیں اور اس کے اوپر سیاہی سے ایک نقطہ لگائیں۔ اس نقطہ کو ریاضی اور طبیعات میں زیرو ابعادی جسم (Zero dimensional object) کہا جاتا ہے۔ کاغذ کے اوپر تھوڑے فاصلے پر دوسرا نقطہ لگائیں اور دونوں نقطوں کو ملانے سے ایک لکیر (لائن) بن جاتی ہے۔ اس کو یک ابعادی یا یک جہتی (One dimensional) جسم سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح دو عمودی (vertical) اور دو افقی (horizontal) لائنوں کے سروں کو آپس میں ملانے سے مربع (square) بن جاتا ہے اور یہ مربع دو جہتی جسم کہلایا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کو آگے بڑھاتے ہوئے اگر چھ مربعوں کو باہم ملایا جائے تو ایک ڈبہ (box) وجود میں آتا ہے۔ یہ باکس وہ سہ جہتی (3D) جسم ہے جو انسانی آنکھ اور سوچ کی آخری حدود ہے۔ اس آگے انسانی آنکھ مزید چار، پانچ یا چھ جہتی اجسام کو نا تو دیکھ سکتی ہے اور نا ہی تصور کر سکتی ہے کیوں کہ یہ انسانی تصورات اور خیالات سے ماؤرا ہو جاتی ہے۔

فرض کریں آپ ایک کمرے کے اندر بیٹھے ہیں۔ اگر آپ اپنے ارد گردنظر دوڑائیں تو آپ زیادہ سے زیادہ اوپر، نیچھے، آگے، پیچھے، دائیں، بائیں اور ان اطراف کے مابین ہی دیکھ سکتے ہیں اور اس کو سہ جہتی منظر (3D view)کہا جاتا ہے اس سے زیادہ زاویوں سے انسانی آنکھ کے لئے اور حتٰی کہ کیمرے کے لئے دیکھنا یا دکھانا ناممکن ہے۔

کائنات کے اندر انسانی جسم، کمرے، زمین مریخ اور تمام اجرام فلکی اور کہکشائیں زیادہ سی زیادہ سہ جہتی شکل میں موجود ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ شائد مزید تین سے زیادہ ابعادی اجسام بھی موجود ہیں لیکن ہماری دیکھنے یا تصور کرنے کے حدود سے باہر ہیں۔ کیا ان اضافی جہتوں (Dimensions) کو انسانی آنکھ کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ابھی ممکن نہیں۔ کیوں کہ ٹیکنالوجی نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی کہ ہم ان کو دیکھ سکیں۔ لیکن ان اجسام کےوجود سے بہر حال انکار بھی ممکن نہیں کیوں کہ طبیعات اور ریاضی کے اندر اس کی مساواتیں (equations) موجود ہیں۔

کائنات کے اندر چار بنیادی قوتوں میں سے تین قوتیں یا تو کشش والی ہیں یا پھر دھکیلنے (repulsive) ہوتی ہیں جب کہ دوسری قوتوں کے برعکس ثقلی قوت (Gravitational force) انتہائی کمزور قوت ہے اور صرف کشش کی قوت (attractive force) ہے جو اجسام کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ سائنسی مفکرین اور محققین کا خیال ہے کہ اگر مزید جہتوں کو دیکھنے میں کامیابی حاصل ہو سکی تو عین ممکن ہے کہ یہ وجہ بھی ہم جان سکیں کہ ثقلی قوت صرف کشش والی اور اتنی کمزور کیوں ہے جب کہ پھر بھی تمام اجسام کی حرکت کے اندر مستعمل ہے۔ جب کہ اس سے مزید لئے جانے والے کاموں کا بھی اندازہ لگانا سہل ہو جائے گا۔

طبیعات دانوں کا خیال ہے کہ اگر چار، پانچ اور چھ ابعادی اجسام کو دریافت کیا جا سکا تو ایک نئی دنیا انسانوں کو دیکھنے میں مل سکتی ہے لیکن اس تک رسائی اوراس کا تصور فی الوقت انسان کی اہلیتوں سے باہر ہے (البتہ اشارے ضرور ملے ہیں)۔ یہ حقیقت ہے کہ کمرے کے دروازے سے اونٹ کو داخل نہیں کیا سکتا کیوں کہ اونٹ کی جسامت دروازے کی جسامت سے گئی گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح جراثیم (بیکٹیریا اور وائرس) کو خوردبین کے بغیر دیکھنا نا ممکن ہے۔ایسے ہی ان بڑے اجسام اور بلیک ہولز وغیرہ کا عملی مشاہدہ نا ممکن تھا کیوں کہ ان کو دیکھنے والے آلات موجود نہیں تھے۔ انسانی آنکھ سے اوجھل دوسرے اجسام کی طرح ان کے وجود بھی کو ماضی قریب میں تجربات کی بنیاد پر ممکن بنایا جا چکا ہے اور مزید کام ابھی جاری ہے۔ تحقیقی مراکز کو امید ہے کہ بلیک ہولز اور ثقلی موجوں کے کامیاب تجربات کے ذریعے چار اور مزید ابعادی اجسام کو دیکھنا ممکن بنایا جا سکتا ہے جو کہ ابھی تک ایک خیال ہی ہے۔

کیا جنت اور دوزخ چوتھی یا اس سے آگے کی جہتوں کے اندر موجود ہے؟ اگر چھٹی جہت میں کوئی انسان چلا جائے تو کیا اس کا اس دنیا سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے؟ کیا وہاں پر وقت کی رفتار مختلف ہے؟ کیا ایسی کوئی جہت ہے جہاں پر انسان اپنا وجود بھی کھو دیتا ہے؟

بہت سارے سوالات اس موضوع کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جن کے جوابات ابھی نا ممکن ہیں۔ امید ہے مستقبل قریب میں ان کو دیکھنا شائد ممکن ہو۔

(Visited 115 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہت زبردست مضمون ہے ۔۔۔۔بات کرنے کا انداز بہت ششتہ اور کمال کا سلیس ہے ۔۔۔۔ایک بار پڑھنے سے ہی ادق تصور سہولت کے ساتھ سمجھ اجاتا ہے ۔۔۔۔لیکن مضمون کا عنوان کا ادھا حصہ فالتو لگتا ہے کیونکہ مضمون کا جس مدلل انداز میں اغاز کیا گیا اختیتام ویسا ہرگز نہیں ہے ۔۔۔عنوان کے ادھے حصے کے لیئے اتنی تفصیل اور اخری ادھے حصے کے لیئے فقط دو تین سطور ۔۔۔۔یہ تو صریح ناانصافی ہے ۔۔۔۔۔اس ناانصافی کا ازالہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ اسکی دوسری قسط لکھی جائے تاکہ دوسرے حصے کو پہلے حصے سے کماحقہ ریلیٹ کیا جا سکے ۔۔۔۔۔وگرنہ ایک سائنسی پوسٹ کو مذہب کا تڑکا لگانے کا جواز مہیا نہیں ہوسکے گا ۔۔۔۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: